No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
ناول ۔۔۔انمول سے بے مول
ازقلم ۔۔۔ صبا مغل
قسط ۔۔۔ 7
“کم ان ۔۔۔ اندر سے آواز آئی ۔۔ ولید خانزادہ کی آواز سن کر اس کا دل زوروں سے دھڑکا ۔۔ دل تھام کر وہ اس کی اسٹڈی میں داخل ہوئی ۔۔۔
اتنی بڑی اسٹڈی اور نفاست سے شیلف میں رکھے کتاب وہ حیران ہی تھی ۔۔۔ ایسا لگتا تھا جیسے دنیا جہاں کے کتاب ہونگے یہاں ۔۔۔ سامنے ایزی چیئر پر بیٹھا تھا وہ بلیک شرٹ اور ٹراوزر پہنے حسن کا شاہکار لگا ہانیہ کو اس سادہ لباس میں ۔۔ اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ ایک خوبرو مرد ہے ۔۔۔ ولید خانزادہ کی کرسی کے ایک سائیڈ خوبصورت فلور لیمپ اور دوسری سائیڈ چھوٹی سی ٹیبل جس پر اس نے شاید ابھی بک رکھی تھی ۔۔۔
کمرے کے ایک کونے طرف ٹو سیٹر صوفا سامنے کانچ کی ٹیبل اس کے دونوں طرف رکھی لیمپس اس روم کی سجاوٹ کو حسین بنا رہی تھی ۔۔۔ ہانیہ امپریس ہوۓ بغیر نہ رہ سکی ۔۔۔
“بیٹھیں .. اس نے کہا اور وہ سامنے صوفے پر بیٹھ گئی ۔۔
یاد آنے پر اس نے جلدی سے سلام کیا جس کا جواب ولید خانزادہ نے دیا ۔۔۔ وہ اس کی محویت محسوس کرچکا تھا ۔۔۔
“بتائیں کوئی کام تھا ۔۔۔ ولید خانزادہ کے چہرے کا رخ دوسری طرف تھا پر کہے اسے رہا تھا ۔۔
“جی وہ تین دن کی چھٹی چاہیۓ تھی ۔۔۔ بہن کا نکاح ہے ۔۔۔ ہانیہ نے سنبھل کر کہا ۔۔۔ اس نے ایک نظر بھی اٹھا کر اس پری پیکر کو نہ دیکھا تھا جو اس کے لیۓ سنج سنور کر آئی تھی اسے متوجہ کر سکے پر اب اس کا انداز ہانیہ کے لیۓ حیرت کا باعث تھا ۔۔۔ وہ تو خود کو اس قدر حسین سمجھتی تھی کہ اگر وہ خود کو سنوارے تو کسی کو بھی چونکا سکتی پر اس کا حسن ولید خانزادہ کو چونکا تو نہ سکا پر رتی برابر اس پر اثر نہ ہوا تھا جس کا غم ہونے لگا تھا ہانیہ کو ۔۔۔
“تو یہ بات اپ کو میرے سیکٹری سے کرنی چاہیۓ تھی ۔۔۔ ولید خانزادہ کا لہجہ سرد سا تھا ۔۔۔ اس کی انکھوں کا تاثر ایسا تھا جیسے اس نے کوئی بےوقوفی کی ہو اور اس کا قیمتی وقت برباد کیا ہو اس نے ۔۔۔
“نیکسٹ ٹائم چھٹی لینی ہو یا ایڈوانس فیس چاہیۓ میرے سیکٹری سے بات کرلجیۓ گا ڈونٹ ویسٹ ماۓ ٹائم ۔۔۔ ہانیہ حیرت سے دیکھ رہی تھی اسے ۔۔۔ اس کا انداز توہین آمیز لگا ہانیہ کو ۔۔
“اینی تھنگ ایلس ادھروائز یو کین لیوو ۔۔۔ ہانیہ کو شدید توہیں محسوس ہوئی اس کے سرد انداز پر ۔۔۔ وہ بات تو ضروری کرنے آئی تھی پر اس کی شاندار پرسنالٹی اسے بوکھلا کے رکھ دیتی تھی یا ایسا کہہ سکتے ہیں اسے دیکھ کر اس کی زبان تالو سے لگ جاتی تھی تھی ۔۔۔ ولید خانزادہ کی بات پر اس کا چہرہ سرخ ہوا خود کو سنبھال کر اس نے کہا ۔۔۔
“جانتی ہوں اپ کا وقت قیمتی ہے پر اپ کے بچوں سے زیادہ نہیں ۔۔۔ اس لیۓ میں اپ کو یہ بتانے آئی ہوں کہ ہفتے کے روز ان کی پیرینٹس ٹیچر میٹنگ ہے ۔۔۔ جسے اپ نے اٹینڈ کرنا ہے ۔۔۔ ان کا رزلٹ بھی ہے ۔۔ چاہے جو بھی رزلٹ ہو ان کو انکریج کجیۓ گا بجاۓ ڈسکریج کے ۔۔۔ نیکسٹ ٹرم ان کا رزلٹ کنفرم بیسٹ ہوگا یہ گارنٹی میں دیتی ہوں ۔۔۔ وہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا جو آرام سے اسے اس کی کوتاہیاں گنوارہی تھی ۔۔۔
“میں اچھی طرح جانتی ہوں چھٹی کی بات سیکرٹری سے کرنی چاہیے نہ کہ آپ سے , پر بچوں کے بارے میں بات مجھے آپ سے کرنا ضروری لگا کیونکہ بچے آپ کے ہیں وہ آپ کی ذمہ داری ہیں اسی لئے آپ کا قیمتی وقت لیا اور بہت بہت شکریہ آپ نے اپنا قیمتی وقت دیا ۔۔ پر چند اور باتیں آپ سے کرنی ضروری ہیں ۔۔۔ امید کرتی ہوں آپ کو افسوس نہیں ہوگا میری باتیں سن کر ۔۔۔ کچھ اور کہنے کی گستاخی کرنے لگی ہوں پر امید کرتی ہوں آپ برا نہیں مانیں گے بلکہ غور وفکر ضرور کریں میری بات پر ۔۔۔
وہ اسے بری طرح شرمندہ کرچکی تھی اپنی باتوں سے وہ خود کو کچھ بھی کہنے کے قابل نہیں سمجھ رہے تھے ۔۔۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوۓ ہانیہ نے کہا ۔۔۔
“پلیز بچوں کو بےانتہا پیسے دینے کے بجاۓ اپنا وقت دیں جس کی ان کی نظر میں قیمت اور قدر دونوں ہے ۔۔ اپ کے بچے شرارتی نہیں ہیں بس اپ کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیۓ یہ حیلے بہانے کرتے ہیں ۔۔۔ ماں اللہ نے چھیں لی پھر باپ کے ہوتے ہوۓ باپ کی شفقت سے کیوں محروم ہیں ۔۔۔ سوچیۓ گا ضرور ان باتوں کو ۔۔
جانے کیوں وہ جب بولتی وہ اسے سننے پر خود کو مجبور پاتا ہے ۔۔۔ ہانی کا سانس پھول گیا اپنی بات جلدی ختم کرنے
کے چکر میں کیونکہ وہ جانتی تھی ولید خانزادہ زیادہ دیر کسی کی نہیں سنتا تھا ۔۔۔ پر وہ شاید اس بات سے بےخبر تھی وہ اس کی صرف اپنے بچوں کی وجہ سے سن رہا ہے ۔۔۔
“ہمممم وہ صرف ہنکارا ۔۔۔ جیسے واقعی وہ غور کرنے لگا ہو اس کی باتوں کی طرف ۔۔۔ ہانیہ جانتی تھی وہ اس شخص کو شرمندہ کرچکی ہے اس کے سرد رویۓ پر ولید خانزادہ ایکسیوز نہیں کرے گا اس بات کا بھی اندازہ تھا اسے ۔۔۔
“پلیز سٹرڈے کو 10 بجے جانا ہے ان کے سکول ۔۔۔ ایک اور بات اگر اپ کو مناسب لگے تو جمعے کے روز بچوں کو رضیہ بی کے ساتھ میرے گھر بھیجیں وہ بچوں کو ۔۔۔
“وآٹ آر یو ان سینسسس ۔۔۔ اب کے ہانیہ کی بات کاٹ کر وہ بولا تھا ۔۔۔
“جی بلکل بچوں نے مجھے کہا اپ سے بات کروں ۔۔۔ وہ ڈرتے ہیں اپنے دل کی بات اپ سے کرنے میں ۔۔۔ ہانیہ نے اپنی بات پھر بھی مکمل کی ۔۔۔ ہانیہ تو سکوں سے بیٹھی تھی پر ولید خانزادہ کو وہ شاک کرچکی تھی ۔۔۔ وہ کھڑا ہوگیا تھا حیرت میں ۔۔۔ چند لمحے خود کو سنبھالنے کے بعد بولا ۔۔۔
“ہوش میں ہیں اپ , میرے بچے اپ کے گھر آنا چاہیں گے ۔۔۔ وہ حیرت زدہ تھا اتنے کم وقت کیا وہ اس کے بچوں اس قدر خود کی طرف متوجہ کرچکی تھی جو اس کے بچےاپنی ٹیچر کی بہن کی شادی اٹینڈ کرنے کے خواہشمند ہیں ۔۔۔
جس قدر وہ شاک تھا وہ اتنی ہی پرسکوں بیٹھی تھی اب بھی نارملی انداز میں بولی تو بس اتنا کہ ۔۔۔
“آپ نے خود کہا تھا بچوں کی تربیت بھی کروں اس وجہ ان کو زیادہ ٹائم بھی دینا پڑتا ہے بلکہ ان کی سننی بھی پڑتی ہے اسی لئے اتنے کم عرصے میں وہ مجھ سے اتنا اٹیج ہوگئے ہیں ۔۔۔
آخرکار وہ اس شخص کی بولتی بند کرنے میں کامیاب ہوگئ تھی وہ حیران پریشان سا کھڑا ہی تھا کہ ہانیہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی اور کہا ۔۔۔
“تھینک یو سر اب میں چلتی ہوں ۔۔۔ وہ مغرورانہ چال چلتی دروازے کی طرف بڑھی اور وہ اسے جاتا دیکھتا رہا ۔۔۔
“تو مسٹر ولید خانزادہ تمہارے دونوں بچوں کو تو میں اپنی طرف کرہی چکی ہوں پر اب وہ وقت بھی دور نہیں جب تم بھی میرے آگے گھٹنے ٹیکو گے اور چاروں خانے چت کرونگی تمہیں ۔۔۔
وہ جاتے جاتے ایک دفعہ پلٹی گم صم کھڑے اس شخص کو دیکھا اور چہرہ موڑ کر دروازے کے ناب پر ہاتھ رکھ کر سوچا اس نے اور طنزیہ ہنس کر کمرے سے باہر چلی گئی ۔۔۔
@@@@@@@@
کل رانیہ کا نکاح ہے ۔۔ گھر میں مصروفیات سب کی بڑھ گئیں تھیں ۔۔ جلد ہی سہی پر سب کی تیاریاں مکمل ہوگئیں تھیں ۔۔
رات کے اس پہر ثوبان بستر پر لیٹا تھا پورا دن کاموں میں وہ مصروف رہا تھا ۔۔۔اس وقت وہ شدید تھکان محسوس کررہا تھا ۔۔۔ابھی اسے لیٹے آرام کیۓ کچھ وقت ہی گزرا تھا کہ دروازے پر ناک ہوئی اور دروازہ کھول کر اس کے ماں باپ اندر داخل ہوۓ ۔۔۔
اپنے ماں باپ کو دیکھ کر وہ جلدی سے کھڑا ہوا اور کہا ۔۔۔
“مجھے کہہ دیا ہوتا میں آجاتا آپ دونوں نے کیوں یہ تکلف کیا ۔۔
“کیا ہم اپنے بیٹے کے کمرے میں نہیں آ سکتے ۔۔ نازیہ بیگم نے مسکرا کر کہا ۔۔
” سو دفعہ آئیں امی بابا , کیا یہ اچھا نہیں لگتا کہ اولاد چل کر ماں باپ کے پاس آئے بجائے ماں باپ اس کے پاس آئیں ۔۔۔ ثوبان نے ہلکہ سا مسکرا کر کہا ۔۔۔
“سہی کہا تم نے بیٹے ۔۔۔ احمد صاحب نے اپنے خوبرو بیٹے کو دیکھ کر کہا ۔۔۔
وہ دونوں آ کر بیڈ پر بیٹھے تو اس کے بعد ثوبان کرسی کھسکا کر ان کے سامنے بیٹھا ۔۔۔ احمد صاحب خوش ہوۓ اپنے سعادتمند بیٹے کو دیکھ کر ان کو فخر تھا اپنے بیٹے پر ۔۔۔
“بیٹا کل رانیہ اپنے گھر کی ہوجاۓ گی ہم سوچ رہے ہیں تمہاری بھی کہیں بات ہوجاۓ , تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ۔۔۔ احمد صاحب نے کہا ۔۔۔
“نہیں بابا جیسا اپ دونوں چاہیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔ اس نے نارمل لہجے میں کہا ۔۔۔ احمد صاحب کو ڈھونڈنے سے بھی اس کے چہرے پر کوئی ملال نظر نہ آیا ۔۔۔وہ مطئمن ہوۓ ۔۔۔انہوں نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا کہ ان کے بیٹے کا زیادہ رجحان نہ تھا رانیہ کی طرف ۔۔۔
کچھ لمحے خاموشی کی نظر ہوگۓ پھر نازیہ بیگم نے کہا ۔۔
“ہم چاہتے ہیں تمہارے لیۓ ہانیہ کا ۔۔۔۔ ایک دم سے ثوبان نے نازیہ بیگم کی بات کاٹ کر کہا ۔۔۔
“نہیں امی ہانیہ نہیں ۔۔ یہ پہلی دفعہ ہوا کہ ان کے بیٹے نے ان کی مکمل بات سنے بغیر اسے کاٹا تھا ۔۔۔ نازیہ بیگم اور احمد صاحب کی حیران ہونا ناجائز نہ تھا ۔۔
” امی اس گھر میں ہانیہ کے علاوہ بھی ایک اور لڑکی ہے جسے آپ میرے بارے میں سوچ سکتی ہیں ۔۔۔ آپ کو صبا نظر نہیں آئی میرے لیۓ ۔۔۔ یہ سب کہتے ہوۓ ثوبان کی نظرین جھکیں تھیں پر وہ شکوہ کیۓ بغیر نہ رہ سکا۔۔۔
” پر بیٹا وہ تم سے بڑی ہے اس لئے ہمارا دھیان اس طرف نہیں گیا ۔۔۔ نازیہ بیگم نے صاف لفظوں میں اپنا دفاع کیا۔۔۔
” امی پانچ مہینوں کا فرق معنی نہیں رکھتا ۔۔۔ کسی بھی رشتے میں اگر کوئی چیز معنی رکھتی ہے تو وہ ذہنی ہم آہنگی ہے عمر نہیں ۔۔۔ بابا آپ جیسی شریک حیات میرے لئے چاہتے تھے صبا اس معیار پر پورا اترتی ہے ۔۔۔ وہ اس گھر سے محبت رکھتی ہے اور اسے جوڑے رکھنا چاہتی ہے بڑوں کا احترام کرنا اور چھوٹوں سے پیار اور شفقت سے پیش آنا خود سے پہلے دوسروں کا سوچنا یہ سب خوبیان ہیں اس میں ۔۔۔ بابا صبا وہی لڑکی ہے جو آپ کی امیدوں پر پورا اترے گی اور ہم دونوں مل کر اس گھر کو سنواریں گے ۔۔۔
ثوبان نے اپنی بات مکمل کرکے نظریں اٹھائیں اپنے مان باپ کے تاثرات دیکھنے کے لیۓ ۔۔۔ احمد صاحب مسکرا رہے تھے کیونکہ جو سب خوبیاں اس نے صبا کی بیان کیں تھیں وہ حقیقتٍ سچ تھیں ۔۔۔ دوسری طرف نازیہ بیگم حیران تھیں کہ ان کی بہن نے کتنے یقین سے کہا تھا ثوبان ہانیہ کو پسند کرتا ہے ۔۔۔ یہ بات دونوں بہنوں کے بیچ تھی انہوں نے اپنے شوہروں سے ذکر نہیں کیا تھا ۔۔۔ دل ہی دل میں نازیہ بیگم نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ انہوں نے یہ بات کسی سے کہی نہیں ورنہ اور کوئی غلط فہمی گھر میں ہوجاتی ۔۔۔ اپنی بہن کو وہ خود سنبھال لیں گی ۔۔۔
“امی اپ خوش نہیں میرے فیصلے سے ۔۔۔ ثوبان نے فکر سے پوچھا کیونکہ اسے اپنے باپ کے ساتھ ساتھ ماں کی خوشی بھی چاہیۓ تھی ۔۔۔
“میرے بیٹے میری جان میں بہت خوش ہوں تمہارے اس فیصلے سے صبا میرے لیۓ بیٹی جیسی ہے ۔۔۔ اس گھر میں کسی نے بھی ایک دوسرے کی اولاد میں فرق نہیں رکھا ۔۔۔ اس لیۓ جیسی ہانیہ ویسی صبا ہے ۔۔۔ نازیہ بیگم کے لہجے میں صبا کے لیۓ پیار ہی پیار تھا ۔۔۔
“بہت جلد صمد سے بات کرلوں گا گھر کے انہی فنکشنز کے دوران بات پکی کرلیں گے پھر شادی بعد میں ہوتی رہے گی ۔۔۔ احمد صاحب نے اپنے دل کی بات کہی جس پر نازیہ بیگم بھی مسکائیں ۔۔۔ ماں باپ کے چہرے پر آئی مسکراہٹ کو دیکھ کر وہ بھی خوش ہو گیا تھا کہیں اندر دل کے کسی کونے میں ایک ہوک ضرور اٹھی تھی جسے وہ دبا گیا ۔۔۔ اپنوں کے لیۓ قربانیاں دینی پڑتیں ہیں جو لوگ قربانیاں دینے سے گھبراتے نہیں ہیں ان کو ہی کامیابیاں نصیب ہوتی ہیں ۔۔۔ یہی یقین تھا ثوبان کا ۔۔۔
قسمت بھی مسکرا اٹھی اس شخص پر ۔۔۔
@@@@@@@
نایاب کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ تھا اس کی من پسند لڑکی اج اس کی بھابھی بننے جارہی تھی وہ اپنے اکلوتے بھائی کے لیۓ بےانتہا خوش تھی ۔۔۔۔ برانڈڈ برائیڈل سوٹ ڈائمنڈ کی جیولری ہر چیز مہنگی تریں جس سے ان کی حیثیت اور مالیت کا اندازہ ہورہا تھا شہر کے سب سے مہنگے پارلر میں نایاب نے رانیہ کی بکنگ کروائی تھی ۔۔۔ رانیہ کے گھر والوں نے کہا بھی تھا ہم لوگ خود یہ سب کرلیں گے پر نایاب نے محبت سے ان کو منالیا تھا ۔۔۔ احمد صاحب اور نازیہ بیگم ہر چیز میں اگے اگے تھے اس لیۓ توقیر صاحب اور نایاب بھی ان کو ہی اہمیت دے رہے تھے ہر معاملے اور فیصلے میں ۔۔۔ احد اور یسرا کو بہت سمجھایا احمد اور نازیہ نے پر ان کی خلش کسی طرح کم نہیں ہورہی تھی ۔۔ تھک کر دونوں میاں بیوی کو ان کے حال پر چھوڑ دیا احمد اور نازیہ نے ۔۔۔
نایاب ہر کام بہتریں طریقے سے کررہی تھی کیونکہ وہ اپنے لاڈلے بھائی کی نفیس طبیت سے واقف تھی اس لیۓ پہلے سے انہوں نے کہے دیا تھا کہ دلہن کے پاس بیٹھنے کا نیگ سالیوں کو مل جاۓ گا سعاد کے سامنے اس طرح کی کوئی بات نہ کرے شور شرابا نہ ہو ۔۔۔ وہ پندرہ سالوں سے امریکا میں تھا اس لیۓ اس کی طبیت الگ تھی یہاں کے مردوں سے ۔۔۔ اسی طرح نکاح کا ارینجمینٹ بھی بینکیوٹ میں تھا جہاں کا سارا خرچہ انہوں نے اٹھایا ہوا تھا ورنہ احمد صاحب والوں کا خود کا گھر اتنا بڑا تھا کہ ہر فنکشن وہ گھر میں کرنے کے قائل تھے پر یہاں بات رانیہ کے سسرال کی خوشی تھی اس لیۓ ماننا پڑا جبکہ فراز اور سارہ کی شادی کے وقت توقیر صاحب بارات ان کے گھر ہی لاۓ تھے ۔۔۔
پر اب ہر بات میں توقیر صاحب کہہ دیتے کہ ” آپ بیٹی دے رہے ہیں نہ اس سے قیمتی کچھ بھی نہیں ہے اپ سب کی لاڈلی چڑیا اب ہمارے گھر کی رونق بنیں , یہی ہمارے لیۓ اعزاز کی بات ہے ۔۔ توقیر صاحب اور نایاب کے خلوص کے اگے وہ چپ ہوگۓ تھے ۔۔۔ اس بات میں کوئی شک نہ تھا نکاح پر بھی بےانتہا خرچ کیا جارہا تھا ان لوگوں کی طرف سے ۔۔۔
ان کے منع کرنے کے باوجود احمد صاحب نے سعاد کے لیۓ برانڈد شیروانی خریدی تھی اور اس سے جڑی کچھ اور چیزیں ۔۔۔ انہوں نے اپنے حساب سے زیادہ ہی کیا تھا ۔۔۔
@@@@@@@
ولید خانزادہ سر پر ہاتھ رکھے حیران سا لیب ٹاپ پر نظریں جماۓ ہوۓ تھا ۔۔۔ شام کو ہانیہ کے جانے کے بعد وہ مضطرب ہی رہا ۔۔۔
اسے جم بھی جانا تھا پر وہ جا ہی نہ سکا وہ انتظار کرنے لگا کب ہانیہ گھر جاۓ اور وہ بچوں سے بات کرے ۔۔۔
یہ پہلی دفعہ تھا وہ کسی پر اتنی نظر رکھ رہا تھا ۔۔۔ تب اس نے بچوں کے اسٹڈی میں لگے کیمرا کھول کر دیکھا وہ بچوں کے ساتھ کیا کررہی ہے ۔۔۔ دونوں بچے باری باری اس کے گود میں بیٹھتے اور پڑھ رہے تھے ۔۔۔
دو گھنٹے میں ایک دفعہ بھی اس نے اپنا موبائل تک نہ دیکھا وہ جس طرح ٹیبل پر پڑا تھا ویسے ہی پڑا رہا ۔۔ یہ بات سب سے زیادہ حیران کن تھی ولید کے لیۓ ۔۔ اس عمر کی لڑکیوں کی جان ہوتی ہے اپنے موبائل میں اور اس کے بچوں کی ٹیچر موبائل تک یوز نہیں کرتی یہاں , ایون جب وہ لوگ گارڈن میں کھیل رہے ہوتے تب بھی موبائل وہیں پڑا رہتا وہ بچوں کے کھیل کود کے دوران بھی ان سے باتیں کرتی رہتی مطلب کہ وہ واقعی ان کو بھرپور ٹائم دے رہی تھی تربیت کررہی تھی ۔۔۔
یہ تو صرف اج کی روٹین تھی اس کے دل میں تجسس جاگا کیا واقعی وہ ہر دن اسی طرح بچوں کا خیال کرتی ہے یا نہیں ۔۔۔ پھر بس وہ دیکھتا چلا گیا ہر دن کی فوٹیج ہانیہ کی بچوں کے ساتھ ۔۔۔ آخرکار اسے یقین ہوگیا وہ بچوں سے بہت پیار کرتی ہے ۔۔۔ جتنی سیلری وہ دے رہا تھا اس سے زیادہ ڈیزروو کرتی ہے وہ اس کی ایمانداری کا قائل ہوگیا تھا ۔۔۔ اب وہ خود کو یہی سمجھانے کی کوشش کررہا تھا کہ اسے بچوں کو اس کی بہن کے اوکیشن میں بھیجنا چاہیۓ کیونکہ اتنی عزت وہ ڈیزروو کرتی ہے ۔۔۔ اوپر سے اس کے بچوں کا بھی دل ہے یہ بات ڈنر کے وقت ان سے پوچھ چکا تھا جس کی تائید کی دونوں بچوں نے ۔۔۔
رات کے دو بجے سونے سے پہلے وہ فیصلا کرچکا تھا کل بچوں کو رضیہ کے ساتھ بھیجے گا وہاں تاکہ ان کی ٹیچر بھی خوش ہو ۔۔۔ اس بات میں کوئی شک نہ تھا اتنے کم وقت میں دونوں بچے نکھر گۓ تھے جو مرجھاۓ پھول لگتے تھے اب دونوں کی شرارتیں ختم ہوکر رہ گئیں تھیں بجاۓ اس کے کھیل کود میں مصروف رہتے دونوں ۔۔ اب کسی کو بھی تنگ نہ کرتے تھے ۔۔۔ آج کی رات پہلے دفعہ وہ مطئمن ہوکے سویا تھا پرسکوں نیند آئی تھی ۔۔۔
@@@@@@@@
“اب آبھی جاؤ دیر ہورہی سعاد نکاح کا وقت ہورہا ہے ہمیں پہچنا ہے ۔۔۔
نایاب نے دروازہ ناک کیا ایک بار پھر ۔۔۔
“آپی اپ کو کتنی دفعہ کہا ہے اس طرح نہ کریں , بار بار ناک سے الجھن ہوتی ہے مجھے اور اپ نے جو ٹائم دیا تھا دیکھ لیں اس سے پانچ منٹ پہلے ہی ایا ہوں ۔۔۔ کچھ دیر میں وہ دروازہ کھولتا باہر آیا ۔۔۔ وہ کمپلیٹ پہنے اس کے ساتھ مہنگی گھڑی اور بلیک شوز پہنے باہر آیا ۔۔۔ نایاب کی عادت تھی جلدی کرنے کی اوپر سے پہلے خود ہی اس نے لیٹ ٹائم دیا تھا سعاد کو اب جلدی بھی خود مچارہی تھی ۔۔۔
نایاب نے اس کی نظر اتاری وہ نظر لگنے کی حد تک ہینڈسم جو لگ رہا تھا ۔۔۔
“پلیز آپی یہ کام مجھے پسند نہیں ۔۔۔ سعاد نے منہ بنا کر کہا جس پر وہ اسے ٹوکنا نہ بھولی ۔۔۔
“ششش مجھے کرنے دو ۔۔۔ وہ پہلے چینی سے پھر مرچوں سے اس کی نظر اتارنے لگی ۔۔ وہ منہ بناتا رہا پر نایاب نے بھی اپنا کام جاری رکھا وہ اپنے بھائی پر ایک مصیبت یا تکلیف برداش نہیں کرسکتی تھی ۔۔۔
سب مسکرا رہے تھے بھائی بہن کی محبت پر ۔۔۔
“چلیں یا ابھی اور کچھ کرنا آپ نے ۔۔۔ سعاد بیزاریت سے بولا کیونکہ اس کا موڈ الریڈی خراب ہوا تھا نایاب کے بار بار ناک کرنے پر اور پھر اس کا نظر اتارنا جانے کیوں اسے یہ پاکستانی سسٹم پسند نہ تھے ۔۔۔ امریکا میں رہ کر وہ بھی انہیں لوگوں جیسا ہوگیا تھا جیو اور جینے دو , اپنے کام سے کام رھو , نا کسی کے معاملے میں بولو نا کسی کو اپنے معاملے میں بولنے دو ۔۔۔ وہ انہیں فارمولاز پر زندگی بسر کرنے کا قائل تھا ۔۔۔
“نہیں , چلنا ہے دیر ہورہی ہے ۔۔۔نایاب نے جلدی سے کہا کیونکہ اسے گوارا نہ تھا بھائی کا موڈ اور خراب ہو ۔۔۔
وہ جانے کے لیۓ نکلنے لگے سب ۔۔۔ کچھ لوگ گاڑیوں میں بیٹھے تھے ۔۔۔ اس سے پہلے سعاد گاڑی میں بیٹھتا اچانک یاد آنے پر نایاب نے پوچھا ۔۔۔
“سعاد تم نے وہ شیروانی نہیں پہنی جو تمہارے سسرالیوں نے دی تھی ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔
