Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

انمول سے بےمول

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 16

“ہانیہ اس وقت اپ کہاں جارہی ہیں ۔۔۔ ولید خانزادہ نے پوچھا ۔۔۔ جو تیار ہوکر کہیں جانے کی تیاری میں تھی ۔۔۔ وہ ناشتہ کرکے آفیس جارہا تھا ۔۔۔ ہانیہ کا سجا سنورا وجود بغور دیکھا اس نے ۔۔۔

“جس طرح اپ پر میرا اختیار نہیں اسی طرح مجھ پر بھی اپ کا اختیار نہیں ۔۔۔۔ اس لیۓ مجھ سے کچھ بھی بازپرس کرنے کا کوئی حق نہیں اپ کو ۔۔۔ اس نے ایک نظر بھی ڈالے بغیر کہا تھا ۔۔۔ کچھ قدم اگے بڑھا گئی ۔۔۔

“تمیز سے بات کریں ۔۔۔ وہ مٹھیان بھینچتا ہوا بولا ۔۔۔

“اوکے تمیز سے بتارہی ہوں اپنے میکے جارہی ہوں ۔۔۔ ہانیہ نے کہا ۔۔۔

“تو ارام سے بتانے میں کیا جاتا ہے اپ کا ۔۔۔ لمحہ لمحہ تیور بدلتی یہ لڑکی ولید خانزادہ کو پریشان کرچکی تھی ۔۔۔ جانے وہ کیا کرنا چاہ رہی تھی ۔۔۔ اتنا تو وہ اندازہ کرچکا تھا ہانیہ کے ذہن میں کچھ غلط ہی چل رہا تھا ۔۔۔

“میں اپ سے مخاطب نہیں ہونا چاہتی بہتر ہوگا اپ بھی مجھ کلام نہ کریں ۔۔۔ ایک اور بدتمیزی وہ کرچکی تھی ۔۔۔ وہ اپنے لہجے میں بےاعتنائی واضح کررہی تھی اس پر ۔۔۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ اس شخص کو اپنے رویۓ اور ہر انداز سے یہ باور کروادے کہ اگر ہانیہ اس کے لیۓ معنی نہیں رکھتی تو ہانیہ کے لیۓ بھی اس شخص کا وجود نہیں معنی رکھتا ۔۔۔ وہ بلا کی اناپرست تھی اس معاملے میں ۔۔۔ خود کی ہوئی بےعزتی بُھلاۓ نہیں بھول رہی تھی ۔۔۔

“اب جاؤں ۔۔۔ ہانیہ نے بغیر دیکھے کہا ۔۔۔

“ہممم جائیں ۔۔۔ کب تک آئیں گی کیونکہ بچوں کو پڑھانا اپ کے ذمے ہے ۔۔۔ ولید خانزادہ کی بات پر وہ غصے سے پلٹی ۔۔۔

“میں نے نئی ٹیوٹر رکھ دی ہے ۔۔۔ ہانیہ نے اسے بتایا ۔۔۔

“میں اسے فارغ کرچکا ہوں ۔۔۔ ولید نے طنزیہ اسے دیکھتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“ایسا کیسے کرسکتے ہیں اپ ۔۔۔ وہ اس کے روبرو انکھوں میں انکھیں ڈال کر بولی ۔۔۔ وہ اس کی نظرداری کی قائل ہوئی مطلب اپنے بچوں کے ہر معاملے میں وہ نظر رکھے ہوۓ تھا ان سے بےخبر نہ تھا ۔۔۔

“میں کرچکا ہوں ۔۔۔ اس کا انداز مغرور لگا ہانیہ کو ۔۔۔

“میں نہیں پڑھاؤں گی اپ کے بچوں کو ۔۔۔ نئی ٹیوٹر رکھ دیں اپنی مرضی کی ۔۔۔ ہانیہ نے چڑ کر کہا ۔۔۔

وہ چاہ کر بھی اپنی اور ولید خانزادہ کی لڑائی میں بچوں سے زیادہ بےرخی نہیں برت سکی اس معاملے میں زیادہ خودغرض نہ ثابت ہوئی تھی ۔۔۔ پارٹیز وغیرہ میں سھولت سے بچوں کو سمجھا کر خود سے دور کرتی , ہر معاملے کو سمجھا بجھا کر بچوں کے سامنے رکھتی پھر ان سے دوری اختیار کرتی , بچوں کو اچھی طرح بھلا پھسلا کر ہانیہ نے رکھا ہوا تھا یہی وجہ تھی بچے ابھی بھی اس سے بےانتہا پیار کرتے تھے اور اس کی کوئی شکایت نہ کرتے تھے اپنے پاپا سے ۔۔۔

“چاہتی کیا ہیں اپ ۔۔۔ مجھے سختی پر مجبور نہ کریں ۔۔۔ ولید خانزادہ حیران ہی تھا اس لڑکی کی ڈھٹائی پر ۔۔۔ وہ اس کا ہر دھوکا سمجھ رہا تھا پھر بھی خاموش تھا ۔۔۔

“جو بھی چاہتی ہوں وقت انے پر بتادوں گی فیالحال انتظار کریں ۔۔۔ ہانیہ نے خودسری سے کہا ۔۔۔

“اگر اپ بچوں کے وقت نہیں آئیں گھر , اکر اپ کے بابا سے بات کروں گا اب وہی اپ کا دماغ درست کرستے ہیں ۔۔۔ ولید خانزادہ نے آخری کوشش کی ۔۔۔ مڈل کلاس لڑکیاں کسی کی پرواہ کریں نہ کریں ان کے من میں باپ کا خوف ضرور ہوتا ہے یہ بات ولید خانزادہ اچھی طرح جانتا تھا ۔۔۔

“آپ مجھے بلیک میل کررہے رہیں … ہانیہ نے اسے شرمندہ کرنا چاہا پر وہ نارمل انداز میں اسے دیکھ کر بولا ۔۔۔

“جو اپ سمجھیں ۔۔۔ مجھے صرف میرے بچوں کی پرواہ ہے ۔۔۔۔ دوٹوک تھا اس کا لہجہ ۔۔۔

“مجھے اپنی ذات سے بڑھ کر کچھ نہیں ۔۔۔ وہ اتنا کہے کر چلی گئی ۔۔۔ ولید خانزادہ کو شدید افسوس ہوا کہ اس سے غلطی ہوگئی اس خودسر لڑکی کو پہچاننے میں ۔۔۔ اسے لگا تھا اگر اسے دنیا کے سامنے بیوی کا مقام دے گا تو شاید اس کے مذاج درست ہوجائیں گے پر وہ تو اپے سے باہر ہوتی جارہی تھی ۔۔۔

وہ اپنا ماتھا مسلنے لگا فکر اور پریشانی سے ۔۔۔

وہ بچوں کی پڑھائی کے وقت اتو گئی تھی پر موڈ سخت آف تھا ان کو مسلسل ڈانٹ بھی رہی تھی اور لفظوں سے غصہ بھی اتار رہی تھی ۔۔۔ بچے پریشانی کا شکار ہورہے تھے ۔۔۔ ہانیہ اپنی کیۓ جارہی تھی بغیر احساس کے کہ بچوں کے دل پر کیا گزرتی ہوگی ۔۔۔

@@@@@@@@@

پہلا دن تھا اس کی جاب کا ۔۔۔ ہاسپیٹل کی ریسپشن پر بیٹھ کر وہ کمپیوٹر میں ڈیٹا انٹر کررہی تھی ۔۔۔

چھے گھنٹے اس کی ڈیوٹی تھی ۔۔۔ سعاد نے اسے کچھ جابز کا بتایا تھا جس میں سے اسے یہ ٹھیک لگی ۔۔۔ کچھ دنوں میں اس کی ایوننگ کلاس بھی اسٹارٹ ہونے والی تھیں ۔۔۔

اسے کام کی عادت نہ تھی پر اب کرنا بھی تھا کیونکہ سعاد کے سامنے وہ شرمندہ نہیں ہونا چاہتی تھی ۔۔۔

“یو لکک سو کنفیوزڈ ۔۔۔ ایک لڑکی نے کہا جو اسٹاف نرس تھی ۔۔۔

“ہممم لٹل بٹ , مائن فرسٹ ڈے ۔۔۔ رانیہ نے کہا ۔۔۔ اب وہ اسے کیا بتاتی اسے تو انگلش سمجھ اجاتی تھی پر بولنا مشکل لگتا تھا ۔۔۔

“اوکیز نائیس ٹو میٹ یو پریٹی گرل ۔۔۔ نرس نے اسے دیکھ کر کہا ۔۔۔ رانیہ بغیر میک اپ کے بھی حسین لگ رہی تھی ۔۔۔ بلیک سکارف اس کی گوری رنگت پر جچ رہا تھا ۔۔۔ سعاد نے اسے اسکارف سے منع کیا تھا پر رانیہ نے اسے منالیا تھا کیونکہ وہ اپنے دائرے میں رہ کر ہر کام کرنا چاہتی تھی ۔۔۔

آف ٹائم سے پہلے سعاد اگیا تھا اسے لینے ۔۔۔ دونوں نے ساتھ لنچ کیا ۔۔۔ وہ اسے راستے سمجھاتا رہا ۔۔۔ آج اس کے پاس اپنا موبائل اور یہاں کا اپنا نمبر تھا ۔۔۔ بظاہر نارمل تھے اس کے تاثرات اندر سے منتشر تھی وہ ۔۔۔ سعاد کو اس کے کسی احساس کی پرواہ نہ تھی وہ مسلسل اس پر اپنی مرضی تھوپ رہا تھا ۔۔۔ وہ چاہ کر بھی انکاری نہیں ہو پارہی تھی ۔۔۔

@@@@@@@@

ثوبان کے سامنے عباس اکر چاۓ رکھ گیا ۔۔۔ یہ صبح کا وقت تھا روز کا معمول تھا صبا ہی اسے چاۓ دیتی مسلسل دو دن سے اسے عباس یا کوئی اور چاۓ دے جاتا ۔۔

“تمہاری آپی کہاں ہے ۔۔۔ ثوبان نے پوچھا ۔۔۔

“وہ کچن میں کام کررہی ہیں ۔۔۔ بلا دوں ان کو ۔۔۔ پندرہ سالہ عباس نے کہا ۔۔۔ عباس صبا کا اکلوتا چھوٹا بھائی ۔۔۔

“تم جاؤ ۔۔۔ میں خود بلادوں گا ۔۔۔ ثوبان نے کہا ۔۔۔

“اوکے بھائی ۔۔۔ عباس نے کہا اور چل دیا ۔۔۔

“کیا بات ہے , چھپنے کی وجہ جان سکتا ہوں ۔۔۔ صبا جو کچن میں مصروف تھی اس کی آواز پر چونکی وہ کچن کے دروازے کی چوکھٹ پر کھڑا تھا ۔۔۔

“میں نہیں چھپ رہی ۔۔۔ وہ روٹی بیلنے لگی ۔۔۔ صبا کی پینٹھ تھی اس کی طرف ۔۔۔

“اچھا دو دن سے خود چاۓ نہیں دے رہی شام کو بھی نظر نہیں ارہی ۔۔۔ پھر کیا سمجھوں ۔۔۔ وہ اندر اگیا کچن میں ۔۔۔ فکر ہونے لگی ثوبان کو صبا پلٹ نہیں رہی آخر کیوں ۔۔۔

“کام بہت تھا دو دن سے, ارہی ہوں باہر آپ باہر جائیں کچن میں بہت گرمی اور حبس ہے۔۔۔ صبا نے سر پر دوپٹا درست کیا اور کہا ۔۔۔ ابھی بھی ایک نظر اس نے پلٹ کر ثوبان کو نہ دیکھا ۔۔۔ دل کو عجیب دھڑکا سا لگا اس کے اس انداز پر ثوبان کو ۔۔۔

“صبا ادھر دیکھو ثوبان نے کندھوں سے تھام کر اس کا رخ اپنی طرف کیا اور حیران رہ گیا اس نے اپنا چہرہ چھپانے کی کوشش کی دوپٹے سے ۔۔۔

“کیا ہوا تمہارے چہرے کو ۔۔۔ اس کے چہرے پر کالے دھبے بن گۓ تھے ۔۔۔ صبا رونے لگی ۔۔۔ وہ فکرمند ہوا ۔۔۔

ْ”کیا ہوا یہ ۔۔۔ ثوبان حیران پریشان ہوا کچھ سمجھ نہ ایا کیا بولے ۔ ۔

“بیوٹی کریم کا سائیڈ افیکٹ ہوگیا ۔۔۔ اتنا کہے کر وہ روپڑی ۔۔۔

” تمہیں کس نے کہا تھا کہ فضول بیوٹی کریم استعمال کرنے کی ۔۔۔ ثوبان کو غصہ تو بہت ایا پر اس کے رونے کی وجہ سے خود پر ضبط کرگیا ۔۔

” اب تمہارے مقابل لگنے کے لئے اتنا تو اسے کرنا ہی تھا ۔۔۔ بُری قسمت صبا اپی کی یہ کریم ان کو خوبصورت کے بجاۓ ان کے چہرے کو بدنما کرگئی ۔۔۔ ہانیہ نے طنزیہ کہا ۔۔۔

اسی وقت ہانیہ نے قدم رکھا تھا کچن میں , وہ جو ابھی ولید خانزادہ سے لڑ کر آئی تھی سیدھا کچن اگئی ان دونوں کی آواز سن کر ۔۔

“ہانیہ بکواس نہ کرو ۔۔ ثوبان نے کہا ۔۔ وہ اس گھر کی شادی شدہ بیٹی تھی اس لیۓ اتنے پر ثوبان نے بس کیا ورنہ کہنے کو بہت کچھ تھا اور کہے بھی سکتا تھا ۔۔ پر گھر کا بڑا بیٹا ہونے کی حیثیت سے اسے ہانیہ کو عزت دینی تھی ۔۔۔

“اور تم صبا شام کو اسکن اسپیشلسٹ کے پاس چل رہی ہو ۔۔۔ اب انسو صاف کرو , مجھے آنسو تمہاری آنکھوں میں اچھے نہیں لگتے ۔۔ ثوبان نے محبت سے اس کے ہاتھ تھام کر کہا ۔۔۔ وہ سرے سے اگنور کر گیا ہانیہ کی موجودگی کو ۔۔۔ پر وہ بھی ہانیہ تھی اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیۓ ایک اور طنز کا وار کیا ۔۔

“یہ بھی تو کہو یہ بدنما داغ تمہاری معمولی شکل کو اور بدصورت کررہا ہے ۔۔۔ ہانیہ نے تفاخر سے کہا ۔۔۔ “سچ صبا آپی ایک نظر ثوبان کو دیکھیں اور اپنے ہاتھوں کو جن کو ثوبان نے تھاما ہوا ہے ۔۔۔

صبا کو شرمندگی ہوئی ثوبان کے گورے ہاتھوں میں اس کے سانولے ہاتھ عجیب لگے اس نے جلدی سے ثوبان کے ہاتھ چھوڑے ۔۔۔ اس کا چہرہ دکھ سے اور سیاھ ہوا ۔۔۔ ہانیہ کے چہرے پر ہنسی تھی ۔۔۔ ثوبان کو دکھ ہوا صبا کے یوں شرمندہ ہونے پر ۔۔ وہ خدا کے بناۓ اس فرق کو چاہ کر بھی ختم نہیں کرسکتا ۔۔۔ پر صبا کے اس کامپلیکس کو ختم ضرور کرنا تھا اسے ۔۔۔ یہ بات وہ سوچ چکا تھا اسی لمحے ۔۔۔

“تم بکواس بند کروگی ہانیہ ۔۔۔ صبا کا اصل حسن اس کا دل ہے جو صاف شفاف ہے تمہارے دل کی طرح نہیں کالا سیاھ سمجھی ۔۔۔ صبا تم جاؤ امی اور چاچی کام کر لیں گی تمہاری اسکن اور خراب ہوگی ۔۔۔ ثوبان نے ہانیہ کی بےعزتی کی اور صبا کو پیار سے کہا ۔۔۔ وہ کچن سے باہر چلی گئی ثوبان کے حکم پر ۔۔۔۔ وہ ایسی ہی تھی اس کی ہر بات ماننے والی ۔۔۔

“اور تم اپنی حد میں رہو ہانیہ , جس چیز میں تمہارا کمال ہو اس پر فخر کرنا ۔۔۔ اس پر نہیں جو اللہ کی دِین ہے یہ حسن جمال تمہارا کوئی کمال نہیں سو اعزاز کی طرح وصولنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ آئی سمجھ ۔۔۔ ثوبان نے کہا اس کے لہجے میں نفرت تھی پر ہانیہ اپنے غرور اور اکڑ میں دیکھ کر ان دیکھا کرچکی تھی ۔۔۔

“ہاں سمجھ گئی ۔۔۔ اسی پر مر مٹے تھے تم ۔۔۔ وہ تو میں نے گھاس نہیں ڈالی ورنہ ۔۔۔۔۔ اس لیے اب تم ایسی باتیں کر رہے ہو توتوتوتتتتت ۔۔۔ وہ طنزیہ ہنسی تو ہستی چلی گئی ۔۔۔ کچن سے نکل گئی ۔۔۔ وہ نفرت سے اسے دیکھتا رہ گیا ۔۔۔ غرور تھا اس کی چال میں ایسا لگتا تھا ایک دنیا کو اپنے قدموں تلے روندتے ہوۓ جارہی ہو ۔۔۔ ثوبان کو افسوس ہوا ۔۔۔

@@@@@@@@@

اس کی فرینڈ کے مشورے پر اس نے انگلش لینگیوج کلاس جوائن کی تھی کیونکہ اسے دقت ہورہی تھی بولنے میں اس طرح پڑھنے میں اس کا حرج ہورہا تھا ۔۔۔ سعاد کو بتایا تو اس نے کوئی اعتراض نہ کیا ۔۔۔ اسے بھلا کیا اعتراض ہوتا وہ خود چاہتا تھا وہ اگے بڑھے اور یہاں کے لوگوں کی طرح کیریئر کونشیس ہوجاۓ ۔۔۔

اب راستے پہچاننے لگی تھی وہ ۔۔۔ کب کونسی بس پکڑنی ہے کونسے اسٹاپ پر ۔۔۔ سب سمجھنے لگی تھی ۔۔۔ اب سعاد اپنے طریقے جاتا اور وہ اپنے ۔۔۔

ایک مہینہ ہوگیا اسے امریکا میں رہے ہوۓ ۔۔۔ چھ دن مصروف صرف ایک سنڈے فری ۔۔۔ ہفتے کے کپڑے وہ دھوتی سعاد گروسری لاتا اور لنچ تیار کرتا وہ گھر کی صفائی میں لگ جاتی ۔۔۔ رات کا کھانا بھی سعاد بنادیتا وہ کپڑے استری کردیتی ۔۔۔ یوں دونوں کا یہ دن بھی شدید مصروفیات کے نظر ہوجاتا ۔۔۔

وہ اپنا سر مسل رہی تھی آج طبیت بوجھل ہورہی تھی ۔۔۔ جانے کیوں انکھوں میں پانی اگیا ۔۔۔ ایسی مشکل لائف تو اس کا خواب نہ تھی ۔۔۔ کیا خواب دیکھ کر اس نے مان باپ کی ناراضگی مول لی ان کی تعبیر ایسی ہوگی سوچا نہ تھا ۔۔۔ ساعے خواب مٹی کا ڈھیر ہوگۓ کچھ بھی نہ ہوا جیسا اس نے سوچا تھا ۔۔۔

“سعاد تو مشین ہے اب تم ایسی نہ بن جانا رانیہ ۔۔۔ فیاض کی بات یاد ائی اسے ۔۔۔

“اکر دیکھ لیں فیاض بھائی , میں بھی مشین بن گئی ہوں ۔۔۔ رانیہ نے سوچا دکھ سے ۔۔۔

“اف ہم چاہتے ہیں تم یہ مَشِن لیکر امریکا جاؤ اس سعاد کے بچے میں انسانی جذباتی جگاؤ سمجھی ۔۔۔ فیاض نے کہا تھا اس رات جب وہ لوگ باتیں کررہے تھے ان کے جانے میں ایک رات تھی سعاد تو سونے جاچکا تھا جبکہ وہ فیاض سارہ اور نایاب اپی باتیں کررہے تھے ۔۔۔

“ہاں رانیہ تم سے بہت سی امیدیں ہیں مجھے ۔۔۔ نایاب نے محبت سے کہا ۔۔۔ اس کے لہجے میں پیار ہی پیار تھا رانیہ کے لیۓ ۔۔۔

“نایاب آپی ۔۔۔ آپ نے اپنے بھائی کی زندگی سوارنے کے لیۓ میری زندگی کی رونقیں کیوں چھیں لیں ۔۔۔ میں جن کے لیۓ انمول تھی خود کو بےمول کر بیٹھی ان کی نظر میں ۔۔۔ رانیہ نے دکھ سے سوچا اس وقت سر کا درد اور بڑھنے لگا تھا ۔۔۔

ایک اور یاد دستک دینے لگی دماغ اور دل کے دروازوں پر ۔۔۔

“اجاؤ سر دبادوں تمہارا ۔۔۔ صبا کہتی جب بھی اسے شدید سردرد ہوتا ۔۔۔ شدید سر درد میں وہ رونے بیٹھ جاتی اور پورا گھر اسے گھیر لیتا ۔۔۔ تیل کی شیشی لے کر سر کا مساج کرتی کتنی دیر اس کا سر دباتی رہتی ۔۔۔

“اب کیسا لگ رہا درد گیا کہ نہیں ۔۔۔ ثوبان کا فکر سے پوچھنا ۔۔۔

“نہیں ۔۔۔ وہ نفی سر ہلاتی ۔۔۔

“اچھا رکو میڈیسن لاتا ہوں ۔۔۔ وہ دوائی اور پانی لے کر اتا ۔۔۔ وہ دوائی کھا لیتی جو ثوبان دیتا اسے ۔۔۔

“چاۓ بنادیں تمہارے لیۓ ۔۔۔ یسرا بیگم کہتی ۔۔۔

“ہاں امی بسکٹ بھی ساتھ میں ۔۔۔ رانیہ مزے سے کہتی ۔۔ وہ مزے سے اپنے ناز نکھرے اٹھواتی ۔۔۔

“ملکہ عالیہ اور کوئی حکم وہ بھی بتادیں ۔۔۔ ہانیہ پوچھتی آخر میں ۔۔۔

“پلیز اپی گرمی بہت ہے اج لائیٹ آنہیں رہی اپ گرمی کا کچھ کریں ۔۔۔ ہانیہ اس کو گھورتی اور کہتی ” گرمی میں چاۓ پینے کی کیا ضرورت ہے گرمی تو اور لگے گی ۔۔۔ ہانیہ نے بتایا ۔۔۔

“پتا ہے یہی سوچ کر تو اپ سے کہا ہے اب جلدی چائنا فین لیں اور ہوا دینا شروع کریں , ملکہ عالیہ کہا ہے تو کنیز والے کام بھی کریں اب ۔۔۔ وہ اترا کر بولی ۔۔۔

“مانو ماروں گی بڑی بہن ہو کنیز بول رہی ہو مجھے ۔۔۔ ہانیہ نے ڈانٹا اس کے شاہی انداز پر جس پر سب مسکرا رہے تھے ۔۔۔

“ہانیہ بہن کو سر درد ہے دیکھ رہی ہو , اتنی بکواس کے بجاۓ تھوڑا ہاتھ بھی ہلا لیا کرو ۔۔۔ یسرا بیگم نے کلس کر کہا ۔۔۔

یسرا بیگم کی ڈانٹ کے بعد وہ چائنا فین اٹھاۓ اسے ہوا دینے لگی ۔۔۔ صبا اور ثوبان مسکرا رہے تھے جانتے تھے اب دل ہی دل میں ہانیہ افسوس کررہی ہوگی اسے کیا پوچھنے کی ضرورت تھی رانیہ سے جو ایک کام گلے پڑ گیا ۔۔۔ وہ واقعی باآواز خود کو کوسنے لگی اور ساتھ دعا کرنے لگی “لائیٹ اجاۓ اللہ کرے , ہاۓ اب تو اجاۓ لائیٹ ۔۔۔ ہاۓ میرے خوبصورت ہاتھ دُکھنے لگے ہیں ۔۔۔

سب مسکرا اٹھتے اس کے انداز پر ۔۔ ایک لمحے کے لیۓ رانیہ کے ہونٹ مسکاۓ اس لمحے کو سوچ کر ۔۔۔۔

رانیہ کی انکھ میں پانی اگیا سب کو سوچ کر ۔۔ وہ جو چاۓ کے ساتھ دوائی لینے کا سوچ رہی تھی اب اپنی اسٹڈی میں اگئی ۔۔۔

صفحے نکال کر لکھنا شروع کیا ۔۔۔۔

پیاری امی ۔۔۔

بہت شدید سر درد ہے سب یاد ارہے ہو ۔۔۔ فون پر بات کرکے وہ سکون کہاں , بس آپ سب سے فون پر حال احوال میں وقت گزر جاتا ہے ۔۔۔ بس یہ صفحے ہیں جن پر اپنا درد لکھ کر سکوں ملتا ہے ۔۔۔ سارا دن مصروف گزر جاتا ہے جب میں فارغ ہوتی ہوں اپ کے سونے وقت شروع ہوجاتا ہے پاکستان میں ۔۔۔ پھر کیسے ہو دل کی بات ۔۔۔
سمجھ نہیں ارہا اور کیا کیا لکھوں میرے ہاتھ سے وقت نکل گیا کیا کہوں امی ۔۔۔۔ بس اپ کی محبتوں کی قدر نہ کرسکی ۔۔۔
اپ کی بدنصیب رانیہ ۔۔۔ وہ سسک اٹھی رونے لگی ۔۔۔

کل کے صفحے پر اس کی نظر پڑی جو کل رات اس نے لکھا ۔۔۔ ڈسٹ بن میں پھیکنا بھول گئی تھی ۔۔۔

پیاری صبا آپی ۔۔۔

آج اپ کی یاد شدت سے ارہی ہے جانتی ہے کیوں , کیونکہ اپ مجھے روٹی بنانا سکھاتی تھیں میں نے سیکھی نہیں , دیکھ لیں بہت بری روٹی بنانے پر اج سعاد میرا مذاق اڑا رہا تھا ۔۔۔ سچی اپی بنتی ہی نہیں مجھ سے روٹی ۔۔۔ اپ کتنے کام کردیا کرتیں تھیں یہاں سب کام کرتے وقت احساس ہوتا ہے ہم بہنوں نے کبھی اپ کا خیال نہیں کیا ہر کام اپ کے سر ڈال دیتے تھے اور اپ بھی بغیر کچھ کہے بغیر کچھ جتاۓ دل سے کرلیتی تھیں ۔۔۔ آپی اپ بہت اچھی ہیں امی اپ کی گرویدہ تھیں تو بلکل سہی تھیں اپ چاہے جانے کے لائق ہیں , ہانیہ آپی کو یہی بات بری لگتی تھی امی کی کہ وہ اپ سے اتنا پیار کیوں کرتی ہیں ہر وقت اپ کی مثالیں ہمیں دیتیں ہیں ۔۔۔ سچ میں آپی آپ مثالی لڑکی ہیں ۔۔۔ ایک بات سچی کہوں ثوبان بھائی نے اپ کو بلکل سہی چوز کیا ان کو اپ جیسی اچھی لڑکی ہی سوٹ کرتی ہے ۔۔۔ اللہ اپ دونوں کی جوڑی سدا سلامت رکھے میری یہی دعا ہے ۔۔ آپ دونوں ایک ساتھ خوش آباد رہیں ۔۔۔

آپ کی بہن رانیہ ۔۔۔

ہر رات ایسے کئی خط وہ لکھتی سب سے اپنے دل کی بات کہتی ۔۔۔ اپنا دل ہلکہ کرتی کل اور اج کا خط مڑوڑ کر ڈسٹ بن میں پھینک دیا ۔۔۔ پھر کچھ دیر پڑھنے کے بعد اپنے اور سعاد کے مشترکہ بیڈروم میں جاکر سوجاتی ۔۔۔ سعاد اس سے کبھی نہ پوچھتا اس کی انکھیں سوج کیوں جاتی ہیں پڑھنے کے بعد ۔۔۔ وہ تو غور سے کبھی دیکھتا تو پوچھتا ۔۔۔

@@@@@@@@@

چھ مہینے ہوگۓ تھے اسے یہاں رہے ہوۓ ۔۔۔ سعاد کی دھوپ چھاؤں سی طبیت سے اچھی طرح واقف ہوچکی تھی ۔۔ وہ اگر مشین تھا تو وہ بھی ویسی بن چکی تھی ۔۔۔ ویسے بھی ہمارے یہاں اکثر لڑکیاں اپنے شوہروں کے رنگ میں رنگ جاتی ہیں کہاں ہم نے سنا ہے کہ کوئی شوہر اپنی بیوی کے رنگ میں رنگا ہو ۔۔۔ سو رانیہ کا سعاد کے جیسا ہو جانا کوئی انہونی بات نہ تھی ۔۔۔۔ پر رانیہ چاہ کر بھی مکمل سعاد جیسی نہیں ہو پائی تھی یہی وجہ تھی کہ اکثر اس کا دل اداس ہونے لگتا تھا ایسی روٹین سے ۔۔۔ اپنوں کو شدت سے یاد کرتی تھی وہ ۔۔۔

رانیہ کے پہلے سیمیسٹر کے اگزامز قریب تھے ۔۔۔ پر اج دل پر بوجھ بڑھنے سا لگا ۔۔۔ ہر دوسرے تیسرے دن وہ کسی نہ کسی کو خط لکھ کر پھر رو کر ڈسٹ بن میں ڈال دیتی پھاڑ کر ۔۔۔ شاید اب اس کے پاس یہی واحد ذریعہ رہ گیا اپنے دل کا بوجھ ہلکہ کرنے کا ۔۔۔ اگر شاید وہ خط نہ لکھتی ہوتی تو شاید دل درد سے پھٹ ہی جاتا , کہیں نہ کہیں دل کو راستہ مل گیا تھا خود کو سنبھالنے کا , یہ خط اسی کا ذریعہ تھے ۔۔۔

جانے کیوں دل بھرسا گیا تو وہ قلم اور کاغذ لے کر اپنے دل پر پڑا بوجھ ہلکہ کرنے کے لیۓ قلم لے کر لکھنا شروع کیا ۔۔۔

پیاری امی جان اور بابا جان

آج اپ دونوں بہت شدت سے یاد ارہے ہو ۔۔۔ ہر دوسرے تیسرے دن فون پر بات تو ہوتی ہے اپ لوگوں سے پھر بھی جو کہنا چاہتی ہوں وہ کہے نہیں پاتی ۔۔۔ اپ دونوں بہت اچھے ہو , کمی مجھ میں تھی جو قدر نہ کرسکی اپ کی محبتوں کی ۔۔۔ آپ لوگوں کا فیصلا بہت اچھا تھا میرے لیۓ پر غلطی میری تھی جو چمکتی چیز کو سونا سمجھ بیٹھی ۔۔۔ سہی کہتے تھے اپ لوگ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی ۔۔۔ میں نے بہت بڑی غلطی کردی اس سے شادی کرکے وہ واقعی میں چلتی پھرتی مشین یا کوئی گھڑی ہے جو صرف سہی وقت پر کام کرتی ہے ۔۔۔ ذرہ سی دیر ہوجاتی تو غصہ کرنے لگتے ہیں میں گھبراجاتی ہوں پھر غلطی پر غلطی ہوتی چلی جاتی ہے ۔۔۔ پھر ایک دو دن ناراضگی میں گذر جاتے ہیں ۔۔۔ پہلے پہل مناتی تھی اسے اتنی تھکن کے باوجود اس کے پسند کے کھانے بناکر پر پھر بھی وہ راضی نہ ہوتا تھا ۔۔۔ پھر مجھے سمجھ اگیا اس کے ناراض ہونے کا دورانیہ تین دن سے زیادہ نہیں تو بس میں نے منانا چھوڑ دیا ۔۔۔ وہ چوتھے دن خود مان جاتا ہے ۔۔۔ یقین کریں امی اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کسی چیز سے میں مناؤں یا نہیں ۔۔۔

بہت تکلیف ہوتی ہے یہ سوچ کر کہ ایک ایسے شخص کے ساتھ جی رہی ہوں جس کے لیۓ میرا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے ۔۔۔۔

ہوسکے تو مجے معاف کردیں امی بابا , میرے دل کا بوجھ کچھ کم ہوجاۓ شاید ۔۔۔

آپ کی پیاری رانیہ اپ کی چڑیا ۔۔۔

وہ اسٹڈی پر سر رکھ کے پھوٹ پھوٹ کے روپڑی ۔۔۔ کاغذ مروڑ کر ڈسٹ بن میں پھینک دیا ۔۔۔ ہر رات ایک خط اپنوں کے نام لکھ کر یونہی ڈسٹ بن میں پھینک دینا یہی ا کی روٹین تھی یہی اس کی زندگی ۔۔۔ آنسو پونچھ کر باہر نکلی ۔۔۔

کچن میں آئی اور اپنے لیۓ دودھ گرم کرنے لگی ۔۔۔۔

“آجاؤ روم میں ائی ایم ویٹنگ رانیہ ۔۔۔ سعاد نے مخصوص بلاوا دیا ۔۔۔ دودھ پی کر , چہرے کو واش کرتی وہ روم میں آئی ۔۔۔

“آج بہت لیٹ نہیں کردی اسٹڈی میں تم نے ۔۔۔ سعاد نے موبائل یوز کرتے ہوۓ پوچھا ۔۔۔

“نیکسٹ ویک سیمیسٹر ہیں ۔۔۔۔ رانیہ واشروم کی طرف بڑھ گئی اسے جواب دے کر ۔۔

“اوہ سہی ۔۔۔ سعاد نے کہا ۔۔۔

وہ واشروم سے باہر آئی ٹیبل پر پڑے پروٹیکشن کو دیکھ کر بولی ۔۔۔

“سعاد پلیز یہ نہیں ۔۔۔ رانیہ نے اس کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔

“سوری ڈیئر , اتنی جلدی مجھے بچوں کا شوق نہیں ۔۔ اچھی طرح سیٹل ہوجائیں پھر کرلیں گے بچے بھی ۔۔۔ سعاد نے موبائل پر نظر جماتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔ اس نے ایک نظر نہ دیکھا اس کی طرف کہ کیا گزری اس کے دل پر اس کے لفظوں سے ۔۔۔

“اف اپی ۔۔۔ مجھے بچے اتنے پسند ہیں کہ آس پڑوس کے بچے بھی میں اپنے گھر میں رکھ لوں ۔۔۔ رانیہ اکثر کہتی تھی جب ہانیہ غصہ ہوتی تھی ۔۔۔ ہانیہ کو اکثر شدید غصہ اتا تھا جب وہ گلی کے بچوں کو گھر بلا کر کھیلنے بیٹھ جاتی تھی ۔۔۔ تب ہانیہ کو وہ ایسے جواب دیتی تھی ۔۔۔

“ہاں ٹھیک ہے نہ کیئر سینٹر کھول لیتے ہیں سب کے بچوں کو سنبھال لینا تم ۔۔۔ ہانیہ چڑ کر کہتی اس سے ۔۔۔

“ہاۓ آپی آئیڈیا اچھا ہے سچ میں بڑا مزا آۓ گا ۔۔۔۔ رانیہ نے چہک کر کہا ۔۔۔

“آئیڈیۓ کی بچی , فضول ہے آئیڈیا , اچھا یہ رہے گا تمہاری شادی کسی گاؤں والے سے کروادیتے ہیں کرتی رہنا ہر سال ایک بچہ , نۓ سال کا کلینڈر آۓ نہ آۓ پر رانیہ کے گھر ایک نیا بچہ ہر سال انا ہی چاہیۓ ۔۔۔ ہانیہ نے مذاق اُڑاتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“کہاں کھوگئی رانیہ ۔۔۔ آنسو ضبط کرتی وہ بستر پر اگئی ۔۔۔

پھر سعاد اس کے گردن پر جھکا اپنی شدتیں لٹانے لگا ۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ مکمل اس کے حصار میں تھی پر دل خون کے آنسو رورہا تھا ۔۔۔ بچے اس کی کمزوری تھے سعاد اسے اس خوشی سے بھی محروم کرچکا تھا ۔۔۔ کیسا یہ درد تھا کیسی یہ اذیت جس سے چھٹکارے کا کوئی راستہ سمجھ نہ ایا اسے ۔۔۔ کچھ انسو بھا دیۓ وہ بےخبر تھا بےخبر ہی رہا ۔۔۔

میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا
عمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا

میں بہت کمزور تھا اس ملک میں ہجرت کے بعد
پر مجھے اس ملک میں کمزور تر اس نے کیا

راہبر میرا بنا گمراہ کرنے کے لیے
مجھ کو سیدھے راستے سے در بہ در اس نے کیا

شہر میں وہ معتبر میری گواہی سے ہوا
پھر مجھے اس شہر میں نا معتبر اس نے کیا

شہر کو برباد کر کے رکھ دیا اس نے منیرؔ
شہر پر یہ ظلم میرے نام پر اس نے کیا

@@@@@@@@@

“ہانیہ آنٹی مجھے بھی چلنا ہے شاپنگ پر اپ کے ساتھ ۔۔۔ منان نے کہا ۔۔۔

“سوری میرا اپنی فرینڈس کے ساتھ پروگرام ہے باہر کا ۔۔۔ ہانیہ نے بلش آن لگاتے ہوۓ کہا ۔۔۔ آج کل وہ ولید سے الگ دوسرے کمرے میں رہ رہی تھی ۔۔۔ اس طرح وہ پرسکوں رہنے لگی تھی ۔۔۔

شام کا وقت تھا دونوں بچوں کو پڑھا کر فری ہوئی تھی ۔۔۔ اب اسے تیاری کرتے دیکھ منان نے کہا ۔۔۔ وہ اپنی بات کہنے کا عادی تھا جبکہ حنان چپ رہتا تھا ۔۔۔

“ہمیں بھی چلنا ہے ہانیہ آنٹی ۔۔۔ منان نے دوبارہ کہا ۔۔۔۔

“نہیں میں مصروف ہوں ۔۔ پھر کبھی چلیں گے ۔۔۔ ہانیہ نے گھڑی پہنتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“پلیز آنٹی ۔۔۔ منان نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا ۔۔۔

“منان مجھے دیر ہورہی ہے ۔۔۔ ہانیہ نے اپنا ہاتھ چھڑایا اس کے ہاتھ سے نرمی سے آخری دفعہ خود کو دیکھا اور پرس اٹھا کر کمرے سے باہر نکلی ۔۔۔۔

“آنٹی کیا بات ہے اپ ہم سے ناراض ہیں یا پاپا سے ۔۔۔ پیچھے اس کے اکر منان نے کہا وہ سیڑھیوں کے پاس کھڑی تھی ۔۔۔

“میں کسی سے ناراض نہیں منان ۔۔۔ اپ جاکر کھیلو حنان کے ساتھ ۔۔۔ ہانیہ نے اسے تھوڑا سختی سے کہا تاکہ اور ضد نہ کرے ۔۔۔۔

“پلیز آنٹی , اپ کیوں بدل رہیں ہیں ہم سے پہلے کی طرح پیار نہیں کرتیں ۔۔۔ منان اس کا ہاتھ دوبارہ تھام گیا ۔۔۔

“پلیز منان چھوڑو میرا ہاتھ , ایسی کوئی بات نہیں ۔۔۔ وہ اپنا ہاتھ چھڑانے لگی منان اور مضبوطی سے تھام گیا ۔۔۔

“پلیز آنٹی اب اپ پیار سے بات نہیں کرتیں زیادہ غصہ کرنے لگیں ہیں ۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔ وہ التجائی لہجے میں کہنے لگا ۔۔۔

“منان گھر اکر بات کروں گی مجھے دیر ہورہی ہے , ہاتھ تو چھوڑو میرا ۔۔۔ وہ دوبارہ اس کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کرگیا ۔۔۔ وہ ایک قدم سیڑھیوں پر رکھ چکی تھی ۔۔۔ وہ اسے تھامے ہوۓ تھا ۔۔۔ اب ہانیہ کافی اریٹیٹ ہورہی تھی پر سامنے وہ بچہ تھا جو اپنی ضد پر آۓ تو بغیر سوچے سمجھے اپنی کرنے لگتا ہے ۔۔۔

“منان میں نے کہا چھوڑو ۔۔۔ ہانیہ نے پھر سے کہا پر وہ اپنی پر اڑا رہا ہانیہ نے زور لگا کر اپنا ہاتھ چھڑایا وہ اپنے قدم نہ جما سکا سیڑھی کی دہلیز پر اور لڑکھتا چلا گیا ۔۔۔

منان کے ساتھ ساتھ ہانیہ کی چیخین نکل گئیں ۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔