Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

انمول سے بےمول

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 20

“اج ریڈی رہنا شام کی اپائمنٹ ہے ڈاکٹر کی ۔۔۔ ثوبان نے کہا ۔۔۔

“اب ضروت نہیں میری اسکن سہی ہوگئی ہے ۔۔۔ صبا کہے کر جانے لگی ۔۔۔

“صبا ڈاکٹر نے کہا ہے فالوو اپ کا تو چلیں گے ۔۔۔ اس بہانے کچھ وقت تمہارے ساتھ گزارنے کا موقع مل جاۓ گا مجھے ۔۔۔ تم تو جانتی ہو ہم مڈل کلاس لوگ تو ویسے گھومنے نکلتے نہیں پھر انہیں بہانے سے نکلنے کا موقع ملتا ہے ۔۔۔ ثوبان نے تفصیل سے بتایا ۔۔۔

ایک طرح سے اس نے صبا کو احساس دلانا چاہا اس بات کا کہ وہ اس کے ساتھ گھومنے کے لیے کتنا بےچین ہے ۔۔۔

“مجھے مناسب نہیں لگتا ۔۔۔ صبا نے سھولت سے کہا ۔۔۔

“صبا لوگوں کی باتوں کا سوچ کر ہم گھر سے ساتھ نکلنا تو نہیں چھوڑیں گے ۔۔۔ ثوبان نے پیار سے سمجھایا ۔۔۔

“ایسا کچھ نہیں ۔۔۔ صبا نے نظر چراتے ہوۓ کہا ۔۔۔

” اگر ایسا نہیں ہے تو پھر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہو کہ ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔ ثوبان نے جتاتے ہوئے لہجے میں کہا ۔۔۔

” پلیز اب میں تمہارے ساتھ باہر نہیں نکل سکتی میرا احساس کمتری بھرنے لگتا ہے اب تو لوگوں لوگ بھی ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں ۔۔۔ ہانیہ بالکل ٹھیک کہتی تھی میرا اپ کا جوڑ نہیں ۔۔۔ صبا نے ہمت کرکے کہے دیا جو کہنے کے لیے وہ پورے ہفتے سے پریکٹس کر رہی تھی ۔۔۔

” بیوقوفی کی باتیں نہ کرو صبا تمہیں دنیا کی کہی باتیں نظر آتی ہیں ان کی آنکھوں میں جو تمسخر ہے وہ نظر آتا ہے میری آنکھوں میں بسی تمہارے لئے محبت نہیں نظر آتی اس کا مطلب صاف ہے کہ دنیا کی اہمیت مجھ سے زیادہ ہے اگر میری اہمیت ہوتی تو تم میری آنکھیں دیکھتی ان میں بسی محبت عزت اور تم پر جو اعتبار ہے وہ دیکھتی ۔۔۔ افسوس مجھے میری اہمیت تمہاری نظر میں کیا ہے۔۔۔ اج پتا چلی ہے ۔۔۔ ثوبان کی کہی بات پر وہ بے انتہا شرمندہ ہوئی اور اپنی بےوقوفی پر افسوس ہوا ۔۔۔۔

صبا کو لگا جب وہ اسے کہے گی کہ وہ اس کے لائق نہیں تو ثوبان اس کی تائید کرے گا ۔۔۔ پر یہاں تو معاملہ الٹا پڑگیا اس کی سوچ مطابق ۔۔۔

اتنا کہتا ثوبان چلا گیا ۔۔۔ صبا سے اس کا ثوبان ناراض ہوگیا اس سے بڑی تکلیف کیا ہوگی اس کے لیۓ وہ کچن میں کام کرتی مسلسل روتی رہی ۔۔۔ اپنی بےوقوفی پر ماتم کنان تھی ۔۔۔

@@@@@@@@@

رانیہ خود کی الجھنوں میں اتنی الجھی رہتی تھی اسے کسی کی خبر نہ رہتی تھی پھر دوستی کیا کرتی کسی سے ۔۔ چاہے جاب ہو یا اس کی یونی وہ اپنے کام سے کام رکھتی تھی ۔۔۔ نا کسی سے اتنی دوستی نہ کسی سے بات چیت , خود میں مگن اپنے درد چھپاۓ وہ چلتی رہتی تھی ۔۔۔

وہ اپنی معصومیت شرارتیں سب پاکستان چھوڑ آئی اب وہ یہاں ایک ٹائم مشین کے ساتھ رہتی تھی جسے دن رات اپنے کام سے مطلب تھا تو خود کو بھی اس نے ایسا بنادیا تھا ۔۔۔ ہر جذبہ اور ہر احساس سے عاری تھی وہ ۔۔۔

جانے کیوں اس نے سعاد کو کبھی بدلنے کی کوشش ہی نہیں کی کیونکہ شاید اسے امید کی کوئی کرن نظر ہی نہ آئی تھی اس میں سے کہ اس پتھر کو وہ کبھی بدل پاۓ گی ۔۔۔

پھر بھی کبھی احساس زیان جاگتا تو پھر صفحوں پر اپنا درد لکھتی اس پر کئی آنسو بہاکر چلی جاتی یا پھر تنہا پارک میں بیٹھتی بچوں کو کھیلتے دیکھ کر سب بھول جانے کی کوشش کرتی تھی ۔۔۔ وہ لمحے اس کی زندگی کے خوبصورت ہوتے جو بچوں کے ساتھ گزرتے ۔۔۔ وہ معصوم اسے زندہ ہونے کا احساس دیتے تھے ۔۔۔

“آؤ دیکھو سعاد ۔۔۔ رانیہ کی زندگی صرف تمہارے اوپر ختم نہیں ہوتی اور رانیہ کے پاس اور طریقے ہیں اس زندگی کے احساس کو برقرار رکھنے کے لیۓ ۔۔۔

کچھ گھنٹے گذار کر وہ نکل آئی تھی ۔۔۔۔ اب خود کو ہلکہ پھلکا محسوس کررہی تھی ۔۔۔۔ بلیک سکارف پہنے اس کے ساتھ شرٹ پر لانگ کوٹ پہنے اور میچنگ جینز پہنے وہ کوٹ میں ہاتھ ڈالے بھیڑ کا حصہ بن گئی اور چلنے لگی ۔۔۔ ہہاں کے زیادہ تر لوگ ایسی ہی زندگی گزارتے تھے ۔۔۔

@@@@@@@@

وہ جاب سے واپسی پر کینٹین سے ہوکر پھر اپنی کلاسس اٹینڈ کرتی تھی ۔۔۔

فائز اسے پچھلے پانچ دنوں میں کافی زچ کرچکا تھا ۔۔۔ اس پر واضع کرچکا تھا وہ صرف دوستی کرنا چاہتا ہے صاف ستھری جس کا اظہار اس نے وائیٹ اور یلو فلاور کا بکے دے کر کیا ۔۔۔ جسے رانیہ نے ایکسیپٹ نہ کیا یہ کہے کر ۔۔۔

“مسٹر فائز میں پڑھنے اتی ہوں ۔۔۔ دوستیاں کرنے نہیں ۔۔۔ رانیہ نے آسان لفظوں میں اسے اپنا موقف بتایا ۔۔۔

“پر حرج کیا ہے اس ملک میں تو عام جام ہے ایسی دوستیاں ۔۔۔ دائز نے سمھھایا اسے ۔

“میں اس ملک میں ہوں ضرور پر یہاں جیسی نہیں ۔۔۔ رانیہ نے سادہ لفظوں میں کہا ۔۔۔

“جیسا دیس ویسا بھیس اپنے سنا تو ہوگا ۔۔۔ فائز نے شرارتی لہجے میں کہا ۔۔۔

“ایکسکیوز می , مجھے اپ سے کچھ سننے اور سیکھنے کی ضرورت نہیں اپنے کام سے کام رکھیں مجھے کسی دوست کی ضرورت نہیں ۔۔۔ یقین کریں اگر کبھی مجھے دوست کی ضرورت پڑی تو کم ازکم کسی مرد کو دوست بنانے کی مجھے ضرورت نہیں , میں کسی عورت سے دوستی کرنا پسند کروں گی ۔۔۔ سمجھے اپ , پلیز میری کلاس کا وقت ہورہا ہے ۔۔۔ اتنا کہے کر وہ اگے بڑھ گئی ۔۔۔۔
وہ اسے جاتا ہوا دیکھتا رہ گیا ۔۔۔

@@@@@@@@@

ہمیشہ کی طرح رانیہ سیدھا کینٹین آئی تھی ۔۔۔ وہ اپنا لنچ کررہی تھی ۔۔۔ اس سے دو ٹیبل چھوڑ کر فائز اپنے فرینڈس کے ساتھ بیٹھا تھا ۔۔۔ اس نے ایک سرسری نظر دیکھ کر پینٹھ کرکے بیٹھ گئی تھی ۔۔۔

وہ اس کی امد سے بےخبر اپنی ہانکے جارہے تھے ۔۔۔ وہ اپس میں انگلش زبان میں بول رہے تھے ۔۔۔۔

“اوہ تو تم ہارگۓ فائز مس ایشین بیوٹی کوئین سے فلرٹ کرنے میں ۔۔۔ ٹینا کو جلدی تھی اس لیۓ کہا تھا اس نے ایسا ۔۔۔

“اتنا جلدی فیصلہ نہ سناؤ ابھی وقت ہی , جلدی ہی میرے پاس میرے ساتھ ہوگی ۔۔۔ شاید میرے بستر تک اجاۓ ۔۔۔ اس نے انکھ ماری ۔۔۔ سب ہسنے لگے ۔۔۔

” اوکیز ۔۔۔ فائزاگر تم اس سے فلرٹ کرنے میں کامیاب ہو گۓ تو میں تمھیں زبردست والی ٹریٹ دوں گی ورنہ تم دینا۔” ٹینا نے اب کے کہا ۔۔۔

ایک عورت دوسری عورت کو شکار بنانے کے لیے ایک مرد کو ترغیب دے رہی تھی۔۔۔ کینٹین میں بیٹھا ہوا کوئی شخص نہیں جانتا تھا کہ جس ایشین لڑکی کی بات وہ کر رہے تھے وہ رانیہ تھی ۔۔۔

مگر رانیہ کو لگ رہا تھا جیسے وہاں موجود ہر شخص اسے ہی دیکھ رہا تھا اور اسی پر ہنس رہا تھا ۔۔۔

پھر وہ نہیں جانتی کیا ہوا کیسے ہوا وہ خود پر کنٹرول نہیں رکھ پائی تھی۔۔۔ ایسے جیسے اس میں کوئی دوسری لڑکی تھی۔۔۔ اپنا کافی کا مگ رکھا کرسی کھسکا کر اٹھی ۔۔۔پھر اس طرف آئی جہاں وہ بیٹھے تھے۔۔۔۔

ان سب کی کچھ پیپرز اور کتابیں ٹیبل پر رکھے ہوۓ تھے سب اپنے موبائل میں مصروف ہوگۓ تھے اس بات پر تبصری کرکے ۔۔ جیسے کچھ ضروری کام کر رہے تھے۔۔۔فائز کی نظر اس پر پڑی وہ چونکا تھا ۔۔۔

“رانیہ تم ۔۔۔

بے اختیار اس نے کہا تھا پھر ٹینا بھی اس کی طرف متوجہ ہو گئی۔۔مگر وہ صرف فائز کو دیکھ رہی تھی۔۔۔جو اس کے یک دم سامنے آنے پر حیران نظر آ رہا تھا۔۔۔

وہ آہستہ سے چلتی ہوئی اس کے مقابل کھڑی ہوئی پھر اس نے اس کے سامنے رکھے ہوۓ پیپر اٹھاۓ انہیں پھاڑا اور پوری قوت سے اس کے منہ پر دے مارے ( دل تو تھپڑ مارنے کا تھا پر ضبط کرتے ہوۓ رانیہ نے اتنا کیا )۔۔۔وہ یک دم اپنی کرسی سے کھڑا ہو گیا۔۔اس کے چہرے کا سارا اطمینان رخصت ہو گیا تھا۔۔

“یہ کیا بد تمیزی ہے۔۔۔تم نے میرے پیپر کیوں پھاڑے ہیں۔۔۔۔ وہ غصے سے دھاڑا اس بےعزتی پر ۔۔۔

“صرف تمھیں یہ بتانےکے لیے کہ تمھاری حیثیت میرے نزدیک ان پیپرز کے برابر بھی نہیں ہے۔۔۔تم کس قدر غیر اہم اور چھوٹے آدمی ہو۔۔۔میں تمھیں یہی بتانے آئی ہوں وہ اور لڑکیاں ہوں گی جو تمھاری تفریح کا سامان کرتی ہوں گی اور وہ بھی اور ہوں گی جو تمھارے آگے پیچھے پھرتی ہوں گی۔۔۔مگر میں ان میں سے نہیں ہوں۔۔۔میں یہاں صرف پڑھنے آتی ہوں تم جیسوں کو پھنسانے کے لیے نہیں ۔۔۔ اپنے بارے میں تمھارےخیالات جان کر مجھے کوئی حیرت نہیں ہوئی۔۔۔وہ تب ہوتی جب تم میرے بارے میں یا کسی بھی عورت کے بارے میں اچھے خیالات کا اظہار کرتے۔۔۔مگر تمھارا قصور نہیں ہے یہ اس تربیت کا قصور ہے جو تمھیں دی گئی ہے۔۔۔یہ اس روپے کا اثر ہے جو تمھارے ماں باپ کماتے ہیں ۔۔۔۔

وہ صاف انگلش میں بولتی اس کی خوب بےعزتی کرگئی ۔۔۔ وہ اچھی طرح جانتی تھی وہ ترکی کے سب سے بڑے تاجر کا اکلوتا بیٹا ہے ۔۔ یہ بات کل ہی ایک کلاس فیلو دوسری کو بتارہی تھی ۔۔۔ تب رانیہ نے بھی سن لیا تھا ۔۔۔

“میں رانیہ ہوں رانیہ , مسلمان ملک کی لڑکی جسے اپنے مذہب اور اس کے حدود کا پتا ہے ۔۔۔ رانیہ نے فخریہ لہجے میں کہا تھا ۔۔

وہ جذ بذ ہوکر اسے دیکھ رہا تھا شعلہ بھری نظروں سے ۔۔۔ سب مزے لے کر یہ تماشہ دیکھ رہے تھے ۔۔۔ اب کے وہ ٹینا کی طرف مڑی اور کہا ۔۔۔

“تم نے کہا تھا اگر یہ مجھ سے فلرٹ کرنے میں کامیاب ہوا تو تم اسے ٹریٹ دو گی۔۔۔یہ شرط تم مجھ سےلگاؤ اگر یہ مجھ سے فلرٹ کرنے میں کامیاب ہوا تو میں تمھیں زبردست والی ٹریٹ دوں گی۔۔ وہ ٹیبل پر ہاتھ بجاتی ہوئی بولی انگلش میں ۔۔۔ وہ چیلینجنگ وے میں کہتی اور چلتی بنی تھی ۔۔۔

سب دنگ نظروں سے دیکھنے لگے اس لڑکی کو جس نے فائز شاہ کو بےعزت کیا تھا ۔۔۔ اس یونی میں اس کی ویلیو وی آئی پی والی تھی اج ایک معمولی لڑکی فائز شاہ کو دوکوڑی کا کرگئی تھی ۔۔۔

@@@@@@@@@@

لنچ کے بعد وہ تھوڑی دیر کے لیۓ حنان اور منان کو سلاتی ضرور تھی تاکہ زیادہ فوکس رہے پڑھائی پر ان کا ۔۔۔

حنان تو جلدی سوگیا پر منان کا کوئی موڈ نہ تھا سونے کا اس لیۓ اسے لے کر باہر اگئی ۔۔۔ ورنہ وہ اپنی باتوں سے حنان کی نیند بھی خراب کردیتا ۔۔۔

وہ ٹی وی لاؤنج میں بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے لگے ۔۔۔

“ماما اپ بہت پیاری ہو ۔۔۔ منان اس کے گال چومتے ہوۓ بولا ۔۔۔

“اچھا ۔۔۔ ہانیہ مسکرائی ۔۔۔ ہانیہ نے بھی اسے پیار کیا اور خود سے لگایا ۔۔۔

“ماما اپ نے تیار ہونا کیوں چھوڑ دیا ۔۔۔ منان نے پوچھا جھجھکتے ہوۓ ۔۔۔

“ارے میں تیار تو ہوں ۔۔۔ ہانیہ نے مسکرا کر کہا ۔۔۔

“کہاں ماما , پہلے اپ بلکل باربی کی طرح تیار ہوتی تھیں ۔۔۔ منان نے پیار سے کہا ۔۔۔

“اچھا ۔۔۔ ہانیہ نے نارملی کہا جیسے یہ بات اب اس کے لیۓ کوئی معنی نہیں رکھتی تھی ۔۔۔

“ہمممم پر اپ نے ابھی تک کل والا سوٹ ہی پہنا ہوا ہے ۔۔۔ منان نے منہ بنا کر کہا ۔۔۔

رضیہ بی جو وہیں بیٹھی تھی حیران ہورہی تھی اتنے چھوٹے بچے کی حاضر دماغی پر ۔۔۔ ولید خانزادہ بھی بلکل ایسا تھا کشف کے لیۓ جسے وہ سجا سنورا دیکھنا پسند کرتا تھا ۔۔۔ منان بلکل ولید جیسا لگا رضیہ بی کو ۔۔۔ وہ تو بہت پرانی ملازم تھی اس نے سب موسم یہاں کے گھر کے فردوں کے دیکھے ہوۓ تھا ۔۔۔

“نہیں میں نے تو چینج کیا ہے منان ۔۔۔ ہانیہ نے نارملی کہا ۔۔۔ ہانیہ کو یاد تھا رضیہ بی نے اسے ڈریس تھمایا تھا ۔۔۔ وہ لے کر بھی گئی تھی واشروم ۔۔۔ پر کونسا ڈریس تھمایا تھا وہ بھول چکی تھی ۔۔۔۔

“میڈم منان بیٹا ٹھیک کہے رہا ہے اپ نے کل والا ہی ڈریس پہنا ہے ۔۔۔۔ رضیہ نے جھجھک کر کہا ۔۔۔

ہانیہ حیران ہوئی کہ اسے یاد ہی نہیں رہا ۔۔۔ ” کیا واقعی وہ اتنی غائب دماغ رہنے لگی ہے آج کل ۔۔۔ اسے افسوس ہوا سوچ کر ۔۔۔

“سوری منان بیٹا , واقعی مجھے یاد ہی نہیں رہا ۔۔۔ ہانیہ شرمندہ ہوئی اپنی بےخیالی پر ۔۔۔

“پلیز ماما اپ میرے اور حنان کے لیۓ تیار ہوا کریں ۔۔۔ ہمیں اپ ویسی ہی اچھی لگتی ہیں ۔۔۔ منان نے حق سے کہا ۔۔۔

“اوکے میری جان , کوشش کروں گی ۔۔۔ ہانیہ نے کہا ۔۔۔

ولید خانزادہ نے ایک نظر دیکھا تھا ہانیہ کو جو واقعی خود کو اتنا مینٹین رکھنے والی ہوا کرتی تھی اتنی بیزار خود سے دل کو کچھ عجیب لگا ۔۔۔

@@@@@@@@@@

رات کو ڈنر پر ولید نے بتادیا تھا “کل پارٹی پر چلنا ہے ۔۔۔

جس پر ہانیہ نے کہا ۔۔۔ “اگر چلنا ضروری نہ ہو تو اپ ہو کر اجائیں ۔۔۔ میرا موڈ نہیں ۔۔۔ اس کا پورا دھیان اپنے کھانے پر تھا ایک نظر نہ دیکھا تھا اس نے ولید خانزادہ کو ۔۔۔

“میرا خیال ہے اگر ضروری نہ ہوتا تو یقینن کہتا بھی نہیں ۔۔۔ ولید کا لہجہ سرد تھا ۔۔۔ ہانیہ نے سرہلایا اور دوبارہ کھانا کھانے لگی ۔۔۔

وہ حیران ہوا اس کا کوئی ریکشن نہ تھا جبکہ اتنے دنوں کے بعد دونوں کے بیچ تھوڑی ہی بات ہوئی تھی جس کا جواب بھی اس نے روڈ دیا تھا ہانیہ کو مائنڈ کرنا چاہیۓ تھا پر اس کا بےتاثر انداز ولید کو عجیب لگا ۔۔۔

کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ کھانے کی طرف مکمل توجہ رکھتے ہوۓ ولید خانزادہ سے بولی ۔۔۔

“بچے تو ساتھ چلیں گے نا ۔۔۔ ہانیہ نے پوچھا ۔۔۔

“اگر اپ چاہیں تو لے کر چل سکتے ہیں ۔۔۔ ورنہ نا چاہیں تو ۔۔۔ ولید خانزادہ کا جملا مکمل ہونے سے پہلے وہ بولی ۔۔۔ “بلکل بچے چلیں گے ان کو اچھی لگتی ہیں پارٹیز ۔۔۔ ہانیہ اب مطئمن سی لگی اسے ۔۔۔

“ان کا اسکول ۔۔۔ ولید نے آۓ برو اچکا کر پوچھا ۔۔۔

“مینیج ہوجاۓ گا ۔۔۔ ہانیہ نے سھولت سے کہا ۔۔۔

اج بچوں کو کھانا کھلا کر پھر کھانے بیٹھی تو ولید خانزادہ اگیا ۔۔۔ ورنہ وہ دونوں ایک ساتھ کم ہی کھاتے تھے ڈائینگ پر اکیلے ۔۔۔

وہ ایک نظر اٹھا کر بھی اس شخص کی طرف نہیں دیکھتی تھی آج کل ۔۔۔ اپنا کھانا ختم کرتی وہ اٹھ گئی ایک غلط نظر نہ ڈالی اس پر ۔۔۔ ویسے بھی یہاں کے ملازم سب کام کرتے تھے سو ٹیبل بھی خود ملازم کو ہی سمیٹنی تھی سو اس کے ٹھرنے کا کوئی جواز نہ تھا ۔۔۔ اس لیۓ اس کا کام صرف بچوں کی طرف تھا تو وہ وہی دیکھتی تھی ۔۔۔

ولید خانزادہ کو اس کا اس طرح اٹھنا برا لگا ۔۔۔ وہ بغیر رکے جاچکی تھی اوپر بچوں کے کمرے کی طرف ۔۔۔

@@@@@@@

ثوبان جب شام کو گھر ایا تو وہ اس کے سامنے چاۓ رکھ کر سلام کیا جس کا اس نے جواب دیا ۔۔۔

“یاد ہے نہ ۔۔۔ میں تیار ہوں جلدی کریں چلنا ہے ۔۔۔ صبا نے جھجھہتے ہوۓ کہا ۔۔۔ ڈر تھا صبح والی ناراضگی نہ دکھا دے ۔۔۔

پر وہ اس کی سوچ کے برعکس وہ دلکشی سے مسکرایا ۔۔۔

“ہاں میڈم غلام حاضر ہوتا ہے پانچ منٹ دیں ۔۔۔اپ کے حکم پر ۔۔۔ وہ شوخ ہوا ۔۔۔ وہ اس کی تیارہ کو دیکھ کر خوش ہوا ۔۔۔

وہ مسکرائی دل کو سکوں ہوا وہ ناراض نہیں ۔۔۔

“سوری ثوبان صبح کے لیۓ ۔۔۔ صبا نے کہا ۔۔۔

“کوئی بات نہیں بڑے بڑے شہروں میں یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی رہتیں ہیں ۔۔۔ ثوبان نے مزے سے کہا ۔۔۔

“کیا ہوگیا ہے ثوبان اج اپ کس طرح بات کررہے ہیں ۔۔۔ صبا نے جھٹپٹا کر کہا ۔۔۔

“کیوں اچھا نہیں لگ رہا ۔۔۔ ثوبان نے پوچھا ۔۔۔

“مجھے عجیب لگ رہا ہے اپ کا یہ فلمی انداز ۔۔۔۔ صبا نے سادگی سے کہا ۔۔

“عادت ڈال لو کیونکہ مجھے تم سے ایسے بولنا اچھا لگتا ہے ۔۔۔ وہ اسے ستانے کے لیۓ بولا جانے کیوں اسے مزا ارہا تھا صبا کو چھیڑتے ہوۓ ۔۔۔

“تم اتنی پیاری ہو بندہ خودبخود فلمی ہونے لگے ۔۔۔ ثوبان نے کہا تو وہ شرما گئی پھر کچھ سوچ کر بےساختہ مسکرا اٹھی ۔۔۔

وہ شرما کر پھر مسکرائی تھی بے ساختہ۔۔۔

“کیا ہوا ۔۔۔ ثوبان نے پوچھا ۔۔۔

“کچھ نہیں ۔۔۔ وہ جلدی سے بولی ۔۔۔

“نہیں نہیں کہو جو دل میں آیا ہے وہ کہہ دو ورنہ دل کے امراض کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔۔۔ ثوبان نے کہا تو اسے اور زور کی ہنسی آئی کیونکہ بہت وقتوں بعد ثوبقن کو اس نے ایسے بولتے سنا تھا ۔۔۔ ورنہ رانیہ سے رشتہ ختم ہونے بعد اس کا ہر انداز اور مذاج سوبر سا ہوگیا تھا ۔۔۔ اج کا یہ انداز اس کی خوشی کا تھا ۔۔۔ صبا اس کو اچھی طرح سمجھتی تھی ۔۔۔

“ثوبان اگر اس طرح اپ بولے تو سب کہیں گے ثوبان پاغل ہوگیا ہے کیا ۔۔۔ صبا نے بھی ہنستے ہوۓ کہا ۔۔۔ اسے چڑانے کو ۔۔۔

کئی وقتوں بعد اس گھر میں اس طرح کے ہنسی آور قہقہے گونجے تھے ۔۔۔

“تو تم کہے دینا میرے پیار میں ہوا ہے اور یہ سچ بھی ہے ۔۔۔ ثوبان کی کہی بات وہ شاک ہی ہوئی ۔۔۔

“اف میں ایسی باتیں نہیں کرتی ۔۔۔ صبا جلدی سے بولی ۔۔۔

“جب پیار ہوگا تو تم بھی کرنے لگو گی ۔۔۔ فی الحال مجھے ہوا ہے نا جب تمہیں ہوگا تو پتا چلے گا ۔۔۔ ثوبان نے مزے سے کہا ۔۔۔ وہ ایسے ظاہر کررہا تھا جیسے صبا تو پیار سے بلکل انجان ہے ۔۔۔

“اچھا ۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہوتا پیار ہونے سے ۔۔۔ صبا نے اسے یقین سے کہا ۔۔۔

“نہیں صبا ایسا ہوتا ہے دیکھو میرے ساتھ تو ہوا ۔۔۔ جب تمہیں مجھ سے پیار ہوگا تب دیکھنا ۔۔۔ ثوبام کا لہجہ انسسٹ کرتا ہوا تھا ۔۔۔

صبا کو اچھی خاصی تپ چڑھ رہی تھی ثوبان کے ایسا کہنے سے ۔۔ وہ ایسے کیسے کہے سکتا ہے اس کے لیۓ وہ کتنی محبت کرتی آئی ہے ہمیشہ سے اس سے اور وہ کہتا ہے اسے پیار کا نہیں پتا ۔۔۔ اس کا چڑنا اور غصہ ہونا نارمل ہی تھا ۔۔۔

اب کے بولی تو جذباتی انداز میں بولتی چلی گئی ۔۔۔

“ثوبان سچ میں ایسا کچھ نہیں ہوتا پیار میں ۔۔۔ دیکھو میں اتنے سال سے تمہیں پیار کرتی ہوں مجھے کچھ ہوا جو ایسے بہکی بہکی باتیں کروں ۔۔۔ بے ساختہ اس نے زبان دانتوں میں دبائی ۔۔۔ “یہ کیا بول گئی میں ۔۔۔ صبا نے سوچا ۔۔۔ شرمندہ ہوکر نظر جھکالی ۔۔۔۔

ڈرتے ڈرتے نظر اٹھائی وہ پرشوق نظروں سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔

“شکریہ صبا مجھے یہ خوشی دینے کا ورنہ یکطرفہ جذبات تکلیف دہ ہوتے ہیں ۔۔۔ اب تم سے دور رہنا گوارہ نہیں ۔۔۔ بس بابا سے کہنے لگا ہوں ۔۔۔ اب میں شادی شدہ کہلوانا چاہتا ہوں ۔۔۔ تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں جاناں ۔۔۔ ثوبان شوخ ہوا وہ خوش تھا اس کے منہ سے پیار کا اظہار سن کر ۔۔۔

ثوبان کے اتنے کھلم کھلا اظہار پر صبا نے اندر خوشیوں کے پھول کھلنے لگے ۔۔۔ وہ بہت خوش تھی ۔۔۔

وہ جانے لگی تو وہ اس کا ہاتھ تھام گیا ۔۔۔

“پلیز جواب دو نا ۔۔۔ بتاؤ کوئی اعتراض تو جلدی شادی کرنے پر ۔۔۔

ثوبان کے دوبارہ پوچھنے پر نفی میں سرہلاتی کمرے سے باہر نکلی ہاتھ چھڑا کر ۔۔۔

“جلدی آئیں ڈاکٹر کے پاس چلنا ہے ۔۔۔ صبا جاتے جاتے کہنا نہ بھولی ۔۔۔

“بس پانچ منٹ میں ایا چینج کرکے ۔۔۔ ثوبان نے جلدی سے کہا جو دروازہ عبور کرگئی تھی ۔۔۔

وہ مسکراتا ہوا اسے جاتا ہوا دیکھنے لگا ۔۔۔

@@@@@@@@@

“یہ کیا ہے رضیہ بی ۔۔۔ ہانیہ نے سیڑھیوں سے نیچے اترتے ہوۓ لاؤنج میں رش دیکھا ۔۔۔

“میڈم ۔۔۔ صاحب نے جیولر اور بوتیک والے دونوں کو بھیجا ہے ۔۔۔ اج رات کے لیۓ کچھ پسند کرلیں ۔۔۔ رضیہ بی نے جلدی سے کہا ۔۔۔۔

ولید خانزادہ کیمرہ کی انکھ سے بغور دیکھ رہا تھا لاؤنج کا منظر ۔۔۔ ہانیہ نے کسی چیز پر ایک نظر نہ ڈالی تھی ۔۔۔ وہ حیران ہوا تھا جو لڑکی پچھلی بار ندیدوں کی طرح ہر چیز دیکھ رہی تھی اج اس کا رویہ یکسر مختلف تھا ۔۔۔

“تم واپس بھیج دو ان کو مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔ اتنا کہے کر وہ واپس اوپر چلی گئی ۔۔۔ نا صرف رضیہ بی شاک ہوئی بلکہ ولید خانزادہ بھی شاک ہوا تھا اس کے انداز پر ۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔