Anmol Se Bemol By Saba Mughal readelle50047 Episode 27
No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
انمول سے بےمول
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 27
“شام میں مجھے یہیں گھر پر تیار کریں پھر مجھے جلدی نکلنا ہے ۔۔۔ کچھ سوچ کر ہانیہ نے کہا ۔۔۔
“اوکے میم ۔۔۔ اب کے لڑکی نے کہا اور ولید خانزادہ سے اجازت لے کر وہ چلی گئی ۔۔۔
ہانیہ کچھ دیر زمین کو گھورتی رہی ۔۔۔
“زمین کو گھورنے سے کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔ بہتر ہوگا جو کہا ہے وہ کریں ۔۔۔ ولید خانزادہ کے کاٹدار لہجے پر چونک کر سر اٹھایا ۔۔۔ وہ جو ہر بات میں بحث کرتی تھی اج خاموش تھی ۔۔۔ ولید اس کے منہ سے کچھ سننے کا متمنی تھا پر اس کی چپ نہ ٹوٹی وہ اٹھ کر چلی گئی ۔۔۔ وہ اسے جاتا دیکھتا رہ گیا ۔۔۔
“پہلے والی ہانیہ اور اج کی ہانیہ میں اتنا فرق اتنا بدلاؤ , ایسا تو میں نہیں چاہتا تھا جس کی آواز سے کچھ فرق نہ پڑا تھا مجھے , اج اس کی چپ سے مجھے کیوں تکلیف ہورہی ہے ۔۔۔ ولید خانزادہ نے سوچا ۔۔۔
عجیب خاموش سا تعلق تھا دونوں کا ۔۔
@@@@@@@
وہ چپ تھی پارلر والی اسے تیار کروارہی تھی ۔۔۔ بار بار پارلر والی لڑکی اس کی تعریف کرتی ۔۔۔ وہ تعریف کرتے ہوئے نہ تھک رہی تھی پر ہانیہ سن کر تھک گئی آخرکار چڑ کر بولی ۔۔
“بہتر یہ ہوگا آپ میک اپ کروانے پر توجہ دیں تعریف کرنے کے بجاۓ ۔۔۔
پارلر والی شرمندہ سی بولی “سوری میم ۔۔۔
وہ پارلر والی اس کو حیرت سے دیکھ رہی تھی جو بےنیاز کھڑی تھی جبکہ وہ اس کا مبہوت کرنے والا حسن دیکھ کر خود کو روک نہیں پارہی تھی سراہنے سے ۔۔۔
پارلر والی کی ذرہ سی محنت سے وہ فیروزی ساڑی میں بےانتہا حسین لگ رہی تھی ۔۔۔
“میم بال کھلے چھوڑدوں یا کونسا ہیئر اسٹائل کروں ۔۔۔ پارلر والی اس کے سنہری بالوں کو چھوکر پوچھا ۔۔۔
“بال رہنے دو مجھے دیر ہورہی ہے ۔۔۔ ہانیہ نے کچھ سوچ کر کہا ۔۔۔ گھڑی میں چھ بجنے والے تھے ۔۔۔
“نو میم سر غصہ ہونگے , اگر اپ کہیں تو جھوڑا بنادوں ۔۔۔ پارلر والی نے التجائی لہجے میں کہا ۔۔۔
“اوکے یہ ٹھیک رہے گا ۔۔۔ کچھ سوچ کر ہانیہ نے کہا ۔۔۔
ہانیہ کے ذہن میں خیال آیا کے اگر جھوڑا بنا ہوا ہوگا تو وہ آسانی سے صبا اپی کو تیار کرواسکتی ہے ۔۔۔ اس لیۓ جھوڑے کے لیۓ ہامی بھرلی ۔۔
کچھ دیر بعد وہ جلدی جلدی بچوں کو تیار کرتے ہوۓ سیڑھیوں سے اتررہی تھی ۔۔۔
“مما آپ تو پری لگ رہے ہو فروزن باربی لگ رہے ہو ۔۔ حنان نے مزے سے کہا ۔۔۔ وہ دھیمے سے مسکرائی اس کے معصومیت سے کہنے پر ۔۔۔
“یس مما یو لک پریٹی ۔۔۔ منان کہاں پیچھے رہنے والا تھا ۔۔۔ سو جلدی سے بولا تھا ۔۔۔
“تھینک یو بچوں ۔۔۔ ہانیہ نے سیڑھیاں اترتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“دھیان سے بچوں پاؤں نہ پھسلے ۔۔۔ ہانیہ نے دونوں سے کہا بلکل کیئرنگ ماں کی طرح ۔۔۔
ولید نے سر اٹھاکر دیکھا وہ واقعی بہت حسین لگی اسے بھی ۔۔ میسی جھوڑا سائیڈ پر بنا ہوا اور کرلی لٹ چہرہ کے دونوں سائیڈ اسے انوکھا روپ دے رہی تھیں ۔۔۔ بچوں کے علاوہ ولید نے بھی دل ہی دل میں سراہا اس کے حسن کو ۔۔۔
“واقعی خدا نے بڑی فرصت سے بنایا ہے ۔۔۔ اپنے اس خیال پر وہ خود حیران ہوا ۔۔۔
وہ اس کے پاس سے گزر گئی بےنیازی سے اس کا مبہوت ہونا بھی ہانیہ کے دل میں کوئی ہلچل نہ مچا سکا ۔۔۔ ولید کو ویسے بھی رات میں آنا تھا فنکشن پر اس لیۓ ہانیہ اس سے مخاطب بھی نہ ہوئی ۔۔۔
اب ہم نے چوکنا چھوڑدیا ہے
کسی سے کچھ کہنا چھوڑدیا ہے
ایک وقت آۓ گا وہ آئیں گے اور کہیں گے
ہم نے جینا چھوڑ دیا ہے
@@@@@@@@
وہ جلدی جلدی صبا آپی کو تیار کررہی تھی ۔۔۔ ٹریفک کی وجہ سے کافی لیٹ پہنچی تھی ۔۔۔ شرمندہ ہوکر اس نے معافی بھی مانگی جس پر نازیہ بیگم نے کہا “کوئی بات نہیں ۔۔۔
نو بجے تک ریڈی کروادیا پر دوپٹا سیٹنگ میں ٹائم لگا ۔۔۔
“ہانیہ زبردست تیار کروایا ہے ۔۔۔ سارہ آپی نے صبا کو دیکھتے ہوۓ بےساختہ تعریف کی ۔۔۔ ہانیہ نے سکوں کا سانس لیا اور مسکرائی۔۔۔ آج اس کے پسینے چھوٹ گۓ تیاری میں ۔۔۔
صبا آپی حیران ہورہی تھی خود کو شیشے میں دیکھ کر ۔۔ “شکریہ ہانیہ ۔۔۔
“آپی اس کی ضرورت نہیں ۔۔۔ ہانیہ نے آرام سے کہا ۔۔۔
پھر فوٹوگرافر اگیا اور ہانیہ سائیڈ ہوکر نکل گئی ۔۔۔ سارہ اور صبا حیران ہوئی جو فوٹو نکلوانے کی شوقین ہوا کرتی تھی اج ایک بھی پوز کیۓ بغیر چلی گئی ۔۔۔ سارہ کی شادی میں اس کی فوٹو دلہے دلہن سے زیادہ تھی سب ہنسے تھے پر ہانیہ ذرہ نہ شرمندہ ہوئی الٹا ڈھٹائی سے ہنستی رہی ۔۔۔ مغرور انداز میں اتراتی ہوئی بولی تھی “ماڈل لک تھا میرا اس لیۓ تو اتنے پکس کلک کروائیں فوٹوگرافر بھی کہے رہا آپ نکلواؤ پکس تو بس نکل والیں میں نے ۔۔۔
آج اس طرح چلے جانا دونوں نے محسوس کیا ۔۔۔
پھر صرف مہندی کی رسم کرنے آئی تھی اسٹیج پر پھر ایک دفعہ بھی نہ آئی بس ایک کونے میں بیٹھی رہی ۔۔۔
ثوبان اور صبا کی ساتھ رسم مہندی ہوئی ۔۔۔
ولید نہیں آۓ تھے وہ حیران ہوئی شام تک تو ان کے آنے کا ارادہ تھا پھر کیوں نہیں آۓ ہانیہ نے پوچھنا ضروری نہ سمجھا ۔۔۔ سب کے پوچھنے ہر اس نے لاعلمی ظاہر کی ۔۔
@@@@@@@@@
اگلے دن رضیہ بی سے پتا چلا وہ لندن جاچکے ہیں ان کی ماں کی طبیت ٹھیک نہیں ایمرجنسی فلائیٹ سے گۓ ہیں ۔۔۔
آج شادی کے دن وہ سکون سے گئی کیونکہ اج اسے صبا آپی کو تیار نہیں کروانا تھا اج ہانیہ نے ریڈ میکسی پہنی تھی ۔۔۔ اج سحرش اس کی دوست بھی آئی تھی ہانیہ کو دیکھ کر حیران ہوئی ۔۔۔ اس نے اپنی دوست میں آئی تبدیلی کو شدت سے محسوس کیا پر اس بارے میں یہاں بات کرنا مناسب نہ تھا ۔۔۔
شادی کے دن صبا اور ثوبان ایک ساتھ حسین لگ رہے تھے ۔۔۔ اج بھی ان کا کافی لمبا فوٹو شوٹ چلا تھا ۔۔۔ اج کل کے چلتے ٹرینڈ کے حساب سے کیک کاٹ کر اس دن کو سیلیبریٹ کیا ۔۔ صبا اور ثوبان ایک دوسرے کا ساتھ پاکر مسرور دکھائی دے رہے تھے ۔۔۔
کافی رسموں کے بعد انہیں کمرے میں بھیجا گیا ۔۔۔
ہانیہ نے گولڈ کا سیٹ دیا تھا جس پر نازیہ بیگم نے اعتراض کیا پر ولید خانزادہ کا نام لے کر ہانیہ نے آخر ان کو لینے پر مجبورکر ہی دیا تھا ۔۔۔
ولید کے اچانک جانے کا افسوس ہوا سب کو پر اس کی مجبوری کو سب نے سمجھا ۔۔۔
@@@@@@@
صبا سرجھکاۓ گھونھگٹ گراۓ ثوبان کے کمرے میں بیٹھی تھی ۔۔۔ دل اپنی رفتار سے تیز دھڑک رہا تھا ۔۔۔
کچھ دیر گزرنے کے بعد میں ثوبان اگیا تھا کمرے میں ۔۔۔ وہ اس کے قریب بیٹھا اور سلام کیا صبا نے دھیرے سے جواب دیا ۔۔۔ ثوبان کے ہونٹ مسکراۓ اور اس کا ہاتھ تھام کر کنگن پہناۓ اور گھونگھٹ اٹھایا اور کہا “ماشاءاللہ ۔۔۔
“صبا اج تمہیں پاکے میں بہت خوش ہوں ۔۔۔ اج ان لمحوں امر کرنے لے لیۓ سب سے پہلے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔
“میں بھی ۔۔۔ صبا نے دھیرے سے کہا ۔۔۔ اس کے ماتھے پر محبت کی پہلی مہر ثبت کرکے اٹھا اور اس کے سامنے ہتھیلی پھیلائی جس پر صبا نے اپنا ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔ ثوبان نے اس کی جیولری اتارنے میں مدد کی ۔۔ پھر دونوں نے وضو کیا اور ثوبان کے پیچھے کھڑے ہوکر اس نے نماز ادا کی اور شکرانے کے نفل پڑھے ایک دوسرے کا ساتھ پانے کی خوشی میں ۔۔۔
وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تو ثوبان اس کے ہاتھ تھامتا اسے بیڈ پر بٹھایا اور کہا ۔۔۔
“صبا اج تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔۔۔
صبا نے پلکیں اٹھاکر اپنے شوہر کو دیکھا جس کی آنکھوں میں اس کے لیۓ بےانتہا محبت تھی ۔۔۔ وہ شرما رہی تھی اس کے اس طرح دیکھنے سے ۔۔
“ہممم کہیں ۔۔۔
“آج کی رات ہی ہے جس میں ایک شوہر اپنی بیوی کو بتاتا ہے وہ اس کے لیۓ کیا ہے , اس کی اہمیت کیا ہے ۔۔۔۔ جانتی ہو نا ۔۔۔ ثوبان مدہم لہجے میں کہے رہا تھا صبا سے ۔۔۔ ثوبان کا لہجہ صبا کے دل کے تار چھیڑرہا تھا ۔۔۔
“جی ۔۔۔ صبا نے دھیرے سے کہا ۔۔۔
“صبا تم اللہ کا دیا ایک انمول تحفہ ہو جس سے اللہ نے مجھے نوازا ہے ۔۔۔ میں اللہ کی بنائی اس سرزمیں پر خود کو خوشنصیب سمجھتا ہوں جس نے مجھے میری سچی خوشی سے نوازا ہے ۔۔۔ ایک خوشی وہ تھی جس کی تمنا میں نے کبھی کی تھی ایک خوشی وہ ہے جس کا خیال میرے رب نے میرے دل میں ڈالا اور پھر میرے ماں باپ نے پسند کیا جس کو اور یہی سچی خوشی ہے میرے لیۓ اصل انتخاب ہے میرے لیۓ ۔۔۔ صبا اپنے دل میں کبھی میرے لیۓ کوئی غلط خیال نہ لانا میں تمہیں چاہتا ہوں تاعمر تمہیں ہی چاہوں گا ۔۔۔ یہ رشتہ اعتبار اور احساس کا ہے مجھ پر ہمیشہ اعتبار کرنا ۔۔۔ ثوبان کے لہجے میں سچائی تھی جس کو صبا نے محسوس کیا ۔۔۔
” میں تاعمر اپ پر اعتبار کروں گی , میں بھی خوشنصیب ہوں جسے اپ ملے ہیں ۔۔۔ صبا نے دھیرے سے کہا ۔۔۔ شرم سے پلکیں لرز رہیں تھیں ثوبان کو ان کی جنبش نے مبھوت کیا اس نے ہونٹ رکھ کر ان کی جنبش کو روکا ۔۔۔ صبا کے ہر انداز میں شرم وحیا تھی وہی عورت کا اصل زیور ہے ۔۔۔ ثوبان خوش تھا اسے پاکر اسے کسی انمول ہیرے کی طرح خود میں بھینچ گیا ۔۔۔ وہ مسرور سا لگا صبا کو , تو صبا نے مطئمن ہوکر اس کے سپرد خود کو کیا ۔۔۔ محبت کا انمول جذبہ دونوں کے بیچ مسکرا رہا تھا ۔۔۔ ملن کی رات تھی اور محبت کے اس ملن پر محبت نازان تھی ۔۔۔
@@@@@@@@@
ولید خانزادہ ایک ہفتے کے بعد ایا تھا لندن سے , وہاں سے انے کے بعد اگلے روز ہی ہانیہ اور بچوں کو لے کر ثوبان اور صبا کو شادی کی مبارک دینے ان کے گھر گیا ۔۔۔ ساتھ میں مٹھائی اور گفٹس لے گیا ۔۔۔
سب خوش تھے ان کو دیکھ کر , ولید خانزادہ کے رکھ رکھاؤ سے سب خوش ہوۓ ۔۔۔ جتنی اہمیت اس نے ان لوگوں کو دی تھی اتنی کم ہی کبھی کسی کو دی ہو شاید ۔۔۔ وہ لوگ اس بات سے انجان ہو شاید کہ ولید خانزادہ ریزروو نیچر کا مالک رہا ہے ہمیشہ سے پر یہاں کے محبت بھرے انداز نے اسے اندر سے کافی بدل دیا تھا ۔۔۔
جس طرح احد صاحب اسے بیٹا کہتے یا احمد صاحب بھی اسے بیٹے کی طرح چاہتے اور ہر بات ڈسکس کرتے تو وہ بھی خود پر ان کی فکر کرنا لازم سمجھتا تھا ۔۔۔ سب سے اچھی بات اس گھر کی کہ یہاں کے لوگ اس کے بیٹوں کو ننھیال والا پیار دیتے تو اس کا دل خوشی سے بھرجاتا ۔۔۔ ابھی بھی بچے اپنے عباس ماموں کے ساتھ کھیل رہے تھے ۔۔۔ وہ اندر ہی خود سے کہیں دفعہ اعتراف کرچکا تھا “ہانیہ سے شادی اس کا سب سے بہتریں فیصلہ تھا بچوں کو ناصرف ماں مل گئی تھی بلکہ کئی اور رشتے مل گۓ تھے ۔۔۔ بچے خود ہی ثوبان کو چاچو کہنے لگے تھے ۔۔۔
گھر والوں کے انسسٹ کرنے پر وہ کھانے پر رک گیاتھا ۔۔۔
ہانیہ کا گم صم انداز اب عام سی بات ہوگئی تھی یسرا بیگم کے لیۓ کئی دفعہ پوچھنے پر بھی اس کی زبان سے ایک لفظ نہ نکلا ۔۔۔ ان کو یہی لگا “شاید ولید خانزادہ جیسے میچور بندے کے ساتھ وہ بھی میچور ہوگئی ہے پر ماں کے دل کو ابھی بھی مکمل تسلی نہ ہوئی تھی ۔۔۔
دودن بعد ولید خانزادہ نے شادی کی خوشی میں سب کو اپنے گھر میں دعوت دی اس نے صبا اور ثوبان کے ساتھ ساتھ سارے گھر کو اور ساتھ میں سارہ اور فیاض کو بھی دی تھی دعوت , کیونکہ سارہ اس گھر کی بیٹی تھی ۔۔۔ جب بڑوں نے کہا “صرف ثوبان اور صبا کو دعوت ینی چاہیۓ ۔۔۔
تو ولید نے کہا “میں غیر ہوں کیا ۔۔۔ جو صرف ان کو دعوت دوں ۔۔۔
اس کے انداز میں اتنا اپنا پن تھا کہ سب کو ماننا پڑا اور واقعی اس نے شاندار دعوت کا انتظام کروایا تھا اپنے گھر پر۔۔۔۔ سب خوش ہوۓ ۔۔۔
@@@@@@@@@@
“واقعی دعوت تو زبردست رہی ۔۔۔ ثوبان نے روم میں صبا سے کہا ۔۔۔ جو گم صم ہوکر اپنی چوڑیان گھمارہی تھی ۔۔۔
“ایک اور تحفہ دے کر ولید خانزادہ نے مجھے پریشان کردیا ہے سوچ رہا ہوں اس بار بچوں کے لیۓ کچھ اچھے گفٹس لیں گے کیا خیال ہے صبا ۔۔۔ ثوبان نے ایک اور بات کہی ۔۔۔
“ہمممم ہاں ہاں سہی ۔۔۔ اس نے کھوۓ ہوۓ لہجے میں کہا ۔۔۔
“کیا ہوا صبا تم پریشان ہو کچھ ہوا ہے کیا ۔۔۔ ثوبان کے دل کو کچھ ہوا صبا کے اس انداز پر ۔۔۔
صبا کے چہرے سے اداسی واضع تھی ۔۔۔
صبا کے ہاتھ تھام لیۓ ثوبان نے تو کچھ آنسو نکل آۓ اس کی آنکھ سے ” کیا ہوا صبا ۔۔۔ سب خیریت تو ہے ۔۔۔
“ثوبان وہ ۔۔۔ ہانیہ کو پلیز بچالو وہ گھٹ رہی ہے اندر ہی اندر , وہ تڑپ رہی ہے ۔۔۔ میں نے اس کی آنکھوں میں عجیب دکھ دیکھا ہے وہ مرجاۓ گی اگر یونہی رہا وہ مرجاۓ گی ۔۔۔ وہ ہماری ہانیہ نہیں رہی ۔۔۔ وہ ایسی نہیں تھی جیسی اب ہوگئی ہے وہ زندگی سے دور ہوتی جارہی ہے ۔۔۔ صبا کے لہجے میں تڑپ تھی ۔۔۔
ہانیہ تو اس بات سے بےخبر تھی صبا اسے کتنا چاہتی ہے بلکل چھوٹی بہنوں کی طرح ۔۔۔ ہانیہ نے جسے کبھی کسی قابل نہ سمجھا تھا وہ اس کے لیۓ اتنا سوچتی ہوگی ہانیہ نے سوچا بھی نہ ہوا ہوگا ۔۔۔
“تم بہت حساس ہورہی ہو صبا , یہ اچھا بدلاؤ ہے ہانیہ میں , صبا , کتنی مغرور ہوا کرتی تھی وہ , شکر ہے آسمان سے اترکر زمیں پر پاؤں تو رکھا اس نے ورنہ خود کو جانے کیا سمجھتی تھی ۔۔۔ ثوبان نے سمجھانا چاہا اسے ۔۔۔ شاید اس نے جو ہانیہ کا روپ دیکھا تھا اس کے بعد اس کی سوچ بدلنا ذرہ مشکل تھا ۔۔۔
“ثوبان مجھے بہت بعد میں سمجھ ایا کہ اسے ایسا مغرور گھمنڈی بنانے والے ہم سب تھے ہمارے آس پاس کے لوگ تھے وہ ایسی نہیں تھی , وہ ہمیشہ سے ایسی نہیں تھی ۔۔۔ غلط وہ ہے تو کچھ غلطی ہماری بھی ہے ہم سے بھی غلطیاں ہوئیں ہیں پھر سارا الزام ہانیہ پر کیوں ۔۔۔ صبا کے لہجے میں تڑپ اور درد تھا اس کے لیۓ ۔۔۔
صبا کا لہجہ ثوبان کے اندر سرد احساسات جو ہانیہ کے لیۓ تھے ان کو جھنجھوڑ رہا تھا ۔۔۔ وہ برف کے احساسات پگھلنے لگے تھے ۔۔۔
” آپ بھی کہا کرتے تھے وہ غرور کرتی اچھی لگتی ہے ۔۔۔ بھول گۓ ہو آپ پر میں نہیں بھولی ۔۔۔ صبا کی باتوں سے ثوبان کو شاک ہی لگا تھا واقعی , کتنے ایسے لمحے آنکھوں میں اترے آۓ تھے جب وہ اس کے حسن کو سراہا کر اسے اترانے پر مجبور کرتے تھے ۔۔۔ ایک حسن اور اوپر سے پڑھائی میں ہوشیار , یہ کمبینیشن کم ہی ملتا تھا ۔۔۔ اس لیۓ وہ مغرور ہوتی چلی گئی ۔۔۔ اس کے لیۓ تو مشہور ہوگیا تھا “بیوٹی وتھ برین ۔۔۔۔ وہ اسکول کالیج اور یہاں تک یونی میں بھی مشہور تھی اپنے حسن اور انٹیلیجینسی پر ۔۔۔ وہ نا صرف پڑھائی میں ہوشیار تھی بلکہ ایکسٹرا کرکیولئر ایکٹیوٹیز میں بھی اگے رہی تھی ہمیشہ ۔۔۔ اس کے میڈل ٹرافیز , سرٹیفکیٹس اس کی ذہانت کی گواہی دیتے تھے ۔۔۔
ثوبان کو ہانیہ کا گم صم رہنا , آنکھوں کا خالی پن شدت سے یاد آیا ۔۔۔ اس نے محسوس کیا تھا پر اگنور کرگیا پر اب صبا کے احساس دلانے کے بعد شدت سے یاد ایا ۔۔۔ سارہ نے بھی ذکر کیا پر ثوبان ان کو ٹال گیا تھا ۔۔۔
“آپ بات کریں گے نا ثوبان , بچپن سے اج تک وہ اپ کے ذریعے اپنی ہر بات منواتی آئی ہے , ولید بھائی کے لیۓ بھی اپ نے ہی اس کا ساتھ دیا تھا ۔۔۔ صبا کی آخری بات پر شاک ہوا ۔۔۔
“تم ۔۔۔ ثوبان شاک ہوا کہ یہ بات اس کے علم میں کیسے آئی ہے ۔۔۔
“ہاں میں نے اپ کی اور ہانیہ کی گفتگو سنی تھی جب ریسٹورینٹ کی ملاقات حوالہ دے کر اپ دونوں کی ٹیرس پر بات ہوئی تھی ۔۔۔ صبا نے اسے بتایا ۔۔۔
“یہیں اس سے غلطی ہوگئی صبا , اس نے ایسے شخص کا ہاتھ تھام لیا جو دل وجان سے اپنی پہلی بیوی کا دیوانہ تھا ۔۔۔ ہانیہ کو اپنے حسن پر غرور تھا اسے یقین تھا وہ اسے زیر کرلے گی پر ولید خانزادہ کو اس کا حسن مرعوب نہ کرسکا ۔۔۔ تھک کر ثوبان نے اصل حقیقت اسے بتادی ۔۔۔
“جو بھی ہو ثوبان , ہم ہانیہ کو اس طرح گھٹ گھٹ کر مرنے کے لیۓ چھوڑدیں , یہ سہی نہیں , ہمیں اسے احساس دلانا ہے ہم اس کے ساتھ ہیں وہ اپنا درد ہمارے ساتھ بانٹے ناکہ اندر ہی اندر تڑپتی رہے ۔۔۔ درد بانٹنے سے کم ہوتے ہیں ہم اس کے اپنے ہیں ۔۔۔
“اوکے میں اس سے بات کروں گا ۔۔۔ ثوبان نے کہا ۔۔۔
“سچ ثوبان ۔۔۔ صبا کے چہرے پر رونق آئی یہ سن کر ۔۔۔
“بلکل سچ میں ۔۔۔ ثوبان مسکرایا اس کی سادگی پر ۔۔۔ کتنی معصوم تھی وہ ۔۔۔
“آپ نے مجھے خوش کردیا ثوبان ۔۔۔ مجھے پتا ہے وہ ہمارے ساتھ کھل کے بات نہیں کرے گی وہ ہمیشہ آپ کے ساتھ بات کرتی آئی ہے اسی لیے میں چاہتی ہوں آپ ہی اس سے بات کریں ۔۔۔ اس کے دل کا بوجھ ہلکہ ہو ۔۔۔ صبا کے لہجے میں فکر تھی ہانیہ کے لیۓ ۔۔۔
“صبا تم نے تو مجھے خوش کر دیا بلکہ میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ تمہاری جیسی انمول لڑکی میری شریکِ حیات بنی ہے جسے صرف میرا نہیں بلکہ سب کا خیال ہے ۔۔۔ اپنے لیئے ہر کوئی جیتا ہے پر اپنوں کے لئے بہت کم لوگ جیا کرتے ہیں اور صبا تم بالکل ویسی ہو اور مجھے فخر ہے تمہاری ہمراہی پر ۔۔۔ ثوبان نے محبت سے اس کا ماتھا چوم لیا ۔۔۔
دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراۓ ۔۔۔ محبت ان کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔۔۔
ایسے ہی تھے اس گھر کے لوگ ایک دوسرے کی پرواہ کرنا ایک دوسرے کے لیۓ جینا مرنا ۔۔۔
@@@@@@@@@
“سحرش میں خوش ہوں اج تم میرے گھر آئی ۔۔۔ ہانیہ کے لفظوں میں محبت تھی اپنی بیسٹ فرینڈ کے لیۓ پر اس کی آنکھیں اس کی باتوں کا کہاں ساتھ دے رہیں تھیں ۔۔۔
“ہانیہ ایسی تو نہ تھی تم , کیا بات ہے تم خوش نہیں ہو ولید بھائی کے ساتھ ۔۔۔ سحرش نے فکر سے کہا ۔۔۔ وہ دونوں اس وقت لاؤنج میں بیٹھی تھی ۔۔۔ جس کی سجاوٹ قابلِ تعریف تھی ۔۔۔ پر سحرش کو تو اپنی دوست کی فکر کھارہی تھی ۔۔۔
“سب ٹھیک ہے ۔۔۔ ہانیہ نے نظریں چراتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“پلیز ہانیہ , مجھ سے کچھ نہ چھپاؤ , جو دل میں ہے کہو ۔۔۔ پلیز یار ۔۔۔ سحرش کے لہجے میں التجا تھی ۔۔۔
” کتنی عجیب بات ہے نا کچھ لوگ مردہ لوگوں کو بھی زندہ رکھتے ہیں اور کچھ لوگ زندہ لوگوں کو جیتے جی مار دیتے ہیں ۔۔ جانتی ہو میرے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوا ہے ۔۔ تھک کر یانیہ نے اعتراف کیا ۔۔۔ سحرش اس کے لفظوں پر تڑپ ہی اٹھی ۔۔۔ سحرش کے ہونٹ کپکپاۓ پر کچھ کہے نہ سکی اس کے لفظوں کی شدت کو محسوس کرکے ۔۔
اتفاق سے ولید خانزادہ بھی اسی وقت ایا تھا ۔۔۔ اس کے کہے لفظوں کو اس نے بھی سنا ۔۔۔۔ ایک قیامت تھی جو اس پر گزری تھی وہ کوئی عام لفظ نہیں تھے وہ تو پگھلا ہوا سیا تھا جو اس کے کانوں میں انڈیلا گیا تھا ۔۔۔ اس کے ضمیر کو جھنجھوڑ گۓ تھے اس کے لفظ , کتنا درد تھا ان لفظوں میں جو اندر تک ہلا دیا اس کو ۔۔۔ کاش اج آفیس سے جلدی نہ ایا ہوتا اور نہ سنی ہوتی اس کی بات ۔۔۔ کتنے کاش تھے جس نے اس مرد کو جھنجھوڑا تھا ۔۔۔
“کشف مر کر بھی نہیں مری پر ہانیہ تو جیتے جی مرگئی ہے ایک بت کی سرتپش کرتے کرتے ۔۔۔ ہانیہ مرگئی ہے ۔۔۔۔ ہانیہ نہیں رہی ۔۔۔ جنازہ نہیں اٹھا پر روح کی موت پر جسم ماتم کرتا رہا ہے ۔۔۔ ایسی ہے میری زندگی بےجان وجود میں بغیر احساسات اور بغیر جذبات کے سانس لیتی سی مردہ زندگی ۔۔۔
اس سے زیادہ اس میں سننے کی ہمت نہ تھی وہ شکستہ قدموں سے پلٹ گیا اس کے سامنے سے گزر کر جانا ناممکن تھا اب ۔۔۔
جانے وہ کیسا درد تھا
جو آنکھوں سے دل میں اترگیا
جانے وہ کیسا درد تھا
جو میری روح میں اترگیا
جانے وہ کیسا درد تھا
جو میری ہستی کو فنا کر گیا
جانے وہ کیسا درد تھا
جانے وہ کیسا درد تھا
جاری ہے ۔۔۔۔
