No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
انمول سے بےمول
ازقلم صبا مغل
EPISODE## 1
اج بھاگ دوڑ کا سماں تھا گھر بھر میں کیونکہ گھر کی بیٹی کی شادی ہے ۔۔۔
سب اپنی تیاریوں میں مصروف تھے۔۔۔
بڑے مرد دعوت کے انتظامات دیکھ رھے تھے دلہن کو تیار کرنے کے لئے پارلر والی آچکی تھی ۔۔۔
یہ گھر پرانے وقت کا بنا ایک بڑا گھر تھا ۔۔۔ بڑا مین گیٹ اس کے بعد ایک بڑا آنگن اور ایک پرانا درخت جس کی شاخین دور تک پھیلی تھیں ۔۔۔۔ پھر کافی سارے کمرے بنے تھے ۔۔۔۔۔ تھا تو ایک گھر پر اس میں بستے تین خاندان تھے۔۔۔۔۔ تین بھائیوں کی فیملیز بستی تھیں۔۔۔۔
احمد , صمد اور احد تیں بھائی ۔۔۔۔
احمد کی بیوی نازیہ اور ان کی دو بچے ثوبان اور سارہ ۔۔۔۔
صمد کی بیوی نائلہ ان کی ایک بیٹی صبا جو گھر میں سب بچوں میں بڑی تھی ثوبان سے پانچ مہینے بڑی تھی ۔۔۔۔
بیٹا پندرہ سال کے بعد دیا اللہ نے جب وہ دونوں امید کھوچکے تھے ۔۔۔بیٹے کا نام عباس رکھا۔۔۔۔
سب سے چھوٹے بھائی احد کی بیوی یسرا جس کے تین بچے تھے ۔۔۔ ہانیہ , رانیہ دونوں میں ایک سال کا فرق تھا۔۔۔۔ اس کے بعد پانچ سال چھوٹا صفدر تھا ۔۔۔۔
احمد اور صمد کی شادیان ساتھ ہوئی تھین۔۔ احد کی شادی ان سے تین سال کے بعد ہوئی تھی۔۔۔۔
نازیہ اور یسرا بہنیں تھیں پر نائلہ کے حسن اخلاق ایسا تھا کہ اب اتنے سالوں بعد وہ جنسے ملتیں یہی کہتیں ھم تینوں بہنیں ھیں ۔۔۔۔ ان کی اسی محبت نے اس گھر کو جوڑے رکھا تھا ۔۔۔۔
یہ گھر خوشیوں کا مکمل پیکر تھا سب کی جان ایک دوسرے کے بچوں میں بستی تھی۔۔۔ سب ساتھ بیٹھے ہو تو کسی کو پتا نہ چلے کون کس کی اولاد ھے ۔۔۔۔
رانیہ گھر بھر کی لاڈلی تھی اور سب کی چہتی تھی۔۔۔۔ وہ جس سے ملتی سب کو اپنا دیوانہ کیے رکھتی۔۔ رانیہ اور ہانیہ کو اللہ نے بے انتہا حسن سے نوازا تھا۔۔۔۔ دونوں کو اپنے حسن پر ناز بھی تھا اور نکھرا بھی دونوں پر خوب جچتا تھا ۔۔۔
دونوں میں حسن کے ساتھ نزاکت بھی تھی اور ہانیہ کو خود پر زیادہ ہی غرور رہتا تھا۔۔۔۔
رانیہ سارے گھر کی چھوٹی بیٹی بالکل گڑیا اور چڑیا کی طرح تھی جس کا چہچہانا سب کو کھل کھلاتا تھا ۔۔۔۔ سب کو اس چڑیا سے اتنی محبت تھی کہ بچپن میں ہی بڑوں نے آپس میں فیصلہ کرلیا تھا کہ اس کی شادی ثوبان سے کروائیں گے۔۔۔ رانیہ کو خود سے دور نہیں کرنا چاہتے تھے اس لیے۔۔۔۔
@@@@@@@@@
“رانیہ اور ہانیہ تیار ہو تو باہر آؤ سب مہمان اچکے ہیں۔۔۔
صبا نے دروازے پر اکر کہا ۔۔۔
دونوں میک اپ پنک لہنگے میں حسین لگ رھیں تھیں ۔۔۔۔
“بس آپی دو منٹ ۔۔۔۔ رانیہ نے کہا ۔۔۔ ہانیہ نے منہ بنایا ۔۔۔۔
“چاچی نے کہا تھا بلانے کو ۔۔۔ صبا نے ہانیہ کا منہ بنانا دیکھ لیا اس لئے اس نے وضاحت دینا ضروری سمجھا ۔۔۔
“تھینک یو شکریہ اپ نے پورا گھر سنبھالا ہوا ہے ہم نے تو بس شادی میں کوئی کام ہی نہیں کیا ۔۔۔ ہانیہ نے ناک منہ بنا کے کہا۔۔۔۔
“ہانیہ اپی اپ ایسے تو بات نہ کریں صبا اپی کے لۓ انہوں نے سچ میں سب سنبھالا ہوا ہے ۔۔۔۔
رانیہ نے کہا ۔۔۔
“تم تو چپ کرو چمچی سب کی ۔۔۔۔
صبا نے دکھ سے ہانیہ کو دیکھا اور بغیر کچھ کہے چلی گئی ۔۔۔
“اپی اپ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا صبا اپی بہت اچھی ہیں ۔۔۔۔
رانیہ نے بڑی بہن کو سمجھانا چاہا ۔۔۔
“مانو تم کچھ نہیں جانتیں ۔۔۔۔ کتنا کچھ شام میں امی نے سنایا مجھے اچھا ہوا تم سوئی تھی ورنہ تم صدمے میں چلی جاتی سن کے کہ ہم دونوں نے کچھ کیا نہیں ہے سب ان میڈم نے کیا ۔۔۔۔
ہانیہ نے چڑ کر شام والا سارا قصہ سنادیا ۔۔۔
“تو کرتی بھی ہیں نہ ۔۔۔رانیہ نے سائیڈ لی صبا کی ۔۔۔۔
“رہنے دو ذیادہ کرتی ہیں تو ہم بھی کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں ایک دفعہ اپی نے ہمارا نام نہ لیا ۔۔۔۔ سارا کریڈٹ لے کر شاباشی لیتی رہیں ۔۔۔۔
ہانیہ نے لمبا سانس چھوڑ کر کہا ۔۔۔۔
“ایک ہماری امی ہیں وہ بھی انکی تعریف میں زمیں آسماں ایک کردیں ۔۔۔۔
ہانیہ کا غصہ سے برا حال تھا ۔۔۔۔
“چھوڑیں اپی ایسے جلتے رہے تو ہمارا اتنا میک اپ ضائع ہوجاۓ گا ۔۔۔۔ رانیہ نے بات بدل کر بات کو دوسرا رخ دیتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“ہمممم کہے تو سہی رہی ہو میری مانو۔۔۔۔
ہانیہ نے پیار سے رانیہ کی تاعید کی ۔۔۔۔ رانیہ مطئمن ہوئی بات سے ہٹادیا ہانیہ کو ۔۔۔
دونوں نے ایک نظر ایک دوسرے کو دیکھا پھر شیشے میں اپنے عکس کو دیکھا اور کہا ۔۔۔۔
“پرفیکٹ ۔۔۔۔
دونوں نے ایک آواز میں کہا اور کھل کھلا اٹھیں۔۔۔
دونوں باہر نکل ائیں روم سے اور دونوں کو پورا یقین تھا اب ان دونوں کے مقابل کوئی نہیں ایٹلسٹ ان کے خاندان میں۔۔۔۔ دونوں اچھی طرح اپنے حسن سے واقف تھیں غرور سے داخل ہوئیں لان میں ۔۔۔
@@@@@@@@
“صبا بیٹا ادھر آؤ۔۔۔
یسرا بیگم نے بلایا۔۔۔ وہ اپنی سہلیوں کے ساتھ کھڑی تھیں ۔۔۔
“جی چاچی ۔۔۔۔ صبا جو ادھر سے گذر رہی تھی ۔۔۔ ان کے بلانے پر رک گئی۔۔۔
یسرا بیگم نے محبت بھرے لہجے میں کہا ۔۔۔
“یہ ہے ہماری صبا ۔۔۔ سب سے معصوم سلیقہ مند نیک ہے ۔۔۔۔ ان کے لہجے میں فخر بھی تھا صبا کے لۓ ۔۔۔۔ وہ تھی اتنی اچھی طبیت کی ۔۔
“ماں باپ کا فخر اور مان ہوتی ہیں ایسی بچیاں۔۔۔۔
ناعمہ اتنی تعریف پر پسندیدگی سے دیکھ رہیں تھیں کیونکہ انھوں نے اپنی سہیلی سے اپنے بیٹے کے لۓ لڑکی کے لۓ کہے رھیں تھیں ۔۔۔۔
جس پر انھوں نے صبا کی تعریف بہت کی اور اب دکھا رہیں تھیں ۔۔۔۔ ناعمہ کی نظر میں پسندیدگی تھی صبا کے لۓ ۔۔۔ صبا گندمی رنگت کی لڑکی تھی بڑی بڑی آنکھیں اور لمبے بال اسے خوبصورت بناتے تھے ۔۔۔۔
” السلام علیکم آنٹی۔۔۔ صبا نے دھیمے انداز میں کہا۔۔
” وعلیکم السلام بیٹا۔۔۔ ناعمہ کو اچھی لگی یہ لڑکی ۔۔۔۔
ہانیہ نے دور سے اپنی ماں کو دیکھا ۔۔۔ جس کے پاس صبا کھڑی تھی ۔۔۔ ہانیہ منٹوں میں سب سمجھ گئی وہان کیا سین چل رہا ہے اور اسے پتا تھا اب اسے کیا کرنا ہے ۔۔۔۔
“امی آئیں دیکھیں ہماری مانو کتنی پیاری لگ رہی ہے ۔۔۔۔
ہانیہ جلدی سے رانیہ کو پکڑ کے اس کے پاس آگئی اور ایسے ظاہر کیا جیسے اسے پتا نہیں وہاں کیا ہورہا ہو۔۔۔۔جبکہ وہ سب جان کر انجان بن رہی تھی ۔۔۔
یسرا اسے آنکھیں دکھا رہی تھی پر وہ ہانیہ کیا جو ان کے اشارے سمجھے ۔۔۔
“امی بتائیں ہانیہ نے اتراتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“کیا نام ہے تمہارا بیٹا ۔۔۔۔ ناعمہ نے اس پری پیکر لڑکی کو دیکھا جس کا حسن حوروں سا تھا ۔۔۔۔
“میں ہانیہ اور یہ رانیہ میری چھوٹی بہن ۔۔۔۔
ہانیہ نے اپنے ساتھ رانیہ کا بھی تعارف کروایا اور ان کی آنکھوں کی جوت بڑھ گئی ۔۔۔ صبا وہاں سے چلی گئی ۔۔۔۔ وہ جانتی تھی ہانیہ کے اگے وہ کیا کسی کو نظر آۓ گی ۔۔۔۔ اس کا خاموشی سے جانا بہتر ھے ۔۔۔
“اچھی لگ رہی ہو دونوں ۔۔۔ یسرا بیگم نے کہا صبا کا چلے جانا ان کو محسوس ہوا۔۔۔۔
ناعمہ بھی بغیر کہے رہ نہ سکی ۔۔۔۔
:دونوں بہت پیاری ہیں تمہاری بیٹیاں ۔۔۔۔
“بس اللہ نصیب اچھے کرے ۔۔۔۔
یسرا بیگم نے کہا ۔۔۔۔ صبا کو وہاں سے بھگانے کے بعد ہانیہ کا وہاں کیا کام ۔۔۔۔ وہ جانء کے پر تولنے لگی کیونکہ اس کا کام ہوچکا تھا صبا کو نیچا دکھانا وہ دکھا چکی تھی ۔۔۔
وہ بھی جلدی سے چلی گئ رانیہ کو لے کے ۔۔۔۔
“تم نے اپنی بیٹیاں نہیں دکھائیں یسرا ۔۔۔۔
ناعمہ نے ڈائریکٹ یسرا سے اپنے دل کی بات کہی ۔۔۔۔
“دیکھو ناعمہ جو کوالیٹیز تم نے کہیں وہ سب صبا میں موجود ہیں اور وہ گھر کی بڑی بیٹی ہے اسی لۓ وہی دکھائ ۔۔۔ پر میری بیٹیاں ابھی چھوٹی ہیں ہمارا ارادہ بھی نہیں تو کیوں دکھاتی میں ۔۔۔
یسرا نے رسانیت سے کہا ۔۔۔۔
“ہاں یہ بھی ہے ۔۔۔۔ مجھے تمہاری ہانیہ پسند آئی ہے ۔۔۔۔
یسرا نے کچھ خاص خوشی کا اظہار نہ کیا ۔۔۔۔ اور کہا۔۔۔
“فلحال میری بیٹی پڑھ رہی ہے ۔۔۔۔ ہمارا کوئی ارادہ نہیں ۔۔۔۔
وہ رسانیت سے معذرت کرتی اسٹیج کی طرف بڑھ گئیں جہاں دلہن بنی سارہ کو بٹھایا جارہا تھا ۔۔۔۔
اور کچھ دیر میں نکاح ہونے والا تھا ۔۔۔۔
@@@@@@@@@
“آپی اپ نے جان بوجھ کر مجھے وہاں لے گئیں نا ۔۔۔۔
رانیہ نے یقیں سے ہانیہ کو دیکھ کر کہا ۔۔۔۔
ہانیہ نے ہنستے ہوۓ کہا ۔۔۔
“اگر ہاں تو ۔۔۔۔
“تو اپ نے غلط کیا ۔۔۔رانیہ نے کہا ۔۔۔
“میں نے کیا غلط کیا ۔۔۔۔ ہانیہ نے حیرت سے انکھیں دکھائیں ۔۔۔
“وہاں وہ آنٹی صبا اپی کو پسند کر لیتی ہم اگر بیچ میں نہ اتیں ۔۔۔۔
“ایسا کچھ نہ تھا میری مانو ۔۔۔۔ اور اگر ایسی کوئی بات بھی تھی تو مجھے کیا پتا ہم اچانک جو آگئ تھیں ۔۔ اور اس آنٹی سے ہم نے چھپنا تھا کیا ۔۔۔
ہانیہ نے کندھے اچکاۓ ۔۔۔۔
“ویسے تمہیں کوں زیادہ پیارا ہے میں یا وہ صبا ۔۔۔۔ ہانیہ نے پوچھا ۔۔۔
“افف آپی ۔۔۔۔ افکورس اپ اور آپی دونوں ۔۔۔ مجھے کتنا پیار کرتی ہیں صبا اپی ۔۔۔۔ رانیہ کے لہجے میں دونوں کے لۓ محبت تھی ۔۔۔۔
دونوں بہنوں کو اپنے حسن کا اچھے سے احساس تھا۔۔۔۔
رانیہ اپنی بڑی بہن ہانیہ کو زیاد کچھ کہے نہ سکی اس لۓ اس نے چپ میں عافیت سمجھی ۔۔۔
اور یہ سب ھمیشہ سے ہوتا آیا تھا ۔۔۔ ہانیہ کو اپنے اگے کبھی کوئی نظر نہ اتا تھا ۔۔۔۔ گھر میں اگر کوئی اسے کسی سے کمپیئر کیا جاتا اور وہ کم پائی جاتی تو سامنے والے کو نیچے جھکاۓ بغیر اس کا کھانا ہضم نہ ہوتا۔۔۔۔
اج تو ویسے ہی اس کی ماں نے ہر کام کا کریڈٹ صبا کو دے کر اسے اندیکھی آگ میں جلا دیا تھا اسے ۔۔۔
“ماں ان کی ہوکر پرواہ اس صبا کی کیوں کرتی ہے ۔۔۔
ایسی سوچیں ہانیہ کو بے چین رکھتی جبکہ رانیہ ایسی باتوں کی پرواہ نہ کرتی ۔۔۔۔
جاری ہے…
