Anmol Se Bemol By Saba Mughal readelle50047 Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
انمول سے بے مول
ازقلم صبا مغل
قسط 18
وہ دھندلائی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔ کیا کہے گیا تھا وہ شخص ۔۔ کتنی کاٹ تھی اس کے لہجے میں ۔۔۔ کتنا نفرت امیز لہجہ تھا اس شخص کا ۔۔۔ وہ شخص جس نے کبھی ایک چیونٹی کو تکلیف نہ دی تھی کسی سے کبھی لڑائی نہ جگھڑا کیا تھا ۔۔۔ کیسے لفظ وہ بول گیا تھا ایک لڑکی کو ۔۔۔
وہ آسمانوں میں اڑنے والی لڑکی تھی اتنا غرور تھا اس میں ۔۔۔۔ آج کیا کہے گیا تھا اسے ۔۔۔ اسے آسمان سے زمیں پر پٹخ گیا وہ ۔۔۔
وہ مردہ قدموں سے خود کو گھسیٹتی ہوئی آئی اپنے کمرے میں ۔۔۔
اس کی انکھیں ساکت تھیں ثوبان کو دھچکا لگا کہیں وہ زیادہ تو نہیں بول گیا ۔۔۔ “نہیں ضروری تھا اتنا ڈوز اس مغرور لڑکی کے لیۓ اس نے خود سے کہا ۔۔۔
ٹھا کی آواز سے دروازہ بند ہوگیا ہانیہ اپنے کمرے میں چلی گئی بغیر کچھ کہے ۔۔۔ وہ حیران ہوا تھا ۔۔۔ اس کی خاموشی حیران کن تھی ورنہ وہ تو بیسٹ ڈبیٹر تھی منٹوں میں بات کو گھما کر چپ کروادیتی تھی سامنے والے کو ۔۔۔ اج ثوبان اتنا بول گیا وہ کچھ نہ بولی حیرت انگیز لمحہ تھا ثوبان کے لیۓ ۔۔۔
ذہن میں آئی سوچوں کو ایک طرف کرکے , کانچ کے ٹکڑوں کو سمیٹا ثوبان نے ۔۔ پھر فریش ہونے اپنے کمرے کی طرف بڑھا ۔۔۔ آخر اسے شادی میں جو جانا تھا ۔۔۔
@@@@@@@@
وہ کمرہ بند کرکے دروازے سے لگ کے زمیں پر بیٹھ گئی نڈھال تھی وہ ۔۔۔ پھوٹ پھوٹ کر رودی اپنے ہاتھوں کو دیکھ کر ۔۔۔ کتنا فخر تھا ان ہاتھوں کی خوبصورت اور بناوٹ پر ۔۔۔ وہ اپنا چہرہ گراۓ گھٹوں پر روۓ جارہی تھی دل کرچی کرچی ہوگیا تھا ۔۔۔ اندر سے درد کی ٹیسین اٹھنے لگیں تھیں ۔۔۔
آواز پر چونک کر سر اٹھایا اس نے تڑپ کر ۔۔۔
“تم اسمانوں میں اڑتی تھی وہ تمہیں زمیں پر پٹخ گیا ہانیہ ۔۔۔ اس کو اندر سے آواز آئی ۔۔۔ اس نے چیزوں کو بکھیر دیا ۔۔۔۔
“وہ مجھے زمیں پر نہیں پاتال میں گراگیا ہے ۔۔۔۔ مجھے میری نظروں میں گرا کر گیا ہے ۔۔۔۔ ہانیہ نے زور سے کہا ۔۔۔
“تم واقعی ڈائن ہو ۔۔۔۔ ایک اور آواز گونجی ۔۔۔ سب سے بڑی عدالت ضمیر کی عدالت ہوتی ہے ۔۔۔ وہ اسی سب سے بڑی عدالت میں کھڑی تھی وہ ۔۔۔ ہانیہ اپنے جرمون کے ساتھ مجرم بنی کھڑی ہوچکی تھی ۔۔۔ اب حساب سودوزیان کا ہونے لگا ۔۔۔ بس کچھ دیر میں فیصلا ہونا تھا کتنا خسارہ اس کے حصے میں ایا ۔۔۔
“نہیں ڈائن سے بھی بدتر ہوں میں ثوبان نے کہا تھا ۔۔۔ سہی کہا تھا اس نے ۔۔۔ ہانیہ نے چیخ کر کہا ۔۔۔
وہ چیخ چیخ کر روئی تھی ۔۔۔ وہ اپنا سر پیٹ رہی تھی دکھ کی اس کیفیت میں ۔۔۔
“تم بہت بری ہو ۔۔۔ ایک اور جرح لگی اس کی ذات پر ۔۔۔
“میں بدترین بری ہوں ۔۔۔ ہانیہ نے خود سے کہا ۔۔۔
“دیکھو ذرہ کیا واقعی تم خوبصورت ہو ۔۔۔ ایک اور سوال کیا گیا اس سے ۔۔۔ وہ سب سے بھاگ سکتی تھی پر اس ضمیر کی عدالت کا کیا کرتی اور بھاگ کر کہاں جاتی اس سے ۔۔۔
“میں بدصورت دل کی مالک ہوں ۔۔۔ میں نے صبا اپی سارا اپی سب کا دل دکھایا ہے ۔۔۔ میرے شر سے کوئی محفوظ نہیں رہا ۔۔۔ میں دنیا کی بری تریں لڑکی ہوں میں نے بچوں کو نہیں بخشا ۔۔۔ اس نے الزام قبول کرتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“سب مجھ سے نفرت کرتے ہیں یا اللہ میں اتنی بری کیوں ہوگئی کیوں ہوگئی ۔۔۔ جو آئینہ اج تم نے دکھایا وہ پہلے کبھی کیوں نہیں دکھایا ۔۔۔ سب ختم ہوگیا کوئی نہیں رہا اپنا میرے ماں باپ میرے اپنے اب مجھ سے بدظن ہوگۓ ہیں کیا کروں ۔۔۔
“ثوبان تم کہتے ہو ولید خانزادہ کے گھر جاؤں صرف اتنا بتادو کس منہ سے جاؤں اسے میری ضرورت نہیں بچوں کو میں خود سے دور کرچکی ہوں ۔۔۔ کچھ نہیں رہا,میرے دامن میں , میں نے خود اپنا دامن کانٹوں سے بھر دیا ۔۔۔ آج لہولہاں ہوگیا ہے میرا وجود ثوبان اکر دیکھو ۔۔۔ دیکھو میں مرگئی ہوں تم نے کہا تھا مرجاؤ ۔۔۔ مجھے تو موت بھی نہیں اپناۓ گی اتنا غلیظ ہے میرا وجود ۔۔۔
وہ خوداذیتی کی انتہا پر تھی ۔۔۔
“کیا کروں یا اللہ ۔۔۔ کیا کروں مجھے معاف کردو سب کس کس سے کتنی دفعہ معافی مانگوں اتنی گنیہگار ہوں میں ۔۔۔ اتنے لوگوں کی گنیہگار ہوں میں میری کوئی معافی نہیں ۔۔۔
وہ پھوٹ پھوٹ کر رودی ۔۔۔
“یا اللہ کوئی تو راہ دکھادے مجھے ۔۔۔ کوئی تو راہ دکھا ۔۔۔ کتنا بےمول کردیا میں نے خود کو ۔۔۔ اپنے غرور میں کتنی گھٹیا بات کہے گئی ثوبان سے ۔۔۔ صبا اپی کو کتنی تکلیف دیتی رہی ہوں میں , مجھے معاف کردو اپ خدارا مجھے معاف کردو ۔۔۔۔ اپ کی گنیہگار ہوں میں ۔۔۔۔ میرا چھٹکارا کیسے ہوگا کیسے ہوگا ۔۔۔ وہ تڑپ تڑپ کر روئی ۔۔۔
“بےشک سکوں صرف اللہ کے ذکر میں ہے ہانیہ ۔۔۔دادی کے کہے لفظ گونجے اس کے ذہن میں ۔۔۔ وہ اٹھ بیٹھی ۔۔۔
کچھ نہ سمجھ ایا تو واشروم میں گئی وضو کیا ۔۔۔ وضو کا ایک ایک رکن ادا کرتے ہوۓ اس کے انسو چہرہ بگھوتے رہے ۔۔۔ لمحہ لمحہ سو موت مری تھی وہ ۔۔۔
اسے یاد نہیں کیا وقت تھا ۔۔۔ بس جاۓ نماز بچھا کر وہ سجدہ ریز ہوگئی پھر کتنے لمحے وہ سجدے میں روتی رہی ۔۔۔ عصر کی اذان ہوئی تو اس نے اٹھ کر نماز ادا کی ۔۔۔ ایک ایک رکن ادا کرتے اس کے انسو بہتے رہے ۔۔۔
جب دعا کے لیۓ ہاتھ اٹھاۓ تو زبان کو قفل لگ گیا کچھ وقت کے لیۓ اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھتی رہی دکھ کی کیفیت میں ۔۔۔
“کیا مانگوں تجھ سے میرے رب تونے سب دیا میری حیثیت سے بڑھ کر دیا میں ناشکری قدر نہ کرسکی , اتنے خوبصورت رشتے پھر اتنے پیار کرنے والے اپنے سب کچھ تھا میرے پاس سب کھو دیا اپنے غرور میں ۔۔۔ اب کس منہ سے مانگوں کیا کیا مانگوں سمجھ نہیں ارہا ۔۔۔ بس مجھے معاف کردے میرے رب سب سے زیادہ تمہاری گنیہگار ہوں اتنا نوازا مجھے میرے رب نے اور سارا کریڈٹ خود لے کر مغرور ہوتی گئی مجھے معاف کردے یا اللہ مجھے معاف کردے بہت گنیہگار بندی ہوں تمہاری ۔۔۔ وہ روپڑی اور جانے کتنی دیر روتی رہی ۔۔۔ سجدے میں روتی وہ اپنے رب کو منانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔
“تو پھر جب لوٹ کر آؤگے تم (انسان) سب سے مایوس ہوکر تب بھی میں (اللہ) ہی صرف تمہیں تھام سکتا ہوں , میں (اللہ) ہی سب کا آخری سہارا ہوں ۔۔۔ تو پھر اپنے پرودگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے ۔۔۔
@@@@@@@@@@
“امی میں کل اپنے گھر چلی جاؤں گی ۔۔۔۔ ہانیہ نے لاؤنج میں باآواز کہا ۔۔۔
سب لاؤنج میں شادی سے انے کے بعد خوش گپیوں میں مصروف تھے بچے تھک کر سوچکے تھے پر گھر کے بڑے ثوبان اور صبا بھی بیٹھے تھے ان کے ساتھ ۔۔۔ دن کو سہرا بندی تھی دولہے کی اور رات کو نکاح اور رخصتی تھی ۔۔۔ اس لیۓ اج کا دن سب کا مصروف رہا ۔۔۔
گھر اتے ہی اسے بلایا پر دروازہ لاک تھا وہ سمجھے سوگئی ہوگی ۔۔۔ اچانک اکر ہانیہ نے یسرا بیگم کو مخاطب کرتے ہوۓ سب کو اطلاع دی ۔۔۔
یسرا بیگم کے چہرے پر رونق اگئی ۔۔۔ ہانیہ ہونٹ کاٹتی رہی نظریں جھکاۓ ایک غلط نظر کسی پر نہ ڈالی ۔۔۔
“کل ولید بیٹا اۓ گا نہ تم کو لینے ہانیہ … ماں کے لہجے میں آس تھی ۔۔۔ اس کا دل دکھ سے بھر گیا ۔۔۔۔ وہ کیا لہے کچھ سمجھ نہ ایا ۔۔۔ پہلے والی ہانیہ ہوتی منٹوں میں جھٹک دیتی ۔۔۔۔ پر کل کی ہانیہ اور اج کی ہانیہ میں زمیں آسمان میں فرق تھا ۔۔۔
“سچ ہانیہ میں بہت خوش ہوں وہ خود تمہیں لینے آرہا ہے ۔۔۔ وہ ماں تھیں اپنی کہے جارہی تھیں ۔۔۔۔ ہانیہ کے ہونٹ کانپنے لگے اب وہ کیا کہے انہیں ۔۔۔ اج پہلی دفعہ وہ کچھ بول نہ سکی وہ لڑکی جو باتیں بنانے کی ماہر تھی ۔۔۔ کیسی بےبسی تھی اگر نہ کرتی ہے تو ماں باپ کو تکلیف ہوگی اور اگر ہاں کرتی ہے تو کل جب ولید نہ ایا تو بہت زیادہ دکھی ہوجائیں گے ۔۔۔۔
“کیوں نہیں آۓ گا ضرور آۓ گا ولید لینے ۔۔۔ نازیہ بیگم نے اپنی کہی ان لے لہکے میں یقین تھا ۔۔۔ یسرا بیگم اس کے فیصلے پر خوش تھیں ۔۔۔
“ہانیہ تم ٹھیک تو ہو بچے ۔۔۔ احمد صاحب نے کہا ۔۔۔ “ادھر آؤ میرے پاس بیٹھو ۔۔۔ وہ ان کے پاس آئی جھکی نظر سے بولی ۔۔۔ “تایا ابو میں ٹھیک ہوں ۔۔۔
ثوبان بغور اسے دیکھتا رہا ۔۔۔
صبا حیران تھی ہانیہ کے انداز پر ۔۔۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی تو ہانیہ نے اسے کہا تھا ۔۔۔
“زیادہ دن یہ خوشی راس نہیں انے والی تمہیں میں واپس اگئی ہوں , یاد رکھنا ثوبان میرا ہے , بہت جلد وہ تم سے مگنی توڑ دے گا سمجھی صبا اپی , میں ہی اس کی پہلی اور آخری محبت ہوں ۔۔۔
اسے ثوبان کو ناشتہ دیتے وقت خوش ہوتے مسکراتے دیکھ کر ہانیہ نے اسے کچن میں کہا تھا ۔۔۔ پھر وہ اسے وقتً فوقتً زچ کرنے کے لیۓ ایسے جملے بولتی رہتی تاکہ صبا کا مائنڈ بن جاۓ کہ بہت جلد ثوبان اسے چھوڑنے والا ہے ۔۔ تب سے اب تک صبا دن رات پریشان رہتی اس کی باتوں سے ۔۔۔ نا کسی سے کہے سکتی تھی نا کسی کو بول سکتی تھی اندر ہی اندر تڑپ رہی تھی گھٹ رہی تھی انے والے وقت کو سوچ کر ۔۔۔
ان دنوں اس کی دعائیں لمبی ہوگئیں تھیں وہ اپنے رب سے ثوبان کا ساتھ ہمیشہ کے لیۓ مانگنے لگی تھی ۔۔۔ اسے اللہ پر بھروسہ تھا اسی سے رجوع کررہی تھی اور ہمیشہ کی طرح ہانیہ کے لیۓ اللہ سے ہدایت مانگنا نہ بھولتی تھی کیونکہ وہ ہانیہ کو اپنی چھوٹی بہن سمجھتی تھی ۔۔۔
صبا بےخبر تھی اس کی چھوٹی بہن ہانیہ کو اللہ نے ہدایت دے دی تھی ۔۔۔ یہ اپنوں کی ہی دعاؤں کا اثر تھا وہ گمراہی کے راستوں سے پلٹ آئی تھی ۔۔۔
صبا کو معلوم ہی نہیں تھا کہ ایک دو دفعہ تو ثوبان خود ہانیہ کے طنز سن چکا تھا وہ چپ تھا تو صرف سہی وقت انے کے لیۓ اج سہی وقت ایا تو وہ ہانیہ کو اس کی اوقات دکھا گیا ۔۔۔
صبا کا حیران ہونا بجا تھا کیونکہ ہانیہ کا انداز ہمیشہ سے الگ تھا ۔۔۔ اج اس کی انکھیں شرمندگی سے جھکی تھیں ۔۔۔ وہ گردن جو اکڑی رہتی تھی اج وہ اکڑ غائب تھی ۔۔۔ جانے کیوں صبا کے دل کو کچھ ہوا اس کو اس حال میں دیکھ کر ۔۔۔
“تمہیں پتا ہی نہیں ہانیہ , تم مغرور سی نک چڑھی سی ہم سب کو پسند تھی اس لیۓ بھی شاید تمہیں ہم نے کبھی ٹوکا ہی نہیں پر پتا نہیں کب وہ غرور خودپسندی اور بدتمیزی میں بدل گیا ہم کو پتا ہی نہیں چلا ۔۔۔ پر یقین مانو تم کل بھی انمول تھی اور اج بھی انمول ہو ہم سب کے لیۓ ۔۔۔ ہمیں تمہاری کامیابی پر ہمیشہ فخر رہا ہے ۔۔۔ کاش تم کو یہ بات سجھ اسکتی ہانیہ ۔۔۔ صبا نے دکھ سے سوچا پر کہا نہیں ۔۔۔
وہ مایوس سی واپس جانے لگی ۔۔۔
“ہانیہ بیٹھو تو سہی ۔۔۔ نازیہ بیگم نے کہا ۔۔۔
“ہممم کچھ کام یاد اگیا اتی ہوں تھوڑی دیر میں تائی امی ۔۔۔ ہانیہ نے بےتاثر لہجے میں کہا اور کمرے کی طرف چلی گئی ۔۔۔
سب اسے جاتا دیکھتے رہے ۔۔۔
@@@@@@@@@
“پلیز یا اللہ آخری دفعہ پلیز آخری دفعہ ولید خانزادہ میرا مان رکھ لے , نہیں نہیں میرا مان نہیں , بس میرے ماں باپ کو آس ہے وہ مجھے لینے آۓ ۔۔۔ پلیز اللہ وہ شخص مان جاۓ ۔۔۔
کافی دیر ٹہلتے رہنے کے بعد اس نے خود سے کہا ۔۔۔ یسرا بیگم اور احد صاحب کے لیۓ وہ چاہتی تھی ولید آجاۓ ایک دفعہ لینے ۔۔۔
پھر کبھی یہ موقع نہیں انے دے گی کہ ولید خانزادہ سے کوئی امید لگاۓ ۔۔۔ ” بس آخری دفعہ میرا مان رکھ لیں یا اللہ اس شخص کے من میں ڈال دے وہ میری مجبوری سمجھ لے ۔۔۔ وہ التجا کررہی تھی اللہ سے ۔۔۔
اس نے ڈرتے ڈرتے کال ملائی ۔۔۔ شاید وہ اٹھاۓ ہی نہیں ۔۔۔ ہانیہ نے سوچا ۔۔۔
وہ مایوس ہوکر کال کاٹنے لگی تھی اسی وقت کال ریسوو ہوئی ۔۔۔
“ہیلو ۔۔۔ ہانیہ نے کہا ۔۔۔ پھر سلام کیا جس کا جواب دیا ولید نے ۔۔۔ ہانیہ کا لہجہ دھیما تھا ۔۔۔
“کہو کیا کہنا چاہتی ہو ۔۔۔ ولید نے بےتاثر اور سرد لہجے میں کہا ۔۔۔
“آپ مجھے لینے اجائیں کل ۔۔۔ جلدی سے کہے کر وہ پوری سماعت بن گئی تھی اس کا جواب سننے کے لیۓ ۔۔۔
“تم شاید بھول گئی ہو میں نے کہا تھا خود جارہی ہو تو واپس بھی خود انا ہے ۔۔۔ اب رکھتا ہوں فون ۔۔۔ ولید نے کہے کر کاٹنے لگا تھا وہ جلدی سے بولی ۔۔
“پلیز آخری بار میرا مان رکھ لیں ۔۔۔ ہانیہ نے آس سے کہا ۔۔۔
“شاید میری بات تمہارے سمجھ نہیں ارہی میں ایک ہی دفعہ کہے رہا ہوں جیسے گئی ہو ویسے ہی انا ہو اجاؤ , اگر نہ انا چاہو تمہاری مرضی , سمجھی یا نہیں , اگر نہیں سمجھ ارہی میری بات تو میرا دماغ نہ خراب کرو ۔۔۔ ولید خانزادہ نے دوٹوک کہا ۔۔۔
وہ منت پر اتر آئی “پلیز ولید میرے ماں باپ کو آس ہے پلیز آجاؤ لینے پھر کبھی ایسی نوبت نہیں آۓ گی اور نا انے دوں گی پلیز ۔۔۔
” میں نے کہا نہیں , نہیں مطلب نہیں میری زبان میں سمجھی اس لیے مجھے زیادہ فورس کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ میں رکھتا ہوں کال ۔۔۔ اس کا انداز ہنوز سرد تھے اب وہ اس ڈرامےباز لڑکی کے کسی ڈرامے میں انے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا ۔۔۔
“پلیز اپ کو اپ کی کشف کا واسطہ خدارا مجھے لینے اجائیں صرف آخری دفعہ ۔۔۔ وہ آنسو کی نمی لیۓ لہجے میں بولی تھی ۔۔۔
وہ جو کال کاٹنے لگا تھا اس کے لفظوں پر ساکت ہوا ۔۔۔ چند لمحے کی خاموشی اگئی دونوں کے بیچ ۔۔۔
ہانیہ نے موبائل دیکھا کال تو چل رہی تھی مطلب اس نے کاٹی نہیں ہے ۔۔۔ اب وہ انتظار کرنے لگی اس کے جواب کا ۔۔۔
“بہت بڑا واسطہ دے دیا ہے تم نے ہانیہ ۔۔۔ اب تو انا پڑے گا ۔۔۔ کل تیار رہنا شام پانچ بجے لینے اجاؤں گا ۔۔۔ اللہ حافظ ۔۔۔ اس نے کال کاٹ دی وہ حیرت سے دیکھنے لگی ۔۔۔
“اگر اج تم انکار کردیتے تو شاید میں مرہی جاتی کیونکہ میری ذات سے اب میرے ماں باپ کو اب کبھی کوئی دکھ نہیں پہنچے گا ۔۔۔ یہ میرا وعدہ ہے خود سے ۔۔۔
اس نے رکے ہوۓ آنسو بھاۓ ۔۔۔ اور ایک عزم سے سوچا ۔۔۔
@@@@@@@@@
اگلے دن سب کو وہ بتا چکی تھی ولید کے انے کا وقت ۔۔۔ شام کی چاۓ پر بہت اچھا انتظام کیا تھا صبا نے ۔۔۔
وہ سامان لینے کمرے میں آئی تو اس کے پیچھے یسرا بیگم آئی اور اس گلے لگا کر پیار کیا اور کہا ۔۔۔
” بیٹیاں اپنے گھروں میں ہنستی بستی اچھی لگتی ہیں ۔۔۔
“جی امی اپ نے سہی کہا اور اب مجھے سمجھ اگیا ہے ۔۔۔ اس نے جھکی نظروں سے کہا ۔۔۔
“اللہ تمہیں ہدایت دے میری ہانیہ ۔۔۔ یسرا بیگم نے ضبط سے کہا ۔۔۔
“بس امی اپ کی دعا چاہیۓ ۔۔۔ اس نے کہا ۔۔۔ یسرا بیگم چونکی اس کے انداز پر ۔۔۔
“ہانیہ سب ٹھیک تو ہے ایسی بجھی بجھی کیوں لگ رہی ہو ۔۔۔ یسرا بیگم ماں تھیں دل کو کچھ ہوا وہ ایسے تو کبھی نہیں بولتی تھی اج اتنی یاسیت اس کے لہجے میں ماں کا دل تڑپ اٹھا تھا ۔۔۔
“کچھ نہیں امی زیادہ دن یہاں رہ لی ہونا اس لیۓ لہجہ ایسا ہے ۔۔۔ ہانیہ نے سنبھل کر کہا ۔۔۔
“تم مسکراتی رہا کرو میری بچی انہوں نے دل سے کہا ۔۔۔
“جی امی ۔۔۔ اس نے مسجرانے کی کوشش کی لبوں نے ساتھ نہ دیا ۔۔۔ ہونٹ سکوڑ گئی وہ ۔۔۔
@@@@@@@@@
سب سے مل کر وہ گاڑی میں بیٹھی وہ ۔۔۔ وہ اور ولید خانزادہ پچھلی سیٹ پر بیٹھے وہ بےتاثر انداز میں باہر دیکھتی رہی ۔۔۔
“یا اللہ یہ شخص تو کشف کا ہے , اب آخری سہارا اس گھر میں رہنے کا وہ معصوم بچے ہیں اگر وہ مجھ سے روٹھ گۓ پھر کیسے میرا گذرا ہوگا ۔۔۔ یا اللہ رحم ۔۔۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوۓ سوچا ۔۔۔
“پھر میرا تو کوئی ٹھکانہ نہیں ہوگا اگر بچے مجھ سے نفرت کرنے لگے , کیسے گزرے گی یہ زندگی ۔۔۔ بہت آزمائش میں خود کو ڈال دیا ہے میں نے ۔۔۔ ہانیہ نے کرب سے سوچا ۔۔۔ دل ڈر خوف اور وسوسوں میں گھرا تھا ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔
