Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

انمول سے بےمول

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 19

ہانیہ اپنے وسوسوں میں گھری کب گھر پہنچی پتا ہی نہ چلا ۔۔۔ اب کے دل کی گھبراہٹ کے ساتھ ساتھ ایسا لگ رہا تھا سانس رکنے لگی تھی ۔۔۔

“صبا آپی مجھے معاف کردیں , سارا آپی معاف کردیں بہت دل دکھایا ہے آپ دونوں کا , اج اس لمحے احساس ہورہا ہے کہ کسی کے لفظ کتنے معنی رکھتے ہیں اج میری اس شادی شدہ زندگی کا دارومدار بچوں پر ہے اگر وہ مجھ سے روٹھ گۓ تو میں مرجاؤں گی نہیں رہ پاؤں گی تنہا اس بڑے سے گھر میں ۔۔۔۔ میرے نفرت امیز لفظوں سے اپ کا دل بہت چھلی کیا ہے میں نے صبا آپی , اپ نے بہت پیار دیا ہے ہمیں مجھے معاف کردیں , یا خدا میرا آخری سہارا مجھ سے نہ چھیننا , میرے جینے کی وجہ صرف یہ بچے ہیں جن کے معصوم جذبات احساسات کے ساتھ کھلوار کیا ہے میں نے ۔۔۔ پلیز اللہ ان کے دل میں رحم ڈال دے مجھے اپنے گناہوں کا ازلہ کرنا ہے ۔۔۔ اگر وجہ نہ رہی تو پھر مرجاؤں گی میں ۔۔۔ کرب سے سوچا ہانیہ نے ۔۔۔

خود سے اگاہی بھی اک عذاب ہے جاناں

جو مجھ پر گزرا ہے پھر کسی پے نہ گزرے

وہ اندر ہی اندر گُھٹ رہی تھی خود سے بولے جارہی تھی ۔۔۔ ضمیر کی عدالت روز لگنے لگی تھی گناہ تھے اس کے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔۔۔ اپنا ہر گناہ ہر ستم دوسروں پر کیا یاد ارہا تھا ہانیہ کو ۔۔۔ کتنی بُری تھی وہ جو اتنے لوگوں کا دل دکھا چکی تھی ۔۔۔

“میرے ساتھ اچھا کیسے ہوگا میں نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی کوئی اچھا کام نہیں کیا , سب کو اپنے لفظوں سے صرف اذیت ہی اذیت دی ہے ۔۔۔ اب میرے ساتھ جو ہوگا وہ ظلم نہیں انصاف کا تقاضا ہوگا ۔۔۔ تڑپ کر اس نے سوچا ۔۔۔

“کاش ثوبان میں تمہیں بتا سکتی جب تم نے اتنی دفعہ کہا مرجاؤ تم ہانیہ مر کیوں نہیں جاتی , یقین کروگے میں مرہی جاتی قسم خدا کی , ولید خانزادہ کو واپس بلانے سے آسان مرنا لگ رہا تھا مجھے , شاید مربھی جاتی , اگر مجھے ان بچوں کو خیال نہ ایا ہوتا , جن کی ایک ماں تو ان کو پیدا کرتے ہوۓ مرگئی ۔۔۔ پھر ان کے جذبات پر بند باندھا گیا تھا ماں کی تڑپ کس اولاد کے اندر نہیں ہوتی ان کے اندر بھی تھی ۔۔۔ ولید خانزادہ کے اتنے احتیاط کے باوجود میں نے اس کے بچوں کے سوۓ جذبات جگا دیۓ اور ماں کی ممتا کا احساس جگادیا ۔۔۔ میری ذات پر بہت بڑا قرض ہے ان بچوں کے احساسات کا جو مجھے چُکانا ہے ان کی ماں بن کر ۔۔۔ بہت بڑا بوجھ ہے میرے دل پر جو اسی طرح دور ہوسکتا ہے ورنہ مجھے مر کر بھی سکوں کہاں ملنا تھا جانتی ہوں بہت بڑی گنہگار ہوں مجھے قبر میں اتر کر بھی کہاں سکوں ملنا ہے ۔۔۔

وہ اپنے اپ میں مگن تھی ۔۔۔ خود سے بولے جارہی تھی ۔۔۔

وہ لڑکی جس کا ضمیر اندر کی آواز مردہ ہوگئی تھی ثوبان کی کہی باتوں نے جگا دیا تھا اس کے ضمیر کو ۔۔۔ یہ اگاہی اس پر عذاب بن کر گزری تھی ۔۔۔

“ہانیہ ۔۔۔ ولید خانزادہ نے بلایا ۔۔۔

وہ چونک کر حال میں لوٹ آئی ۔۔۔ “جی ۔۔ کہا اس نے ۔۔۔

دیکھا تو ڈرائیور اتر کر جاچکا تھا وہ اور ولید خانزادہ اکیلے تھے گاڑی میں ۔۔۔ گاڑی گھر کے کارپورچ میں رکی تھی ۔۔۔

وہ اترنے ہی لگی تھی جلدی سے ۔۔۔

“رکو ۔۔۔ ولید خانزادہ کی آواز پر ٹھرنا پڑا اسے ۔۔۔ دروازے کے ہینڈل پر رکھا ہاتھ گود میں گرالیا اور پلٹی اس کی طرف ۔۔۔ سوالیہ نظروں سے دیکھا اس نے ولید خانزادہ کو ۔۔۔

“کچھ باتیں واضع کرتا چلوں تم پر ۔۔۔ کشف کے نام کی بلیک میلنگ دوبارہ میرے اوپر نہیں چلے گی یہ بات یاد رکھنا ۔۔۔ ایک دفعہ اس کے نام کا مان تو رکھ لیا میں نے دوبارہ ایسا کچھ نہیں ہوگا اپنے ذہن میں بٹھالو یہ بات کبھی اس کے نام کی دہائی نہ دینا مجھے ۔۔۔ ولید خانزادہ کے شدت سے کہے سرد الفاظ اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ پیدا کرگیا ۔۔۔

“جی ٹھیک ہے میں سمجھ گئی ہوں ۔۔۔ اب جاؤں اندر ۔۔۔ کچھ لمحے سنبھلنے کے بعد وہ جلدی سے بولی ۔۔۔

“ابھی میری بات مکمل نہیں ہوئی ہے ۔۔۔ ولید خانزادہ نے چبھتی نظروں سے اسے دیکھ کر کہا ۔۔۔

“کاش کوئی دیکھ سکتا مجھے اپنی غلطیوں کا احساس ہوگیا ہے اب اور ذلیل نہ کرے کوئی ۔۔۔ کاش کوئی دیکھ سکتا جو اپنی نظروں میں گر کر ذلیل ہوجاۓ پھر کسی اور کے کرنے سے کیا ہوتا ہے ولید خانزادہ اب تم بھی اپنے لفظوں سے ریزہ ریزہ کردو میرے وجود کو ۔۔۔۔ میری بچی کچی عزت جو رہ گئی ہو خود کی نظر میں اسے بھی ختم کردو ۔۔۔حقیقت تو یہی ہے خود کو بےمول کرنے بعد کوئی لفظ کوئی بات اب معنی نہیں رکھتا کوئی درد اس درد سے بڑا نہیں جو خودشناسائی کا درد ہے ۔۔۔۔ ہانیہ نے کرب سے سوچا اور اسے دیکھنے لگی اب وہ کیا کہتا ہے اس سے ۔۔۔

“میں نے اپنے بچوں کی خاطر شادی کی تھی ۔۔۔ سب کچھ تمہیں بتا کر سارے حالات تمہارے سامنے رکھے تھے اس لیۓ مجھ پر کوئی الزام تم نہیں دے سکتی ۔۔۔ میں نے تم سے کیا ہر وعدہ پورا کیا , اتنا بڑا ریسپشن دے کر تمہیں اپنا نام عزت دی بدلے میں تم نے کیا کیا مجھے سب یاد ہے ۔۔۔ میں بھولوں گا نہیں جو تم نے میرے ساتھ اور میرے بچوں کے ساتھ کیا ۔۔۔ اب گھر میں دوبارہ قدم رکھ رہی ہو اتنا سمجھ لو میرے بچوں کو اب کوئی نقصان پہنچایا تو معاف نہیں کروں گا ایسی سزا دوں گا یاد رکھوگی ۔۔۔ مجھے مجبور نہ کرنا ایسا بننے پر جو میں بننا ہی نہیں چاہتا ۔۔۔ ولید خانزادہ نے اچھی طرح اسے وارن کیا ۔۔۔

“اب تم جاسکتی ہو اور اس کا حکم ملتے ہی جلدی سے اتری گاڑی سے ۔۔۔ وہ اس کی بےتابی کو بغور دیکھتا رہا وہ گھر کے اندر بڑھ گئی بغیر اس کا انتظار کیۓ ۔۔۔ کچھ عجیب لگا ولید خانزادہ کو اس کے انداز میں ۔۔۔ وہ کیا تھا فی الحال سمجھنے سے قاصر تھا ۔۔

@@@@@@@@@

بخار اترچکا تھا رانیہ کا پر کمزوری اب بھی تھی ۔۔۔ وہ جو تھوڑی بہت بول لیا کرتی تھی اب وہ بھی چھوڑ چکی تھی ۔۔۔

پر سعاد کو فرق نہ پڑا نہ اس نے کچھ خاص محسوس کیا تھا ۔۔۔ پھر اگزامز بھی سر پر تھے رانیہ کو بےانتہا مصروف کردیا تھا پڑھائی نے ۔۔۔ پندرہ دن کے بعد وہ فارغ ہوئی ۔۔۔

آج وہ پرسکوں تھی کیونکہ اگزامز کی ٹینشن جو ختم ہوئی تھی ۔۔۔ کیونکہ اس نے جاب سے چھٹی بھی نہ کی تھی اگزامز جاب گھر کے کام وہ بےانتہا تھک چکی تھی ۔۔۔ اپنے اعصاب پر وہ اپنی ہمت سے زیادہ بوجھ لیۓ چل رہی تھی ۔۔۔ پلہے وہ زندگی کو جیتی تھی اب زندگی اسے چلا رہی تھی ۔۔۔

آج یونی میں اس کی کوئی کلاس نہ تھی ۔۔۔ اسے یاد نہ رہا وہ اگئی تھی اب افسوس ہو رہا تھا اب واپس جاۓ اس سے بہتر تھا کہ لائیبریری میں بیٹھ کر کچھ پڑھ لے ۔۔۔

وہ کینٹین میں بیٹھی سینڈوچ سے لطف اندوز ہونے کے بعد کافی کی چسکیاں لے رہی تھی ساتھ ساتھ اپنا سلیبس دیکھ رہی تھی ۔۔۔ اسی وقت کوئی کرسی کھسکا کر بیٹھا ۔۔۔ اس نے نظر اٹھائی ۔۔۔

“ْہیلو مس بیوٹی کوئین ۔۔۔ وہ حیران ہوئی پہلی دفعہ ایسی سچوئیشن سے واسطہ پڑا تھا ورنہ یہاں ہر کوئی اپنے منہ چلتا تھا ۔۔۔ کسی کو کسی سے غرض نہیں سب اپنی مرضی کے مالک بن کر رہتے تھے سب ایک دوسرے سے بے نیاز ہو کر چلتے تھے ۔۔ پرنسنالٹی تھی اس بندے کی پر رانیہ نے غور نہ کیا ۔۔۔

“ناٹ انٹیریسٹیڈ ۔۔۔ اس نے ایک نظر دیکھ کر گھوری سے نوازا سامنے والے بندے جو کم سے کم امریکن نہ لگا رانیہ کو ۔۔۔ روڈ لہجے میں وہ بولی تھی ۔۔۔

“سچ میں تم حسین ہو پسند نہیں آئی اپنی تعریف جبکہ لڑکیاں خوش ہوتی ہیں ایسی تعریف پر ۔۔۔ وہ انگریزی میں بولا۔۔ اب رانیہ نے ایک لمبی گھوری سے نوازا ۔۔۔ تاکہ اپنی ناگواری ظاہر کرسکے ۔۔ لہجہ اس کا فارنر جیسا ہی تھا ۔۔۔

“شاید تم نے سہی سے سنا نہیں مجھے کوئی دلچسپی نہیں تم میں ۔۔۔ رانیہ نے روڈ لہجے میں انگریزی میں کہا۔۔۔

“بات کرلیں دلچسپی ہوہی جاتی ہے مس کیا نام ہے تمہارا ۔۔۔ وہ کافی فرینک اور چپکو سا بندہ لگا اس کو ۔۔۔

“مس نہیں مسز ۔۔۔ اب کے رابیہ نے واضع کیا تاکہ وہ اپنا راستہ ناپے چلتا بنے یہاں سے ۔۔۔

“اوماۓ گاڈ , تم شادی شدہ ہو مجھے تو تم کالج گرل لگی بلکہ بچی لگتی ہو تم بہت کیوٹ ہو ۔۔ وہ حیران ہوا اس کی حیرانی چھپاۓ نہیں چھپ رہی تھی ۔۔۔ وہ واقعی حیران ہوا اس خوبصورت سی گڑیا جیسی لڑکی کو دیکھ کر ۔۔۔

“ہمممم شادی شدہ ہوں ۔۔ وہ سلیبس پر نظریں جماتے ہوۓ بولی …

“اب یہ مت کہنا تم دوبچوں کی ماں ہو ۔۔۔ اب کے وہ مذاق میں انگلش میں بولا ۔۔۔

“کیا مصیبت ہے یہ تو گلے ہی پڑگیا ہے ۔ اب کے چڑکر رانیہ نے اردو میں کہا خود سے ۔۔۔ اپنے ازلی الہڑ انداز میں ۔۔۔

“تم پاکستانی ہو ۔۔۔ وہ بھی اردو میں بولا ۔۔۔ پر لہجہ الگ تھا ۔۔۔

“ایکسیوزمی پلیز ۔۔۔ وہ اپنی چیزیں سمیٹتی اٹھی اور جانے لگی ۔۔۔

“میں فائز شاہ فرام ترکی اور تم,,,,,؟؟؟ اس نے کہا بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ ۔۔۔ وہ مغرور سا بندہ پہلی دفعہ کسی کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔

وہ نفی میں سرہلاتی اور افسوس کرتی اگے بڑھ گئی ۔۔۔۔ وہ مسکرا گیا اسے جاتا دیکھتا رہا ۔۔۔۔

“آۓ لائک یو مس رانیہ نو مسز رانیہ ۔۔۔ وہ مسکرایا کیونکہ اس کے آۓ ڈی کارڈ سے وہ دیکھ چکا تھا اس کا نام ۔۔۔

@@@@@@@@@

وہ اندر آئی تھی گھر کے لاؤنج میں ۔۔۔ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہورہے تھے ایسا لگ رہا تھا بچوں نے ریجیکٹ کیا تو مر ہی جاۓ گی ۔۔۔ جتنی دعائیں یاد تھیں وہ پڑھ کر پھونک چکی تھی خود پر ۔۔۔ پہلے کی ہانیہ اور اج کی ہانیہ میں زمین آسمان کا فرق تھا کوئی غور کرتا اگر ۔۔۔ وہ قدم قدم چلنے لگی اپنی سوچوں نے ہی اس کا قدم قدم بھاری کیا تھا ۔۔

اسی وقت حنان جو کمرے سے باہر ایا تھا دوڑتا ہوا اس کی طرف بڑھا ۔۔۔

“منان ہانیہ آنٹی اگئی دیکھو باہر اکے ۔۔۔ وہ خوشی سے چہکتا اس کی طرف بڑھا اس کی آواز میں الگ ہی جذبہ تھا ۔۔۔ وہ شاک ہی ہوئی تھی ان کے اس اظہار پر ۔۔۔ اک توانائی سی بھردی اس بچے کے لہجے نے وہ دوڑتی اس تک پہنچی اسے گلے لگالیا ۔۔۔

“آۓ مس یو الاٹ آنٹی ۔۔۔ وہ والہانہ انداز میں اسے چومنے لگی ۔۔۔ وہ بھی پیار کرنے لگا اسے ۔۔۔

“آۓ مس یو ٹو بوتھ ۔۔۔ اسی وقت دوڑتا پیچھے سے اس کے منان ہگ کرگیا ۔۔۔ اس کے انداز میں بھی شدت تھی ۔۔۔ وہ جو برف سی سرد تھی ان کی محبت کی گرمی سے پگھلی تھی ۔۔۔

“وعدہ کریں اب ہمیں چھوڑ کر نہیں جائیں گی ۔۔۔ دونوں نے ایک ساتھ کہا ۔۔۔

“بلکل نہیں جاؤں گی پر میری ایک بات اپ دونوں نے مانی تو ۔۔ وہ زمیں پر گھٹنوں کے بل تھی وہ دونوں اس کے گلے لگے ہوۓ دونوں کو بےانتہا پیار سے چوم چکی تھی وہ ۔۔ دونوں کے شکوے پر وہ بولی تھی ۔۔۔

“وہ کیا آنٹی ۔۔۔ دونوں نے پوچھا ۔۔۔

“اگر آنٹی کے بجاۓ ماما بولوگے تو کبھی نہیں جاؤں گی تم دونوں کو چھوڑ کر ۔۔ ہانیہ نے کہا محبت سے لبریز لہجے میں کہا ۔۔۔

“سچی ۔۔۔ دونوں نے ایک ساتھ کہا ۔۔

“مچی مچی مچی ۔۔ اس نے ناک پر بالوں کی لٹ رکھ کے کہا ۔ دونوں کھل کھلا اٹھے ۔۔

“ماما ۔۔۔ دونوں نے ایک ساتھ کہا ۔۔۔

وہ مسکرا اٹھی ۔۔۔ ایسا لگتا تھا جیسے ایک دنیا اسے مل گئی ہو ۔۔۔

دور کھڑا ولید خانزادہ لمحے بھر کو مسکرایا محبت کے اس مظاہرے کو دیکھ کر اگلے لمحے اپنے ہونٹ بھینچ گیا اور نفی میں سرہلاتا خود سے بولا ۔۔

“اس بار مجھے اتنی آسانی سے بےوقوف نہیں بناسکتی ہانیہ تم ۔۔۔ ولید خانزادہ نے کلس کر سوچا ۔۔۔ واپس پلٹ گیا ۔۔۔

@@@@@@@@@@

“میں اپ کو لفٹ دے دیتا ہوں موسم خراب ہورہا ہے ۔۔۔ فائز نے رانیہ سے کہا جو یونی سے نکل کر بس اسٹاپ کی طرف جارہی تھی ۔۔۔۔ بارش شروع ہوگئی تھی اچانک سب پریشان ہورہے تھے ۔۔۔

“ساری مصیبت اج ہی انی تھی ۔۔۔ اس نے افسوس سے سوچا ۔۔۔ بارش سے الجھن ہورہی تھی کیونکہ اج چھتری بھی نہیں تھی نا رین کوٹ ۔۔۔۔

“آۓ کین مینیج , کیب کرلوں گی ۔۔۔ وہ کہتی اگے بڑھ گئی ۔۔۔ یہاں ہر کوئی ایسی سچوئیشن کے لیۓ تیار ہوتا ہے سو وہ بھی گھبرائی نہیں ۔۔۔

“دیکھیں بارش تیز ہے ۔۔۔فائز نے کہا ۔۔۔ فائز کی نیلی انکھوں میں چمک تھی ۔۔۔

“سامنے دیکھیں اور بھی بہت لڑکیاں مصیبت میں ہیں اگر اتنی مدد کا شوق ہے تو ان کی کرلیں ۔۔۔۔ اب کے رانیہ نے طنزیہ کہا ۔۔۔ اگے بڑھ گئی کیب کرواکر اپنے سفر پر روانہ ہوگئی ۔۔۔

وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گیا ۔۔۔ وہ واقعی بہت خوبصورت تھی پر اس کی انکھوں میں ایک درد نظر ایا تھا اسے جو رانیہ کی خوبصورتی میں اضافہ کررہا تھا , جس کی وجہ سے وہ اس کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔ وہ واقعی مضبوط کردار کی ہی لڑکی تھی اس کی گرل فرینڈ نے ٹھیک کہا تھا ۔۔۔

اس کی گرل فرینڈ گاڑی میں اکر فرنٹ سیٹ پر بیٹھی ۔۔۔ اور ہنستے ہوۓ بولی ۔۔۔

“آۓ ٹولڈ یو شی از ایشین بیوٹی , یو لوس دہہ بیٹ ۔۔۔ ٹینا مسکراتی اسے انگوٹھا دکھانے لگی ۔۔۔

وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا مسکرایا ۔۔ ” یٹ ناٹ سوئیٹی سون شی ولبی وتھ می ۔۔۔ اس کے لہجے میں غرور تھا ۔۔۔

“اوکے آۓ گوو یو ون منتھ ۔۔۔ ٹینا بھی ایکسائیٹ ہوکر بولی ۔۔۔

یہ ان دونوں کا فیوریٹ گیم تھا ایک دوسرے کو ٹرتھ یا ڈیئر دینا ۔۔۔ اکثر دونوں کو ڈیئر کرنا پسند تھا ۔۔۔

آج ٹینا نے اسے چیلینج دیا تھا اس لڑکی کو اپنے پیار میں مبتلا کرے ۔۔۔ اور وہ اس کا چیلینج ایکسیپٹ کرگیا ۔۔۔

فی الحال اج دوستی پے منالے تو وہ مان جاۓ گی اس میں ہے دم ۔۔۔ فائز یہ نہ کرسکا تھا اس لیۓ وہ اس کا مذاق اڑارہی تھی ۔۔۔ اب وہ سریسلی ہوکر رانیہ کو امپریس کرنے کا من بنا چکا تھا ۔۔۔

@@@@@@@@@@@

ولید خانزادہ سوچ رہا تھا وہ کمرے میں ضرور آۓ گی اور وہ اس کی اچھی خاصی کلاس لینے کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔۔ کیونکہ اتنا زیادہ بچوں کو اٹیج کرنا اسے ناگوار گزر رہا تھا ۔۔۔

وہ اج بچوں کو اپنے ہاتھوں سے کھلا رہی تھی رات کا کھانا ۔۔۔ ڈائینگ پر وہ کچھ اس طرح بیٹھی تھی کہ اس کی پینٹھ ولید کی طرف تھی دونوں بچے ساتھ بیٹھے تھے اس کے ۔۔۔ اب وہ بچوں کے سامنے کچھ نہ کہے سکا ۔۔۔

دونوں کے بیگز ریڈی کیۓ خود اس نے ۔۔۔ وہ اس کی حرکات پر نظر رکھے ہوۓ تھا ۔۔۔ اس وقت دونوں سے لپٹے ہوۓ تھی ۔۔۔منان دائیں بازو پر تھا تو بائیں طرف حنان لپٹ کر سورہا تھا ۔۔۔ وہ ولید خانزادہ کے بیٹے تھے ۔۔۔ ان کو کیا بنارہی تھی وہ ۔۔۔ اسے تشویش ہوئی ۔۔۔

ایسا تو وہ نہیں چاہتا ۔۔۔ “مجھے روکنا چاہیۓ ہانیہ کو ایسے بچوں کو نہ بگاڑے ان کا ایک سیٹ اپ بنا ہوا ہے اس طرح وہ ممی بوائز نہ بن جائیں ۔۔۔ اسے فکر ہوئی ۔۔۔

اب کافی ٹائم ہوگیا تھا ۔۔۔ بچے یقینن سوگۓ ہونگے سوچتا وہ سیڑھیاں چڑھ گیا ۔۔۔ بچوں کے کمرے میں زیرو بلب کھلا تھا وہ وہاں تو نہیں تھی ۔۔۔ حیران ہوا ۔۔۔ پاس والے کمرے کی لائیٹ کھلی تھی ۔۔۔ آہستہ سے دروازہ کھولا سامنے وہ جاۓ نماز پر بیٹھی نماز ادا کررہی تھی وہ حیران ہوا ۔۔۔ کچھ کہے بغیر وہ خاموشی سے پلٹ گیا ۔۔۔

نماز پڑھ کر اس نے دعا کے لیۓ ہاتھ اٹھاۓ کتنی دیر وہ بےآواز روتی رہی پہلے تو ۔۔۔ پھر بھاری لہجے میں بولی ۔۔۔

“یہ دکھ کے نہیں خوشی کے آنسو ہیں میرے رب ۔۔۔ جو کرم تم نے مجھ پر کیا , مجھ سے بچوں کی محبت نہ چھین کر بہت مہربان ہوا ہے مجھ گنہگار پر ۔۔۔ یا اللہ تیرا لاکھ شکر ہے ۔۔۔ اب کبھی ان سے لاپرواہی نپیں برتوں گی اچھی ماں بن کر دکھاؤں ۔۔۔ جیسے ہماری ماں نے ہمیں محبت سے پالا ویسے ان کو پالوں گی ۔۔۔ یا اللہ بس میری مدد لرنا مجھے ہمت دینا ۔۔۔ ان کو اپنے جیسا کبھی نہیں بناؤں گی جیسی میں مغرور تھی ۔۔۔ ان کو اس مال دولت پر غرور کرنا نہیں اس پر تیرا شکر کرنا سکھاؤں گی ۔۔۔ بس میرے اللہ میری ہمت بناۓ رکھنا ۔۔۔ اب میرا محور میرے بچے ہیں اس سے دور نہ کرنا مجھے ۔۔۔۔ پھر کتنی دیر بچوں کے لیۓ دعائیں مانگتی رہی وہ ۔۔۔

“بےشک صرف اللہ ہی ہے جس کی پناہ میں سکون ہے ۔۔۔ پھر کوں ہے جو کہے کہ وہ اوجھل ہے آنکھ سے وہ تو شہہ رگ سے بھی قریب تر ہے ۔۔۔

وہ نماز سے فارغ ہوکر بیڈ پر سونے کے لیۓ لیٹی پر نیند نہ آئی ۔۔۔ تھک کر ان کے کمرے میں واپس گئی منان کے پاس سوگئی کیونکہ اس طرف جگہ تھی ۔۔۔ ان کے ساتھ لیٹتے ہی اس کے اندر سکوں اترا کچھ دیر میں سوگئی ۔۔۔

@@@@@@@@@@@

وہ راستے پر نظر جماۓ ہوۓ تھی ۔۔۔ بارش کا زور کچھ کم ہوچکا تھا پر رانیہ کا اضطراب کم نہ ہورہا تھا ۔۔۔ فائز کی نظریں اسے خود پر چبھتی ہوئی محسوس ہوئیں ۔۔۔

“شادی شدہ عورت پر جب کوئی ناحرم مہربان ہونے لگے تو اس کا مطلب وہ اس کے اندر کی کوئی کمی محسوس کرچکا ہے اور وہ اس کا ہی فائدہ اٹھاۓ گا ۔۔۔

اس کے کانوں میں اپنی ماں کے کہے لفظ گونجے جو کسی پڑوسن کو سمجھا رہی تھی ۔۔۔ تب وہ ان لفظوں کا مطلب نہیں سمجھی تھی ۔۔۔ پر اب وہ لفظ اور ان کی معنی واضع تھے ۔۔۔ کچھ باتیں لاشعوری طور پر ہم سنتے ہیں اور ہمیں نہیں پتا ہوتا وہ ہمارے شعور کا حصہ کب بن گئیں ۔۔۔

آج اس کے شعور پر دستک دی ان لفظوں نے ۔۔۔

“یا اللہ مجھے اپنے حفظ امان میں رکھنا , مجھے شیطان کے شر سے بچاۓ رکھنا ۔۔۔ آمین ۔۔۔ اس نے دل ہی دل میں دعا کی ۔۔۔

@@@@@@@@

“اریو اوکے رانیہ تم اپ سیٹ لگ رہی ہو ۔۔۔ سعاد نے پوچھا ۔۔۔

پہلی دفعہ پوچھا تھا اس نے رانیہ سے وہ چونکی تھی ۔۔۔

“آئی ایم فائن ۔۔۔ رانیہ نے خود کو نارمل کرتے ہوۓ کہا ۔۔۔۔

اگر اسے فائز کے بارے میں بتایا تو مذاق اڑاۓ گا جیسے شروع کے دنوں میں اس نے ایک بندے کی شکایت لگائی تھی وہ اسے گھورتا ہے جاب پر ۔۔۔ تب سعاد اس کے ساتھ چلا پتا چلا اسے اسکوئینٹ ہے ۔۔۔ آنکھوں کا مسئلا تھا اسے ۔۔۔ وہ علاج کے لیۓ اتا تھا ہسپتال ۔۔۔ وہ اتنی شرمندہ ہوئی اور سعاد نے ہنستے ہوۓ یہ تک کہے دیا کہ “کہیں تم یہ تو نہیں سوچ رہی اس طرح تم کو گھر بٹھاؤں گا تاکہ تم ہاؤس وائف بن کے رہو تو سوری یار لائف میں اگے بڑھنے کے لیۓ ایسے چھوٹے مسئلے کو منہ دینا پڑتا ہے ڈونٹ وری رانیہ ۔۔۔

سعاد کی بات پر جب رانیہ کے رنگ اڑنے لگے تو وہ ہنسی روکتا سریس لہجہ بنا کر بولا ۔۔۔۔

“بس ایک بات ذہن میں بٹھالو یہ سہی منع میں آزاد ملک ہے یہاں مرد کے ساتھ ساتھ عورت کی آزادی کے قائل ہیں یہ پاکستان نہیں ۔۔۔۔ آئندہ ایسی فضول چیزوں پر دھیان نہ دو کوئی کچھ عملی کاروائی کرنے کہ ہمت نہیں کرے گا یہاں کا قانون سخت ہے ۔۔۔ ریلکس رہو ۔۔۔ سعاد اسے تسلی دیتا سمجھانے لگا ۔۔۔

وہ لمحہ سوچ کر اس نے خود کو روکا اسے فائز کے بارے میں بتانے کو ۔۔۔ جانے کیا سوچے سعاد , یہی سوچ کر اس نے نہیں بتایا ۔۔۔

“اوکے ڈیئر ۔۔۔ وہ اسکے گال تھپتھپاتا ہوا روم کی طرف بڑھ گیا وہ اسے جاتا دیکھتی رہ گئی…

@@@@@@@

ولید خانزادہ آفیس سے ایا تو بچے گارڈن میں اس کے ساتھ کھیل رہے تھے ۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا اندر کی طرف بڑھ گیا ۔۔

کچھ دیر میں وہ فریش ہوکر باہر ایا تو وہ ان کو پزا بریڈ کھلا رہی تھی ۔۔۔

“پلیز جلدی کرو بچوں ۔۔۔ پھر باقی کا ہوم ورک کرنا ہے ۔۔۔ ہانیہ نے فکر سے کہا ۔۔۔

“اوکے مام ۔۔۔ دونوں نے کہا ۔۔

ولید نے ایک نظر تینوں کو دیکھا ۔۔۔ جو اپس میں مگن تھے ۔۔۔

“جلدی ہینڈ واش کرو اسٹڈی میں پڑھنے چلنا ہے ۔۔۔ ہانیہ نے ایک اور حکم دیا ۔۔۔

وہ جوس کے گلاس ان کے لے کر اسٹڈی میں چلے گۓ تینوں ۔

“رضیہ بی میرا لیپ ٹاپ لاؤ ۔۔۔ ولید نے جلدی سے کہا ۔۔۔

“جی صاحب ۔۔۔ وہ جلدی سے لے آئی ۔۔۔ وہ اپنا کام کرنے لگا پر جلدی بیزار ہوگیا ۔۔۔

اسٹڈی کے کیمرہ کا ویو کھولا تاکہ دیکھ سکے کیا کررہے ہیں وہ ۔۔۔

بچے پڑھ رہے تھے اور وہ نماز پڑھ رہی تھی ۔۔۔

پہلے منان اٹھا وہ جو سجدہ کرنے لگی تھی اس کے پینٹھ پر جھولنے لگا ۔۔ اس کے بعد دونوں یہی کررہے تھے باری باری ۔۔۔ وہ حیران ہوا وہ ذرہ بھی غصہ نہ ہورہی تھی ۔۔۔ وہ چاہتی تو سائیڈ پر پٹخ سکتی تھی آخر اس کی نماز ڈسٹرب ہورہی تھی ۔۔۔

وہ حیران تھا ان تینوں کی محبت پر ۔۔۔ اب وہ دعا کے لیۓ ہاتھ اٹھارہی تھی دونوں بچے اس کی ایک ایک ٹانگ پر جم کے بیٹھ گۓ اب تینوں زوروشور سے دعا مانگ رہے تھے ۔۔۔

تینوں خوشی خوشی جاۓ نماز سے اٹھے ۔۔۔۔ اب ہانیہ جوس کا گلاس دونوں کو دے کر پڑھانے بیٹھ گئی ۔۔۔

ولید خانزادہ اس مکمل منظر میں کھوگیا تھا ۔۔۔

“کیا واقعی وہ اتنا جلدی بدل سکتی ہے ۔۔۔ ولید خانزادہ سوچ میں پڑگیا ۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔