Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 34

انمول سے بےمول

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 34

Last Episode part 2

اس کی فلائیٹ پاکستاں کی سرزمیں سے پرواز کرچکی تھی ۔۔۔ پر دل اس بار بےانتہا اداس تھا ۔۔۔

کل رات نایاب اور اس نے بےانتہا باتیں کیں تھیں ۔۔۔ جس میں زیادہ تر رانیہ کے مطلق ہی رہیں تھیں ۔۔۔ وہ کہیں بار شرمندگی کے مارے اعتراف کرچکا تھا اپنے رویوں کا نایاب سے ۔۔۔ وہ بہن تھی اور سعاد اس کا پیارا بھائی وہ مسلسل اسے تسلی دیتی رہیں اور سمجھاتی بھی رہیں ۔۔۔

اور جب اس نے فراز کو بتایا کہ بہت جلد وہ پاکستان اجاۓ گا اپنا سب کچھ سمیٹ کر تو فراض نے خوشی سے اسے گلے لگایا ۔۔۔

“سچ سعاد یہ جان کر مجھے بےانتہا خوشی ہوئی ہے ۔۔۔ پاپا کا بزنس ہم مل کر سنبھالیں گے , اسے اور بلندیوں تک لے جائیں گے ۔۔۔ پاپا کے جانے کے بعد میں ٹوٹ گیا تھا یہ خبر سنا کر تم نے مجھے بہت بڑی خوشی دی ہے میرے یار ۔۔۔

وہ جو سوچ رہا تھا کہ شاید فراض کو اس کی بات پسند نہ آۓ پر اس کے ریکشن نے اسے مطئمن کیا ۔۔۔

“جانتے ہو سعاد پاپا کی یہ خواہش تھی ہم دونوں بھائی مل کر ان کا بزنس سنبھالیں ۔۔۔

سعاد یہ بات جانتا تھا اس کے تایا ابو کی یہ خواہش ہے پر فراض اس سے متفق ہوگا یہ سوچا نہ تھا اس نے ۔۔۔ جانے کیوں سعاد کو ہمیشہ ایسا لگتا تھا کہ تایا ابو کبھی ان دونوں بھائی بہن کو بوجھ نہ سمجھیں اس لیۓ وہ کھنچا کھنچا رہتا تھا ۔۔۔ نایاب آپی تو ان سے الگ نہیں ہوسکتیں تھیں کیونکہ وہ عورت تھیں ۔۔۔ وہ مرد تھا اس لیۓ الگ رہنا اس نے بہتر سمجھا ۔۔۔ اپنی سوچ پر افسوس ہوا تھا اسے اس لمحے ۔۔۔

@@@@@@@@@

اے حرف تسلی تیری مشکور ہوں لیکن

یہ “خیر ہے” کہنے سے بہت آگے کا دکھ ہے

پیاری امی اور بابا ۔۔۔

یقین جانیں یہ بیس دن میں شدید اذیت میں رہی ہوں یہ سوچ سوچ کر وہاں سب کیا کر رہے ہونگے۔۔۔ اگر میں جاتی تو اس وقت کیا کرتی پھر یہ ہوتا پھر وہ ہوتا , یہ سب سوچیں مجھے مارہی دیں گی امی۔۔۔ شاید اس قدر میں نے اپ کا دل دکھایا ہے کہ مجھے نصیب نہ ہوا پاکستاں کی سرزمیں پر قدم رکھنا ۔۔۔
سب کی یاد شدت سے ارہی ہے , پتا نہیں اپ لوگ مجھے یاد بھی کرتے ہونگے یا نہیں ۔۔۔ امی کاش سعاد اپ لوگوں کے پاس آۓ اپ سے ملے تو شاید مجھے کچھ سکون مل جاتا پر مجھے پتا ہے ان کو اتنے زیادہ رشتے جھمیلے لگتے ہیں وہ نہیں آئیں گے اور اگر غلطی سے آۓ بھی ہونگے تو یقینن نایاب اپی کے کہنے پر کچھ دیر کے لیۓ آئیں گے ۔۔۔ سعاد کے لیۓ رشتے بوجھ ہیں پر امی یہ سب رشتے میرے جینے کی وجہ ہیں ۔۔۔ اب میں امید کھونے لگی ہوں کہ کبھی سعاد بدلیں گے بھی ۔۔۔ میں اندر ہی اندر گُھٹ گُھٹ کر مرنے لگی ہوں ۔۔۔ مجھے معاف کردیں امی , بابا , اپ سے ضد کرکے ایسے شخص سے جڑ بیٹھی ہوں جس کے لیۓ کوئی رشتہ معنی ہی نہیں رکھتا ۔۔۔ سب رشتے میرے لیۓ سانس کی مانند ہیں ان سے جدائی مارہی تو رہی ہے اپ کی رانیہ کو ۔۔۔ ہوسکے تو مجھے معاف کردیں امی بابا ۔۔۔

آپ کی بدنصیب بیٹی رانیہ

کچھ لمحوں بعد پھر سے قلم اور کاغذ لے کر دوبارہ ایک خط لکھنا شروع کیا ۔۔۔ ایسا لگتا تھا اج رانیہ غم کی انتہا پر ہے وہ کم ہی ایک رات میں دو خط لکھا کرتی تھی ۔۔۔ پر اج کی رات یہ اس کا دوسرا خط تھا جو وہ لکھ رہی تھی ۔۔۔

پیاری صبا آپی اور ثوبان بھائی

امید ہے ٹھیک ہونگے اپ لوگ اور اپ کے بچے بھی ۔۔۔ کتنے دن ہوۓ تفصیلی بات ہی نہ ہوسکی ہے ہماری ۔۔۔ بہت یاد ارہی ہے اپ سب کی ۔۔۔

سچ میں اج دل شدید اداس ہے ۔۔۔ ورنہ تو روز کسی ایک کو خط لکھ کر دل ہلکہ ہوجاتا ہے صبا آپی پر اج دل کو سکوں میسر نہیں۔۔۔ صبا آپی آپ کی خوبصورت باتیں ہمیشہ مجھے یاد آتی ہیں ۔۔۔
سچ اتنے پیارے دو گولو مولو بچوں کے بعد دوبارہ خوشخبری ہے اپ لوگوں کے پاس سوچ کر ہی اتنی خوشی ہورہی ہے کیا بتاؤں ۔۔۔ میں پاکستان ہوتی تو ایک بےبی اپ کا لے لیتی شاید۔۔۔ سچ اتنا شوق ہے مجھے دونوں کو پیار کرنے کا ۔۔۔ شکر کریں میں نہیں ہوں اپ لوگوں کے پاس ورنہ دونوں میرے پاس ہی ہوتے اور اپ لوگ ڈھونڈتے رہ جاتے اپنے بچوں کو ۔۔۔

کیا اپ لوگوں کو اپنی رانیہ یاد بھی آتی ہے جب اپنے بچوں کو دیکھتے ہیں , جو بچوں کی اتنی دیوانی ہوا کرتی تھی ۔۔۔ جب بچوں کو دیکھتے ہیں تو میں یاد اتی بھی ہوں یا نہیں ۔۔۔۔ سچ بتائیں کسی لمحے تو میری یاد آئی ہو اپ کو۔۔۔نہیں نہیں کہاں میری یاد اتی ہوگی , اتنا دور جو اکر بیٹھ گئی ہوں پردیس میں سب سے دور ۔۔۔ کوئی کسی لمحے مجھے کہاں یاد کرتا ہوگا ۔۔۔ پر مجھے اپ سب لوگ شدت سے یاد اتے ہو ہر لمحے ہر پل ۔۔۔ تبھی تو ہر رات کسی نا کسی کو خط لکھ کر اپنے دل کا حال سناتی ہوں ۔۔۔ سچ بتائیں کبھی ہچکی آتی ہے اور خیال ایا ہو کہ رانیہ ہمیں یاد کررہی ہوگی ۔۔۔ کیوں اپ لوگوں کو لگتا ہے میں امریکا کی روشنی میں کھوگئی ہوں , میں نہیں کھوئی ہوں , میں اپ لوگوں کی وہی رانیہ ہوں ۔۔۔ وہی رانیہ ۔۔۔۔

میز پر سر رکھے وہ پھوٹ پھوٹ کر رودی ۔۔۔ کاغذ کے کئی لفظ مٹ گۓ ۔۔۔

ایک اور کاغذ اٹھا کر رانیہ نے دوبارہ لکھنا شروع کیا ۔۔۔

پیاری ہانیہ آپی

آج آپ کی یاد شدت سے ارہی ہے ۔۔۔ اپ کا مجھے پیار سے مانو کہنا میرے لاڈ اٹھانا سب شدت سے یاد اتا ہے ۔۔۔ اپ جو کسی کو گھاس نہیں ڈالتی تھیں پر مجھے مانو کہے کر جب پیار کرتیں , میرے لاڈ اٹھاتیں ,مجھ پر حق جتاتیں , تو بہت پیاری لگتی تھیں ۔۔۔ میرے سب ناز نخرے برداش کرنے والی میری خوبصورت سی اپی صرف بچوں سے میری شدید محبت پر اپ کا چڑ جانا مجھے حیران کرتا تھا ۔۔۔ باقی ہر معاملے میں اپ نے میرا ساتھ دیا ۔۔۔ اپ کے پیار کا نخریلا انداز مجھے شدت سے یاد اتا ہے ۔۔۔ ویسے اپی آپ نے بھی کمال کردیا بچوں سے اتنا چڑنے والی اتنی اچھی ماں ہوسکتی ہے میں نے تو کبھی نہ سوچا تھا پر وڈیو کال پر حنان منان کو دیکھ کر اندازا ہوجاتا ہے اپ کتنی اچھی ماں ثابت ہوئیں ہیں ان کے لیۓ , کتنی اہم ہیں اپ ان کے لیۓ اور کتنے اہم ہیں وہ دونوں اپ کے لیۓ ۔۔۔ ان دونوں کی ایک ایک مسکراہٹ پر اپ کے ہونٹوں کا مسکرانا میں نے دیکھا ہے ۔۔۔ سچ میں فخر محسوس ہوتا ہے اپ پر اپ بہت اچھی ہیں ۔۔۔ کل جب حنان اور منان نے مجھے خالہ بننے کی نوید دی سچ میں دل بہت خوش ہوا اور جس طرح ولید بھائی اکر اپ کے ساتھ کھڑے ہوۓ کتنی مکمل فیملی پکچر تھی سب کھلتے ہونٹ سچ بتاؤں میں نے تو اسکریں شاٹ لے لیا , کل سے اج تک کتنی بار دیکھ چکی ہوں ۔۔۔ آپ لوگ ہونہی مسکراتے رہیں بس اتنی دعا ہے ۔۔۔۔ پلیز اپی اپ بھی اپنی مانو کے لیۓ دعا کریں میرے لیۓ آسانیاں ہوں ۔۔۔ اپ کی بہن رانیہ

کافی دیر بعد وہ ان خطوں کو پڑھ کر ڈسٹ بن کے نظر کرچکی تھی ۔۔۔ کل سعاد نے اجانا تھا پھر وہی مشینی روٹین سوچ کر رانیہ کے اعصاب پر شدید تھکن سوار ہوئی ۔۔۔ وہی اسٹڈی پر سر رکھے سوگئی ۔۔۔

@@@@@@@@@@

اگلے دن سعاد اگیا تھا وہ اسے لینے ایئرپوٹ نہیں گئی کیونکہ سعاد کو یہ چیزیں پسند نہ تھیں ای دو مرتبہ جب باہر ملک گیا تھا وہ اسے لینے آئی تھی پر اس کے ریکشن نے اسے افسوس میں مبتلا کیا تھا ۔۔۔ اس مرتبہ وہ اسے ریسیوو کرنے نہ گئی بلکہ آفیس سے شارٹ لیوو لے کر اگئی تھی اور کھانے پر اہتمام کرنے لگی ۔۔۔ جانتی تھی سعاد کو کھانے کا اہتمام زیادہ پسند نہیں آۓ گا کیونکہ اسے ویسٹیج آف ٹائم اور ویسٹیج آف فُڈ لگے گا ۔۔۔۔ پر وہ بھی کیا کرتی کچھ ٹپیکل پاکستانی عادتیں چھوٹنے والی نہ تھیں رانیہ سے ۔۔۔

سعاد ایا وہ اس سے ملی سلام دعا کیا ۔۔۔ صرف ہاتھ ملانے پر رانیہ نے التفات کیا جانے کیوں سعاد اس کو دیکھتا ہی رہ گیا ۔۔۔ اس ی آنکھوں کا تاثر تکلیف دے گیا ۔۔۔

“کیسی ہو رانیہ ۔۔۔ سعاد نے پوچھا ۔۔۔ جانے کیوں وہ اسے نڈھال سی لگی ۔۔۔

“ٹھیک ہوں ۔۔۔آپ کیسے ہیں ۔۔ رانیہ نے آہستہ سے کہا ۔۔۔

“میں بھی ٹھیک ۔۔۔ سعاد نے کہا ۔۔۔
“کھانا لگا دوں ۔۔۔۔ رانیہ نے پوچھا ۔۔

“ہممم میں فریش ہوکر آتا ہوں , تب تک تم لگاؤ , ہم مل کر کھاتے ہیں ۔۔۔ سعاد نے سھولت سے کہا ۔۔۔

وہ فریش ہوکر ایا رانیہ نے کھانا لگادیا ۔۔ کھانا کھانے دوران دونوں کے بیچ خاموشی برقرار رہی پر سعاد اسے سراہانا نہ بھولا اتنا اہتمام اس کے لیۓ کرنے پر جس پر وہ چونکی ضروری ۔۔۔ اس کی چپ سعاد کو تکلیف دے رہی تھی ۔۔۔ کسی لمحے سعاد کو لگتا وہ کچھ کہنا چاہتی ہو پھر لگنے لگا جیسے کچھ کہنا نہیں چاہتی۔۔۔

ایسے ہی کچھ لمحے گزرگۓ اور اس چپ کو سعاد نے توڑا اور کہا ۔۔۔

“رانیہ پوچھوگی نہیں پاکستاں میں کیا ہوا , اپ کے گھروالوں سے ملنے گیا وہاں کیا باتیں ہوئیں پوچھوگی نہیں ۔۔۔ سعاد نے خود ہی اگاز گفتگو شروع کیا ۔۔۔

“آپ وہاں گۓ تھے سعاد ۔۔۔ رانیہ نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔

“ہاں گیا بھی تھا اور بہت وقت بھی گزار کر ایا ہوں ان کے ساتھ ۔۔۔ سعاد نے مزے سے بتایا ۔۔۔

“سچ میں ۔۔۔ رانیہ نے تصدیق کےلیۓ کہا ۔۔۔

“بلکل سچ ۔۔ میں چاۓ بناتا ہوں ہم دونوں کے لیۓ پھر بیٹھ کے باتیں کرتے ہیں ۔۔۔ سعاد نے اس کا جوش دیکھتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“نہیں سعاد میں بناتی ہوں ۔۔۔ رانیہ نے پرجوش لہجے میں کہا ۔۔۔ اس نے سعاد کا ہاتھ تھام لیا اور دوبارہ بولی ۔۔۔

“اپ بیٹھیں میں بناکر لاتی ہوں ۔۔۔

اپنے ہاتھوں پر تپش محسوس کرتا سعاد دوبارہ بولا ۔۔۔

“رانیہ تمہیں تو بخار ہے ۔۔۔

سعاد کا لہجہ حیرت سے بھرا تھا ۔۔۔

“ہاں کچھ دنوں سے ہے , میں میڈیسن لی ہوئی تھی شاید اس کا اثر ختم ہوا ہے تبھی ۔۔۔ دوبارہ لیتی ہوں ۔۔۔ آپ فکر نہ کریں ۔۔۔ وہ جلدی جلدی بولی وہ حیران ہوا اس کی برداش پر ۔۔۔ اسے جلدی تھی اس سے اپنوں کا حال سننے کی ۔۔۔

“پاغل ہوکیا اس طرح دوائی لینا حل نہیں چلو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں ۔۔۔ سعاد کے لہجے میں فکر تھی اس کے لیۓ ۔۔

“آپ تھک کر آئے ہیں کل چلیں گے ۔۔۔ رانیہ نے سھولت سے اسے سمجھانا چاہا ۔۔۔

“نہیں رانیہ , بہت بخار لگ رہا ہے بیٹھو تم ۔۔۔ میں فیور دیکھوں ۔۔۔

سعاد کے چہرے پر اتنی فکر نے حیران کیا اسے ۔۔۔ وہ جلدی سے فرسٹ ایڈ باکس لے ایا , جو پہلے تو اسے ملا ہی نہیں اصل جگہ سے جسے رانیہ نے یاد انے پر بتایا رات اسٹڈی میں شاید وہ لے کر گئی تھی ۔۔۔ وہ جلدی سے لایا فرسٹ ایڈ باکس اور اس کا فیور چیک کیا جو 101پر تھا ۔۔۔

“چلتے ہیں ہاسپیٹل ۔۔۔ سعاد نے فکر سے کہا ۔۔۔ رانیہ کے چہرے پر طمانت آئی اس کا فکرمندانہ انداز دیکھ کر ۔۔۔

“پلیز نہیں سعاد … رانیہ نے کہا ۔۔۔ بوجھل اور نڈھال سی رانیہ کو تھامتا ہسپتال لے گیا ۔۔۔

پر سعاد اسے زبردستی لے گیا جہاں کچھ ٹیسٹ اور انجکشن لگائی اور دوائی لے کر گھر اگۓ … دودھ کے ساتھ سعاد نے اسے گولیاں دیں جسے کھاکر وہ سوگئی ۔۔۔ وہ اس چہرہ دیکھتا رہ گیا ۔۔۔

@@@@@@@@

کچھ گھنٹوں کے بعد دوبارہ وہ بےچین محسوس ہوئی سعاد کو , جو اپنا سر ادھر ادھر پٹخ رہی تھی ۔۔۔ سعاد کو چیک کرنے پر پتا چلا دوبارہ وہ شدید بخار میں پھنک رہی ہے یہ بےچینی اسی کی وجہ ہے ۔۔۔ سعاد نے ڈاکٹر کی ہدایت مطابق پٹیاں رکھنا شروع کیں ۔۔۔

کچھ دیر میں اسے ارام اگیا , سعاد اس کے خوبصورت چہرے کو دیکھتا رہا جو کلملا کر رہ گیا تھا ۔۔۔ وہ اس کی پیشانی چوم گیا محبت سے ۔۔۔

“اے اچھی لڑکی جلدی سے ٹھیک ہوجاؤ بہت کچھ کہنا ہے تم سے ۔۔۔۔ پلیز جلدی سے ٹھیک ہوجاؤ ۔۔۔ سعاد کی آنکھ سے ایک خاموش آنسو نکل کر اس کے بالوں میں جذب ہوگیا ۔۔۔

“چھے گھنٹے ہوچکے ہیں پچھلے ڈوز کو ایک اور دے دوں اب ایسا نہ ہو دوبارہ بےچین ہوجاۓ ۔۔۔ یہی سوچ کر اس کا کاندھا ہلا کر پیار سے جگایا ۔۔۔

“پلیز رانیہ دوائی کھالو پھر بھلے سوجانا دوبارہ ۔۔۔ سعاد کے کہنے پر وہ کسمکسا کر اٹھی سعا نے سہارا دیا اور دوائی کھلائی اسے ۔۔۔

“تھینک یو ۔۔۔ رانیہ نے معصوم لہجے میں کہاسعاد کو وہ نڈھال لگی ۔۔۔ وہ اس کا ہاتھ تھامے دوبارہ سوگئی ۔۔۔۔

“مجھے معاف کردو رانیہ , میں ہی تمہارا خطاکار ہوں ۔۔۔ مجھے معاف کرکے ایک موقعہ تو دوگی نا , اپنی جانے انجانے میں کی گئی زیادیتیوں کا مداوا کرسکوں ۔۔۔ سعاد اسے دیکھتا ہوا بولا ۔۔۔

اس کے خاموش ہونٹ مسکاۓ اچانک وہ دیکھتا ہی رہ گیا اس کے حسین چہرے کو ۔۔۔

“ایسی خوشی تاعمر دینا چاہتا ہوں , ایسے مسکراؤ تم ہمیشہ ۔۔۔۔ وہ خود سے بولا ۔۔۔

اچانک اس کے ہونٹ ہلے وہ آہستہ آہستہ بول رہی تھی کچھ ۔۔۔

وہ اس کے بلکل قریب ہوگیا تاکہ سن سکے سمجھ سکے وہ کیا بول رہی ہے ۔۔۔

“پلیز ایسے ہی رہنا جیسے خوابوں میں مل رہے ہو مجھے , پلیز بدلنا مت ۔۔۔ شاید وہ اس کی پرواہ کو خواب سمجھ رہی تھی , اس سے التجا کررہی تھی کہ وہ نہ بدلے ۔۔۔

“تم ٹھیک ہوجاؤ دیکھنا اب بلکل نہیں بدلوں گا ۔۔۔
سعاد کا دل بوجھل ہوا جو تھوڑی بہت نیند سفر کی تھکان کی وجہ ارہی تھی وہ بھی اڑ گئی تھی ۔۔۔ رانیہ اس کا ہاتھ بھی چھوڑ چکی تھی ۔۔۔ جانے کیوں سعاد کو دکھ ہوا اس کے ہاتھ چھوڑنے پر ۔۔۔ اتنی دیر اسے اچھا لگ رہا تھا وہ اس کا ہاتھ تھامے سو جو رہی تھی ۔۔۔

دل بردشتہ ہوکر وہ اٹھا اور کچھ سوچ کر اسٹڈی کی طرف گیا تاکہ کوئی کتاب پڑھ کر ہی وقت گزارلے , ویسے بھی وہ جاب چھوڑ چکا تھا دوسری جاب کے انٹرویو میں ٹائم تھا ۔۔۔ سو صبح کسی کام کی جلدی بھی نہ تھی اس لیۓ وقت گزاری کے لیۓ کتاب سے بہتر کچھ نہ تھا ۔۔۔

وہ اسٹڈی میں کھڑا کتاب سلیکٹ کررہا تھا اس ٹائم کے لیۓ اچانک اس کی نظر زمین پر گرے کاغذ پر پڑی ۔۔۔

“رانیہ یہ عادت تمہاری نہیں جاتی جب تک ڈسٹ بن بھر نا جاۓ خالی نہیں کرنی ۔۔۔ سعاد نے پہلی دفعہ مسکرا کر سوچا رانیہ کی لاپرواہی کو ورنہ پہلے تو وہ چڑتا تھا اس کی ان حرکتوں سے ۔۔۔ اب خیالات بدلے تو سوچ بھی بدلی تھی ۔۔۔

اس نے کاغذ اٹھایا سرسری نظر ڈالنے پر لفظ پیاری امی پے نظر پڑی , مڑا تڑا کاغذ کچھ سوچ کر اس نے کھولا ۔۔۔ پھر پڑھنا شروع ہوا تو دل کی حالت عجیب تر ہوئی ۔۔۔ پھر کچھ سوچ کر ڈسٹ بن کو کارپٹ پر خالی کیا ۔۔۔ اتنے سارے صفحے وہ سارے کھول کر پڑھنا شروع ہوگیا , اسے پتا ہی نہیں چلا کتنا وقت گزرگیا کب سے اس کے آنسو بہے رہے تھے کچھ اندازہ نہ تھا ہر اک خط میں اس کے لکھے احساسات نے سعاد کا دل چیر کر رکھ دیا ۔۔۔ یہ تو صرف ان بیس دنوں کے کاغذ تھے جو وہ نا تھا یہاں اس لیۓ جمع پڑے تھے پر ان پر لکھی کچھ باتوں سے اندازہ ہوا سعاد کو وہ اتنے سالوں سے یہی کرتی ارہی ہے , کئی لفظ انسو کی نمی کی وجہ سے مٹے ہوۓ تھے سعاد کو اندازہ ہورہا تھا , وہ پھوٹ پھوٹ کے روتی ہوگی ان کو لکھنے کے بعد ۔۔۔ کتنی گھٹن تھی اس کے اندر ۔۔۔

سعاد کو لگا جو اب تک اذیت سہے رہا تھا وہ کچھ نہیں جو اذیت ان کاغذ کے لفظوں پر اس کے اندر اتری تھی وہ تاعمر کم نہیں ہوسکتی ۔۔۔

“یا اللہ یہ کیا ہوگیا مجھ سے ۔۔۔ کیوں کیوں کیسے اس معصوم سے اب نظر ملاؤں گا ۔۔۔۔ وہ خود سے بولا ۔۔۔

ابھی اتنا ہی وہ ماتم کرپایا کہ اچانک دروازہ کھلا اس کی پینٹھ تھی دروازے کی طرف ۔۔۔

“سعاد میں ڈرگئی تھی کہاں چلے گۓ تھے اپ , اس طرح کیوں بیٹھے ہیں ۔۔۔ رانیہ اپنی رو میں بولتی , آہستہ آہستہ چلتی ارہی تھی اس کے قریب اور ساتھ ہی ساتھ اپنی کہے جارہی تھی ۔۔۔

جیسے ہی سامنے وہ دونوں روبرو ہوۓ کاغذ کا پھیلاوا اور سعاد کی آنسو بھری آنکھیں رانیہ ساکت ہی ہوگئی ۔۔۔

“سعاد اپ رورہے ہیں ۔۔۔ رانیہ نے حیرت سے بھرپور لہجے میں کہا ۔۔۔

“مجھے معاف کردو رانیہ , مجھے معاف کردو ۔۔۔ تمہارا گنہیگار ہوں , ایسا گنہیگار جسے خود پتا نہ تھا اس سے اتنا بڑا گناھ ہورہا ہے مجھے معاف کردو , اتنی اذیت برداش نہیں کر پاؤں گا ۔۔۔ وہ زمیں پر اس کے سامنے دوزانو بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔ وہ اس کے ہاتھ تھامے بولا تھا ۔۔۔

“پلیز سعاد چپ کر جائیں ۔۔۔ مرد نہیں روتے پلیز چپ کرجائیں ۔۔۔ وہ اسے چپ کرواتی خود بھی روپڑی ۔۔۔

“کیوں نہیں روسکتے کیا ان کے اندر احساس نام کی چیز نہیں , مجھے معاف کردو پلیز رانیہ ۔۔۔ وہ ابھی بھی اس کا ہاتھ تھامے التجا کررہا تھا ۔۔۔

“پلیز پہلے اپ چپ کرجائیں سعاد , میں نے اپ کو معاف کردیا ۔۔۔ وہ اس کے آنسو پونچھتے ہوۓ بولی ۔۔۔

وہ حیران ہوا حیرت سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔

“ایسے کیا دیکھ رہے ہیں سعاد ۔۔۔ رانیہ نے تشویش سے پوچھا ۔۔۔

“اتنی ارام سے معاف نہ کرو کچھ سزا مجھے بھی دو , میں نے تمہیں اتنی ذہنی کرب سے گزارا ہے ۔۔۔ سعا درد سے چور لہجے میں بولا ۔۔۔ ندامت ہی ندامت تھی اس کے ہر انداز میں ۔۔۔

“پلیز سعاد اپ باہر چلیں ارام سے بیٹھیں بعد میں اس بارے میں بات کریں گے ۔۔۔ رانیہ نے اس کے اور اپنے آنسو پونچھ کر بولی ۔۔۔

وہ دونوں ایک دوسرے کو سہارا دیتے باہر آۓ ۔۔۔ وہ کچن کی طرف جانے لگی ۔۔۔

“تم کہاں جارہی ہو ۔۔۔ سعاد نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔

“چاۓ کی طلب ہورہی ہے , اپ کے اور اپنے لیۓ بنانے جارہی ہوں ۔۔۔ رانیہ نے کہا ۔۔۔

“تم بیٹھو میں بناتا ہوں ۔۔۔ تم ٹھیک نہیں ہو ۔۔۔ سعاد نے کہا ۔۔۔
“پھر سے لمبی بحث نہ ہو ۔۔۔ تھک کر رانیہ نے کہا ۔۔۔

“چلو مل کر بناٹے ہیں ۔۔۔ آسان حل نکالا ہانیہ نے ۔۔۔

سعاد نے پہلے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا جس پر وہ اسے نارمل لگی ۔۔۔

پھر دونوں نے ساتھ مل کر چاۓ بنائی اور ناشتہ بھی بنایا ۔۔۔

دونوں نے ساتھ بیٹھ کر کھایا اور سعاد نے اسے دوائیاں یاد سے کھلائیں ۔۔۔۔

@@@@@@@@@@@

ناشتے کے بعد وہ لاؤنج میں صوفے پر ایک دوسرے کے روبرو بیٹھے تھے ۔۔۔ خاموشی کا راج تھا ۔۔۔ اس خاموشی کو سعاد نے بی توڑا ۔۔۔

“رانیہ جس شدت سے تم یاد کرتی ہو اپنے گھروالوں کو , اسی شدت سے وہ بھی سب تمہیں یاد کرتے ہیں ہر ایک شخص ہر پل ہر لمحے تمہیں یاد کرتے ہیں ۔۔۔ ان کے لیۓ صرف تم ہی نہیں تڑپتی , وہ بھی تڑپتے ہیں تمہارے لیۓ ۔۔۔ سعاد نے اسے بتانا ضروری سمجھا ۔۔۔

“وہ نا یاد کرتے ہوتے تو مجھے کیوں اتنا یاد اتے سعاد ۔۔۔رانیہ نے سوچا کہا نہیں ۔۔۔

کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ دوبارہ بولا ۔۔۔

“میں نہیں جانتا تم نے ہر خط میں کیوں اپنے ماں باپ سے معافی مانگتی ہو , جبکہ تمہارے ماں باپ تم سے بہت پیار کرتے ہیں اور دن رات تمہیں یاد کرتے ہیں اور ان کے کسی انداز میں تمہارے لیۓ ناراضگی نہیں ۔۔۔ وہ خودبخود اسے بتاتا چلا گیا کس طرح احد صاحب نے ان سے کہا تھا اور پھر وہ ان کی تسلی کے لیۓ ان کے گلے لگ گیا ۔۔۔ وہ حیرت سے سعاد کے کہے لفظ سن رہی تھی ۔۔۔ وہ ساکت ہی ہوگئی تھی ۔۔۔

“جانتی ہو وہاں گیا میں تھا پر کسی نے مجھ سے میری بات نہ کی بلکہ ہر کسی کی ایک ایک بات میں صرف تم ہی تم تھی رانیہ ۔۔۔ ان کے ہر سوال ان کے ہر جواب میں صرف تم تھی , میں یقین سے کہے سکتا ہوں ان کی جان بستی ہے تم میں ۔۔۔ اس سے زیادہ کیا کہوں رانیہ ۔۔۔ کتنے انمول رشتے ہیں تمہارے پاس اوت کتنی انمول ہو ان کے لیۓ تم , کیا بتاؤں تمہیں ۔۔۔ سعاد کے لہجے میں رشک تھا اس کے لیۓ ۔۔۔

“اج اپ نے مجھے بہت بڑی خوشی دی یہ سب بتاکر ۔۔۔ یقین کریں اج جاکر میرے دل کو سکوں ایا ہے ۔۔۔ رانیہ نے دل سے اعتراف کیا اور اس کے چہرے کو دیکھنے لگا جس پر کئی رنگ آۓ تھے اس لمحے اس کی باتوں سے ۔۔۔

“ارے تم کو تو بتانا بھول گیا میں تو تمہارے آس پڑوس سب سے ملا ہوں سب سے تمہاری تعریفیں سن کر ایا ہوں اور تمہارے لیۓ ڈھیر سارا پیار وصول کرکے ایا ہوں , خاص کر تمہارے کچوری والے بابا ان کی کیا ہی بات تھی جس نے میری خوب خاطرمدارت کی ۔۔۔ سچ رانیہ وہاں کچھ گھنٹوں میں تمہارا جو روپ سن کر ایا ہوں کیا بتاؤں , مجھے لگتا ہے میں تمہارا فین ہوگیا ہوں ۔۔۔

وہ حیران ہی ہورہی تھی سعاد کی کہی بات پر ۔۔۔

“یہ کیا کہے رہے ہیں اپ سعاد ۔۔۔۔ وہ حیرت زدہ لہجے میں بولی ۔۔۔

“رانیہ میں تمہارے ساتھ یہ پل گزارنا چاہتا ہوں , اسی انداز میں جیسی تم پہلے تھی بلکل ویسے ۔۔۔ اس لیۓ میں نے سوچا ہم واپس پاکستاں جاکر اپنوں کے بیچ رہیں گے ۔۔۔۔ کیا تم میرا ساتھ دوگی ۔۔۔ سعاد نے محبت سے چور لہجے میں کہا ۔۔۔

“ہاں سعاد ایک عرصہ ہوا ہے مجھے بھی تنہا اکیلے یہاں رہے میں بھی اپنے ملک واپس جاکر اپنوں کے ساتھ اپنوں کے بیچ رہنا چاہتی ہوں ۔۔۔ پر سعاد اپ کی جاب ۔۔۔ رانیہ نے جوش سے کہا پر آخری لفظوں میں اس کے مایوسی تھی ۔۔۔

“وہ تو میں پہلے ہی چھوڑ چکا ہوں اب مسئلا تمہاری جاب کے کونٹریک کا ہے ۔۔۔۔ سعاد نے مزے سے کہا ۔۔۔

“پہلے چھوڑ چکا ہوں کیا مطلب ۔۔۔ رانیہ حیران ہوئی ۔۔۔

“کیونکہ تیمور شاہ مجھ پر زور ڈال رہا تھا کہ تم کو اس کے پیلس لے جاؤں , یا اپنی کمپنی میں انٹرنشپ کرواؤں , اس کے ارادے ٹھیک نہیں لگے مجھے اس لیۓ میں نے خود جاب چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا بجاۓ اس کے وہ مجھے نکالیں۔۔۔ سعاد نے سکوں سے کہا جیسے فرق نہ پڑا ہو اسے ۔۔۔

“سعاد اپ کو اپنی جاب سے اتنا پیار تھا بہت جلد اونچے مقام تک پہنچتے اور اپ نے جاب چھوڑدی صرف اتنی سی بات کی وجہ سے ۔۔۔ رانیہ نے تعجب بھرے لہجے میں کہا ۔۔۔

“نہیں رانیہ یہ اتنی سی بات نہیں ہے یہ بہت بڑی بات ہے ۔۔۔ تمہیں بھلے میں امریکن لگتا ہوں پر میں آج بھی اندر سے ایک پاکستانی مرد ہوں جو اپنی بیوی کے معاملے میں غیرت مند ہوجاتا ہے اگر کوئی اس پر بری نظر ڈالے ۔۔۔۔ سعاد کے مضبوط لہجے پر دنگ رہ گئی وہ ۔۔۔ واقعی وہ غلط سمجھی تھی سعاد کو ۔۔۔ پھر رانیہ نے اسے مناسب لفظوں میں بتادیا کہ وہ تیمور شاہ کی کمپنی میں ہی جاب کررہی ہے ۔۔۔ اس کے بدلنے کا بھی بتایا اور خاص کر فائز کی کوشیشیں اسے محفوظ رکھنے کی ۔۔۔ جس پر سعاد نے کہا “ہم مل کر اس کا شکریہ ضرور ادا کریں گے ۔۔۔

دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراۓ ۔۔۔

کچھ دیر کے بعد سعاد بولا ۔۔۔

“ایک شکایت تم سے بھی ہوتی ہے رانیہ , کاش تم یوں خاموشی نہ اپناتی اپنی بات ڈٹ کر کہتی تو حالات مختلف ہوتے ۔۔۔ سعاد کا انداز سرسری تھا ۔۔۔

“سہی کہا سعاد اپ نے , اسی خاموشی نے بہت بڑا نقصان کیا ہے ہمارا , کچھ اپ کی غلطی ہے تو کچھ میری بھی ہے ۔۔۔
رانیہ نے اعتراف کیا ۔۔۔

“نہیں رانیہ زیادہ میری ہے تمہاری تو بس ذرا سی ہے ۔۔۔۔ مجھے معاف کردو بس دل سے ۔۔۔ سعاد نے ایک بار پھر ہاتھ جوڑے اس کے سامنے ۔۔۔ وہ اس کے ہاتھ کھولتی بولی ۔۔۔

“بس کریں سعاد ایسے مجھے شرمندہ نہ کریں , میں نے معاف کیا دل سے ۔۔۔

وہ اسے خود سے لگا گیا ۔۔۔ وہ اس کے سینے پر سر رکھے خود سے بولی ۔۔۔

“سعاد کیا بتاؤں اپ کو , مجھے خاموش اپ کے سرد رویوں سے زیادہ اس خلش نے کیا کہ میں نے اپنے ماں باپ کو دکھی کرکے اپ سے شادی کی ہے , یہی خلش , مجھے اندر ہی اندر مار رہی تھی ۔۔۔ میں خود اذیتی کا شکار ہوگئی تھی , یہ اپ کا بڑپ پن ہے اپ سارا الزام خود کو دے رہیں جبکہ آپ جیسے تھے وہی بہیوو کررہے تھے ۔۔۔ بدلی تو میں تھی اپنے گلٹ میں , مجھے لگا ماں باپ کو دکھی کرنے والی اولاد بےمول ہوجاتی ہے اور پھر حقیقتً میں نے خود کو بےمول سمجھ لیا ۔۔۔ پر میں غلط تھی اج بھی ان کے لیۓ میں انمول ہوں اور رہوں گی ہمیشہ , یہ بات سمجھنے میں بہت وقت لگ گیا کہ ” ہر ماں باپ کے لیۓ اس کی اولاد انمول ہی انمول ہوتی ہے ۔۔۔ آپ سے زیادہ میں غلط تھی , مجھے سمجھنا چاہیۓ تھا کہ ماں باپ اولاد سے زیادہ دیر ناراض رہ ہی نہیں سکتے ۔۔۔ میں واقعی ان کی ناراضگی کو خود پر سوار کر بیٹھی اور اتنی اذیت میں رہی اتنا عرصہ ۔۔۔ اج میں پرسکوں ہوں , اپ سے جان کر کہ وہ مجھے کتنا چاہتے ہیں , کتنی انمول ہوں ان کے لیۓ اور اپ بھی بدل گۓ اور واپس پاکستاں جارہے ہیں ہم انہیں محبتوں کے درمیان ۔۔۔

“کیا سوچ رہی ہو ۔۔۔ سعاد مسلسل اس کے بالوں میں انگلیاں چلا رہا تھا , اس کی اتنی لمبی خاموشی پر بول اٹھا ۔۔۔

“کچھ نہیں سعاد ۔۔۔ وہ آہستہ سے بولی ۔۔۔

“اچھا , جانتی ہو پاکستان سے آتے ہوۓ ایک فیصلہ میں کرچکا ہوں ۔۔۔ سعاد کا لہجہ ٹھوس تھا وہ چونکی ۔۔۔

اس نے اس کے سینے سے سر اٹھا کر سوالیہ انداز میں پوچھا “وہ کیا ۔۔۔

“وہ یہ کہ ۔۔۔ وہ بات کو کھینچتا یوا بول رہا تھا اور رانیہ بغور اس کے سیریس انداز میں تمہید باندھنے کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ وہ پھر تھوڑی خاموشی بعد بولا ۔۔۔ “وہ یہ کہ ہانیہ کی بات مجھے پوری کرکے دکھانی ہے رانیہ کے گھر نۓ سال کا کیلینڈر آۓ نہ آۓ پر ہر سال ایک بچہ ضرور آۓ گا ۔۔۔

وہ جھینپ کر اس کے ہی سینے میں سر چھپا گئی اتنے سریس انداز میں یہ کہے گا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی خاص کر سعاد وہ اس سے اس طرح کے مذاق کی امید کبھی لگاہی نہیں سکتی تھی ۔۔۔

“ہانیہ آپی بھی نہ , یہ بات بھی اپ کو بتادی سب نے ۔۔۔ مذاق ۔۔۔۔ رانیہ شرمندگی سے کہے رہی تھی جس کی بات کاٹ کر سعاد بولا ۔۔۔

“یہ مذاق نہیں میں سیریس ہوں رانیہ , دیکھنا اب تم ہی پناھ مانگو گی مجھ سے ۔۔۔ سعاد نے مزے سے کہے کر اسے چڑایا ۔۔۔

“اپ ہی توبہ کرلیں گے, مجھے بچے بہت پسند ہیں ۔۔۔۔ رانیہ نے بھی انگوٹھا دکھایا ۔۔۔

پھر تو بس ایک نئی بحث شروع ہوگئی ساتھ ساتھ دونوں کے قہقہے گونجنے لگے ۔۔۔

“اتنا بولتی ہے رانیہ کہ بندے کا سر کھاجاۓ ۔۔۔ سعاد کو ثوبان کی بات یاد آئی ۔۔۔

سعاد نے سوچا کہ “انشاء اللہ دوبارہ وہی وقت آۓ گا ۔۔۔ میں امریکا سے واپسی پر اپ لوگوں کی وہی رانیہ لے کر آؤں گا ۔۔۔

بے شک سچی نیت سے کی کوشیشیں کبھی رائیگان نہیں جاتیں ۔۔۔

“تو چلو دیکھیں گے کون تھکتا ہے ۔۔۔ مجھے تو وہاں بچوں کی لگائی رونق بہت پسند آئی رانیہ ۔۔۔ سعاد نے کھل کے کہا وہ مسکرائی ۔۔۔ سعاد اسے خود سے لگا گیا ۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔

۔۔۔