Anmol Se Bemol By Saba Mughal readelle50047 Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
انمول سے بےمول
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 21
شام کو ولید خانزادہ گھر پہنچا تو نیچے لاؤنج میں خاموشی تھی ۔۔۔ بچوں کو دیکھنے کے لیۓ اوپر اگیا سیڑھیاں چڑھتا ہوا ۔۔۔
بچوں کے کمرے میں ایا وہ خالی تھا اس کے پاس والے کمرے میں ایا تو دونوں بچے الگ الگ جاۓ نماز پر نماز کے لیۓ کھڑے ہوۓ تھے ہانیہ کے دائیں اور بائیں جبکہ ہانیہ خود ان کے بیچ جاۓ نماز بچھا کر باآواز نماز پڑھ رہی تھی ۔۔۔
“اللہ اکبر کی صدا دونوں بچے لازمی لگاتے اور رکوع اور سجدہ میں جو پڑھا جاتا وہ بھی پڑھ رہے تھے ۔۔۔
ولید خانزادہ کے دل کی کیفیت عجیب تر ہونے لگی انکھیں پانیوں سے بھرنے لگیں ۔۔۔
“دیکھنا ولی میں اپنے بچوں کو نماز کا پابند بناؤں گی بچپن سے ہی ان کو اپنے ساتھ جاۓ نماز پر کھڑا کرکے ان کی عادت بناؤں گی نماز پڑھنے کی ۔۔۔۔ کشف کے کہے لفظ گونجے اس کے کانوں میں ۔۔۔
“اس دور کے بچے وہ بھی ایسی عادتیں اپنائیں مشکل ہی لگتا ہے ۔۔۔ ایسا نہ ہو ان کی شکایتیں مجھ سے لگا لگا کر ان کو نماز پڑھاؤ , ایسے میں نہیں کرنے والا بچے پڑھیں گے تو اپنے دل سے پڑھیں گے نماز ۔۔۔ ولی نے کشف کو چڑاتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔
” ایک بات بتاؤں میں پرورش ہی ایسی کرو نگی کہ وہ خود دل سے پڑھیں گے ۔۔۔ ایک مزے کی بات بتاؤں بچے اکثر وہی کرتے ہیں جو اس کے ماں باپ کرتے ہیں جب وہ مجھے پڑھتے ہوئے دیکھیں گے تو دیکھنا خودبخود میرے ساتھ کھڑے ہونا شروع ہو جائیں گے ۔۔۔ کشف نے کہا تھا اتراتے ہوۓ اپنی ترکیب بتائی۔۔۔
” سہی کہا تھا تم نے کشف , اگر ماں نماز پڑھنا شروع کردے تو بچے خودبخود پڑھنا شروع کردیتے ہیں ۔۔۔ ولید نے خود سے کہا ۔۔۔
ولید خانزادہ آنکھوں کی نمی چھپاتا ہوا واپس اگیا تھا ۔۔۔
رضیہ بی کو دیکھ کر اندازہ ہورہا تھا وہ بھی ابھی نماز پڑھ کر ارہی ہیں ۔۔۔ اس کی نظر اپنے صاحب پر نہ پڑی تھی ۔۔۔ اور ولید اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا جو دوسرے ملازم سے کہے رہی تھی ۔۔
“ہانیہ میم کتنی بدل گئیں ہیں , ان کو دیکھ کر بچے نماز پڑھنے لگ گۓ ہیں میرا بھی دل کرنے لگا ہے ان کو دیکھ کر ۔۔۔ سہی کہا کسی نے عورت ہی گھر کو جنت بناتی ہے ۔۔۔ صاحب کا گھر جنت بنادیا ہے ہانیہ میم نے ۔۔۔
ولید خانزادہ اتنا ہی سن سکا اس کی تعریف اور اگے بڑھ گیا ۔۔۔
ملازمہ سے چائے کا کہے کر وہ چینج کرنے واشروم چلا گیا ۔۔۔
@@@@@@@@
“سوری میم , میں نے سمجھا اپ نے کہا ہے کہ ڈریس بیڈروم میں لے کر جاؤ ۔۔۔ رضیہ بی نے صفائی دیتے ہوۓ کہا ہانیہ کو ۔۔۔
ولید خانزادہ نے دونوں کی بات سنی تھی ۔۔۔ سامنے ہی ہانیہ کا ڈریس ہینگ کیا ہوا تھا ۔۔
پچھلے دو ہفتوں میں ہانیہ نے گھر سے باہر قدم نہ نکالا تھا نہ میکے گئی نہ کہیں اور یہاں تک کہ ولید خانزادہ اور اس کے بیڈروم میں اس کی موجودگی میں پیر تک نہیں رکھا تھا ۔۔۔۔ ولید خانزادہ حیران تھا ہانیہ کے اس قدم سے ۔۔۔ وہ اوپر بچوں کے پاس والے روم کو ہی یوز کررہی تھی ۔۔۔
“ْمیم میں لے کر آتی ہوں اپ کا ڈریس ۔۔ رضیہ بی نے جلدی سے کہا ۔۔۔
“ہمممم جلدی لے کر آؤ ۔۔۔ ہانیہ کہے کر سیڑھیاں چڑھتی اوپر چلی گئی ۔۔۔
رضیہ بی دروازہ ناک کرتی اندر آئی ۔۔۔ سامنے ولید کو دیکھ کر جلدی بولی ۔۔۔
“سر وہ میم کا ڈریس لینا ہے ۔۔۔۔ رضیہ بی نے صفائی دینا ضروری سمجھا ۔۔۔
“ان کو کہو خود اکر لے جائیں ۔۔۔ ولید خانزادہ کے حکم پر وہ الٹے پاؤں واپس گئی اور ہانیہ کو بتایا ۔۔۔
ولید کافی دیر انتظار کرتا رہا وہ نہ آئی ۔۔۔ وہ تیار ہونے کے لیۓ چلا گیا ۔۔۔
ایک گھنٹے بعد وہ ریڈی ہوگیا ڈریس وہیں ہینگ تھا ۔۔۔
وہ باہر ایا تو وہ دوسرا ڈریس پہنے بچوں کے ساتھ ریڈی کھڑی تھی ۔۔۔
“پاپا اگۓ ماما چلیں ۔۔۔ حنان اور منان بہت خوش تھے ان کے چہکنے سے اندازہ ہورہا تھا ۔ ۔۔ ولید خاندان پر ایک نظر ڈالتا ہوا باہر کی طرف بڑھا ۔۔۔
” ماما وہاں ہم آپ کو آنٹی کہنا ہے نا ۔۔۔۔ منان نے پوچھا ساتھ حنان بھی کھڑا تھا کیونکہ اس نے بھی جاننا تھا وہاں جاکر کیسے ماما کو بلانا ہے ۔۔۔ کیونکہ دونوں کو اسے سے پہلے والا ہانیہ کا حکم یاد تھا ۔۔۔۔
ولید وہ جو پلٹ ایا تھا اپنی موبائل لینے اس نے افسوس سے سنا یہ سب ۔۔۔ وہ اس بات پر اس کی اچھی خاصی کلاس لینا چاہ رہا تھا ۔۔۔
“نہیں , میں اپ دونوں کی ماما ہوں اور اس لیۓ ہر جگہ اپ مجھے ماما کہے کر ہی بلائیں گے ۔۔۔۔ ہانیہ نے پیار سے سمجھایا دونوں کو ۔۔۔
“سوری ماما ۔۔۔ دونوں نے ایک ساتھ کہا ۔۔۔
ہانیہ نے دونوں کو گلے لگا کر جس طرح اپنے انسو پونچھے ولید خانزادہ خاموش ہوگیا ۔۔۔ اس کی ہمت نہ ہوئی کچھ کہنے کی ۔۔۔
“آئندہ کسی کے بھی کہنے پر اپ اپنی ماما کو اپ دونوں ماما کہنا نہیں چھوڑو گے ۔۔۔ سمجھے اپ دونوں ۔۔۔ ہانیہ نے اچھی طرح دونوں کو سمجھایا ۔۔۔
“یس ماما ۔۔۔ دونوں کے گال چوم کر وہ اٹھی ولید خانزادہ کو سامنے دیکھ کر اس کی روح فنا ہوئی شرمندہ ہوئی تھی ۔۔۔ ٹھٹھکی لمحے بھر کو پھر خود کو لمحوں میں سنبھال کر خاموش سے دونوں کے ہاتھ تھامتی باہر نکلی ۔۔۔
ولید موبائل لے کر کچھ دیر بعد باہر ایا وہ اور بچے گاڑی میں بیٹھ چکے تھے ۔۔۔
@@@@@@@@
“میں تو حیران ہوں اس بندے کی خوشنصیبی پر اتنی حسین معصوم کلی کہاں سے ملی ولید خانزادہ کو ۔۔۔ زوہیب مرزا نے کہا اپنے دوست سے کہا ۔۔۔
ولید نے سنا اس کمینٹ کو پر ضبط کرگیا ۔۔۔
“آنکھیں بتارہیں ہیں لڑکی کی وہ صرف بچوں کے لیۓ لائی گئی ہے دیکھو تو سہی ساری توجہ بچوں پر ہے , شوہر پر تو نظر ہی نہیں ۔۔۔ حسن کی دیوی کہو اسے جو بےخبر ہے اپنے مدہوش کرنے والے حسن سے جو ایسے شخص کی بیوی بن بیٹھی ہے جو اج تک پہلی بیوی کے غم سے نکلا ہی نہیں ۔۔۔ زوہیب مرزا کے دوست نے کہا ۔۔۔
بچوں کی بھاگ دوڑ کی وجہ سے وہ ان کے پیچھے پیچھے تھی بغیر دھیاں دیۓ کہ یہاں پر سب مرد حضرات ہوں یا عورتیں سب اس کے حسن سے مرعوب ہوۓ جارہے تھے ۔۔۔
ہانیہ سب سے بےپرواہ بچوں میں گم تھی ۔۔۔ چند عورتوں کے علاوہ اس کی کسی سے جان پہچان نہ تھی جن سے مل کر وہ دوبارہ بچوں میں گم تھی ۔۔۔۔
ولید خانزادہ کا خون کھول اٹھا وہ اس کی طرف بڑھنے کے لیۓ جانے لگا اسی وقت مسز جنید نے روکا اسے ۔۔۔
مسز جنید سے سلام دعا حال احوال ہوا اس کے بعد وہ بولیں ۔۔۔
“ماشاء اللہ بہت خوبصورت ہے اپ کی بیوی پوری محفل میں اس کی ٹکر کی کوئی نہیں ۔۔۔ چاند سورج کی جوڑی ہے اپ دونوں کی ۔۔۔ انہوں نے دل سے کمینٹ کیا ۔۔۔ جس پر ولید ضبط سے بولا ۔۔۔ ۔۔۔
“تھینکس مسز جنید ۔۔۔ ناؤ ایکسیوز می پلیز ۔۔۔ ولید خانزادہ کہتا اگے بڑھا ہانیہ کی طرف ۔۔۔
مسز جنید دیکھ رہیں تھیں ولید بات ان سے ضرور کررہا ہے پر نظر اپنی بیوی پر تھی ۔۔۔
“میرا خیال ہے تم بیٹھ جاؤ ٹک کر ایک جگہ , تمہیں سوٹ نہیں کرتا بچوں کے اگے پیچھے بھاگنا ۔۔۔ ولید خانزادہ نے سرد لہجے میں ہانیہ سے کہا ۔۔۔
“جی سوری آئندہ خیال کروں گی ۔۔۔ ہانیہ نے ولید سے کہا اور پھر بچوں کو کچھ کہتی وہ اس کے ساتھ مڑی ۔۔۔
“پہلے کشف کے نصیب پر رشک کرتے تھے کیا شوہر ملا ہے اتنا ڈیشنگ ٹال ہینڈسم رچ پر اب لگتا ہے ولید خانزاہ کی قسمت پر رشک اتا ہے اس عمر میں بھی دو بچوں کے باپ کو اتنی خوبصورت کم عمر کسی پری جیسی ہو ایسی بیوی ملی ہے ۔۔۔۔ کمال ہے بھئی ساری بات نصیب کی ہے ۔۔۔ مسز درانی نے مسز جنید سے کہا ان کے لہجے رشک تھا ہانیہ کو دیکھ کر ۔۔۔
ہانیہ جو بلیک ڈریس جس پر سلور ہلکہ سا کام تھا جس میں اس کی سرخ سفید رنگت کھلی لگ رہی تھی نازک سلور جیولری لائیٹ میک اپ پنک گلوز لگے ہونٹ , ناک میں پہنی ڈائمنڈ کی لونگ زیادہ چمک رہی تھی یا اس کی ددھیائی رنگت کچھ کہنا مشکل تھا ۔۔۔ یوں تو پوری محفل میں حسن ہر طرف بکھرا پڑا تھا پر ہانیہ کا بےمثال حسن سب سے منفرد اور نمایان تھا ۔۔۔
“کشف تو معمولی سی تھی ایک لڑکی , اسے خاص بنانے والا ولید خانزادہ تھا پر یہ لڑکی کوہِ کاف کی پریوں کی مثل ہے ۔۔۔ مسز جنید نے بھی رشک سے کہا تھا ۔۔۔
ایسا حسن جسے عورت بھی سراہنے پر مجبور ہوجائے تو اس کا مطلب ہے وہ واقعی کیا ہوگا ۔۔۔
ولید اور ہانیہ دونوں نے یہ لفظ سنے تھے ولید نے ایک نظر ہانیہ کو دیکھا جس کے چہرے پر کوئی تاثر نہ تھا اتنا سب سننے کے بعد ان کمنٹس پر , اس کی نظر اب بھی بچوں پر تھی بلکل ایک کیئرنگ ماں کی طرح وہ بچوں کو اپنی نظر میں رکھئے ہوۓ تھی ۔۔۔ اس کے چہرے سے صاف ظاہر ہو رہا تھا اسے کوئی فرق نہیں پڑا تھا ان کمینٹس سے ۔۔۔
کاش ولید خانزادہ یہ سمجھ سکتا کہ وہ تو اب اس فیز سے ہی نکل آئی ہے حسن خوبصورتی سب ثانوی سی حیثیت رکھتا ہے وہ سمجھ چکی تھی ۔۔۔ اب یہ باتیں اس کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتیں ۔۔۔
کتنے سرد اور بےتاثر ہورہے تھے ہانیہ کے چہرے کے تاثرات اس کی انکھوں میں جوت تھی بچوں کو دیکھ کر پر جیسے ہی وہ مسز شاہ سے مل رہی تھی اس کی انکھیں بےجان سی لگیں ولید کو جانے کیوں وہ اس کو اتنا غور کررہا تھا ناچاہتے ہوۓ بھی ۔۔۔
اج ولید خانزادہ کو اس پارٹی میں احساس ہوا ہانیہ واقعی چونکادینے والے حسن کی مالک ہے جب سے اس کے حسن میں سوگواریت اگئی تھی وہ اور نکھر گئی تھی ۔۔۔ پر ولید کا دل تو کشف کی یاد سے اج بھی اباد تھا ۔۔۔
آج کئی طرح کے جملے سن چکا تھا ہانیہ کے لیۓ کسی نے اس کے منہ پر نہ کہے تھے پر ڈسکس ہورہی تھی وہ ۔۔۔ اکثر جملے ولید خانزادہ کے کانوں میں بھی پڑے تھے ۔۔۔ وہ سن کر بھی ان سنا کرتا رہا وہ ولید خانزادہ تھا بہت بڑا بزنس ٹائیکوں اسے کسی بات کی پرواہ نہ تھی ۔۔۔ وہ اتنی چھوٹی ذہنیت کا نہ تھا کسی کو روکتا کسی کمنٹس سے ۔۔۔ پر ایک کمینٹ ایسا تھا جس نے اسے واقعی چونکا دیا تھا سہی معنی میں ۔۔۔
” یار ویسے تم نے نوٹ کیا ہے پچھلی بار جب ہم نے مسز خانزادہ کو دیکھا تھا تو وہ زندہ دل لڑکی لگ رہی تھی اور پر اج اس محفل میں چلتی پھرتی ایک بت سا گمان گزارتا ہے ۔۔۔
وہ بغور اس کو دیکھتا رہا جانے کیا ہوا اب ولید خانزادہ کا دل اچاٹ ہوگیا تھا سب سے ۔۔۔
پھر جانے کیوں وہ اسے دیکھتا رہا لفظوں کی بازگشت ہونے لگی تھی اس کے کانوں میں ۔۔۔
“پچھلی بار زندہ دل لڑکی اور اس بار بت سا گمان ۔۔۔ ولید خانزادہ بےچین ہوگیا ۔۔۔ کھانے کے بعد وہ اس محفل سے نکل آۓ ۔۔۔ بچے بھی تھک چکے تھے ۔۔۔
بچے اس سے جڑے پچھلی سیٹ پر سوچکے تھے ۔۔۔ ولید خانزادہ اگلی سیٹ پر بیٹھا تھا ڈرائیور کے ساتھ , مرر سے اسے دیکھتا رہا ۔۔۔۔
@@@@@@@@
“کیا اپ دو منٹ مجھ سے بات کرسکتی ہیں ۔۔۔ فائز شاہ نے اس کا راستہ روکا جب وہ کلاس سے نکلی ۔۔۔
کچھ سوچ کر اس نے خود سے کہا ۔۔۔ “کیا حرج ہے کسی کی سننے میں ۔۔۔ رانیہ نے سوچا ۔۔۔
“ہممم کہیں ۔۔۔ رانیہ نے کہا ۔۔۔
“کیا سکوں سے بیٹھ کر بات ہوسکتی ہے میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں اپنی غلطی کی ۔۔۔ فائز نے جھکی نظر سے کہا ۔۔۔
وہ دونوں گارڈن میں اگۓ ۔۔۔
“آپ کچھ کہیں مسٹر فائز شاہ اس سے پہلے میں کہنا چاہتی ہوں ۔۔۔ رانیہ کی بات پر وہ حیران ہوا ۔۔۔
“آۓ ایم سوری مجھے اپ کے منہ پر پیپیرز نہیں پھینکنے چاہیۓ تھے ۔۔۔۔ رانیہ کی پہلی ہی بات اسے شاک کرگئی ۔۔۔
“جی وہ حیران ہوا اس کی بات پر ۔۔۔
“مجھے کوئی حق نہیں پہنچتا اس طرح بدتمیزی کرنےکا ۔۔۔ آپ کی زبان تھی اپ کی مرضی جو بولیں مجھے اگنور کرنا چاہیۓ تھا تو شاید تماشہ نہ لگتا پر میرے جذبات مجھ سے کنٹرول نہ ہوۓ اور وہ سب ہوگیا ۔۔ یقین مانو مجھے بے حد افسوس ہے اپنے رویئے پر , مجھے تم سے نا کوئی تعلق اور نا کوئی سلسلہ رکھنا چاہتی ہوں پر جو بد تمیزی میں نے کی ہے اس کے بعد تمہارے دل میں بدلے کی آگ ہوگی اور میں تمہارے کسی بدلے کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہتی ہوسکے تو یہیں بات ختم کردیں ۔۔۔۔
وہ حیران ہوا تھا اس لڑکی کی بات پر ۔۔۔
“بات کو ختم کرنے کا واحد یہی حل ہے میں اپ سے معافی مانگ لوں وہ بھی اس غلطی کی جس میں زیادہ ہاتھ اپ کا ہے ۔۔۔ جو تم مجھ سے چاہتے تھے ان سب چیزوں کے لئے میرے پاس فضول وقت نہیں ہے اپنا وقت برباد کروں ۔۔۔ بہتر ہے تم سے معافی مانگ کر بات ہی ختم کر دیتی ہوں ۔۔۔
تمہاری شہرت عمارت پیسہ دولت سے مجھے سروکار نہیں ۔۔۔ میں اپنے شوہر کے ساتھ جس حال میں ہوں بہت مطئمن ہوں ۔۔۔
وہ لڑکی اپنی کہے جارہی تھی بغیر اسے موقع دیۓ وہ اس لڑکی کے احساسات اچھی طرف سمجھ رہا تھا ۔۔۔
“اپ کی مرضی جو بولیں نا میں اپ کی ماں ہوں نا بہن پھر کیون اپ کو سہی غلط کے فرق کا احساس دلاؤں ۔۔۔ امید کرتی ہوں اپ کو اب سکوں اگیا ہوگا ۔۔۔ اپ کی مردانہ غیرت کی تسکین بھی ہوگئی ہوگی ۔۔۔ آخری لفظ رانیہ نے تاتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“بس کریں مسز رانیہ مجھے معاف کردیں غلطی میری ہے مجھے ایسی گندی بات نہیں کہنے چاہیۓ تھی ۔۔۔ نہ میری ماں ہے نہ بہن اس لیۓ مجھے نہیں پتا عورت کی کیسے عزت کرتے ہیں ۔۔۔ بچپن سے ہی میری گورنیس کو پاپا کی گرل فرینڈس بنتے دیکھا اور پھر میں خود گرل فرینڈس بنانے لگ گیا جس کی وجہ سے مجھے احساس نہیں میں کتنا گھٹیا بول گیا ۔۔۔ آئی ایم سوری ۔۔۔ فائز کی بات پر وہ شاک ہوئی ۔۔۔
اتنا تو وہ سمجھ گئی اسے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا اس کی انکھوں میں ندامت تھی ۔۔۔
“اٹز اوکے مسٹر فائز ۔۔۔رانیہ نے کہا ۔۔۔
“آئندہ سے اپ کے راستے میں نہیں آؤں گا ۔۔۔ فائز نے کہا ۔۔۔
“پلیز ہوسکے تو آئندہ اپنی تسکیں کا سامان کرنے کے لیۓ کسی کی ذات کو اپ کی شرط کا سامان مت کجیۓ گا ۔۔۔ اپ کے احساسات قیمتی ہیں تو کسی اور کے احساسات کا بھی خیال کریں ۔۔۔ رانیہ نے کہا اور فائز شاہ صرف اثبات میں سرہلا گیا ۔۔۔ رانیہ وہاں سے چلی گئی اور وہ اسے جاتا دیکھتا رہ گیا ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔
