Anmol Se Bemol By Saba Mughal readelle50047 Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
انمول سے بےمول
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 23
“پلیز مسٹر ولید ۔۔۔ وہ ان کا بازو تھامتی سائیڈ پر لے گئ۔۔ وہ بغیر چوں چراں کے اس کے ساتھ گھسیٹتا ہی چلا گیا ۔۔۔
ہانیہ نے پیچھے مڑ کڑ دیکھا کچھ دور بچوں کی نظر سے دور تھے اب دونوں ۔۔۔
اب کے ولید خانزادہ نے اس کی گرفت سے اپنا بازو چھڑایا ۔۔۔
“مس ہانیہ اپنی حد میں رہیں , میں کچھ کہتا نہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ اپنی من مانی کرتی پھریں , یہ میرا گھر ہے یہاں میرا حکم چلتا ہے ۔۔۔ ولید خانزادہ نے تند لہجے میں کہا ۔۔۔
“جانتی ہوں اپ کا گھر ہے اپ کی مرضی ہی چلے گی ۔۔۔ جتنا سخت ولید خانزادہ کا لہجہ تھا اتنا ہی سے نرم ہانیہ کا لہجہ تھا ۔۔۔
“تو پھر تمہاری ہمت کیسے ہوئی اج کے دن خوشیاں منانے کی ۔۔۔ اج کے دن میں ہر خوشی خود پر حرام سمجھتا ہوں اج میرے گھر میں سیلیبریشن ہورہی ہے مجھ سے پوچھے بغیر , بغیر میری مرضی کے پوچھ سکتا ہوں کیوں ۔۔۔۔ اب کے اس کے لہجے میں بھر پور طنز تھا ۔۔۔
اس کی بات کا جواب بھی ہانیہ نے بھرپور طنز سے دیا ۔۔۔
“کیونکہ اج اپ کی محبوب بیوی کے بچوں کی پیدائش کا دن ہے ۔۔۔ یہ ان کی سیلیبریشن ہے سمجھے اپ ۔۔۔ اپ نے خود پر حرام کرنی ہیں خوشیاں تو کرلیں پر بچوں کا جینا حرام نہ کریں ۔۔۔
اس کے لہجے اور طنز پر ولید خانزادہ تلملا اٹھا ۔۔۔
“تمیز سے اپنی حد میں رہیں ۔۔۔
“میں اپنی حد میں ہوں اور اپ کی حدوں میں انے کا کوئی شوق نہیں مجھے ۔۔۔
ایک سیر تو دوسرا سوا سیر ثابت ہورہا تھا ۔۔۔
تلخ کلامی دونوں طرف سے دوبدو ہورہی تھی ۔۔۔
“اج تو معاف کرتا ہوں تمہیں پر اگلی بار معاف نہیں کروں گا کیونکہ تم انجان تھی پر … ولید خانزادہ خود کو کنٹرول کرکے اب نارمل لہجے میں بولا پر اس کی بات کاٹ گئی ہانیہ اور جلدی سے بولی ۔۔۔
“میں انجان نہیں تھی سچ یہ ہے ۔۔۔۔ اس نے سچائی سے بتایا ۔۔۔
“پھر یہ حرکت کیوں کی , کیوں مجھے تکلیف دی ۔۔۔ اب کے ولید خانزادہ نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔
“مجھے اپ کے بچوں نہ بتایا کہ اس دن کیسے حراس کرتے ہیں اپنے بچوں کو اپ ۔۔۔ ہانیہ کی بات اسے گولی کی طرح لگی ۔۔۔
“کیا بکواس کررہی ہو تم , ہوش ہے تمہیں , کتنی بار کہوں سوچ سمجھ کر بولا کرو , کیا بول رہی ہو اور کس سے بول رہی ہو کچھ اندازہ ہے تمہیں ۔۔۔ ہو کیا تم ہمممم , کیا اوقات ہے تمہاری میری نظر میں لگتا ہے سمجھ کر بھی کچھ سمجھ نہیں رہی تم ۔۔۔ سمجھتی کیا ہو خود کو تم ہمممم بولو ۔۔۔
وہ جو کم ہی کسی سے بات کرتا تھا اج اس پر اپنا بھرپور غصہ اتار رہا تھا اسے اس کی اوقات بتارہا تھا ۔۔۔
پر سامنے بھی ہانیہ تھی یونی کی بیسٹ ڈبیٹر اسے چپ کروانا مشکل تھا وہ بھی اس صورت جب وہ سچ پر اور حق پر خود کو سمجھے ۔۔
“میں خود کو صرف اپ کے بچوں کی ماں سمجھتی ہوں اور ماں صرف اولاد کی خوشی دیکھتی ہے اور کچھ نہیں سمجھے اپ ۔۔۔
طنز سے بھرپور لہجے میں جواب دیا اس نے اور ولید خانزادہ کچھ کہنے کے قابل ہی نہ رہا ۔۔۔ اس سے پہلے ولید کچھ کہتا وہ دوبارہ بولی ۔۔۔
” افسوس اپ نے اپنی بیوی کے دکھ کا ایک دن تعین کرکے اپنے بچوں کی سالگراہ کا دن برباد کرتے ہیں ۔۔۔ ماں باپ اولاد کے لیۓ کتنا کچھ کرتے ہیں اپ کیسے باپ ہیں جو بچوں سے ان کی معصوم خواہش کا گلہ گھوٹنے کا کہتے ہیں ۔۔۔ ایک دفعہ اپ نے سوچا اس عمر کے بچے سب برتھ ڈے فاڈر ڈے مدر ڈے سب سیلیبریٹ کرتے ہیں اج کل کے ترقی یافتہ اسکولز کا یہی ٹرینڈ ہے اور یہی فالو کیا جارہا ہے ۔۔۔ کتنی تکلیف ہوتی ہوگی ان کو جب وہ اپنی سالگراہ نہیں منا سکتے مدر ڈے ان کو دکھی کرتا ہے کیونکہ ماں کی محرومی کا احساس جو اپ شدت سے ان کو دلارہے ہیں ۔۔۔
اب کے ہانیہ بولی تو اس کا لہجہ نرم اور مضبوط تھا ایک ایک لفظ ولید خانزادہ کے دماغ کو جھنجھوڑ رہا تھا ۔۔۔ اتنے بھرپور مرد کو ساکت کرگئی تھی وہ ۔۔۔ لمحے بھر کو ٹھر کر ہانیہ نے جانچا ولید کو اور محسوس کیا کہ اس پر اس کا لہجہ اثر کررہا ہے تو وہ دوبارہ بولی ۔۔۔۔
” کتنا درد , کتنی تکلیف ہوتی ہوگی ان معصوموں کو جن کا گناھ نہ ہوکر بھی اپ نے ان کو گناھ گار بنادیا ہے یہ احساس دلاکر ان کی پیدائش کے دن ان ہی کی ماں اور اپ کی بیوی کی جدائی کا دن ہے وہ خود کو خطاکار سمجھتے ہیں ۔۔۔ یہ ان کی غلطی تو نہ تھی کہ ان کی پیدائش کے دن ان کی ماں گزر گئی جو ان کو سزا دی جارہی ہے اج تک ۔۔۔ کشف کی روح کو بھی تکلیف ہی ہوتی ہوگی اس کی موت کا ذمیدار اپ نے بچوں کو سمجھ رکھا ہے ۔۔۔ اپ ہر دن بیوی کا سوگ مناتے رہیں مجھے کوئی اعتراض نہیں پر بچوں کو کیوں گھسیٹ رہیں ان سب میں جن چیزوں کو سمجھنی کی ان کی عمر ہی نہیں وہ درد کیوں دے رہیں ان کو ۔۔۔ مہربانی کرکے ان کو ان کی پیدائش کا دن منانے دیں یہ ان کا حق ہے ۔۔۔
ولید خانزادہ بت بنا کھڑا ہی رہ گیا تھا ۔۔۔ چند لمحے وہ اس شخص کو دیکھتی رہی جس کی انکھوں کی سطح نم ہورہی تھی ۔۔۔ نم تو اس کی بھی انکھیں تھیں ۔۔۔
“دیکھیں میں بچوں کے پاس جارہی ہوں ان کو یقین دلانے کہ اپ ناراض اور غصہ بلکل نہیں ان سے ۔۔۔ پلیز اپ اگر انا چاہیں اور ان کی خوشیوں میں شریک ہونا چاہیں تو موسٹ ویلکم ۔۔۔ پر اگر نہ ہونا چاہیں شریک تو اپ پلیز خاموشی سے اپنے کمرے میں چلے جائیں ۔۔۔۔ پلیز اٹز اہ ریکوئیسٹ ۔۔۔
اب کے ہانیہ نے نرم لہجے میں کہا جس پر ولید نے سر اثبات میں ہلایا ۔۔۔ ہانیہ کے ہونٹوں پر جاندار مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی ۔۔۔۔
” تھینک یو ۔۔۔تھینک یو سو مچ ۔۔۔ وہ جلدی سے بچوں کی طرف بڑھی ۔۔۔
@@@@@@@@@@
“ارے مجھے لگا اپ لوگوں نے پزا کھالیا ہوگا ۔۔۔ یہ تو ویسے کا ویسا پڑا ہے ۔۔۔ ارے حنان منان اپ اسٹیچو کیوں بن گۓ ہو ۔۔۔ ہانیہ نے ہشاش بشاش لہجے میں کہا ۔۔۔۔ جیسے کچھ دیر پہلے کچھ ہوا ہی نہیں ۔۔۔
بلکل ایک اچھی ماں کی طرح جو شوہر سے جھگڑے کے بعد نارمل ہوجاتی ہے بچوں کے سامنے تاکہ ان کے دل میں کوئی رنجش نہ آۓ باپ کے لیۓ ۔۔۔
“ماما , پاپا اپ کو نکال تو نہیں دیں گے نا ۔۔۔ حنان اور منان نے ایک ساتھ کہا دونوں کے چہروں پر خوف تھا ۔۔۔
“بلکل نہیں , چلو مسکراؤ دونوں اٹز یور برتھ ڈے بچوں ۔۔۔ اس نے مسکرا کر کہا دونوں سے ۔۔۔
“پلیز ماما پاپا غصہ ہونگے ۔۔۔ ان کے دل میں ابھی بھی ڈر اور خوف تھا ۔۔
“میں نے کہا نا بلکل نہیں ہونگے ۔۔۔ اگر ایسے منہ بناۓ رکھو گے ۔۔۔ تو باقی سرپرائز ماما کیسے دیں گی ۔۔
ہانیہ نے مزے سے کہا ۔۔۔
“سچ ابھی بھی سرپرائز ہیں ہمارے لیۓ ۔۔۔ دونوں نے ساتھ کہا ۔۔۔
“جی بلکل سچ مچ ویری مچ ۔۔۔۔ اس نے ہنستے ہوۓ ہوۓ کہا ۔۔ اور دونوں کو فورک دیا ۔۔۔
وہ دونوں جلدی جلدی کھانے لگے خوشی میں ۔۔۔ وہ مسکرا اٹھی ان کو دیکھ کر ۔۔۔
ولید خانزادہ جو اپنے کمرے میں جانے کا سوچ چُکا تھا جانے کیوں کھڑا ہوکر ان کو سننے لگا تھا ۔۔۔ اپنے بچوں کی خوشی اگنور کرکے غم کرنے کو اس کا دل نہ چاہا ۔۔۔ سو وہیں ٹھر گیا قدم ہل نہ سکے جو خود کو کشف کے غم میں غرق کرکے روم میں بند ہوجانا چاہتا تھا , وہ کر نہ سکا ۔۔۔
کیسا عجیب بندھن تھا بچوں اور ہانیہ کا ۔۔۔۔ وہ دیکھتا ہی رہ گیا ساکت ہوکر ۔۔۔
وہیں رضیہ بی ساکت کھڑی تھی اس لمحے اتفاق سے اس نے سب سن لیا تھا اور حیران تھی ولید خانزادہ جیسے شخص کو یہ لڑکی خاموش کرواگئی ۔۔۔ جو کچھ وہ کہے رہی تھی سچ اور حق تھا ۔۔۔ وہ تو بہت پرانی ملازم تھی اس گھر کی کشف کو بھی وہ دیکھ چکی تھیں پر جو بات ان کو ہانیہ میں نظر آئی وہ کسی لڑکی میں نہ تھی ۔۔۔ سب سے حیرت انگیز تو وہ لمحہ تھا رضیہ کے لیۓ جب وہ بلکل نارمل اور خوشی خوشی بچوں سے بات کررہی تھی جیسے اس کے اور ولید کے بیچ کوئی تلخ کلامی ہوئی نہ ہو ۔۔۔
@@@@@@@@
کتنے لمحے وہ موبائل تھامے کھڑی تھی ۔۔۔ لمحہ ہی ایسا تھا اج وہ بہت خوش تھی ثوبان اور صبا کی ڈیٹ فکس کا سن کر ۔۔۔ دل بے انتہا خوش ہوا تھا یہ سن کر ۔۔۔
“خیریت اپنے اپ مسکرایا جارہا ہے ۔۔۔ سعاد نے فرج سے پانی کی بوتل نکالتے ہوۓ پوچھا رانیہ سے ۔۔۔
“ہمممم بات ہی ایسی ہے ۔۔۔ ثوبان بھائی اور صبا اپی کی شادی فکس ہورہی ہے ۔۔۔ ہم بھی پاکستاں جائیں گے آئی ایم سو ایکسائیٹذ ۔۔۔۔ رانیہ نے مسکرا کر کہا ۔۔۔ اس کے انگ انگ سے خوشی جھلک رہی تھی ۔۔۔ پردیس میں رہ کر ہی پتا چلتا ہے اپنا دیس کیسا ہے اس کی قدر وقیمت ہوتی ہے ۔۔۔
“ہممم ڈیٹس گریٹ ۔۔ سعاد نے کہا ۔۔۔
“چاچو کہے رہے تھے ہم بتائیں اپنے انے کا تو وہ ڈیٹ اس حساب سے رکھیں گے ۔۔۔ رانیہ نے پوچھا اس کا پلان ۔۔۔
” ہمممم چھ مہینے تک میرا کوئی ارادہ نہیں ہے پاکستان جانے کا ۔۔۔ تم اپنا بتا دو کہ کب تمہیں , تمہارے پاس ٹائم ہو تو ۔۔۔ میں تمہاری فلائٹ کروا دوں گا تم اٹینڈ کر آؤ شادی ۔۔۔ ریئلی آئی ایم ناٹ انٹرسٹڈ ان پاکستانی میریجز ٹو مچ بورنگ ۔۔۔ سعاد نے سھولت سے اپنا مدعا بتایا وہ شاک ہوگئی ۔۔۔
کتنی دیر وہ گم صم نظروں سے دیکھتی رہی اس شخص کو جس کے لیۓ اس کی کوئی خوشی معنی نہیں رکھتی ۔۔۔
ہمیشہ کی طرح وہ اسے لاجواب کرگیا ۔۔۔
“ڈیئر رانیہ ٹیک یور ٹائم ۔۔ دین لیٹ می انفارم اباؤٹ یور پروگرام ۔۔۔ سعاد مخصوص فرنگی لب و لہجے میں کہتا وہاں سے چلا گیا بغیر اس کا جواب سنے ۔۔۔
وہ اس جاتا دیکھتی رہ گئی کچھ کہے نہ سکی اور کہتی بھی کیا جب سامنے والا اپ کی بات سننے کا متمنی ہی نہیں ۔۔
@@@@@@@
حنان اور منان کا کمرہ خوبصورت فینسی لائیٹ سے سجا تھا ۔۔۔ ڈھیر ساری چاکلیٹس گفٹس پیک پڑے تھے سجے بیڈ پر بہت کم وقت میں اتنا ہی وہ کرسکی تھی ۔۔ ٹیڈی بیئر اور کچھ گنز اسٹف ٹوائز سجے ہوۓ تھے ۔۔۔
“واؤ مما ۔۔۔ اٹز امیزنگ ۔ ۔۔۔ حنان نے کہا ۔۔
“سو بیوٹیفل ۔۔۔ اۓ لائک اٹ ۔۔۔ منان نے کہا ۔۔۔
ان دونوں کے پاس پہلے سے بہت کچھ تھا پر اج کے دن اس انداز میں ملنا ان کو خوش کرگیا ۔۔۔
دونوں اس کے گلے لگ گۓ ۔۔۔ “تھینک یو مما ۔۔۔ کل ہم اپنے دوستوں کو بتائیں گے ہماری مما نے کتنا کچھ کیا ہمارے لیۓ ۔۔۔ دونوں نے ایک اواز ہوکر کہا ۔۔
“صرف مما نے نہیں پاپا نے بھی کیا ایسے بتانا سمجھے ۔۔۔ ہانیہ نے پیار سے کہا ۔۔
“اوکے ماما ۔۔۔ تھینک یو ۔۔۔ یو آر گریٹ ۔۔۔ دونوں نے باری باری اس کے گال چوم کر کہا ۔۔۔ ہانیہ نے دونوں کو پیار کرتے ہوۓ کہا ۔۔
“اونلی اللہ از گریٹ ۔۔۔ اوکیز ۔۔۔
“اوکے یس ماما اونلی اللہ از گریٹ ۔۔۔ تھینک یو اللہ ۔۔۔ دونوں نے اوپر دیکھتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“ماما نماز پڑھ کر اللہ کا شکر ادا کرلے پھر گفٹس کھولتے ہیں ۔۔۔ ہانیہ نے کہا ۔۔۔
“ہم بھی اللہ کا شکر ادا کریں گے ماما کیوں حنان ۔۔۔ منان نے کہے کر حنان سے تائید چاہی ۔۔۔
“جی ماما ۔۔۔ ہم بھی نماز پڑھیں گے ۔۔۔ حنان نے کہا ۔۔۔
“اوکے تو پھر جلدی فریش ہونا ہے پھر پڑھتے ہیں ۔۔ ہانیہ نے دونوں سے کہا ۔۔۔
یوں دونوں بچوں کو تیار کرکے تینوں نے ساتھ نماز ادا کی ۔۔
ولید خانزادہ حیران تھا ہانیہ بلکل ایک پرفیکٹ ماں تھی اس کے بچوں کے لیۓ ۔۔ دل سے کسک اٹھی “کیا وہ ایک اچھا باپ ہے ۔۔
چاروں سوں خاموشی تھی اس کا جواب نہ ملا اسے ۔۔۔ دکھ اور افسوس کی ملی جلی کیفیت جاگی اس کے اندر ۔۔۔
کشف کا غم اپنی جگہ پر اپنے بچوں کا اچھا باپ نہ بننے کاغم اپنی جگہ تھا ۔۔۔
@@@@@@
ولید خانزادہ کے نمبر پر احد صاحب کے نمبر سے کال دیکھ کر حیرت سے اٹھالی کیونکہ کئی دن بعد ان کی طرف سے فون ایا تھا ۔۔۔
دوسری طرف یسرا بیگم کی آواز سن کر ولید نے سلام کا جواب دیا اور حال احوال دریافت کیا ۔۔۔
“بیٹا کل شام اپ کو اور ہانیہ کو انا ہے بچوں کے ساتھ کیونکہ کل صبا اور ثوبان کی ڈیٹ فکس کررہے ہیں ۔۔۔ یسرا بیگم نے کال کا مقصد بتایا ۔۔۔
“آنٹی میں انے کی کوشش ضروں گا ورنہ ہانیہ اور بچے ضرور آئیں گے ۔۔۔ ولید نے سھولت سے کہا ۔۔۔
“بیٹا تم آؤ گے تو خوشی ہوگی ہمیں ۔۔۔ یسرا بیگم نے ایک بار پھر کہا ۔۔۔
“جی آنٹی پوری کوشش کروں گا ۔۔۔ اتنا کہے کر اس نے کال رکھ دی ۔۔۔
پر وہ جانے کا کوئی خاص ارادہ نہ رکھتا تھا ۔۔۔
رات کے کھانے پر ہانیہ نے جب کوئی بات نہ کی اس مطلق تو وہ خود اس سے مخاطب ہوکر بولا ۔۔
” آنٹی کی کال آئی تھی شام میں ۔۔۔
“ہممم مجھے بھی آئی تھی , میں نے ان کو کہے دیا ہے اپ نہیں اسکیں گے , میں اور بچے اجائیں گے ۔۔۔۔ ہانیہ کی بات پر وہ اسے دیکھتا رہ گیا ۔۔۔
جانے کیوں ہانیہ کا اس طرح سرد اور بے تاثر انداز میں یوں کہنا اسے اپنی توہیں لگی تھی ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
