Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

ناول ۔۔۔ انمول سے بےمول

ازقلم ۔۔۔۔ صبا مغل

قسط ۔۔۔۔ 8

“آپی مجھ سے نہیں پہنی جاتی اس قسم کی فینسی شیروانی , آپ کو منع کیا تھا ان سے کہیں مجھے کچھ دینے کی ضرورت نہیں , پر مجھے لگتا ہے آپ کو ایک دفعہ میں میری بات سمجھ نہیں آتی یا میری بات کی کوئی ویلیو نہیں آپ کی نظر میں ۔۔۔

سعاد کا موڈ اب کافی خراب ہونے لگا تھا ۔۔۔ اسے برا لگا تھا اس طرح نایاب کا پوچھنا ۔۔۔ سب متوجہ ہوۓ ۔۔۔ وہ کمرے کی طرف جانے لگا ۔۔ جانے وہ چینج کرنے جارہا تھا یا صرف ناراض ہوکے جارہا تھا ۔۔۔

پر نایاب اپنے بھائی کے اس ریکشن پر گھبرا گئی اس لیۓ جلدی سے اس کا ہاتھ تھام کر روکا اور کہا ۔۔۔

“تم ریلکس ہوجاؤ میرے بھائی غلطی میری ہے جو میں ان کو سمجھا نہ سکی ۔۔۔ میرے بھائی کی نیچر کے مطابق ۔۔ سعاد میرے بھائی پلیز ۔۔۔ اب نایاب رونے جیسی ہوگئی اس کی رونی شکل دیکھ کر سعاد نے خود کو ریلکس کیا اور کہا تو بس اتنا کہ ۔۔۔

“بس آپی دیر ہورہی ہے وہان سب ویٹ کررہے ہونگے ۔۔۔ چلیں ۔۔۔ مشکل سے سہی سعاد نے خود کو سنبھالا تھا ۔۔۔

نایاب کو فکر ہورہی تھی اب کوئی بات ناگوار نہ گزرے اس کے لاڈلے چھوٹے بھائی کو ۔۔۔ اس گھر میں سب کو اس کے موڈ کی فکر رہتی تھی وہ تھا ہی ایسا سب کو احتیاط برتنی پڑتی تھی ۔۔۔

باقی سب بھی گاڑیوں میں بیٹھے یوں بارات روانہ ہوئی ۔۔۔

@@@@@@

ہانیہ حیران تھی حنان اور منان کو دیکھ کر رضیہ بی بھی آئی تھی ان دونوں کے ساتھ ۔۔۔ دونوں اس کی طرف بڑھے اور زور سے ہگ کیا سب حیران ہوۓ بچوں کے والہانہ انداز پر ۔۔۔ پر جو سب سے زیادہ شاک تھا وہ ثوبان تھا کیونکہ وہ کتنی خودغرض ہے اس سے بہتر کوئی نہیں جانتا تھا ۔۔۔

ہوا کچھ یوں تھا بچوں کو چھوڑنے ولید خانزادہ خود آیا تھا ۔۔۔ اس نے کسی سے کہا کہ ” کسی گھر کے بڑے کو بلایا جاۓ ۔۔۔ تو کسی مہمان نے پاس سے گزرتے ثوبان کو بلایا ۔۔

“جی کہیں کیا کام ہے اپ کو ۔۔۔ ثوبان حیرت سے اس شخص اور اس کی گاڑی کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔

پہلی دفعہ ولید خانزادہ نے کسی کی طرف سلام کے لیۓ ہاتھ بڑھایا تو سامنے سے ثوبان نے بھی گرمجوشی سے ملایا ۔۔۔

“دراصل میرے بچے مس ہانیہ کے پاس پڑھتے ہیں .. بچے ان سے کافی اٹیج ہیں اس لیۓ مس ہانیہ نے دعوت دے دی ان کی بہن کے نکاح کے ایونٹ کی اور بچے ضد کرنے لگے اس لیۓ مجبورً لانا پڑا ۔۔۔

ولید خانزادہ خود سے اجنبی لہجے میں یہ سب کہے رہا تھا ورنہ یہ انداز اس کی طبیت کا حصہ نہ تھا کسی کے بھی ایونٹ میں یوں نہ خود جاتا تھا نہ اس کے بچے جاتے تھے شاید اس لیۓ اس نے غیر معمولی انداز اپنایا ہوا تھا ۔۔۔

“یہ تو بہت اچھی بات ہے ۔۔۔ آپ بھی آئیۓ , بچے تو اندر چلے جائیں آپ اس طرف آجائیں مردوں کا انتظام اس طرف سے ہے ۔۔۔ ثوبان نے خلوص سے کہا ۔۔۔ یہ ان کی روایت کا حصہ تھا گھر آۓ مہمان کو بےانتہا عزت دینا ۔۔۔

“نہیں , تھینک یو ۔۔۔ جیسے فری ہونگے گاڑی لینے اجاۓ گی ۔۔۔ بس گھر کے کسی مرد سے مل کر تسلی کرنا چاہتا تھا ۔۔۔ ولید نے اپنے انے کا مقصد بتایا ۔۔۔

تب ہی ثوبان نے بتایا بینکیوٹ سے بچوں کو پک کرنا ہے کیونکہ نکاح کی تقریب وہیں تھی اور کچھ دیر میں نکلنے والے تھے وہ لوگ ۔۔۔ کچھ دیر میں ولید خانزادہ چلاگیا بینکیوٹ کا ایڈریس پوچھ کر۔۔۔

ثوبان اس وقت سے , غور سے ہانیہ کو دیکھ رہا تھا جو دونوں بچوں سے مزے سے بات کررہی تھی گھٹنوں پر بیٹھ کر ۔۔۔ دونوں بلیک کمپلیٹ میں حسین لگ رہے تھے اب ہانیہ ان دونوں کی ٹائی درست کررہی تھی جو ٹیڑی ہوئی پڑی تھی ۔۔۔ ثوبان کو کچھ غیر معمولی لگا وہ کافی الجھا تھا اس کے رویۓ اور انداز پر ۔۔۔

“ہانیہ تم کسی کو اپنا بخار نہ دو اور بےوجہ ان بچوں کو پیار دو , ناممکن , یہ بات ہضم نہیں ہوئی ۔۔۔ کچھ ہے جو مسنگ ہے ۔۔۔ ثوبان اس کو فوکس کرتے ہوۓ سوچا ۔۔۔ اس کی پرسوچ نظرین ہانیہ پر ہی تھیں جس کے پیچھے اب بچے چل رہے تھے وہ اپنی ماں سے ملوارہی تھی دونوں کو ۔۔۔

“تم اتنی خودغرض ہو جو جانتے ہوۓ کہ میں چاہتا ہوں تم کو پھر بھی میری قدر نہ کی , قدر کے بجاۓ مجھے بات بے بات ذلیل کرتی تھی ناصرف خود بلکہ دوسروں کے سامنے میرا تماشہ بنانے سے باز نہیں آتی تھی ۔۔۔ مگر میں جان کر بھی انجان بن جاتا اور پھر جب اپنا مطلب پڑتا تو میری چاپلوسی کرکے اپنا کام نکلواکر پھر وہی سنگدل حسینہ بن جاتی تھی ۔۔۔ تم سے میرے انمول جذبات جڑے تھے جس کی وجہ سے تم میرے لیۓ انمول ہوا کرتی تھی ۔۔۔ اب سنبھل گیا ہوں میں , اب تم مجھے استعمال نہیں کرسکتی ۔۔۔۔ بہت بری ہو تم اب ان بچوں کے ساتھ کوئی کھیل اگر کھیل رہی ہو تو دیکھنا اس بار تم کو سب بڑوں کے سامنے کروں گا ۔۔۔ ثوبان نے دل ہی دل میں سوچا ۔۔۔

پھر کچھ دیر میں وہ بینکیوٹ کے لیۓ روانہ ہوۓ سب ۔۔۔۔

@@@@@@

دلہن والوں نے ویلکم کیا بارات کا ۔۔۔ احمد صاحب اور نازیہ بیگم کو شدید شاک لگا سعاد کے کمپلیٹ پہن کے انے پر ۔۔ پر اس کے روکھے انداز پر وہ خاموش ہوگۓ کچھ کہنے کی ہمت نہ کرسکے ۔۔۔ پر ان کے چہروں پر جو رونق تھی وہ مدہم پڑ چکی تھی ۔۔۔ ثوبان کو افسوس ہوا یہ سب دیکھ کر ۔۔۔

احد اور یسرا بھی مہمانوں کی طرح شامل ہوۓ تھے ان کو کسی کی پرواہ نہ تھی ۔۔۔

یسرا کا دکھ اج گہرا تھا کیونکہ آج صبح ہی انہوں نے اپنی بڑی بہن نازیہ سے ہانیہ اور ثوبان کے لیۓ بات کی تھی ۔۔۔جس کے جواب پر نازیہ نے کچھ یوں کہا ۔۔۔۔

“یسرا تمہیں کچھ غلط فہمی ہوئی ہے , ثوبان سے ہانیہ کے لیۓ میں بات کرنا چاہی پر میری بات مکمل ہونے سے پہلے وہ مجھے ٹوک گیا اور خود صبا کے لیۓ مجھے کہا ۔۔۔ میری بہن مجھے معاف کردو ۔۔۔ نازیہ نے ہاتھ جوڑے ۔۔۔

نازیہ کی کہی بات پر تڑپ کر یسرا نے بہن کے ہاتھ تھامے ان کے جڑے ہاتھ الگ کیۓ اور کہا ۔۔۔

“آپی مجھے گنہیگار نہ کریں , یوں شرمندہ ہوکر , مجھے غلط فہمی ہوگئی تھی مجھے معاف کرو آپ ۔۔۔ غلطی میری ہے اپ کی نہیں ۔۔۔ یسرا نے سب اپنے اوپر لے لیا رانیہ پر اس غلط فہمی کا الزام نہ آنے دیا ۔۔۔ ماں تھیں خود بیٹی سے ناراض تھیں پر کسی اور کی نظر میں گرے بیٹی یہ گوارہ نہ تھا یسرا کو ۔۔۔

“نہیں یسرا , مجھے افسوس ہے ہم بہنیں جڑ نہیں سکیں اولاد کی ڈور میں ۔۔۔ نازیہ نے اپنے دل کی بات کہی ۔۔۔

“آپی ۔۔۔ صبا بھی ہماری اپنی بیٹی ہے , یقین مانیں ثوبان کا انتخاب لاجواب ہے ۔۔۔ جہاں تک بات ہے شکل صورت عمر کا فرق وہ سب عارضی شے ہے اصل ہے اندر کی خوبصورتی , صبا کا اندر بہت خوبصورت ہے ۔۔۔ میں خوش ہوں ہماری گھر کی بچی گھر میں رہے گی ۔۔۔ یسرا نے کھل کے اظہار کیا وہ کتنی خوش ہے , جس سے نازیہ کے دل کو ڈھارس ملی ورنہ پہلے ہی رانیہ کو اب تک ماں باپ نے معاف نہ کیا تھا ۔۔۔ اس لیۓ ان کو خوف تھا کہیں اب بہن سے بھی ناراض نہ ہوجاۓ۔۔۔ نازیہ کو اپنے دل پر سے بوجھ سرکتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔

دوسری طرف دونوں بھائیوں کی اس موضوع پر بات ہوئی یوں فیصلہ ہوا کہ نکاح لے چند دن بعد صبا کا ہاتھ باقاعدہ مانگیں گے ۔۔۔ احد صاحب کو بھی کوئی اعتراض نہ تھا , ثوبان اور صبا کے رشتے پر ۔۔۔

پر ان سب میں ایک چیز تھی جو کسی کو محسوس نہ ہوئی وہ تھی رانیہ پر دونوں میاں بیوی کا غصہ اور ناراضگی بڑھ گئی تھی جس نے اپنی خواہش کے چکر میں غلط بیانی سے کام لیا ۔۔۔ ان کو افسوس تھا ان کی یہ بیٹی بھی خودپرست اور مطلبی ہے ۔۔۔

دیکھا جائے تو رانیہ نے اتنا بڑا گناہ نہیں کیا تھا اپنی پسند بتا کر جتنا بڑا گناھ بنتا جارہا تھا ۔۔۔ پر جو دکھ , درد اور تکلیف اس کے ماں باپ محسوس کر رہے تھے اس کا اس کی آنے والی زندگی پر یقینن اثر پڑنا تھا کیونکہ جس بات سے ماں باپ کا دل دُکھتا ہے اس پر تو عرش عظیم پر بیٹھا اللہ بھی دکھی ہوتا ہے ۔۔۔

فی الحال رانیہ ہر بات سے بے خبر خوش اور مطمئن تھی ۔۔۔ آج اسے اپنی منزل مل رہی تھی ۔۔۔ آنے والا وقت اس کے حصے میں کیا لاتا وہ وقت ہی بتاۓ گا ۔۔

@@@@@@@

نکاح خیر خیریت سے ہو گیا ۔۔۔ مہمان سب خوش ہوۓ ۔۔ دعوت بہتریں رہی ۔۔۔ توقیر صاحب نے معذرت کی سعاد کے شیروانی نہ پہننے پر وجہ کے طور پر مجبورً ان کو جھوٹ بولنا پڑا کہ ” آئرن کرتے ہوئے جل گئی شیروانی تھوڑی سی ۔۔۔ ثوبان اچھی طرح سمجھ رہا تھا یہ بہانہ ہے ۔۔۔ وہ سعاد کی اریٹیشن محسوس کررہا تھا ۔۔۔

سعاد ان کمفرٹیبل محسوس کر رہا تھا اتنے لوگوں کی جھرمٹ میں کیونکہ وہاں تنہا رہتا آیا تھا اچانک اتنے لوگوں کا گہراؤ اسے مزید پریشان کررہا تھا ۔۔۔ نکاح کی کچھ تصاویر نکلنے کے بعد وہ بیزار ہوکر کھڑا ہوگیا ۔۔۔ ابھی تو دلہن بھی اس کے پاس اکر نہ بیٹھی تھی کیونکہ کھانے کے بعد ہی دولہے دلہن کا فوٹوسیشن ہونا تھا ۔۔۔

نایاب اس کے اٹھنے پر جلدی سے اس کے پاس آئی اور کہا۔۔۔

” تمہارا اور رانیہ کا ابھی فوٹو سیشن ہونا ہے ۔۔۔ بلکل آہستہ آواز تھی نایاب کی ۔۔۔

“آپی پلیز اب جلدی وائینڈاپ کریں بیزاریت ہورہی ہے مجھے ۔۔۔ مجھے شہد والی فیلنگ آرہی ہے جیسے میں کوئی شہد ہوں جس پر مکھیاں اور چیونٹیاں گہراؤ کیا ہوا ہو ۔۔۔
شکر ہے سعاد بھی ہلکی آواز میں بولا تھا ورنہ اس سے کیا بعید کہ وہ کچھ بھی کہہ دے دھڑلے سے ۔۔۔

باہر ملک سے آئے لوگ اکثر آؤٹ سپوکن ہوتے ہیں اور سعاد بھی کچھ ایسا ہی تھا ۔۔ پر نایاب کے گھبرا کر آہستہ آواز بات کرنے پر وہ بھی آہستہ بول گیا ورنہ وہ اکثر اپنی بات کھل کے کہنے کا عادی تھا ۔۔۔

“اوکے میں جلدی لاتی ہوں دلہن کو کچھ فوٹو ہوجائیں پھر تم سب سے مل کر چلے جانا ۔۔۔

سعاد اتنا بیزار ہوگیا تھا دلہن والے کافی دور ہوکر ریزروو ہوکر بیٹھے تھے ۔۔۔ ہانیہ تو ویسے ہی خود مغرور تھی اپنے جیجو کے انداز پر وہ سائیڈ ہوگئی تھی اسٹیج پر کم ہی آئی ۔۔۔ صبا کو جیسے نازیہ کہے رہی تھی ویسے ہی اس نے کام سنبھالا ہوا تھا ۔۔۔

دلہا اور دلہن کا چھوٹا سا فوٹو شوٹ ہوا اور سعاد بیزاریت سے فوٹوگرافر کی انسٹریکشن فالو کررہا تھا ۔۔۔ رانیہ محسوس کررہی تھی وہ اس کی طرف دیکھ بھی نہیں رہا تھا ۔۔۔ نایاب کافی حد تک اپنی طرف سے رانیہ کو مطئمن کرآئی تھی کہ سعاد ان فنکشن سے بیزار ہوتا ہے وہ عادی نہیں سب چیزوں کا ۔۔۔ پر پھر بھی ہر لڑکی کی طرح اس کے من میں خواہش تھی اس کا شوہر اسے سراہے ۔۔ تعریف تو ہر عورت کی کمزوری ہوتی ہے ۔۔۔ سعاد کے انداز سے لگ رہا تھا وہ ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا ۔۔۔

فوٹو سیشن سے فارغ ہوکر وہ گھر کے بڑوں سے مل کر گھر کے لیۓ روانہ ہوا ثوبان اسے دروازے تک چھوڑنے ایا ۔۔۔ کچھ مہماں حیراں ہوۓ کہ ” پہلا دلہا ہے جو سب سے پہلے گیا ہے مہمانوں سے بھی پہلے ۔۔ سو منہ سو باتیں تھیں کہ شاید دلہا خوش نہیں جبھی بیزار ہے ۔۔

بحرحال گھر کے لوگ خاموش تھے کچھ ضروری لوگوں کو صفائیاں بھی پیش کی جارہی تھیں ۔۔۔ نایاب شرمندہ سی رانیہ اور اس کے گھروالوں کو اپنے بھائی کی صفائیاں دے رہی تھی ۔۔۔ نکاح تو ہو چکا تھا اب کچھ بھی کہنا بیکار تھا ۔۔۔

مغرب کے وقت شروع ہوا فنکشن رات گیارہ بجے ختم ہوا ۔۔

ڈھیر ساری مٹھائیاں ڈراۓ فروٹس اور فارن کا کاسمیٹک پرفیوم جیولری واچ اور کچھ ڈریسز گفٹ دیۓ نکاح کے موقع پر ۔۔ تعریف سب کررہے تھے دلہے والوں کی طرف سے آئی چیزوں کی ۔۔۔۔ اس سب کی وجہ سے مہمانوں کو کچھ تسلی ہوئی تھی ۔۔۔

@@@@@@@

کھانے کے بعد ولید خانزادہ لینے ایا تھا بچوں کو ۔۔ رضیہ بی پہلے ہی ہانیہ کو بتا چکی تھی “صاحب خود آرہے ہیں لینے ۔۔۔ ولید خانزادہ کچھ گھنٹوں میں کئی بار رضیہ بی سے بچوں کی خیریت ہوچھتا رہا تھا اور مس ہانیہ کا بھی پوچھتا کہ ” بچے اس کے آس پاس ہیں یا اکیلے ہی اپنی مستی میں لگے پڑے ہیں ۔۔۔ جس پر رضیہ نے کہا “بچے مس ہانیہ کے ساتھ ساتھ ہیں ۔۔۔

جب بچے اس کے ساتھ نہ ہوتے تو رضیہ بی کو تلقین کرنا نہ بھولتی ہانیہ اب بچوں کو نظر میں رکھے کیونکہ وہ تھوڑی مصروف ہے ۔۔۔

پر کچھ دیر بعد بچے دوبارہ ہانیہ کے پاس پہنچ جاتے اور وہ بغیر شکن لاۓ ماتھے پر ان کو پیار دیتی اور مصروفیت ایکسپلیں کرتی ۔۔۔ بچوں اور ہانیہ کے اس انداز پر رضیہ بھی مسکرا کر رہ جاتی ۔۔۔

دروازے تک خود ہانیہ چھوڑنے آئی اور ولید خانزادہ کو سلام کیا ۔۔۔ جس کا جواب اس نے خوشاسلوبی سے دیا اور کہا ۔۔۔

“سر بچے انسسٹ کررہے ہیں کل ان کے پیٹیم پر میں جاؤں اور ویسے بھی میرا یونی سے آف ہے ۔۔۔ اگر آپ گاڑی بھیج دیں تو میں چلی جاؤں گی بچوں کے ساتھ ۔۔۔

جانے کیوں یہ لڑکی جب سامنے آتی ہے تو اپنی باتوں سے حیران کردیتی ہے ولید کو ۔۔۔اس وقت بھی بچوں نے کہا ۔۔

“یسس پاپا ہم ٹیچر کے ساتھ جانا چاہتے ہیں فیاض انکل کے ساتھ نہیں ۔۔۔

ولید خانزادہ خاصا شرمندہ ہوا بچوں اور ہانیہ دونوں سے ۔۔۔

“میں خود چلوں گا اپ کے ساتھ , ڈونٹ وری بچوں ۔۔ ولید نے سنبھل کر کہا ۔۔۔۔

حنان تو چپ ہوگیا منہ پھلا کر پر منان رہ نہ سکا اس لیۓ بولا کہ ” پلیز پاپا ٹیچر بھی چلیں ہمارے ساتھ ۔۔

دونوں بچوں کو ہمیشہ کی طرح یقین تھا کہ ان کا رزلٹ خراب آئے گا اسی لئے مس ہانیہ کے لیئے کہے رہے تھے کیونکہ وہی ان کو بچا سکتی ہے ان کے پاپا کے غصے سے ۔۔۔

بچوں کو اپنی لگی پڑی تھی اور ہانیہ کو اپنی ۔۔۔ کیونکہ اس بار تو فیاض انکل کے بجاۓ پاپا جارہے تھے تو ان کا ڈرنہ فطری تھا ۔۔۔

“اوکے اپ ریڈی ہوجائیۓ گا گاڑی لینے آۓ گی اپ کو ۔۔۔ تھک کر ولید کو بچوں کی ماننی پڑی ۔۔۔ جانے کیوں اس کے سامنے وہ اپنے بچوں کو انکار نہ کر پاتا تھا شاید اس لیئے کیونکہ وہ صرف ٹیچر ہو کر بھی اتنا خیال کر رہی تھی پھر وہ باپ ہو کرکے کیسے ان سے بے پرواہ ہو جاتا ۔۔

“یسس تھیک یو پاپا ۔۔۔ دونوں نے ایک آواز کہا ۔۔۔

راستے میں بھی رضیہ بتانا نہ بھولی کس طرح ہانیہ نے بچوں کو سنبھالا ہوا تھا ۔۔ ہانیہ اسے امپریس کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا مکمل اعتماد جیت چکی تھی ۔۔۔

یوں ہی دونوں بچوں کو پیار کرکے اور اللہ حافظ کرکے پلٹی وہ ۔۔۔ جیسے پلٹی سامنے ثوبان کو دیکھ کر وہ گھبرائی اور زیادہ گھبراہٹ اس کے تیور دیکھ کر ہی ہوئی تھی ۔۔۔

“یہ سب کیا ہورہا ہے ہانیہ اس نے تند لہجے میں پوچھا۔۔۔ اس کے لہجے میں کاٹ تھی ۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔