No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
ناول ۔۔۔ انمول سے بےمول
ازقلم ۔۔۔۔ صبامغل
قسط ۔۔۔۔ 4
کبھی میں انمول ہوا کرتی تھی
اب بے مول ہی بے مول ہوں
کئی لڑکیوں کی کہانی کا ایک مجموعہ , دل کو چیردیتی سچائیاں لیۓ اپ کو پیش نظر کیا جارہا ہے ۔۔۔ ہمارے معاشرے کی سچائیوں کو ملا کر لکھا گیا ۔۔۔ کون کہتا ہے کہ خواب چھوٹے ہوتے ہیں خواب تو ہمیشہ بڑے ہوتے ہیں ہماری سوچ سے بھی پرے کے ہوتے ہیں اور جو ان کو پورا کرنے کی جستجو کرتا ہے اسے ان کی قیمت تو چکانی ہی پڑتی ہے۔۔۔۔ یہ خواب ہماری آنکھوں کی بینائی تو چھین لیتے ہیں پھر واقعی میں آنکھوں کو حقیقت نظر نہیں آتی حقیقیت کو جھٹلا کر صرف خواب کو پورا کرنے کی لگن لگی رہتی ہے ۔۔۔ اسی سفر کا نام ناول انمول سے بےمول ہے ۔۔۔
@@@@######@@@@@@
“اچھا سوری سارہ اپی ۔۔۔ رانیہ نے کہا ۔۔۔
سارہ ضبط کی انتہا پر تھی وہ چاہ کر بھی بتا نہیں پائی کہ یہ انگوٹھی فراز کی دادی کی ہے جو چاندی کی تھی اس زمانے میں چاندی ہی زیادہ پہنا جاتا تھا پر سونے کا پانی چڑھا ہوا ہے۔۔۔ پھر فراز کے بابا نے اپنی بیوی کو دی اب فراز نے اپنی بیوی کو ۔۔۔ دادا دادی میں انتہا کی محبت تھی اسی محبت کو منتقل کرنے کے لیۓ یہ انگوٹھی منہ دکھائی میں دی تھی ۔۔۔ فراز سے یہ سب سن کے اسے انتہا کی خوشی ہوئی اور اچھا لگا اسے ۔۔۔ فراز نے پوچھا بھی تھا “تم کو یہ قبول ہے یا نہیں اگر پسند نہ ہو تو کچھ اور گفٹ کل دلا دوں گا پر سارہ نے دل سے قبول کیا محبت کے اس تحفے کو جس میں اس کے بڑوں کی دعائیں تھیں ۔۔۔
سارہ یا یہی ماننا تھا چیزوں کی مالیت معنی نہیں رکھتی اسے انمول تو ان سے جڑی محبت کرتی ہے ۔۔۔ سارہ کے لیۓ فراز کا دیا یہ تحفہ انمول تھا کئیں قیمتی چیزوں سے بڑھ کر ۔۔۔
پر اب وہ ان کو بتانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی یہ دونوں بہنیں جذبوں اور احساسات کی قیمت کم ہی سمجھتی ہیں خاص کر ہانیہ ۔۔۔
رانیہ کے سوری پر اس نے اٹز اوکے کہے کر اس نے بات ہی ختم کردی , ایسی ہی تھی وہ سادہ دل اور خالص جذبے لیۓ ۔۔۔
@@@@@@@
“کیا بات ہے اتنی خوش ہو ۔۔۔ سحرش نے اگلے دن ہانیہ سے کینٹین میں پوچھا ۔۔۔
” بات ہی خوشی کی ہے مجھے اجازت مل گئی ہوم ٹیوشن پڑھانے کی ۔۔۔ ہانیہ نے چہک کر بتایا۔۔۔
” کیا واقعی تم جاؤ گی گھر گھر پڑھانے ٹیوشن…
سحرش نے حیرت سے پوچھا کیونکہ یہ کام تو اکثر مرد لوگ کرتے ہیں , ان کے لئے آسانی ہوتی ہے اپنا کنوینس لے سکتے ہیں ۔۔ کوئی فیمل یہ کام کرے تو عجیب لگتا ہے کیونکہ ان کو بہت مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔۔۔
” اس میں حیران ہونے کی کیا بات ہے ۔۔۔ میں کوئی ٹکے ٹکے کے گھروں میں جا کر تھوڑی پڑھائوں گی , کسی ہائی فیملی کے بچوں کو پڑھانے جاؤں گی ۔۔۔ یقین مانو اس میں بڑا فائدہ ہے ۔۔۔
“فائدہ ہے اگر ایسی جگہ کام بن جائے ۔۔۔ کچھ سوچ کر سحرش نے کہا اج کل کامپیٹیشن جو اتنا ہے ۔۔۔
ویسے بھی ہاۓ کلاس کے لوگ اپنے بچوں کی سکیورٹی کے لیۓ ہوم ٹیوشن پریفر کرتے ہیں اور پیکیج بھی اچھا دیتے ہیں ۔۔
“ہممم یہ تو ہے تم تو جانتی ہو میں معمولی پر کمپرومائز کرنا جانتی ہی نہیں ۔۔۔ ہانیہ نے مغرور لہجے میں کہا ۔۔۔
” ہاں جانتی ہوں تم دہ گریٹ ہانیہ ہو ۔۔۔ سحرش نے طنزیہ کہا پر ہانیہ ڈھیٹ تھی اس نے اسے پازیٹوو لے کر شانے اچکاتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“وہ تو ہے ۔۔۔
” بائی دے وے مجھے تو نہیں لگا کہ تمہارے گھر والے کبھی مانیں گے پھر کیسے مانے ذرہ روشنی ڈالو اس بات پر ۔۔۔ سحرش نے دل میں مچلتا ہوا سوال ہانیہ سے پوچھا ۔۔
“ہمممم وہ ثوبان بھائی اور تایا کی سپورٹ پو ہوا یہ سب ۔۔۔ ہانیہ نے مزے سے بتایا بغیر کسی جھجھک کے ۔۔۔
“ہممم تو تم نے اپنے اس کزن کی مدد لی جسے تم قابلِ تعارف نہیں سمجھتی اور جسے جانے کیا کیا کہتی رہتی ہو اور انہیں رشتوں کی وجہ سے تمہارے پیرینٹس مانے ہیں جنکو تم چڑیا گھر کہتی ہو واہ واہ کیا کہنے اپ کے ہانیہ جی ۔۔۔ اس بات کیا مطلب لوں میں جو کل تم کہہ رہی تھی وہ صحیح ہے یا جو آج بتا رہی ہوں وہ صحیح ہے ۔۔ سحرش نے جانچتی نظروں سے پوچھا ۔۔
“شٹ اپ یار , تم کو اس لئے سب کچھ نہیں بتایا تھا کہ آج تم مجھے طعنے مارو , افسوس تم پر میرا بھروسہ غلط نکلا ۔۔۔ ہانیہ نے اس کی بات کا جواب دینے کے بجائے الٹا اسے ہی مجرم ٹھہرا دیا اپنا ۔۔۔ سحرش تو حیران ہو گئی اس کی اداکاری پر ۔۔۔
“بہت شاطر ہو تم میری بات مجھ پر گھمادی تم نے , میں نے تم سے ایک سوال کیا کیا تم نے تو مجھے کٹگھرے میں کھڑا کر دیا اور میری دوستی پر انگلی اٹھا دی ۔۔ شاباش مطلب پرستی کی انتہا ہی کر دی ہے تم نے ہانیہ ۔۔۔ بجائے خود شرمندہ ہونے کے مجھے شرمندہ کر رہی ہو ایک بات میری یاد رکھنا تمہیں ان رشتوں نے بہت انمول بنایا ہے ان کی قدر کرو پاغل ۔۔۔ بس یہ احساس دلانا چاہ رہی تھی ۔۔۔ بہت اچھے لوگ ہیں تمہارے گھر والے ۔۔۔ سحرش نے کہا وہی جو سچ تھا چاہے اسے ناگوار گزرے۔۔۔
” اچھا اچھا اب چھوڑو آج کے دن میں تم سے لڑائی نہیں کرنا چاہتی بلکہ چاہتی ہوں کے تم دعا کرو کہ مجھے یہ جاب مل جائے ۔۔۔ ہانیہ نے اسے ٹالتے ہوۓ کہا سحرش سب سمجھتے ہوئے بھی اس کی باتوں میں اجاتی کیونکہ اپنی اس خوبصورت دوست سے وہ بہت محبت کرتی تھی ۔۔۔
” انشاءاللہ ۔۔۔ سحرش نے دل سے کہا ۔۔۔
” انشاءاللہ ۔۔ ہانیہ نے کہا ۔۔۔
@@@@@@@@@
شام کے چار بج رہے تھے ۔۔۔ وہ بتاۓ ہوۓ ایڈریس کے سامنے کھڑی تھی جو اسے فوں پر بتایا گیا ۔۔ ثوبان اسے لے کر جانا چاہتا تھا پر وہ اپنی مدد آپ پر بلیو کرتی تھی ۔۔۔ اس لیۓ اکیلی رکشے سے آئی تھی ۔۔۔
“عجیب بات ہے ہوم ٹیوشن کے لئے انٹرویو آفیس میں لیا جا رہا ہے ۔۔۔
اس نے ذہن میں مسٹر فیاض کی باتیں دہرائیں جو انہوں نے فون پر کہیں تھیں جب اس نے ہوم ٹیوشن کے لیۓ پوچھا تھا ۔۔۔ انہوں نے کچھ یوں کہا تھا ۔۔۔
” دیکھئے مس ہانیہ انٹرویو تو لاسٹ ویک ہو چکے تھے اور جو ٹیچر ہم نے سلیکٹ کی تھی وہ ٹیوشن چھوڑ چکی ہے اب ہم باقیوں میں سے کوئی سلیکٹ کر رہے تھے اور اگر آپ واقعی انٹرسٹڈ ہیں اس میں اور انٹرویو دینا چاہتی ہیں تو ہماری آفس آکر دے سکتی ہے اگر آپ کو مناسب لگے ۔۔۔
ان کے پروفیشنل انداز پر مطمئن ہوکر اس نے آنے کی حامی بھر لی اور انہوں نے اسے چار کا ٹائم دیا تھا اور ریسپشن پر اس نے اپنا نام بتایا تو اسے پتا چلا اسی کا ویٹ ہورہا ہے ۔۔۔
اسے سامنے کے کمرے کی طرف جانے کہا گیا وہ ناک کرکے اندر انے کی اجازت مانگی ۔۔۔
“یس کم ان ۔۔۔ اور وہ اندر داخل ہوئی انتہا کا حسین آفس تھا اینٹریئر سے لے کر ہر چیز پرفیکٹ تھی ۔۔۔ دل ہی دل میں سراہے بغیر رہ نہ سکی ۔۔ خوبصورتی تو اس کی کمزوری تھی چاہے وہ انسانوں میں ہو یا چیزوں میں اور سامانوں میں ہوں ۔۔۔
آئیۓ مس ہانیہ ۔۔۔ فیاض صاحب نے کہا اور وہ ان کے سامنے کرسی اکر بیٹھ گئی ۔۔۔ ایک چیز قابل غور تھی کہ بوس کی مین چیئر خالی تھی جبکہ اس کے پاس ایک کرسی رکھ کر اس پر بیٹھا تھا جو غالباً فیاض صاحب تھے ۔۔۔ ان کا بیٹھنے کے لیے کہنے پر وہ ان کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی ۔۔۔
ایک فارمل سا انٹرویو ہوا جس میں پوچھا گیا کہ وہ اسے پڑھانے کتنا ایکسپرینس ہے اور بچوں کو ہینڈل کرنے کا وغیرہ وغیرہ جس کے جواب تو تقریبا اس نے نہیں کہا ۔۔۔
کچھ ایجیوکیشن کے ریلٹیڈ سوال کیۓ گۓ جس کے جواب اس نے بہتریں دیۓ اس کی کوالیفکیشن سے متاثر ہوۓ ۔۔
” آپ یونیورسٹی اسٹوڈنٹ کیا مینیج کر لیں گی یہ سب ۔۔
“جی بلکل اس لیۓ آئی ہوں ۔۔۔
“آپ کی پڑھائی کا ہرج نہیں ہوگا ۔۔۔ انہوں نے فکر سے پوچھا ۔۔۔
“نہیں مینیج کر لوں گی سر ۔۔۔ ہانیہ نے کہا ۔۔۔
اسی وقت کمرے کا دروازہ کھلا اور کوئی اندر آیا ۔۔ جسے دیکھ کر فیاض صاحب اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور سلام کیا اور ہانیہ نے پلٹ کر دیکھا تو ایسا لگا وہ پتھر کی ہوگئی ہے ۔۔۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اس شخص سے اتنا جلدی دوبارہ ملے گی ۔۔۔ پر وہ اپنی پوری وجاہت کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔ فیاض صاحب اس کے بارے میں بتانے لگے مسٹر ولید خانزادہ کو ۔۔۔ وہ مکمل کھوئی تھی اس کے سحر میں ۔۔۔
“مس ہانیہ ۔۔۔ فیاض صاحب نے بلایا اور دوسری اواز پر متوجہ ہوئی ۔۔
“جی جی ۔۔ اس نے ہڑبڑا کر کہا ۔۔۔ کتنی مشکل سے اس نے خود کو سنبھالا تھا یہ صرف وہی جانتی تھی شاید اپنے آئیڈیل کو دیکھ کر کوئی بھی اسی طرح ریکٹ کرے ۔۔۔
“یہ مسٹر ولید خانزادہ ہیں ان کے بچوں کو پڑھانا ہے اپ کو اس لیۓ یہ اپ سے چند سوال کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔
“بچے” ۔۔ اس نے شاک لہجے میں کہا ۔۔۔ صرف شادی شدہ ہی نہیں دو جڑواں بچوں باپ بھی ہے یہ شخص ۔۔۔۔ وہ دکھ اور صدمے میں ہی اگئی ۔۔۔ اتنا جلدی خواب ٹوٹ جائیں گے اس نے سوچا نہ تھا ۔۔۔۔
خوابوں کا کیا ہے وہ ٹوٹ ہی جاتے ہیں کہنا آسان تھا پر جس پر بیتے وہی جانے ۔۔۔
@@@@@@@@
اج سارہ کو لینے فراز نے انا تھا ۔۔۔ اس لیۓ سب کا اندازہ تھا وہ رات میں آۓ گا پر سرِشام وہ پہنچ گیا سب حیران ہی ہوۓ ۔۔۔ اس کے ساتھ فراز کے مان باپ اور نایاب کو دیکھ کر سب حیران ہی ہوۓ اور یہ حیرت خوشگوار ہی تھی ۔۔۔
پھر درخت کی چھاؤں میں سب نے چاۓ پی ۔۔۔ سب خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔۔۔
“ہم کسی مقصد سے ہی آۓ ہیں اج ۔۔۔ سب حیران ہوۓ ان کے اس انداز پر ایک دم خاموشی چھاگئی ان کی بات پر ۔۔۔
“جی کہیں ۔۔۔ اسی وقت احمد صاحب نے کہا ۔۔۔
” جو میں کہنا چاہتا ہوں بہتر یہی ہے نایاب کہے کیونکہ یہ اس کا حق ہے کہو نایاب ۔۔۔ میں صرف اس کی سپورٹ کے لیۓ ایا ہوں ۔۔ سب حیران ہوۓ ان کی بات پر ۔۔۔
“آپ کہیں اپ بڑے ہیں ۔۔۔ نایاب نے ان کو مان دیتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“شکریہ ۔۔ پر تم کہوگی مجھے اچھا لگے گا ۔۔۔
“انکل میرا چھوٹا بھائی سعاد امریکہ ملک کے سٹی نیویارک میں رہتا ہے ملٹی نیشنل کمپنی میں اچھی پوسٹ پر ہے میں اس کے لیۓ رانیہ کا رشتہ چاہتی ہوں ۔۔۔
نایاب کے لہجے میں محبت تھی اپنے بھائی کے لیۓ اور رانیہ کے چھلکتا اس کا پیار بھی واضع تھا ۔۔۔ وہ ایک آس میں پوچھ رہی تھی ۔۔۔
“ہمیں رانیہ بیٹی بہت پسند آئی ہے اور ایک بات واضع کردیں سعاد کی بیوی اس کے ساتھ امریکہ رہے گی ۔۔۔ وہان اس کے پاس اپنا اپارٹمنٹ ہے ۔۔۔
سب حیرت سے سن رہے تھے ان کی بات کو ۔۔۔ رانیہ تو حیران ہی رہ گئی سب سن کے اس نے سوچا نہ تھا اس کا خواب ایسے پورا ہوگا ۔۔۔ وہ ہمیشہ سے کہتی آئی تھی اسے باہر ملک جانا ہے ۔۔۔ اللہ نے اس طرح سن لی وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
