Anmol Se Bemol By Saba Mughal readelle50047 Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
انمول سے بے مول
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 24
ولید خانزادہ اسے دیکھتا رہ گیا ۔۔۔ ہانیہ نیپکن سے اپنا منہ صاف کیا اور کہا ۔۔۔۔
“اٹھو بچوں اٹس ٹائم ٹو سلیپ ۔۔۔
“اوکے مما ۔۔۔ دونوں نے ایک ساتھ کہا ۔۔۔
ہانیہ کے اٹھتے ہی دونوں اٹھے اور واشن بیسن کی طرف بڑھے تینوں اور ہاتھ دھوکر گلی کی ۔۔۔ ولید خانزادہ کے گھورنے کی پرواہ کیۓ بغیر وہ بچوں کے ساتھ اوپر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔
وہ اسے جاتا دیکھتا رہ گیا ۔۔۔
@@@@@@@
وہ بچوں کو اسکول بھیج کر اپنا ماتھا مسلنے لگی ۔۔۔ رضیہ بی جو کافی دیر سے اسے دیکھ رہی تھی آخرکار بولی ۔۔۔
“میم سر دبا دوں ۔۔۔
“نہیں سہی ہوجاۓ گا ۔۔۔ کوئی میڈیسن لے لوں گی ۔۔ اس نے ماتھا مسلتے ہوۓ کہا ۔۔
“اپ کو اچھا لگے گا پلیز دبانے دیں ۔۔۔ دیکھیۓ گا اپ کو جلدی ارام اجاۓ گا ۔۔۔ رضیہ بی نے محبت سے لبریز لہجے میں کہا ۔۔۔ اسے اپنی یہ خوبصورت سی مالکن بہت پسند تھی ۔۔۔
“اوکے دبا دو ۔۔۔ کتنی دیر رضیہ اس کا سر دباتی رہی پھر اس سے اجازت لے کر آئل بھی لگادیا ۔۔۔ ہانیہ کو کافی ارام ایا اس کے اس عمل سے ۔۔۔
“تھینک یو رضیہ بی , سچ میں سکوں آگیا ۔۔۔ ہانیہ نے تشکر بھرے لہجے میں کہا ۔۔۔
“یو ویلکم میم ۔۔۔ رضیہ بی نے مخصوص لہجے میں کہا ۔۔۔
“ایک بات کہوں میم ۔۔۔ رضیہ بی نے جھجھکتے ہوۓ کہا ۔۔
“ہمممم کہو ۔۔۔۔ ہانیہ نے اجازت دی ۔۔
“آپ برا تو نہیں مانیں گی ۔۔۔۔ رضیہ نے ڈرتے ہوۓ پوچھا ۔۔
“نہیں , تم کہو ۔۔۔ ہانیہ نے کھلے دل سے کہا ۔۔۔
“آپ پہلے جیسی بن جائیں , ویسی اپ بہت اچھی لگتی تھیں ۔۔۔ رضیہ بی نے آہستہ سے کہا ۔۔۔
“ویسی کیسی کیا مطلب ۔۔ ہانیہ نے پوچھا لہجہ حیران کن تھا ۔۔۔
“آپ مغرور سی سجی سنوری بہت اچھی لگتی ہیں ۔۔۔ بچپن میں جن پریوں کا ذکر ہماری امان کرتی تھی کہانیاں سناکر اپ بلکل ویسی ہو ۔۔۔ رضیہ بی نے معصوم انداز میں سادگی سے اس کی تعریف کی ۔۔۔
“اچھا ۔۔۔ ہانیہ نے نارمل لہجے میں کہا ۔۔۔
“ہممم ۔۔۔ اپ پر غرور بہت جچتا ہے اپ مغرور سی اچھی لگتی ہیں میم ۔۔۔ اب کے اس شدت بھرے لہجے میں کہا شاید اسے اب تک ہانیہ کا مغرور انداز یاد تھا ۔۔۔
“ایسا نہ کہو رضیہ بی اللہ نہ کرے میں ویسی بن جاؤں واپس دوبارہ ۔۔۔ ایسے نہ کہو ۔۔۔ وہ ایک دم اٹھ کر بےساختہ بولی ۔۔۔ وہ ایسے بولی جیسے کسی بچھو نے کاٹ لیا ہو اسے ۔۔۔ رضیہ بی اس کے اس ریکشن سے حیران ہوئی ۔۔۔
وہ اس سے دور ہوکر کھڑکی کے پاس کھڑی ہوگئی دور کسی نقطے پر نظر جماتے ہوۓ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد بولی ۔۔۔
“اس غرور کی بہت قیمت چکائی ہے میں نے ۔۔۔ تم نہیں جانتی , کوئی نہیں جانتا ۔۔۔۔
“میم اللہ نظر بد سے بچاۓ اپ کو ۔۔۔ لفظوں میں بیاں نہ کرسکیں ایسے حسن سے اپ کو نوازا ہے اللہ نے ۔۔۔ جس کی تعریف نہ کرنا تو کفر کی مثال ہے ۔۔۔ رضیہ بی نے کہا سادگی سے ۔۔۔
“ایسے نہیں کہتے رضیہ بی , تعریف اس کی کرو جس کا یہ کمال ہے اس میں میرا کوئی کمال نہیں ۔۔ تو غرور اور فخر کیسا ۔۔۔ اللہ کی مرضی ہے اس نے مجھے حسن دے کر آزمایا ہے کسی کو نہ دے کر ازمایا ہے ۔۔۔ اگر اسلام میں کسی انسان کو دوسرے انسان پر برتری حاصل ہے تو صرف تقویٰ کے بنیاد پر کسی رنگ , روپ , نسل , حسب , ذات پر کوئی کسی سے برتر نہیں ۔۔۔
ہانیہ نے بھاری لہجے میں کہا آنکھیں نم سی ہونے لگیں تھیں ۔۔۔
“ہانیہ میم پہلے اپ صرف بظاہر بہت خوبصورت لگتی تھیں پر اب مجھے محسوس ہورہا ہے اپ باتیں بھی بہت خوبصورت کرتی ہیں ۔۔۔ رضیہ بی نے یہ الفاظ دل سے کہے ۔۔
رضیہ اسے دیکھ کر مسکرائی پر ہانیہ تو مسکرا بھی نہ سکی نم انکھوں کو جھپکتی گڑیا سی لگی رضیہ بی کو ۔۔۔
“رضیہ بی کبھی کسی کے ظاہر سے مت متاثر ہونا اگر کبھی کسی سے متاثر ہوں تو اس کے باطن سے ہونا ۔۔ باطن کا خوبصورت ہونا ضروری ہے ۔۔۔ اب کے ہانیہ کا لہجہ مضبوط تھا وہ اپنی ملازمہ کے سامنے خود کو سنبھال چکی تھی ۔۔۔ ہونٹ ابھی بھی بنجر سے تھے مسکراہٹ کا نامونشان نہ تھا ۔۔۔
“سہی کہے رہیں ہیں اپ ۔۔۔ میم اپ بچوں کی بہت اچھی تربیت کررہیں ہیں ۔۔۔ رضیہ بی نے اسے سراہا ۔۔۔
اب کے وہ دل سے مسکرائی اور کہا ۔۔
“بس ویسی تربیت کررہی ہوں جیسی میری ماں نے ہماری کی تھی ۔۔۔
“واقعی اپ کی ماں نے بہت اچھی تربیت کی ہے ۔۔۔
رضیہ بی اتنا کہے کر چلی گئی ۔۔۔ پر ہانیہ وہیں کھڑی رہی اور خود سے کہا ۔۔۔
“رضیہ بی کیا بتاؤں تمہیں , میری ماں نے بہت اچھی تربیت کی تھی ہماری .. پر اپنے اس پاس کے لوگوں سے اپنے حسن کی اتنی تعریف سن کر بھٹک گئی تھی میں , خود کو واقعی کوئی حور پری سمجھنے لگی تھی اور آسمان کی حور سمجھتے سمجھتے خود آسمان پر اڑنے لگی تھی میں کہ زمین کے انسان مجھے کیڑے مکوڑے دکھنے لگے ۔۔۔ سب لوگوں نے مل کر مجھے احساس دلایا غرور مجھ پر جچتا مغرور سی ہانیہ اچھی لگتی ہے ۔۔۔بس پھر کیا جو لوگوں نے چاہا ہانیہ وہی بنتی چلی گئی ۔۔۔ پھر انہی لوگوں میں سے کسی نے مجھے اس گمراہی کی نیند سے اٹھادیا مجھے میری اوقات بتادی ۔۔۔۔
وہ خود سے اعتراف کررہی تھی اس کے حسن کو سراہنے والوں میں سے اس کے کئی اپنے تھے کبھی سارا اپی اور اس کی سہلیاں کبھی صبا آپی یا اس کی سہلیاں اور ثوبان بھی تھا ان میں سے ۔۔۔
” اج پھر وہی باتیں کہے کر مجھے کیا کیا یاد دلا دیا تم نے رضیہ بی ۔۔۔۔ ثوبان نے میری ذات کو ریزہ ریزہ کردیا اب ٹوٹ کر دوبارہ جڑ کر جو ہانیہ بنی ہے وہ کبھی کسی کی ایسی باتوں میں نہیں آۓ گی ۔۔ کبھی نہیں ۔۔۔۔
اس نے خود سے کہا اور انکھ سے نکلا ایک آنسو پونچھا ۔۔۔
@@@@@@@@
شام کو وہ بچوں کو ریڈی کروارہی تھی ۔۔۔ ڈرائیور کو وہ پہلے بتاچکی تھی اس وقت چلنا ہے ۔۔۔
جیسے ہی ریڈی ہوکر باہر نکلی بچوں کے ساتھ ۔۔۔ اسی وقت ولید خانزادہ باہر نکلا اور کہا ۔۔۔
“چلیں ۔۔۔ کچھ لینا وغیرہ تو نہیں ۔۔۔ وہ بلیک شلوار قمیص میں بھرپور مردانہ وجاہت لیۓ ریڈی کھڑا تھا ۔۔ ہانیہ نے ایک نظر اٹھا کر اس کی طرف نہ دیکھا ۔۔۔
“مٹھائی کیک فروٹس سب لے لیۓ ہیں ۔۔۔ ہانیہ نے بےتاثر لہجے میں کہے کر گاڑی کی طرف بڑھی ۔۔۔ وہ ذرہ بھی حیران نہ ہوئی تھی اور نہ اس کے چہرے کے تاثرات پر فرق ایا تھا ۔۔۔
جانے کیوں ولید خانزادہ کے دل کی خواہش تھی وہ حیران ہو یا پھر حیرت کا ہی اظہار کردے ۔۔۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اسے ذرہ برابر پرواہ نہ تھی اس کے ہونے نہ ہونے سے ۔۔۔
@@@@@@@@
صبا فیروزی کلر کے ڈریس میں ملبوس تھی اس پر نازیہ بیگم نے اسے سونے کی چین پہنائی اور ڈیٹ فکس کی ۔۔۔ سب کو مٹھائی کھلائی اور مبارکباد کو شور اٹھا ۔۔۔
آج کل کے ٹرینڈ کے مطابق صبا سے کیک کٹوایا اور یوں اگلے مہینے کی پندرہ تاریخ فکس کی ۔۔۔ مٹھائی بانٹی بچے چہک رہے تھے ان کو اچھا لگتا تھا یہ سب دیکھ کر ۔۔۔
ولید خانزادہ نے مردوں ہو مبارک باد دے کر اجازت مانگی ۔۔۔ منہ میٹھا وہ کرچکا تھا ۔۔۔
سب نے اسے کھانے کے لیۓ روکنا چاہا پر مصروفیت کا کہے کر اس نے اٹھنا چاہا تو سب اسے زیادہ انسسٹ نہیں کرسکے تھے کیونکہ اس کی ریزروو نیچر سے واقف تھے سب ۔۔۔ ہانیہ اور بچوں کی اجازت مانگی جس پر اس نے خوشی سے اجازت دے دی ۔۔۔
اتنا کہے کر وہ سب سے مل کر اگے بڑھا , دل کو جانے کیوں بےچینی نے گھیر لیا ۔۔۔ ہانیہ جہاں بیٹھی تھی وہیں بیٹھی رہی ایک لفظ نہ کہا ولید خانزادہ سے اس نے ۔۔۔
صرف یہ بات نہ تھی ولید خانزادہ کے حیران ہونے کی , اصل وجہ اس کا وہی سرد بے تاثر انداز ہنوز برقرار تھا اپنے میکے میں , وہ نا چاہ کر بھی اسے نوٹس کرنے لگا تھا ۔۔۔ جانے کیوں اسے سوچنے لگا تھا ۔۔۔
اچانک اس کے ذہن میں پارٹی والے دن کسی کی کہی بات گونجی ۔۔۔
“پچھلی بار مسز خانزادہ کوئی زندہ دل لڑکی لگ رہیں تھیں پر اس بار تو چلتی پھرتی بت سا گمان سا گذرتا ہے ۔۔۔
“جو رونق اس کے چہرے پر بچوں کو دیکھ کر اتی ہے وہ کسی کو بھی دیکھ کر نہیں حتیٰ کہ اپنے ماں باپ کو دیکھ کر بھی نہیں ۔۔۔
ایسا ولید خانزادہ نے سوچا اس لمحے ۔۔۔
“ایسی کیوں ہوگئی ہے وہ ۔۔ ایک اور خیال اس کے ذہن میں ایا ۔۔۔
@@@@@@
میرے خواب
بہت اونچے خواب
خاک میں مل رہے ہیں
میری خواہشیں
جابجا بکھری آسائیشین
کانچ کی طرح بکھریں ہیں
میں بھی ٹوٹنے لگی ہوں
ہاۓ میں
بے بسی اور اداسی میں گم سم
جسم وجاں سے نکلنے لگی ہوں
پیاری امی جان
آج شدت سے اپ یاد ارہی ہو ۔۔۔ مجھ جیسی بیٹی کا یہی انجام ہونا تھا جن خوابوں کو جینے کا سوچا تھا وہ سب بکھر گۓ ہیں میری خواہشیں حسرتیں بن گئیں ہیں ۔۔۔ کیسے شخص سے ساری امیدیں وابستہ کرلیں ہیں میں نے , جسے میرا کوئی احساس نہیں ہے جس کے لیۓ میرا وجود کوئی معنی نہیں رکھتا ۔۔۔ امی اپ ہی دعا کریں میری آسانی کی دعا کریں مجھے معاف کردیں ۔۔۔ کاش اپ لوگوں کی سن لیتی ۔۔۔ میں اندھی تھی جو اصل اور نقل کا فرق نہ کرسکی ۔۔۔ ٹوٹ کر بکھر گئی ہوں کوئی سمیٹنے والا نہیں ۔۔۔ میرے لیۓ دعا کریں مجھے معاف کردیں ۔۔۔
ہزاروں باتیں کہنی تھی پر انسوؤں نے روک دیا ۔۔۔ قلم صفحے پر رکھ کر زاروطار رونے لگی تھی رانیہ ۔۔ درد کم نہیں ہورہا تھا کسی صورت ۔۔۔
“کیسی قسمت پائی ہے میں نے ۔۔۔ اپنی ہتھیلی کو دیکھتی وہ روپڑی ۔۔۔
اسی وقت قدموں کی آہٹ محسوس کرکے انسوں پونچھے اور خود کو نارمل کیا صفحے کو پھاڑ کر ڈسٹ بن میں پھینکا ۔۔۔
“کیا ہورہا ہے ۔۔۔ دروازہ کھول کر سعاد نے پوچھا ۔۔۔
“پڑھائی اس نے بک پر نظر جماتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“وانٹ ٹو ٹیک یور ٹائم ۔۔۔ سعاد نے جینز کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“ہمممم کہیں ۔۔۔ رانیہ نے نظر اٹھاۓ بغیر کہا ۔۔۔
“پھر کب کی بکنگ کروانی ہے تمہاری ۔۔۔ سعاد نے کھڑے کھڑے پوچھا ۔۔۔
“میرا کوئی ارادہ نہیں جانے کا ۔۔۔ اس نے سکوں سے کہا ۔۔۔
“پر کیوں ۔۔۔ سعاد نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔
“سیمسٹر ہیں میرے ۔۔۔ آنسو ضبط کرتی وہ بولی اور کمرے سے باہر نکل گئی واشروم میں اکر رونے لگی ۔۔۔
“سعاد جہاں مجھے جانا ہے وہاں میں نہیں جاسکتی اکیلی, وہ تمہارا امریکا نہیں , پاکستاں ہے جہاں شادی شدہ بیٹیاں بغیر شوہر کے گھر کی شادی اٹینڈ کریں تو سو سوال منہ اٹھاۓ کھڑے ہونگے , سب کے سوالوں کا جواب نہیں دے پاؤں گی میں اکیلی ۔۔۔ آخر میرا شوہر کیوں نہیں ایا گھر کی شادی اٹینڈ کرنے ۔۔۔ ہم مڈل کلاس لوگ ہیں ہماری پاس عزت ہی ہے جس کو میں داؤ پر نہیں لگاسکتی تمہاری وجہ سے ۔۔۔ میرا نہ جانا ہی بہتر ہے ۔۔۔
پھر کتنی دیر رو کر اپنے اندر کا بوجھ ہلکہ کرنے لگی وہ ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔
