Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

انمول سے بےمول

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 33

Last Episode Part 1

ہانیہ کی خاموشی کو شدت سے محسوس کیا ولید نے اور کہا ۔۔۔

“آئی ایم سوری ہانیہ مجھے ایسا نہیں کہنا چاہیۓ تھا ۔۔۔ میں پھر زبردستی مسلط نہیں کرنا چاہتا خود کو تم پر ۔۔۔ جو تمہارا فیصلہ ہوگا وہی مجھے منظور ہوگا ۔۔۔ تم پریشان نہ ہو ۔۔۔ ولید خانزادہ نے دھیمے لہجے میں کہا ۔۔۔ وہ جو کم بولتا تھا اور انتہائی ضرورت وقت , اج کل وقت بے وقت بہت بولنے لگا تھا ۔۔۔

شاید ہانیہ کی خاموشی نے اس پر گہرہ اثر ڈالا تھا ۔۔۔

“آج تمہاری سالگراہ ہے کیک کاٹو ۔۔۔ چلو پھونک مارو , یہ باتیں بعد میں بھی ہوتیں رہیں گی ۔۔۔ ہانیہ کی آنکھیں نمکیں پانی سے بھرنے لگیں ولید خانزادہ کی بات پر ۔۔۔کچھ لمحوں میں خود کو سنبھال گئی تھی وہ ۔۔۔

اس نے پھونک ماری کینڈلس بجھ گئیں اور ولید نے اسے چھری تھمائی اور اس نے کیک کاٹا اور دونوں نے ایک دوسرے کو کھلایا ۔۔۔

ایک عجیب چپ تھی جو ان کے رشتے کو دیمک کی طرح لگ گئی تھی ۔۔۔ ولید جتنا اسے زندگی کی طرف لانا چاہ رہا تھا پر وہ اس میں خود کو ناکام محسوس کررہا تھا ۔۔۔

اب بھی کہاں کیا کمی رہ گئی تھی وہ سمجھنے سے قاصر تھا ۔۔۔

ولید نے اسے گفٹ دیا جسے تھام کر ہانیہ نے شکریہ کہا ۔۔۔

“دیکھوگی نہیں ۔۔۔ ولید نے پوچھا ۔۔۔

“ہممم دیکھنے لگی تھی ۔۔۔ ہانیہ نے گفٹ کھولا جس میں بریسلیٹ اور رنگ تھی ڈائیمنڈ کی ۔۔۔

“شکریہ اپ کا ۔۔۔ وہی سرد سا انداز ہانیہ کا تھا ۔۔۔ رنگ کو اپنی فنگر میں پہن کر واپس باکس میں رکھا , یہ بھی اس نے صرف ولید کی خوشی کے لیۓ کیا تھا ورنہ یہ مادی چیزیں اپنی اہمیت کھوچکیں تھیں ہانیہ کی نظروں میں ۔۔۔

“میرا خیال ہے تم آرام کرنا چاہوگی , تم ارام کرو , میں باہر جارہا ہوں … ولید خانزادہ نے اس کی مشکل آسان کردی تھی ۔۔۔ ہانیہ نے تشکر بھری نظروں سے اسے دیکھا ۔۔۔

“ہممم ٹھیک ہے ۔۔۔ ہانیہ نے کہا ۔۔۔ ولید خانزادہ ضبط کرتا ہوا باہر چلا گیا ۔۔۔ شاید اسے امید نہ تھی کہ اس طرح سرے سے ہانیہ اس کی بات رد کردے گی ۔۔۔

اب کے ولید خانزادہ نے فیصلہ کرلیا تھا وہ اس کی طرف قدم نہیں بڑھاۓ گا جب تک وہ خود اس کی طرف نہیں بڑھے گی ۔۔۔

ولید خانزادہ کے چہرے پر آئی مایوسی کو شدت سے محسوس کیا ہانیہ نے ۔۔۔

جانے کیوں ہانیہ کو افسوس ہوا ۔۔۔ وہ اپنی کیفیت سمجھنے سے قاصر تھی ۔۔۔

@@@@@@@@@@

رات کو ڈیک پر وہ بیٹھا تھا ۔۔۔ چاندنی رات تھی , لہروں کا شور زیادہ تھا بظاہر , پر ولید کے اندر بھی غضب کا شور تھا ۔۔۔ پر ولید خانزادہ سگریٹ پی کر اپنا غصہ نکال رہا تھا ۔۔۔ ہانیہ سے زیادہ اسے خود پر غصہ ارہا تھا ۔۔۔ وہ بھی ایک مرد تھا اپنا رد کیا جانا کہاں گوارا تھا اسے ۔۔۔ جانے کیوں ہانیہ کے اگے وہ ضبط کرجاتا تھا ۔۔۔ شاید اس لیۓ بھی کہ ہر مرد اس عورت کے اگے ضبط کرجاتا ہے جو اس کے بچوں کی ماں ہوتی ہے اور اس بات میں کوئی شک نہ تھا ولید خانزادہ کو کہ ہانیہ اس کے بچوں کے حق میں بہتریں ماں ثابت ہوئی ہے ۔۔۔

وہ چاہ کر بھی اس کے احساسات کو ذرہ سی بھی ٹھیس پہچانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔

ابھی اسے بیٹھے بمشکل ایک گھنٹا ہوا تھا ۔۔۔ کوئی اس کے پاس اکر بیٹھا ۔۔۔ اس نے چونک کر دیکھا ہانیہ اس کے پاس اکر بیٹھی تھی ۔۔۔

“تم یہاں اس وقت , اندر جاؤ , ٹھنڈ لگ جاۓ گی ۔۔۔ ولید نے فکر سے ایک اور کش لینے کے بعد کہا ۔۔۔

“تو اپ کو بھی اندر چلنا چاہیۓ ولید صاحب ۔۔۔ ہانیہ نے سگریٹ کو ناگواری سے دیکھتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“کتنی دفعہ کہا ہے مجھے صاحب نہ کہا کرو ۔۔۔ ولید نے جتایا ۔۔۔

“اوکے نہیں کہوں گی ۔۔۔ ہانیہ نے سنبھل کر کہا ۔۔۔

“اس طرح اپنا دل کیوں جلا رہے ہیں اتنی سگریٹ پی کر ۔۔۔اتنا جلدی ایک اور کش لگاتے ہوۓ دیکھ کر وہ خود کو بولنے سے روک نہ پائی ۔۔

“میری مرضی تم جاؤ اندر ۔۔۔ ولید نے بری طرح ٹوکتے ہوۓ اس سے کہا ۔۔۔ پر لہجہ قطعی سرد نہ تھا ۔۔۔

“سوری اگر میری وجہ سے غصہ ایا ہو , پر نا چاہتے ہوۓ بھی ہم وہ کربیٹھتے ہیں جو ہمارے کرنے کا مقصد نہ ہو اور نا ہماری چاہت ہو ۔۔۔ ہانیہ کا لہجہ پھر بھی نرم تھا ۔۔۔

“کیا مطلب اس بات کا ۔۔۔ ولید نے حیرت سے پوچھا ۔۔

“مطلب واضع ہے کہ مجھے اپ کی عنایتوں پر سر خم کردینا چاہیۓ بغیر کچھ سوچے , بغیر کسی سمجھ کے , بغیر کوئی حرف شکایت زبان پر لاۓ , ہے نا مجھے ایسا ہی کرنا چاہیۓ تھا اپ کی عنایتوں اور نوازشوں کو دیکھتے ہوئے ۔۔۔ پر میں کیا کروں , میں اب ڈرتی ہوں کسی نۓ رشتے میں جڑنے سے , خاص کر اس شخص سے جو کبھی اپنی پہلی بیوی سے شدید محبت کا دعویدار رہا ہو ۔۔۔

ولید خانزادہ نے چونک کر دیکھا اسے , کتنی گہری بات وہ کہے گئی تھی ۔۔۔ ہانیہ کی نظر چاند پر تھی اور چاند کی روشنی میں چمکتا اس کا روشن چہرہ ولید خانزادہ کی نظر میں تھا ۔۔۔

وہ کچھ کہتا اس سے پہلے وہ دوبارہ بولی ۔۔۔۔

“میں اعتراف کرتی ہوں میں بھی کسی اچھی نیت سے اپ کی زندگی میں نا آئی تھی ۔۔۔آپ نے بچوں کی خوشی کے لیۓ مجھے پرپوز کیا اور میں نے پیسوں کی لالچ میں , ہم دونوں کی مطلب پرستی میں نقصان تو سراسر بچوں کا ہی ہوا ۔۔۔ میں نے بہت غلط طرز کی زندگی گزاری لالچ خودغرضی مغروریت , یہی ہانیہ کی پہچان تھی ۔۔۔ سب کو خود سے کم تر سمجھنے والی ۔۔۔ اتنی گھمنڈی کہ جسے یہ یقین تھا وہ اپ کے دل سے کشف کو نکال دے گی ۔۔۔ پر میں غلط تھی میری بدنیتی کا نتیجہ تھا اپ نے بری طرح میری نسوانیت کی توہیں کی ۔۔۔ پھر بھی اج تک میرے اندر وہ عورت روتی ہے جس کی نسوانیت کے غرور کو کچل کر اپ چلے گۓ تھے ۔۔۔

ہانیہ اپنی رو میں سب کہتی چلی گئی ۔۔۔ جس چپ نے ان کے رشتے گرہن لگایا ہوا تھا شاید اج وہ دونوں اپنی کہے کر اس سے نکل آئیں , شاید ایسا ہوجاۓ ۔۔۔

“آئی ایم سوری ہانیہ مجھے احساس ہے اپنی غلطی کا ۔۔۔ ولید خانزادہ خود کو کہنے سے روک نہ پایا ۔۔۔ حقیقت بھی یہی تھی اسے افسوس تھا اس رات کا اسے ٹھکرا کر جانے کا ۔۔۔ ایک بیوی کے نظریۓ سے جب سوچا تو اسے احساس ہوا ۔۔۔ نکاح جیسے پاک بندھن کو جوڑنے کے بعد اسے شروع میں ہی ہانیہ کو اس کا مقام دینا چاہیۓ تھا یا پھر شادی ہی نہیں کرنی چاہیۓ تھی ۔۔۔

“نہیں نہیں اپ کی معافی کی ضرورت نہیں , اس وقت جو میں تھی اس کی اتنی سزا تو بنتی تھی , میں غلطی پر تھی جو ہوا اچھا ہوا تھا ۔۔۔ اپ شرمندہ نہ ہوں میری نیت خراب تھی اس لیۓ سب برا ہوتا گیا میرے ساتھ ۔۔۔ پر شکر ہے ثوبان نے مجھے میرا مکروہ چہرا دکھا کر مجھے اصل کی طرف لے ایا ۔۔۔ میری غلطی بچوں کے احساس کو مجروع کرنا تھی پھر میں نے خود کو بچوں کے لیۓ وقف کردیا کیونکہ میرے اندر یہی آخری احساس رہ گیا تھا کہ اپ کے بچوں کو ماں کا پیار دینا ان کو مکمل زندگی کا احساس کروانا ۔۔۔ جس دن کشف کا واسطہ دینے پر اپ مجھے لینے آۓ تھے اس دن میں نے اپنے اندر سے اپ کی بیوی ہونے کے سب جذبات ماردیۓ تھے ۔۔۔ ایک بیوی کو اللہ نے اپ سے چھینا تھا دوسری کے احساسات اپ نے خود مارے تھے ۔۔۔

ہانیہ نے اپنے اندر کی گھٹن اس کے سامنے رکھ دی تھی ۔۔۔۔ ولید خانزادہ اس کے کہے ایک لفظ کو بغور سن رہا تھا اور سمجھ رہا تھا اس کے احساسات ۔۔۔

ایسا لگتا تھا ہانیہ کڑی مسافت طے کر آئی تھی اتنا سب کہنے میں ۔۔۔۔ وہ چپ ہوئی تو ولید نے کہنا شروع کیا اور کہا ۔۔۔

“مجھے سمجھنے میں کچھ ہی وقت لگا تھا کہ تم ایک مقصد کے ساتھ میری زندگی میں آئی ہو ۔۔۔ پھر بھی میں سب اگنور کرتا گیا اس لئے کیونکہ میرے بچے خوش تھے ان کی خوشی کو دیکھ کر میں خاموش ہو گیا تھا ۔۔۔ جہاں تک میرے بچوں کو تکلیف دینے کی بات تھی جو تم سے ملتی اس کے لیۓ میں پہلے سے الرٹ تھا ۔۔۔ ان سب لمحوں میں کہیں بھی تم مجھے خود کی طرف متوجہ نہ کرسکی نا تمہارا حسن کبھی مجھے مائل کرسکا ۔۔ میں تمہاری طرف تب مائل ہوا جب تم میرے بچوں کے لیۓ اصل ماں کی طرح بنی ۔۔۔ تب تمہاری خوبیوں نے مجھے تمہاری طرف متوجہ کیا اور مجھے میری غلطیوں کا احساس دلایا ۔۔۔ اور پھر میں یہ سب کوشیشیں کرنے لگا تمہیں خوش کرنے کے لیۓ کیونکہ جو لڑکی میرے بچوں کا اتنا سوچتی ہے کیا میں اس کے لیۓ نا سوچوں , کیا یہ غلط نہ ہوگا ۔۔۔

ولید کے ایک ایک لفظ کی سچائی اس کے اندر اترنے لگی تھی ۔۔۔ واقعی وہ جادوگر تھا جو اپنے لفظوں سے اس کے اندر کی گرہوں کو کھول رہا تھا ۔۔۔ مردہ احساسات لیۓ رہنے والی ہانیہ کے اندر زندگی کی سانسیں بھرنے لگا تھا ۔۔ وہ مکمل اس کے لفظوں کے سحر میں کھوئی تھی ۔۔۔

کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ دوبارہ گویا ہوا کہ ۔۔۔

“مجھے جان کر اچھا لگا کہ تم ڈرتی ہو اس شخص کے ساتھ اپنی زندگی شروع کرنے میں جو اپنی پہلی بیوی سے سچی محبت کا دعویدار تھا ۔۔۔ واقعی کسی بھی سمجھدار لڑکی کو اسی طرح سوچنا چاہیے یہ ڈر خوف اور وہم آتے ہی ہیں ۔۔۔ ولید اس کے احساسات کو سراہے بغیر رہ نہ سکا ۔۔۔

“ایسی بات نہیں ہے کہ میں کشف کو بھولنے لگا ہوں اسی لئے تمہاری طرف بڑھا ہوں ۔۔۔ ایسا قطعی نہیں ہے ۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ میں تمہاری طرف صرف اس لئے بڑھا ہوں کیونکہ مجھے یہ بات سمجھنے میں بہت وقت لگ گیا کہ مرے ہوئے لوگوں کے ساتھ نہیں مرا جاتا بلکہ ان کے لیۓ دعاگو رہنا چاہیۓ اور انہیں اچھی یادوں کی طرح اپنے دل میں سنبھال کر رکھنا چاہیۓ ۔۔۔ جب یہ بات میرے سمجھ میں آئی تو مجھے احساس ہوا کہ میں تمہارے ساتھ غلط کررہا ہوں ۔۔۔ مجھے ہماری زندگی کو نارمل کی طرف لانا چاہیۓ ۔۔۔ پھر ہر وقت تمہیں گھر میں دیکھنے کے ساتھ ساتھ تمہیں سمجھنے پر ایا تو تم مجھے چاہے جانے کے قابل لگی ۔۔۔ میں تمہیں وہی عزت وہی مان دینا چاہتا ہوں جو ایک بیوی کو اپنے شوہر سے ملنا چاہیۓ ۔۔۔

ولید خانزادہ اس کی سننے کے بعد اپنی کہنے پر ایا تو سب کہتا چلا گیا ۔۔۔

وہ چاند کو چھوڑ کر ولید خانزادہ کے چہرے کو دیکھنے لگی جسے ایک عرصہ ہوا اس نے دیکھنا چھوڑ دیا تھا ۔۔۔

“اب بھی کوئی ڈر , خوف , وہم ہو تو , اس رشتے کو لے کر , ہو تو بتادو ۔۔۔ میں تمہارے دل و دماغ سے سب نکال سکتا ہوں ۔۔۔ اور ایک بات تم نے کہا نا کہ ایک عورت اپنی نسوانیت پر اج بھی بین کرتی ہے تمہارے اندر , ہانیہ , تو اسے تکلیف دینے والا میں ایک اکیلا ذمیدار نہیں , کہیں نا کہیں تم بھی اس کی خطاکار ہو جب اس حسن کو آلہ بناکر تم نے مجھے متوجہ کرنا چاہا تھا اور میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں کبھی , کسی کمزور لمحے کا شکار ہوکر تمہاری طرف نہیں بڑھا نہ تمہارے حسن نے میری آنکھوں کو منجمد کیا تھا , بلکہ مجھے تمہارے بدلنے کے بعد تمہارے اخلاق اور کردار نے متوجہ کیا تھا ۔۔۔ تمہارے اندر کے ممتا بھرے جذبات نے مجھے متوجہ کیا ۔۔۔ اس خود اذیتی سے نکل آؤ اپنے لیۓ آسانیان کرو تم کتنی انمول ہو میرے لیۓ اور میرے بچوں کے لیۓ شاید تم کو اندازہ نہیں ۔۔۔ تم دل سے مسکراؤ بسس یہی میری خواہش ہے کیونکہ میرے گھر اور میرے بچوں کو اصل خوشی سے تم نے روشناس کروایا ہے ورنہ کشف کے جانے کے بعد میں اندھیروں کا مسافر ہوگیا تھا اور میرے بچوں کو بھی ختم کررہا تھا اس اندھیرے کا راہی بنا کر ۔۔۔

ولید نے بلکل سچ کہا تھا عورت کی نسوانیت کو مجروع کرنے کا صرف وہ اکیلا خطاکار نہیں تھا بلکہ وہ خود بھی ذمیدار تھی ۔۔۔ ہانیہ نے اعتراف کیا خود سے ۔۔۔

وہ مسلسل اسے ہی دیکھ رہی تھی اور اس کے کہے آخری لفظوں میں اس کے لیۓ کتنا مان اور عزت تھی ۔۔۔ وہ انمول تھی اس کے لیۓ کتنا انوکھا احساس جاگا اس کے اندر ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے دوبارہ اسے زندہ کردیا ہو ۔۔۔ وہ تو صرف اچھی ماں بننا چاہتی تھی پر اج اسے لگا شاید اللہ کی یہی مرضی ہے کہ وہ اب خود کو اچھی بیوی بھی ثابت کرے ۔۔۔

“ولید خانزادہ اپنے حصے کی سب کوشیشیں کرچکا ہے ہانیہ , اب تمہاری باری ہے ۔۔۔ ہانیہ کے اندر سے آواز آئی ۔۔۔ اندر کی آواز ہی سچی آواز تھی جس پر لبیک کہنا چاہیۓ ہر انسان کو ۔۔۔

“ایسے مجھے دیکھوگی تو کنفیوز ہوجاؤں گا پلیز ایسے نہ دیکھا کرو ۔۔۔ ولید خانزادہ نے اس کی محویت کو توڑنے کے لیۓ کہا ۔۔۔ جس پر اس نے جلدی سے نظریں جھکا لیں ۔۔۔ وہ ہنس پڑا اس کے بےساختی ریکشن پر ۔۔۔ چاند کی روشنی میں ہانیہ کا مسکراتا چہرہ اس کو اچھا لگ رہا تھا , وہ بےشک حسین ترین تھی پر اس سے زیادہ حسین اس کا دل تھا جو ولید خانزادہ کو پسند تھا ۔۔۔

“سوری یار مذاق کررہا تھا اٹھو سردی بڑھ رہی ہے ۔۔۔ اس بار ہاٹھ پکڑ زبردستی نہیں اٹھاؤں گا بلکہ صرف ہاتھ بڑھاؤں گا تھامنا نہ تھامنا تمہارے اختیار میں ہے ہانیہ ۔۔۔

ولید نے اتنا کہے کر ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ سیکینڈ کے ادھے حصے میں ہانیہ نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا ۔۔۔ وہ مسکرایا اس کی عجلت پر جس پر ہانیہ نے بھی اسے سمائل دی ۔۔۔چاند ان دونوں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔۔۔ محبت اپنا اثر کررہی تھی ۔۔۔

دل سے ساری کدورتیں نکل چکی تھیں ہانیہ کے ہر انداز میں خودسپردگی تھی ۔۔۔ ولید خانزادہ کے کندھے پر اس کا سر تھا اور ولید خانزادہ نے اس کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھے ۔۔۔ اس خوبصورت رشتے کی پہلی مہر لگائی تھی اس نے , ہانیہ نے شرما کر اس کے کندھے پر سے ہٹنا چاہا ۔۔۔ ولید نے مسکرا کر اسے خود سے لگالیا دوبارہ ۔۔۔

کچھ دوری پر ان کا روم تھا اچانک ولید نے اپنے قدم روکے اس کا سر اپنے کندھے سے ہٹایا ۔۔۔ وہ حیران ہوئی اس کے اس عمل پر اس سے پہلی کچھ کہتی ولید نے اسے کسی گڑیا کی طرح اٹھالیا ۔۔۔

“میری زندگی میں آنے کا شکریہ ہانیہ ۔۔۔ ولید کے اس معصوم انداز پر وہ اس کے سینے پر سر رکھ گئی ۔۔۔ ولید خانزادہ کا یہ رومینٹک انداز ہانیہ نے پہلی دفعہ دیکھا تھا ۔۔۔

“آپ کا بھی شکریہ ولید مجھے یہ احساس دینے کا کہ میں انمول ہوں اپ کے لیۓ ۔۔۔ ہانیہ نے اس کے سینے پر سر رکھے ہوۓ دھیمے سریلی لہجے میں کہا ۔۔۔

ولید نے کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر اگۓ دونوں ۔۔۔

“تم تاعمر میرے لیۓ انمول رہوگی ۔۔۔ تم ہی میری کل دنیا کو مکمل کرتی ہو ہانیہ ۔۔۔۔ ولید نے اسے بیڈ پر لٹاتے ہوۓ کہا ۔۔۔

ولید نے اس پر اپنی محبت کی بارش کردی جس میں اس کا پور پور بھیگا , اج ہانیہ کے اندر کی گھٹن ختم ہوگئی ۔۔۔ اج ولید نے اسے مکمل کردیا ۔۔۔

وہ اس کے سینے پر سر رکھے سورہی تھی میٹھی سی مسکان اس کے ہونٹوں سے جدا ہونے کا نام نہ لے رہی تھی ۔۔۔ ولید نے اس کے گلابی ہونٹ پر ہلکہ سا بوسا لیا اپنے ہونٹوں سے ۔۔۔

“اللہ کرے یونہی ہنستی مسکراتی رہو ۔۔۔۔ آمین ۔۔۔ ولید نے دل سے دعا کی وہ بھی آنکھیں موند گیا ۔۔۔

ابھی دونوں کو صبح اٹھنا تھا سورج طلوع ہوتے ہوۓ دیکھنے کا منظر انجواۓ کرنا تھا جو ولید کو مشکل ہی لگ رہا تھا ۔۔۔

“سوری ہانیہ یہ مشکل ہے کہ اتنا جلدی اٹھ پائیں اور اس منظر سے لطف اندوز ہوسکیں ۔۔۔ ولید خود سے کہتا کلگہری نیند میں چلا گیا ۔۔۔

کھڑکی سے اتی چاند کی روشنی دونوں کے چہرے کو منور کرتی بتارہی تھی کہ اج اتنے وقتوں بعد آسودہ ہوۓ تھے دو مسافت سے تھکن زدہ وجود ۔۔۔

@@@@@@@@@@

“کیا بات ہے کچھ اداس ہو ۔۔۔ فائز نے رانیہ سے پوچھا ۔۔۔

“نہیں کچھ نہیں ۔۔۔ رانیہ نے جلدی سے کہا ۔۔۔

“نہیں کوئی پرابلم ہو تو مجھے بتاؤ ۔۔۔ فائز نے انسسٹ بھرے لہجے میں پوچھا ۔۔۔

“سچ میں کچھ نہیں فائز ۔۔۔ رانیہ نے اس کی فکرمندی محسوس کرتے ہوۓ اسے پرسکون لہجے میں کہا تاکہ اس کی تسلی ہوجاۓ ۔۔۔

“کہیں پھر سے ڈیڈ کی طرف سے تو ۔۔۔ فائز نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ۔۔

“نہیں بلکل نہیں , بلکہ وہ اپنے رویۓ کی معذرت کرچکے ہیں مجھ سے ۔۔. رانیہ نے اسے بتایا ۔۔۔

“رئیلی , مجھے یقین نہیں ارہا ۔۔۔ فائز نے حیرت سے کہا ۔۔۔اس کا باپ اور کسی سے معذرت کرے ۔۔۔۔

“یہی سچ ہے فائز , تھینکس ٹو یو جس نے میری اتنی کیئر کی ۔۔۔ تم واقعی بہت اچھے ہو ۔۔۔ رانیہ نے دل سے کہا ۔۔۔ اس کا لہجہ تشکر بھرا تھا ۔۔۔

“نو نیڈ ٹو سے تھینکس ۔۔۔ فائز نے سکوں سے کہا ۔۔۔

“اب میں تمہیں کیا بتاؤں فائز , تمہارے باپ کے اس کونٹریکٹ کی وجہ سے میں سعاد کے ساتھ جا نہیں سکی ورنہ اس کے تایا ابو کے انتقال کی وجہ سے میرا جانا بھی ضروری تھا پاکستان ۔۔۔ میں جانتی ہوں میں تم سے ریکویسٹ کرتی تو تم کسی طرح اپنے باپ کو منا لیتے پرفائز میں اتنی بھی خود غرض نہیں ہوں ۔۔۔ اتنی تو پروفیشنلزم اب بھی مجھ میں باقی ہے کہ اپنی کمنٹمینٹس پوری کرسکوں ۔۔۔ یہاں اتنے سال رہنے کے بعد بھی اکیلے رہنا مشکل ہے میرے لیۓ ۔۔۔ جبکہ کہیں دفعہ سعاد کام کے سلسلے میں دوسرے ملک گیا ہے اور میں رہتی آئی ہوں پر اب کی بات الگ ہے کیونکہ وہ پاکستاں گیا ہے , میرے ملک میرے اپنوں کے بیچ گیا ہے جن کو شدت سے یاد کرتی ہوں میں۔۔۔

فائز تو کب کا اٹھ کر جاچکا تھا جبکہ وہ خود سے یہ سب بول رہی تھی ۔۔۔ اس کے اندر ایک اور درد جاگا تھا ۔۔۔۔

@@@@@@@@@

کس طرح دس دن گزرے پتا ہی نہیں چلا تھا ۔۔۔ اتنے لوگوں کا انا جانا لگا رہتا تعزیت کے لیۓ جس کی کوئی حد نہ تھی مردان خانے میں رش لگا رہتا وہ رانیہ کے گھر کے سب مردوں سے مل چکا تھا جو دو تین بار اچکے تھے ۔۔۔ ویسے بھی پاکستان میں رواج ہے کہ اپنے تعزیت کے لیۓ دوسرے تیسرے دن اجاتے ہیں اور اس گھر میں تو انہوں اپنی دو بیٹیان دیں ہوئیں تھیں اس لیۓ تعلق بھی گہرا تھا ۔۔۔

سعاد کو تایا ابو کے جانے کا گہرہ صدمہ تھا ۔۔۔ کئی دن بعد وہ سنبھلا تھا ۔۔۔ پچھلے دو تین دنوں سے وہ نایاب آپی کے رویۓ میں عجیب کھنچاؤ محسوس کررہا تھا ۔۔۔

آج موقعہ ملا تھا دونوں بھائی بہن اکیلے بیٹھے تھے رات کے کھانے کے بعد , نایاب کے بچے سوچکے تھے ۔۔۔

نایاب آپی کی خاموشی کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے سعاد نے اس خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا ۔۔۔

“سچ میں آپی میں بہت برا ہوں دنوں کیا , مہینوں تک آپ کو اپنی خیریت نہیں سناتا تھا اسی لئے آپ کی آنکھوں میں شکوہ دیکھ کر مجھے افسوس بھی ہورہا ہے اور دکھ بھی ۔۔۔ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔۔۔۔ سعاد کے لہجے میں دکھ تھا ۔۔۔ شاید اسے احساس تھا کہ اب تایا ابو نہیں رہے اس لیۓ نایاب آپی کو اب باپ بھائی کا پیار دینا ہے اور اسے ہی دینا ہے ۔۔۔۔

“کیا سعاد واقعی تمہیں میری آنکھوں میں دکھ اور شکوہ نظر آرہا ہے ۔۔۔ کیا اب بھی اتنے احساسات تمہارے اندر زندہ ہیں کہ تم دیکھ سکو , پڑھ سکو , ان شکوہ شکایات کو ۔۔۔ تم نے تو سچ میں مجھے حیران کر دیا ۔۔۔ نایاب اپی کے طنز سے بھرپور جملے کو شدت سے سعاد نے محسوس کیا ۔۔۔ کبھی اس کی اپی ہے اس لہجے میں اس سے بات نہ کی تھی اسی لئے اس کا حیران ہونا بجا تھا ۔۔

“آپی کیوں نہیں , کیا آپ نے مجھے اتنا بے حس سمجھ رکھا ہے ۔۔۔ اتنا بھی برا نہیں ہوں کہ آپ کی آنکھیں پڑھ نہ سکوں ۔۔۔ سعاد نے غم سے چور لہجے میں بولا ۔۔۔ اس کی سمجھ سے باہر تھا اس کی بہن کا اتنا ناراض ہونا ۔۔۔

” سچ میں میرے بھائی مجھے یقین نہیں تھا کہ اتنی بھی تمہارے اندر انسانیت رہ گئی ہے کہ تم کسی کی آنکھ پڑھ سکو ۔۔۔ نایاب اپی کے لہجے میں عجیب دکھ اور درد تھا ۔۔ اب کے ان کے لہجے میں کوئی طنز کا نام ونشان نہ تھا ۔۔

“آپ میری بہن ہیں آپ سے خون کا رشتہ ہے میرا آپ کی آنکھیں کیسے نہیں پڑھ سکتا آپی ۔۔۔ سعاد نے سنبھل کر کہا ۔۔۔

” پلیز آپی مجھے معاف کر دیں آپ کی ناراضگی بجا ہے ۔۔۔ آئندہ میں جلدی جلدی فون کرنے کی کوشش کروں گا اور اپنی خیریت بتاتا رہوں گا ۔۔۔ سعاد نے اپنے انداز کے مطابق سمجھ کر ان کا گلہ شکوہ دور کرنا چاہا ۔۔۔۔

“نہیں سعاد بات تمہاری خیریت کی نہیں ہے تمہاری خیریت تو مجھے ہر دوسرے تیسرے دن پتہ چل جاتی تھی رانیہ سے ۔۔۔ نایاب نے سکون سے کہا ۔۔

“رانیہ سے ۔۔ اس نے حیرت سے کہا ۔۔۔ کیونکہ وہ اس بات سے بےخبر تھا کہ وہ اس کے گھروالوں سے بھی بات کرتی رہی ہے ۔۔۔ نا اس نے کبھی بتایا نا سعاد نے کبھی پوچھا ۔۔۔

“ہاں رانیہ سے ۔۔۔ نایاب نے محبت سے کہا ۔۔۔ رانیہ کے لئے ان کے لہجے میں بے انتہا محبت تھی ۔۔۔

“میری ناراضگی اور شکوہ اس بات کا نہیں ہے ۔۔۔ بات کچھ اور ہے سعاد ۔۔۔ نایاب نے دکھ سے کہا ۔۔

“کیا بات ہے آپی کھل کے کہیں ۔۔۔ اب کے سعاد نے پوچھا۔۔۔

“کتنے یقین کے ساتھ میں نے ایک زندہ دل لڑکی تمہارے ساتھ بھیجی تھی , مجھے کیا پتا تھا اس نے تمہیں تو زندہ نہیں کیا بلکہ تم نے اسے اپنے جیسا بنا دیا سعاد ۔۔۔نایاب نے افسوس سے کہا ۔۔۔

“اپنے جیسے , کیا مطلب ۔۔۔سعاد نے شاک لہجے میں پوچھا ۔۔۔

” سب مجھے کہتے تھے تمہارا بھائی پتھر دل ہے اس کے اندر تو کوئی احساس ہی نہیں ہے ایسا لگتا ہے جیسے چلتی پھرتی کوئی مشین ہو ۔۔۔۔ ایک دن مجھے بھی احساس ہوا کہ جیسا سب کہتے ہیں تم بالکل ویسے ہی ہو سعاد ۔۔۔

نایاب کہتے کہتے کچھ لمحے کے لیۓ چپ ہوئیں اور سعاد شاک ہوکر ان کو سن رہا تھا۔۔۔ کچھ لمحوں بعد وہ دوبارہ بولیں ۔۔۔

“پتا نہیں کیوں اتنے بیوقوف لوگ ہوتے ہیں جو اپنی نالائق اولاد کو سدھارنے کے لئے سمجھتے ہیں کہ ہر مسئلے کا حل شادی ہوتا ہے اور میں نے بھی دوسروں کی طرح سوچتے ہوئے تمہاری شادی کو ہی اس مسئلے کا حل سمجھا ۔۔۔
یہی سوچا کہ تمہاری شادی ہو جائے گی تمہارے احساسات بدلیں گے کوئی اور بھی ہوگا وہ جو ہر وقت تمہارے ساتھ ہوگا تو تمہارے اندر بھی زندگی جینے کے انداز اور اطوار بدلیں گے ۔۔۔ میں غلط تھی , میری سوچ بھی غلط تھی , میرا انداز بھی غلط تھا , میں نے جیتی جاگتی ایک لڑکی کو تمہارے ساتھ بھیجا تھا تم نے تو اسے بھی اپنے جیسا پتھر مشین بنا دیا۔۔۔ سعاد مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی ۔۔۔ رانیہ ایک چڑیا سی چہچاتی لڑکی تھی اپنے گھر کی رونق ہوا کرتی تھی ۔۔۔ کیا بنتی جارہی ہے وہ , مجھے دکھ ہوتا ہے ۔۔۔ مجھے اپنے گناہ گار ہونے کا احساس ہوتا ہے جب اس سے میری بات ہوتی ہے تو میرے اندر یہ احساس شدت سے جاگتا ہے کہ تمہاری بیوی واقعی بہت اچھی لڑکی ہے جس نے کبھی ایک لفظ حرف شکایت نہیں کی مجھ سے تمہاری ۔۔۔ بلکہ میرا اور میرے بچوں کا بہت خیال رکھتی ہے ہر موقع پر میرے لئے گفٹس بھیجا کرتی ہے کبھی دبئی میں کبھی پاکستاں وہ کوئی موقع مس نہیں کرتی مجھے خوش کرنے کا ۔۔۔ نایاب کے لہجے میں دکھ کے ساتھ ساتھ رانیہ کے لیۓ بےانتہا محبت تھی ۔۔۔۔ سعاد کو تو جھٹکوں پر جھٹکے ہی لگ رہے تھے ۔۔۔ وہ تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ رانیہ اتنا کچھ اس کے اپنوں کے لیۓ کرتی آئی ہے ۔۔۔

“میں اب تک یہی سمجھتی رہی کہ شاید تم اس سے کہا کرتے تھے اور تم نے تو کبھی ایسا کوئی ذکر ہی نہیں کیا کال پر مجھ سے بلکہ وہ تو خود اپنی سیونگز سے مجھے بھیجا کرتی تھی مجھے اندازہ ہوا بعد میں ۔۔۔ کچھ وقت پہلے مجھے پتا چلا ہے کہ اس نے آج تک کبھی اپنے گھر والوں کو کچھ نہیں بھیجا میں اتنی حیران ہوں اتنی حساس لڑکی اور ایسے کیوں ۔۔۔ جس نے میرا اتنا خیال کیا اس کا تم نے کیا حال بنادیا ۔۔۔ اس کی انکھوں کی وہ چمک تو کہیں کھوگئی ہے ہر وڈیو کال میں یہ بات شدت سے محسوس کی ہے میں نے ۔۔۔ اس کی خالی بے جان سی آنکھیں , اس کے کھوکھلے قہقہے سب شدت سے محسوس کیۓ ہیں میں نے کیونکہ اس کی اصلی خنک بھری ہنسی میں نے سنی ہے تم نے نہیں سنی سعاد ۔۔۔۔

نایاب کے لہجے میں درد ہی درد تھا رانیہ کے لیۓ ۔۔۔ کتنا پچھتاوا بول رہا تھا ان کے لہجے میں ۔۔۔ سعاد نے شدت سے محسوس کیا ۔۔۔

سعاد ساکت ہوکر سن رہا تھا سب وہ تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا رانیہ اس کی بہن اور اس کے بچوں کا اتنا خیال کرتی ہے ۔۔۔ کبھی کچھ جتایا نہیں کبھی کچھ کہا نہیں ۔۔۔

” آپی اس نے کبھی میرے کسی رویے کا آپ سے ذکر کیا یا پھر میری کوئی شکایت کی ہو ۔۔۔ اس نے دھیمے لہجے میں پوچھا اپنی تسلی کے لیۓ ۔۔۔ اس کی ساری سماعتیں نایاب اپی کی طرف تھیں کہ وہ کیا کہتی ہیں ۔۔۔

“اسی بات نے تو میرے اندر احساس جرم بڑھا دیا ہے کہ وہ کوئی گلہ شکوہ کیوں نہیں کرتی مجھ سے , کاش کوئی گلہ شکوہ ہی کر لیتی تو میرا احساس جرم کچھ تو کم ہو جاتا ۔۔۔ اس کی خاموش نظریں مجھ سے شکوہ کرتی ہیں کہ اپنے بھائی کو زندہ کرنے کے لیے مجھ جیسی زندہ دل لڑکی کو جیتے جی کیوں مار ڈالا آپ نے آپی ۔۔۔۔ سعاد میرے بھائی تمہارے ساتھ رہنے والا کوئی بھی انسان بے حسی کی موت مرسکتا ہے ۔۔۔ میں بھی بے وقوف ہوں تم سے کیا باتیں لے کر بیٹھ گئی کیا فائدہ تمہیں کچھ کہنے سے تم تو پھر یہاں سے جانے کے بعد بھول جاؤ گے میرے بھائی اور کبھی احساس نہیں کرو گے کہ تم نے آخر کیا کیا ہے ۔۔۔ پھر تم وہی پتھر دل , بےحس , کام کی مشین بن ہی جاؤ گے امریجا جاکر ۔۔۔

وہ ان کو دیکھتا رہ گیا اتنی سخت بات کہنے پر ۔۔۔۔

“پلیز آپی ایسے تو نہ کہیں ۔۔ سعاد نے بھاری لہجے میں کہا ۔۔۔

“پلیز سعاد امریکا جانے سے پہلے میرا ایک کام کر سکتے ہو ۔۔۔

اب کے نایاب نے خود کو اچھی طرح سنبھال لیا تھا اور التجا بھرے لہجے میں بولی تھی ۔۔۔

“جانتی ہوں یہ مناسب وقت نہیں ہے ان باتوں کا پر پھر بھی اب تایا ابو کو گزرے دس دن سے زیادہ ہو چکے ہیں ۔۔۔
پلیز امریکا جانے سے پہلے ایک دفعہ اس کے گھر جا کر اس کے گھر والوں سے مل آؤ , یقین مانو وہ بہت اچھی لڑکی ہے , اتنا تو اس کا حق بنتا ہے کہ اس کی ماں باپ سے مل کر اور ان کو بتاؤ کہ کیوں تم اس کو اپنے ساتھ ملانے نہ لا سکے اور جلدی سے دوبارہ آؤ گے پاکستان اسے لے کر اس کے اپنوں سے ملوانے ۔۔۔۔ یقینا مانو وہ بہت زیادہ سادے لوگ ہیں اتنے میں بہت خوش ہو جائیں گے ۔۔۔ نایاب نے سھولت سے اپنی بات سمجھائی ۔۔۔

“جی آپی ضرور جاؤں گا ۔۔۔۔ سعاد نے کہا ۔۔۔ اب انکار کا کوئی جواز نہ تھا ۔۔۔

@@@@@@@@@@

دو دن بعد وہ اس کے گھر جانے کے لئے تیار تھا ۔۔ نایاب آپی نے اسے کافی کچھ دیا ۔۔۔

“یہ کیا ہے آپی ۔۔۔۔ سعاد حیران ہوا ۔۔۔

“گھروالوں کے لیۓ گفٹس دینا مت بھولنا ۔۔۔ سب کی چٹ لگادی ہے ۔۔۔ نایاب نے بتایا ۔۔۔

“پر آپی کیا یہ اس وقت مناسب رہے گا ۔۔۔سعاد نے پوچھا ۔۔

“ہاں ٹھیک ہے جو لڑکی مجھے اتنا کچھ بھیجتی رہی اتنے سالوں میں , تم اس کے گھر خالی ہاتھ جاؤ مناسب نہیں لگتا ۔۔۔۔ نایاب نے کہا ۔۔۔

“جی ٹھیک ہے آپی ۔۔۔ سعاد نے سکون سے کہا بظاہر , پر اندر مضطرب تھا جانے وہ لوگ کیسے ملیں گے اس سے ۔۔۔
اگر وہ لوگ اس سے شکایت کرنے بیٹھ گئے تو وہ پھر کیسے مطمئن کرے گا ان کو ۔۔۔ اس فکر نے سعاد کو پریشان کیا ہوا تھا ۔۔۔

“ایک منٹ سعاد ۔۔۔ نایاب کے بولنے پر رکا ۔۔۔۔

“جی اپی ۔۔۔۔سعاد نے کہا ۔۔۔

“ثوبان اور صبا کی شادی کا تحفہ بھی ہے ان کے جڑوان بچوں کے کپڑے بھی ہیں ان کو وش کرنا مت بھولنا ۔۔۔ نایاب نے یاد کروانا ضروری سمجھا ۔۔۔

“جی آپی ۔۔۔۔

“وہاں جا کر کچھ پل بیٹھ کر اور چیزیں دے کر جلدی واپس مت آنا ۔۔۔ کچھ دیر ضرور بیٹھنا اور سننا کیا لڑکی تھی وہ ۔۔۔

“جی آپی ۔۔۔

وہ مضطرب سا ہوکر باہر نکل ایا ۔۔۔ ملازم نے سب سامان رکھ دیۓ تھے گاڑی میں ۔۔۔

@@@@@@@@@@

سب حیران ہوۓ سعاد کے انے پر دن کے چار بجے ان کے گھر وہ پہنچا تھا ۔۔۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی خوشی کی لہر اگئی ہو ۔۔۔ وہ اپنی حیرانگی چھپا کر خوشی کا اظہار کر رہے تھے ۔۔۔ ان کی سادگی کو اس نے دل سے محسوس کیا ۔۔۔

سب نے اسے بےانتہا عزت دی ۔۔۔ کچھ دیر میں ثوبان اور صبا اپنے دونوں بچوں کی انگلی تھامے اگۓ ۔۔ ان سے معذرت کی شرمندہ لہجے میں نا آنے کی معذرت کی کہ شادی میں نہ اسکے پر بچوں کی مبارک دل سے دی اس کی شرمندگی محسوس کرتے ہوۓ ثوبان نے کہا ۔۔۔

“کوئی بات نہیں تم چاہو ہمارے نیکسٹ بےبی پر اکر تم دونوں ہمیں سرپرائز کرنا , یقیں کرو سارے گلے شکوے بھول جائیں گے ہم ۔۔۔

“واٹ نیکسٹ ۔۔۔ سعاد نے حیرت سے کہا ۔۔۔

“ہاں اللہ کی نعمت ارہی ہے ہم کفران نعمت کرنے والوں میں سے نہیں ۔۔۔ ثوبان نے خوشی سے کہا ۔۔۔

ثوبان کی بات پر صبا شرماگئی ۔۔۔ سب ہسنے لگے ۔۔۔ کچھ بھاری لگا تھا سعاد کو صبا کا وجود پہلے سے ۔۔۔

“ویسے سعاد بھائی شکر ہے رانیہ اپی یہاں نہ تھی ورنہ وہ صبا آپی کا ایک بےبی ضرور لے جاتیں ۔۔۔ اتنی دیوانی ہے وہ بچوں کی ۔۔۔ عباس نے ہنستے ہوۓ ۔۔۔ اٹھارہ سالہ عباس کچھ بڑا لگا سعاد کو جو ان کی شادی کے وقت شرارتی لڑکا لگ رہا تھا ۔۔۔

“کیا واقعی سعاد حیران ہوا ۔۔۔

“یہاں گلی کے سب بچوں کو یہاں جمع کرکے رکھنا ان کا وطیرہ تھا ۔۔ ہانیہ آپی تو شدید چڑتی تھیں ان کی اس عادت سے اور ان کا خوب مذاق اڑاتی تھیں ۔۔۔ عباس نے ایک اور بات بتائی ۔۔۔

“اچھا ۔۔۔ وہ کیسے ۔۔۔ سعاد نے پرجوش ہوکر پوچھا ۔۔ شاید اسے اچھا لگ رہا تھا رانیہ کے مطلق سننا ۔۔۔

“آپ کو تو انہوں نے بتایا ہوگا کہ کن لفظوں میں ہانیہ آپی ان کا مذاق اڑاتی تھیں ۔۔۔ عباس نے الٹا اس سے پوچھ لیا ۔۔۔

“کن لفظوں میں ۔۔۔ سعاد نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔

“یہی کہتی تھیں ہانیہ آپی کہ رانیہ کی شادی ہوگی تو ان کے گھر پے نۓ سال کا کیلنڈر اۓ نہ ائے پر ایک بچہ ضرور آئے گا ہر سال ۔۔۔ اتنی دیوانی تھیں وہ بچوں کی ۔۔۔ سعاد بےساختہ ہنس پڑا ۔۔۔ وہ حیران بھی ہورہا تھا رانیہ کی بچوں کے لیۓ دیوانگی سن کر ۔۔۔

ابھی کچھ دیر ہی ہوئی تھی اسے بیٹھے کہ لائیٹ چلی گئی ۔۔۔ وہ اسے لے کر صحن میں اگئے ۔۔۔

جانے کیوں آج پہلی دفعہ سعاد کو ان لوگوں سے بیزاریت نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔ بلکہ ان کے منہ سے رانیہ کو سننا بہت اچھا لگ رہا تھا وہ بھی اس رانیہ کو جس کا کبھی اس نے تصوّر بھی نہیں کیا تھا جس کے وجود کے ان رنگوں سے وہ ناآشنا تھا جس کو اس نے محسوس نہیں کیا تھا کبھی ۔۔۔ اسے رانیہ کو سننا اور جاننا اچھا لگ رہا تھا ۔۔۔

“جانتے ہیں سعاد بھائی اس درخت کے نیچے رونق ہوا کرتی تھی جب یہاں پر اس جھولے پر سارا وقت رانیہ بیٹھی رہتی تھی اور سب یہاں پر بیٹھ جاتے ہیں تخت پر ۔۔۔ اسے پڑوس کے سب مسئلوں باخبر رہنا اور ان کو حل کرنے کی جستجو کرنا اس کی عادت ہوتی تھی ۔۔۔۔ وہ ناصرف گھر کی لاڈلی تھی بلکہ آس پڑوس کے سب لوگوں کی فیوریٹ ہوا کرتی اج بھی اس کو سب مس کرتے ہیں ۔۔۔ صبا نے دل سے کہا ۔۔۔۔

” بیٹا ہم نے اپنے گھر کی رونق تمہارے حوالے کی تھی ہمیں یقین ہے کہ وہ تمہارے گھر کو بھی پُر رونق رکھا کرتی ہوگی۔۔۔ یسرا بیگم نے کہا ۔۔۔

“جی آنٹی ۔۔۔ اس کے چہرے پر بوکھلاہٹ اگئی کیونکہ جس طرح کی رانیہ کا ذکر وہ ان کے منہ سے سن رہا تھا اسے تو اس نے ایک لمحے کے لیے بھی اپنے ساتھ نہیں پایا تھا۔۔۔ پر جلدی وہ خود کو سنبھال گیا ۔۔۔ ایک عجیب ٹیس اٹھی تھی سعاد کے اندر یسرا بیگم کی بات سے ۔۔۔

“چڑیا کی طرح چہچانا اس کی عادت ہے باتیں اتنی کرتی ہوگی کہ تمہارا تو سر کھاجاتی ہوگی ۔ ۔ ہے نا سعاد ۔۔۔ یار بولتی بہت ہے رانیہ اسے چپ کروانا ناممکن ہے ۔۔۔ ثوبان نے مذاقیہ لہجے میں پوچھا ۔۔۔۔

وہ حیرت سے دیکھتا رہا ان لوگوں کو ۔۔۔۔ “وہ تو کئ کئی دن مجھ سے بات تک نہیں کرتی پھر یہ کس رانیہ کا ذکر ہورہا ہے۔۔ سعاد نے سوچا ۔۔۔

وہ ہوں ہاں کے سوا کیا کہتا ۔۔۔

پھر وہ لوگ اسے چھت پر لے گۓ ۔۔ رانیہ کا پوسٹ سسٹم دکھایا کہ کس طرح بغیر گھر سے نکلے وہ آس پڑوس کھانا بھیجا کرتے تھے ۔۔۔

“یہ بھی رانیہ آپی کی کارستانی ہے سعاد بھائی ۔۔۔ عباس نے بتایا ۔۔۔

“اچھا ۔۔۔ اس کے ہر انداز میں حیرانگی واضع تھی ۔۔۔

“سعاد بھائی اپ ان لوگوں سے ملنا چاہیں گے جو اج بھی شدت سے یاد کرتے ہیں اسے ۔۔۔۔ عباس نے پرجوش سے پوچھا کیونکہ سعاد کی دلچسپی کو محسوس کرکے ہی اس نے یہ بات کہی تھی ۔۔۔

“ارے پاغل ہوکیا عباس , سعاد بھائی نہیں ملیں گے ۔۔۔ صبا نے ٹوکا عباس کو کب سے ان کا سر کھا رہا تھا ۔۔۔

“سعاد بھائی , عباس کو رہنے دیں یہ اپ کا سر درد بڑھا دے گا رانیہ کے فین کلب سے ملواکر ۔۔۔صبا نے کہا ۔۔۔

“فین کلب ۔۔۔ سعاد نے حیرت سے کہا ۔۔۔

“ہاں سب کی دل عزیز ہے ہماری رانیہ آپ کی بیوی ۔۔۔ عباس نے اینکر والے اسٹائل میں کہا سعاد مسکراۓ بغیر رہ نہ سکا ۔۔۔

“میں ملنا چاہوں گا ۔۔۔ جانے کیسے سعاد کہے گیا عباس سے ۔۔۔

باہر گلی کے نکڑ پر پہچنتے ہی اس نے کچوری والے بابا کو بتایا کہ “اپ کی رانیہ بیٹی کا شوہر ہے ۔۔۔ انہوں نے جلدی سے چاٹ کچوری کی پلیٹ بنادی اور کولڈ ڈرنک منگوائی اس کے لیۓ ۔۔۔

“یہ بابا صرف رانیہ کو مفت کھلاتے ہیں ہمیں تو کبھی ایک پلیٹ مفت نہ دی سعاد بھائی ۔۔۔ بڑے کنجوس ہیں یہ رانیہ آپی کے ابا میاں ۔۔۔ عباس نے معصوم سی صورت بناتے ہوۓ کہا ۔۔ سعاد نے بمشکل ایک چمچ کھایا تھا چاٹ کا اور کولڈ ڈرنک پینے لگا ایسٹرا سے ۔۔۔ جانے کیوں وہ اس غریب شخص کا مان رکھ گیا جو مسلسل رانیہ اور اسے دعائیں دے رہا تھا ۔۔۔

سعاد حیران ہوا سب اسے اور رانیہ کو دعائیں دے رہے تھے ۔۔۔ پھر کتنے بچوں سے ملوایا راستے پر کرکٹ جو کھیل رہے تھے ان میں سے کئی بچے ایکسائیٹیڈ ہوکر سعاد سے ملے اور رانیہ کا پوچھ رہے تھے دل سے ۔۔۔ وہ بچے جن کی ماں جابز کرتی تھیں اور رانیہ ان کے بچے سنبھالتی تھی , عباس نے ان سے بھی ملوایا ۔۔۔

وہ حیران ہی تو ہورہا تھا کہ کوئی اتنا ہر دل عزیز کیسے ہوسکتا ہے اسے یقین نہ ایا ۔۔۔ جو ملتا وہ بس تعریف ہی کررہا تھا ۔۔۔۔ ہماری رانیہ بیٹی ایسی ہے ہماری رانیہ بیٹی ویسی ہے ۔۔۔۔

وہ جو چند گھنٹے گزارنے ایا تھا رات کا کھانا کھاکر ہی وہاں سے اٹھا تھا ۔۔۔۔ اس گھر کے لوگ اور ان کی محبتوں کا وہ گرویدہ ہوگیا تھا ۔۔۔ جنہوں نے ایک حرف شکایت نہ کی تھی رانیہ کو ساتھ نہ لانے کی ۔۔۔۔

ہانیہ بھی ملنے اگئی تھی بچوں کے ساتھ ۔۔۔ وہ شدید حیران ہوا کس طرح اس گھر کے لوگوں نے کسی اور کے بچوں کو اپنایا ہوا ہے ایسا لگ رہا تھا جیسے سچ میں وہ ہانیہ کے ہی بچے ہوں جیسے ۔۔۔ سعاد کو ہانیہ سے مل کر خوشی ہوئی ۔۔

رات کے کھانے پر ولید خانزادہ کو دیکھ کر بھی حیران ہوا وہ ۔۔ کس طرح وہ ان سے گھل مل کر بیٹھا تھا ۔۔۔ اتنا بڑا بزنس ٹائیکون ان کا گرویدہ لگ رہا سعاد کو ۔۔۔ اس شخص کو کون نہیں جانتا بزنس کی دنیا کا ایک جانا مانا نام جس کا بزنس کئی ملکوں میں پھیلا ہوا ہے ۔۔۔ جس کے لیۓ ایک ملک سے دوسرے ملک جانا ایک شہر سے دوسرے شہر جانے کے مترادف تھا۔۔۔ وہ بھی یہاں زمیں پر بیٹھ کر دسترخوان لگا ہوا تھا سب کے ساتھ کھارہا تھا ۔۔۔ وہ اتنے مزے سے سب سے بات کررہا تھا ہر موضوع پر , ولید خانزادہ وہ شخص تھا جس سے بات کرنے کے لیۓ لوگ ترس جائیں ۔۔۔۔ سعاد حیران ہی ہوتا رہا بس ۔۔۔ ایک بات اس نے کبھی سنی تھی اج جاکر سمجھ آئی تھی ۔۔۔

“ہم کسی کو پیسوں سے نہیں خرید سکتے جناب , سارا کھیل اس زبان کا ہے جس سے ہم کسی کا بھی دل جیت سکتے ہیں ۔۔۔ وہ شخص امیر نہیں جس کی پاس ڈھیر سارا پیسا ہو اصل امیر تو وہ ہے جس کی زبان میں اتنی مٹھاس اور خوبصورتی ہو کہ وہ کسی کا بھی دل جیت لے ۔۔۔۔

یقینن ولید خانزادہ کو ان لوگوں نے اپنی زبان سے ہی خریدا ہے جو ان کے ایک بلاوے پر اگیا تھا ۔۔۔ اب بھی کچھ دیر پہلے ولید خانزادہ احد صاحب سے کہے رہا تھا “انکل معذرت خواہ ہوں شام کو نہ اسکا کیونکہ بزنس کی مصروفیات تھیں پر ہانیہ اور بچوں سے کہے دیا تھا وہ جلدی اجائیں ۔۔۔

“ارے بیٹا کوئی بات نہیں تم کھانے تک پہنچ گۓ یہی بہت ہے ۔۔۔ احد صاحب نے کہا ۔۔۔ سعاد بغور سن رہا تھا اور حیران پر حیران ہوتا رہا ولید خانزادہ کے عاجزی بھرے لہجے پر ۔۔

وہ حیران ہی تو تھا کیا محبتیں یہاں بکھری پڑیں تھیں ۔۔۔ اور وہ ان سب سے دور اکیلا ہے ۔۔۔

حنان اور منان کی معصوم باتیں سعاد کو بھی پیاری لگیں جو اج اپنے ساتھ مٹھائی لاۓ تھے اور خاص کر صبا کو کہے رہے تھے کہ ۔۔۔

“اب ہمارے گھر اپنے بےبی آئیں گے صبا آنٹی ۔۔۔۔ بچوں کے منہ سے سن کر سب نے ہانیہ کی طرف دیکھا جس پر شرما کر اس نے سر جھکالیا اور سب کو یقین اگیا گڈنیوز کنفرم ہے ۔۔۔ سب نے مبارکباد دی دونوں میاں بیوی کو ۔۔۔ سعاد نے بچوں کی لگائی رونق کو شدت سے محسوس کیا ۔۔۔ پھر رانیہ کا بچوں کے لیۓ پیار سن کر افسوس ہوا سعاد کو اس نے کتنا غلط کیا ایک لڑکی کی ممتا کو آزماکر ۔۔

“پھر میرے بچے تو دکھی ہونگے کہ حنان اور منان اب ان کو بھول جائیں گے ۔۔ صبا نے جھوٹ موٹ کا منہ بنایا دونوں کو آزمانے کے لیۓ ۔۔۔ سب مسکراۓ تھے صبا کی بات پر ۔۔۔

“ارے نہیں آنٹی , یہ بھی ہمارے ہیں ہم ان کو تھوڑی بھولیں گے اپنے بےبی انے کے بعد ۔۔۔ حنان اور منان نے ایک ساتھ کہا ۔۔۔ دونوں جلدی سے اپنی صفائیاں دینے لگے ۔۔۔ جس پر سب ہنستے رہے ۔۔۔

اس کے جانے کے وقت یسرا بیگم نے پوچھا احتیاطٍ “کہ رانیہ کے لئے کچھ سامان دیں تو برا تو نہیں مانیں گے سعاد بیٹا ۔۔۔ ہمارا مطلب تکلیف تو نہیں ہوگی سعاد بیٹا تمہیں ۔۔۔

یسرا بیگم کا احتیاط بھی بجا تھا کیونکہ اس داماد نے ہمیشہ سرد رویہ رکھا ہوا تھا ان سے جب پچھلی بار پاکستان میں تھا ۔۔۔

“بلکل نہیں آنٹی جو دیں , میں باخوشی لے جاؤں گا ۔۔۔ واقعی مجھے اچھا لگے گا اگر آپ لوگ مجھے بتائیں کہ جب میں رانیہ کو یہاں واپس لے کر آؤں تو آپ لوگوں کے لئے کیا لے کر آؤں وہاں سے ۔۔۔ سعاد کے اس انداز پر سب حیران ہی ہوۓ تھے ۔۔۔ یسرا بیگم مسکرائیں تھیں اس کی بات سن کر ۔۔۔

“سعاد بیٹے بس ہماری وہی ہنستی مسکراتی چہچہاتی قہقہے لگاتی اسی رانیہ کو لے آؤ ۔۔۔ یہی ہمارے لیۓ قیمتی تحفہ ہوگا ۔۔۔۔ یسرا بیگم نے کہا ۔۔۔

سعاد گم صم ہوا ان کی یہ بات سن کر اب ان کو کیا بتاتا جس رانیہ کو اتنی شدت سے یاد کررہے ہیں یہ لوگ وہ تو امریکہ میں کہیں کھوگئی ہے اس سے ۔۔

وہ دکھی ہوا تھا اندر سے ۔۔۔

“سعاد بیٹا اس سے کہنا کوئی دن ایسا نہیں گیا جب اس کے بوڑھے ماں باپ نے اسے یاد نہ کیا ہو ۔۔ اسے اتنا ضرور کہنا ۔۔ یہ لفظ احد صاحب نے کہے شدت جذبات سے ۔۔۔ سعاد کے دل میں جانے کیا ایا وہ ان کو گلے لگا گیا ۔۔۔

“جی انکل ضرور کہوں گا اس سے ۔۔۔

احد صاحب کو ایسا لگا جیسے ان کی بیٹی رانیہ ان سے گلے لگی ہو ۔۔۔

پھر سب نے کچھ نہ کچھ دیا رانیہ کے لیۓ ۔۔۔ سب کو اس کے دیۓ گفٹس پسند آۓ ۔۔۔ اس نے دل میں شکر ادا کیا جب گفٹس میں ہانیہ اور اس کے بچوں کے لیۓ بھی گفٹس تھے ۔۔۔۔

نایاب آپی پر سعاد کو ڈھیروں پیار ایا جنہوں نے اس کی عزت بچالی ورنہ اسے یہی ڈر تھا نایاب آپی کو کہاں یاد ہوگی ہانیہ اور اس کے بچے ۔۔۔

وہ جو یہاں خالی دامن ایا تھا جاتے جاتے ڈھیر ساری ندامت اور ڈھیر ساری محبتیں لے کر جارہا تھا ۔۔۔

ڈھیر ساری ندامت اس بات کی کہ اس نے رانیہ کو پتھر بناڈالا ۔۔۔ کیا انمول تھی اس گھر کی بیٹی جسے وہ خود بےمول کرگیا تھا وہ ۔۔۔ مجھے معاف کردو رانیہ مجھے معاف کردو ۔۔۔ کاش مجھے معاف کرسکو تم اور واپس پہلے جیسی ہوجاؤ ۔۔۔ میرے اندر شدت سے خواہش جاگی ہے کہ میں اسی رانیہ کے ساتھ جینا چاہتا ہوں جیسا یہاں سن کر ارہا ہوں واپس امریکا ۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔