No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
انمول سے بےمول
ازقلم صبا مغل
EPISODE 2
“سنو۔۔۔۔
ثوبان نے جاتی ہوئی ہانیہ کو آواز دی۔۔۔
اس نے مڑکر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ۔۔۔
“کیا ہے ۔۔۔ ہانیہ نے بیزاریت سے ثوبان کو دیکھ رہی تھی اور وہ اسے پرشوق نگاہون سے دیکھہ رہا تھا ۔۔۔۔ وہ اس پنک ڈریس میں اسے اپنے دل میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی پری راستہ بھول کے اگئی ہو ۔۔۔
اس کا ایسے دیکھنا ہانیہ کو غصہ دلاتا تھا کیونکہ وہ ثوبان کو رانیہ کے حساب سے سوچتی آئی تھی ۔۔۔ گھروالوں سے تو وہ یہی سنتی آئی تھی ۔۔۔ اب کسی کو وہ کہے بھی نہیں سکتی اپنے احساسات کہ وہ کیا ثوبان کی آنکھوں میں اپنے لۓ دیکھتی ہے ۔۔۔۔
“فیملی پکس نکالی جارہی ہیں اور تم کہاں گھوم رہی ہو چلو ۔۔۔۔
اس نے فکر سے کہا ۔۔۔
“اپ جائیں میں آتی ہوں ۔۔۔
وہ اگے کی اور بڑھ گئی ۔۔۔۔ پھر اپنی دوستوں کے پاس کچھ دیر کھڑے ہونے کے بعد اسٹیج کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔
“اج سارہ اپی قیامت لگ رہی ہو فراز بھائی گۓ کام سے ۔۔۔۔ ہانیہ نے ہنستے ہوۓ کہا ۔۔۔ اس کا تعریفی انداز ایسا ہی ہوتا تھا ۔۔۔۔ ڈیپ ریڈ کلر کا شرارہ اس پر خوبصورت کام کیا ہوا تھا ۔۔۔۔ میک اپ اوراس پر سائڈ کرل کرکے بالوں کو رکھا تھا ہیئر اسٹائل زبردست لگ رہا تھا ۔۔۔۔
“بیٹا بڑوں کے سامنے کیسے بولا جاتا ہے تھوڑا سوچ لیا کرو ۔۔۔۔
نازیہ بیگم نے کہا ۔۔۔۔
“جی چاچی آئندہ خیال کروں گی ۔۔۔۔ ہانیہ نے آنکھ مارتے ہوۓ سارہ سے کہا ۔۔۔۔
وہ ہانیہ ہی کیا جو کوئی بات سمجھ جاۓ ۔۔۔۔
@@@@@@@@
بارات کے اتے ہی خوشی کا سماں بندھ گیا ۔۔۔۔ پہلے نکاح ہوا پھر دولھے کو لایا گیا اسٹیج کی طرف تو رانیہ ہانیہ اور صبا ان کا راستہ روکے کھڑی تھیں ۔۔۔۔ ثوبان بھی ان کے پاس ہی کھڑا تھا ۔۔۔
“رکئے ایسے کیسے جائیں گے دلہن کے پاس پہلے سالیوں کو ان کا نیگ تو دے دیں ۔۔۔۔
تینوں نے ایک ساتھ کہا۔۔۔۔
نتائشہ جو فراز کے ساتھ کھڑی تھی ۔۔۔ اس نے کہا ۔۔۔
“دولہے کی سالیوں ہاتھ اگے کرو نیگ لو اور چلتی بنو ۔۔۔
تینوں نے ہاتھ اگے کیا ۔۔۔۔
فراز نے ایک ایک سکہ تینوں کے ہاتھ پر رکھا اور کہا ۔۔۔
“ہٹو اب راستہ دو۔۔۔
“ہاۓ یہ کیا ہے ۔۔۔ تینوں نے انکھیں دکھائیں فراز کو ۔۔۔
“دل تو چاہ رہا تھا ایک ہی دوں اور کہے دوں مل بانٹ لو اپس میں ۔۔۔ فراز نے شان بے نیازی سے کہا ۔۔۔
“اب اتنے بھی گۓ گزرے حالات نہیں اپ کے ۔۔۔ ہانیہ نے بال جھٹک کر کہا ۔۔۔ صبا نے اس کا ہاتھ دبایا پر وہ ہانیہ ہی کیا جو کسی کی سن لے اور سمجھ لے ۔۔۔ تمسخر اڑاتا ہوا لہجہ تھا ہانیہ کا ۔۔۔ فراز حیران ہوا اس کے انداز پر جو مذاق کو کس طرح لے رہی تھی ۔۔۔
“فراز بھائی یہ فاؤل ہے ۔۔۔ صبا نے بات سنبھالنے کے لیۓ کہا ۔۔۔
“سالیوں کے حسن کو دیکھ کر ہی کچھ دے دلا کر اگے بڑھ جائیں ۔۔۔
پیچھے سے ایک منجھلے باراتی لڑکے نے کہا ۔۔۔
“اچھا تو ٹھیک ہے ۔۔۔ دو اور سکے تینوں کے ہاتھ پر رکھے اب تو راستہ دو ۔۔۔ فراز اب سنبھل چکا تھا ہانیہ کے کٹیلے انداز سے ۔۔۔
“اف فراز بھائی اتنی حسین سالیوں کے ساتھ اپ زیادتی کررہے ہیں ۔۔۔ رانیہ نے ناک سکوڑی اور کہا ۔۔۔ ہانیہ بےنیاز کھڑی رہی کیونکہ دور سے امی نے چپ رہنے کا اشارہ کیا ۔۔۔ ورنہ اس کی زبان میں بہت کھجلی تھی اور کہنے کو بہت کچھ تھا ۔۔۔
اسے یہ فضول سے مذاق خاص پسند نہ تھے جبکہ ثوبان نے اس کے چہرے کو دلچسپی سے دیکھ رہا تھا ۔۔
“اتنا ہی اپنی سالیوں کو خراج تحسین پیش کرسکتا ہوں ۔۔۔ فراز نے کہا ۔۔۔
“ہمممم ان چڑیلوں کے لیۓ بھی یہ غنیمت ورنہ ایک کوڑی نہ رکھے فراز بھائی تم لوگوں کی ہتھیلی پر ۔۔۔ فراز کے بھائی نے ہنستے ہوۓ کہا ۔۔۔
“اے مسٹر تم اپنی چونچ بند رکھو ۔۔۔ رانیہ نے کہا ۔۔۔
“چونچ لڑانے کے لیۓ ہوتی ہے بند کرنے کے لیۓ نہیں ۔۔۔ کیوں بھائی ۔۔۔ نعمان نے ہنستے ہوۓ کہا ۔۔۔
“بس لڑائی ختم کرو سالیوں کو نیگ دو یہ ان کا حق ہے ۔۔ فراز کی امی نے بات کو طویل کرنے کے بجاۓ اسٹاپ کردی ۔۔۔ ماں کے حکم پر اس نے جلدی سے دس ہزار نکال کر رانیہ کے ہاتھ پر رکھے ۔۔۔ جس پر اس نے مسکرا کر کہا ۔۔۔
“شکریہ کنجوس فراز بھائی ۔۔۔ اور راستہ چھوڑ دیا سب نے اور دولہا دلہن کے پاس اگیا … رانیہ کے انداز پر سب مسکرا اٹھے ۔۔۔
@@@@@@
ہانیہ اسٹیج چھوڑ کر نیچے اپنی دوست کے پاس بیٹھ گئی جبکہ رانیہ نے اسٹیج پر دولہے اور اس کے کزنز کے ناک میں دم کردیا وہ دوبدو ان سے مقابلے بازی کررہی تھی جبکہ صبا صرف اس کی خاموش پارٹنر بنی ہوئی تھی ۔۔۔ سب کو رانیہ کا چنچل انداز اچھا لگ رہا تھا اس لیۓ چھیڑتے ہوۓ مزا بھی ارہا تھا اور وہ بھی انجواۓ کررہی تھی جبکہ صبا محفوظ ہورہی تھی مسلسل ۔۔۔ ان سب میں کئی دفعہ ہانیہ کو بھی آواز دی پر اس نے انے سے صاف منع کردیا اور دوست کے ساتھ گپے لڑا رہی تھی ۔۔۔
اسی وقت ثوبان اسٹیج سے اتر کر اسے لینے ایا ۔۔۔
“چلو ہانیہ وہان سب کے ساتھ انجواۓ کرو یہ گھر کی پہلی شادی جو ہے ۔۔۔
“پہلی شادی ہے نہ ثوبان بھائی آخری تو نہیں نہ ۔۔۔ اس نے ناک منہ چڑا کر کہا ۔۔۔
وہ اس کے مغرور انداز کو حیرت سے دیکھا اور کچھ لمحوں میں نارمل بھی ہوگیا , جانے کیوں اسے اس کی کوئی بات بری نہیں لگتی تھی ۔۔۔ ثوبان ایسا ہی تھا ہانیہ کے معاملے میں اسی لئے تو وہ ہمیشہ اسے ایسے تیور دکھاتی تھی ۔۔۔
“ہوسکے تو آجاؤ ۔۔۔ اب کے اس نے کہا ۔۔۔
“اوکے دیکھتی ہوں ۔۔۔ اتنا کہے کر ہانیہ نے اس کی طرف پینٹھ کرلی جس کا صاف مطلب تھا اب یہاں سے جاؤ جب دل چاہا تو آؤں گی ۔۔۔
ثوبان خاموشی سے پلٹ گیا دو آنکھوں نے اس منظر کو دیکھ کر افسوس کیا ۔۔۔
“یہ کیا ہے ہانیہ اس ہنڈسم بندے کو بھلا کوئی انکار کرسکتا ہے جو تم نے یہ بےوقوفی کی ہے ۔۔۔ سحرش نے کہا ہانیہ کا ہاتھ دبا کر ۔۔۔
“ہمممم ہینڈسم کنگلا جابلیس ایسے بندے کی کوئی ویلیو نہیں ہانیہ کے لیۓ سمجھی ۔۔۔ ہانیہ نے اس کا ہاتھ جھٹکا اور کہا تھا ۔۔۔
“کاش میرا کوئی ایسا ہینڈسم کزن ہوتا تو کیا ہی بات تھی ۔۔۔ وہ دوبارہ بولی ثوبان سحرش کی نظروں کا مرکز بنا رہا ۔۔۔
ہانیہ نے اس کی آنکھوں کے آگے ہاتھ لہرا کر کا “ہولڈ آن ڈیئر یہ میری بہن کا منگیتر ہے ۔۔۔
” واٹ سحرش نے حیرت بھرے لہجے میں کہا ۔۔ تم نے بتایا کیوں نہیں پہلے ۔۔۔ اب اس نے نظر ہٹادی اس پر سے اور کچھ سوچ کر کہا۔۔۔
“مجھے کیوں لگتا ہے یہ شخص تمہیں پسند کرتا ہے تمہاری بہن کو نہیں ۔۔۔
“ایسا کچھ نہیں تمہارا وہم ہے ۔۔۔ہانیہ نے نظر چراتے ہوۓ کہا ۔۔۔
” یعنی یہ بھی سمجھ گئی اس بات کو ایک نظر میں اس کا مطلب مجھے اور سختی سے اسے رد کرنا چاہیۓ تاکہ اسے کوئی امید نہ رہے اس نے تشویش سے سوچا ۔۔۔
“تم مجھے گھما نہیں سکتی ہانیہ ۔۔۔ میں اڑتی چڑیا کے پر گن لیتی ہوں ڈیئر فرینڈ ۔۔ سحرش نے انکھیں گھما کر کہا اور اخر ہانیہ نے مان لیا کیونکہ سچ کو ماننے میں قباحت نہ تھی ۔۔۔
“اوکے فائن ۔۔۔ پر میری طرف سے ایسا کچھ نہیں اس کا دل وہ جانے میرا دل اس کنگلے پر کبھی نہیں اسکتا ۔۔۔
ہانیہ کےلہجے میں نفرت اور غرور کی ملاوٹ تھی ۔۔
“حسن سے تو مالامال ہے دولت کا کیا ہے وہ بھی کبھی نہ کبھی مل ہی جانی ہے اک نظر دیکھ تو سہی ۔۔۔سحرش نے اسے دوبارہ اس کی طرف متوجہ کرنا چاہا ۔۔۔
“نیور ۔۔۔ مجھے جو پسند آۓ ایک نظر میں ہی اجاۓ گا وہ ہینڈسم پلس امیرترین شخص ہوگا ۔۔۔ جو مجھے بچپن سے جوانی تک اٹریکٹ نہ کرسکا وہ اب کیا کرے گا جوانی میں ۔۔۔ میرا معیار اعلیٰ ہے ٹال ہینڈسم گاڑیوں کی لائینیں ہونگی اس کی سمجھی ۔۔۔
ہانیہ نے مغرورانہ انداز سے کہا۔۔ اس کے کہنے پر بھی اس نے ایک نظر نہ دیکھا اور بال جھٹکے ایک ادا سے ۔۔۔ یہ اس کی اک ادا تھی اگنور کرنے کی ۔۔۔
“بہن ہوش میں اجا ہم جیسے لوئر مڈل کلاس کو ایسے لڑکے نہیں ملتے کوئی ایک چیز کی کمی رہتی ہی رہتی ہے ہماری زندگیوں میں ۔۔۔ سحرش نے کہا ۔۔۔
“ہوش سنبھالتے ہی میں نے اپنا آئیڈیل سوچ لیا تھا اب اس سے ہٹنا ناممکن ہے سمجھی ۔۔۔ اٹھو چلو اسٹیج پر چلتے ہیں اب تو امی بھی اشارے کررہی ہیں اوپر اجاؤں ۔۔۔ ہانیہ نے بات کہتے ہوۓ اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے اٹھانا چاہا ۔۔۔ پر سحرش وہیں ٹکی رہی اور سہولت سے اس کا ہاتھ پرے کیا ۔۔۔ اور کہا ۔۔۔
“اوکے تم جاؤ ۔۔۔ میں یہیں ٹھیک ہوں تم جاؤ ۔۔۔۔ کسی کے فیملی کے اوکیجن میں اس طرح انوالو ہونہ اسے مناسب نہیں لگا ۔۔۔
“تم بھی چلو سمجھی ۔۔۔ وہ ہانیہ ہی کیا جو مان جاۓ ۔۔۔
“ارے نہیں۔۔۔ ہانیہ نے انسسٹ کیا ۔۔۔
” اٹھو چلو ۔۔۔ آخرکار وہ اٹھی اور دونوں ساتھ میں چڑھنے لگیں اسٹیج پر ۔۔۔
فوٹوگرافی کا ایک اور سیشن چل رہا تھا ۔۔۔ سب انجواۓ کررہے تھے بیزاریت اگر کسی کے چہرے پے تھی تو وہ ہانیہ تھی ۔۔۔
پھر کھانے کا دور چلا اور اس کے بعد انہوں نے رخصتی کی اجازت مانگی اور یوں سارہ سب کی دعاؤں میں رخصت ہوئی فراز کے ساتھ ۔۔۔
@@@@@
اگلے دن گھر میں رونق لگی ہوئی تھی کیونکہ سارہ جو ارہی فراز کے ساتھ ۔۔۔
“کیا ہوا ہانیہ آپی اپ کا موڈ کیوں آف ہے ۔۔۔ رانیہ نے اسے بیزاریت سے صفائی کرتے ہوۓ بغور دیکھ کر پوچھا ۔۔۔
“آج یونی جانا تھا امی نے منع کردیا ۔۔۔ ضروری تھا ۔۔۔ ہانیہ نے فکرمندی سے کہا ۔۔۔
“تم چلی جاؤ ہانیہ میں بات کرلوں گی چاچی سے ۔۔۔ اسی وقت پاس کھڑی صبا نے اس کے ہاتھ سے جھاڑو لے کر کہا ۔۔۔
“واقعی اپ سنبھال لیں گی ۔۔۔ پرجوش لہجے میں ہانیہ نے کہا ۔۔۔
“ہممم تم جاؤ ۔۔۔ ہانیہ نے خوشی میں گلے لگا لیا اور کلاک کی طرف دیکھا جو دس بجا رہی تھی ۔۔۔
“تھینک یو صبا آپی ۔۔۔ بہت دیر ہورہی ہے مجھے تو دس بجے سیمینار میں پہچنا تھا ۔۔۔ خوش اور اداس ایک ساتھ ہوئی ہانیہ ۔۔۔
“میرا خیال ہے تم ثوبان کے ساتھ جاؤ تو تھوڑا لیٹ ہوگی ورنہ کافی لیٹ ہوجاۓ گی پبلک ٹرانسپورٹ سے۔۔ صبا نے اسے مخلصانہ مشورا دیا ۔۔۔
“ہممم ٹھیک کہے رہیں ہیں اپ پلیز سب کو بتا دیں میں ریڈی ہونے جارہی ہوں ۔۔۔
“ہممم تم جاؤ جلدی سے ۔۔۔ اور وہ اپنے روم کی طرف بھاگی ۔۔۔
@@@@@@@
ثوبان کے ساتھ بائیک پر بیٹھی ہانیہ مسلسل اس کی تعریف کررہی تھی ۔۔۔ ثوبان اس کے ظاہری دکھاوے پر خوش ہورہا تھا جبکہ اندر ہی اندر وہ مسکرا رہی تھی اپنی کامیاب اداکاری پر ۔۔۔
یونیورسٹی پہنچ کر بائیک سے اتر کر اس نے مسکرا کر کہا ۔۔۔
” ثوبان بھائی مجھے دو بجے تک لینے آ سکتے ہیں ۔۔۔ اگر کوئی پرابلم نہ ہو ۔۔۔ اس نے معصومیت سے انکھیں چھپکا کر پوچھا ۔۔۔
اس انداز پر کون بھلا منع کرسکتا اور ثوبان تو بلکل نہیں جو الریڈی اس پر فدا تھا جو اس کی بے رخی پر بھی اس پر پیار لٹاتا تھا وہ بھلا اس کے پیار بھرے الفاظ میں پوچھنے پر کیسے انکار کر سکتا تھا ۔۔۔ وہ منتظر نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
“ہان لینے اجاؤں گا ۔۔۔ ثوبان دل سے کہا ۔۔۔
“پلیز ٹائم پر آجائیۓ گا ورنہ امی غصہ ہونگی میرے لیٹ ہونے پر ۔۔۔ اس نے اب نخریلی انداز میں کہا تھا ۔۔۔
“ڈونٹ ورری آجاؤں گا ۔۔۔
“اسی جگہ ویٹ کروں گی اپ کا ۔۔۔ ہانیہ نے کہا ۔۔۔
“اللہ حافظ ۔۔۔
“اللہ حافظ ۔۔۔ اس نے مسکرا کر کہا ۔۔۔
ثوبان نے بائیک گھمائی اور جانے لگا اور ایک دفعہ اس کی طرف مڑا جس پر ہانیہ نے سمائل پاس کی اور وہ مسکراتا ہوا چلا گیا ۔۔۔ جسکے مڑن کر جانے پر اس نے سڑا ہوا منہ بنایا کڑوا کریلا چبالیا ہو جیسے ۔۔۔
“اپنا مطلب نکالنے کے لیۓ کیا کیا کرنا پڑتا ہے ۔۔۔ کلس کر اس نے سوچا ۔۔۔
اسی وقت اس کے کندھے پر کسی نے ناک کے اسٹائل میں کندھا کھٹکھٹایا ۔۔۔ وہ حیرت سے مڑی ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
