No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
ناول ۔۔۔ انمول سے بےمول
ازقلم ۔۔۔۔ صبامغل
قسط ۔۔۔۔ 5
کبھی میں انمول ہوا کرتی تھی
اب بے مول ہی بے مول ہوں
کئی لڑکیوں کی کہانی کا ایک مجموعہ , دل کو چیردیتی سچائیاں لیۓ اپ کو پیش نظر کیا جارہا ہے ۔۔۔ ہمارے معاشرے کی سچائیوں کو ملا کر لکھا گیا ۔۔۔ کون کہتا ہے کہ خواب چھوٹے ہوتے ہیں خواب تو ہمیشہ بڑے ہوتے ہیں ہماری سوچ سے بھی پرے کے ہوتے ہیں اور جو ان کو پورا کرنے کی جستجو کرتا ہے اسے ان کی قیمت تو چکانی ہی پڑتی ہے۔۔۔۔ یہ خواب ہماری آنکھوں کی بینائی تو چھین لیتے ہیں پھر واقعی میں آنکھوں کو حقیقت نظر نہیں آتی حقیقیت کو جھٹلا کر صرف خواب کو پورا کرنے کی لگن لگی رہتی ہے ۔۔۔ اسی سفر کا نام ناول انمول سے بےمول ہے ۔۔۔
@@@@######@@@@@@
“تو پھر اپ کو بچوں کو نہ صرف پڑھانا ہوگا بلکہ ان کی تربیت پر دھیاں دینا ہوگا کیونکہ ایک استاد دونوں کام کرسکتا ہے ۔۔۔ مس ہانیہ ریو گیٹینگ ماۓ پوائنٹ ۔۔۔
ولید خانزادہ کے لب لہجے میں وہ کھوسی گئی ۔۔۔ اس نے پین سے ٹک ٹک کیا ٹیبل پر جس سے وہ حواس میں آئی ۔۔۔
“جی جی ۔۔۔ اس کے چہرے پر بوکھلاہٹ تھی ۔۔۔
“واٹ جی ۔۔۔ واٹ یو انڈرسٹینڈ ۔۔ وہ تھوڑا روڈ ہوا ۔۔۔ ولید خانزادہ سب پر غصہ ہوسکتا ہے پر ایک استاد پر نہیں یہی وجہ تھی اس کی بوکھلاہٹ پر ضبط سے کہا تھا اسے ۔۔۔
اس کا بھاری لہجہ ہانیہ کو اپنی ہرٹ بیٹ مس ہوتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔
“سر میں اپنی پوری کوشش کروں گی اچھا پڑھانے کی ۔۔۔ اب کے ہانیہ نے سنبھل کر کہا ۔۔۔
” صرف پڑھانا نہیں تربیت پر بھی دھیان دینا ہے۔۔۔ ولید خانزادہ نے اپنی بات دہرائی ورنہ یہ اس کی عادت نہ تھی ۔۔۔
“سوری سر یہ میرا نہیں ایک ماں کا کام ہے تربیت کرنا ۔۔۔ میرا کام پڑھانا ہے جو میں بہت اچھے طریقے سے کر سکتی ہوں ۔۔ ہانیہ نے سہولت سے کہا بغیر ولید خان زادہ کے تاثرات دیکھے ۔۔۔
وہ ضبط کے مراحل پر تھا ۔۔۔ اس سے پہلے وہ کچھ کہتا فیاض صاحب نے کہا ۔۔۔
“اوکے مس ہانیہ آئیۓ اپ کو دروازے تک چھوڑ آؤں اور کچھ کلیئر کرسکوں ۔۔۔ ہانیہ حیرت سے ولید خانزادہ کے تاثرات دیکھ رہی تھے ۔۔۔ جو اپنی دونوں مٹھیاں بھینچ چکا تھا چہرہ سرد ہونے لگا آنکھیں لال ہو رہی تھیں ۔۔۔ وہ بےسمجھی سے دونوں کو دیکھ رہی تھی فیاض صاحب کے دوبارہ کہنے پر اپنی جگہ سے اٹھی ۔۔۔
“آئیۓ مس ہانیہ وہ باہر کی طرف گئی ۔۔۔ جاتے ہوۓ ایک نظر ولید خانزادہ پر ڈالنا نہ بھولی جو اپنی ایک مٹھی بند اپنے ہونٹوں پر رکھ چکا تھا ۔۔۔ وہ ایک نظر میں سمجھ گئی وہ ضبط کے کڑے مرحلے سے گزر رہا ہے اور وہ سوچ رہی تھی اس نے ایسا کیا کہا تھا جو یہ شخص اس طرح غصے سے آگ بگولا ہو رہا تھا ۔۔۔۔
باہر آنے کے بعد فیاض صاحب نے کہا ۔۔۔
” دیکھیئے مس ہانیہ کیا آپ واقعی یہ جاب کرنا چاہتی ہیں یا نہیں۔۔
“بالکل کرنا چاہتی ہوں اگر نہیں کرنا چاہتی تو آتی کیوں انٹرویو کے لئے ۔۔۔
” اوکے گڈ اگر آپ کرنا چاہتی ہیں تو ایک بات واضح کر دوں مسز خانزادہ اس دنیا میں نہیں ہیں ۔۔۔۔ اس لیے سر نے آپ سے بچوں کی تربیت کی بات کی کیونکہ صرف ماں ہی نہیں بلکہ ایک ٹیچر بھی اپنے اسٹوڈنٹس کی تربیت کر سکتی ہے اگر چاہے تو ۔۔۔ آپ سمجھ رہی ہیں میری بات اگر آپ تھوڑا ٹائم بچوں کو مینرس اور ایٹیکیٹس کو دیں گی تو آپ کو بہت اچھا سیلری پیکیج آفر ہوگا ۔۔
وہ جو مایوس ہو چکی تھی ایک دم کھل اٹھی یہ جان کر کہ ولید خانزادہ کی بیوی اس دنیا میں نہیں رہی ۔۔۔ اسے اپنے اندر سکون سا اترتا ہوا محسوس ہوا اور اب اس کا لہجہ بھی ہشاش بشاش ہو گیا تھا ۔۔۔
” اوہ ای ایم ویری ویری سوری مجھے اندازہ نہیں تھا فیاض صاحب میں پوری کوشش کروں گی بچوں کی تربیت بھی کر سکوں اور پڑھا بھی سکوں ۔۔۔۔ ہانیہ نے کانفیڈینس سے کہا ۔۔۔
اب وہ پہلے والی ہانیہ خود کو سمجھ رہی تھی جسے خود پر مکمل کانفیڈنس تھا جو چیز وہ حاصل کرنا چاہتی تھی وہ حاصل کرکے ہی رہے گی کوئی چیز اس کے لیے لا حاصل نہ تھی ۔۔۔ ولید خانزادہ تو اس کا آئیڈیل تھا جس سے دستبرادری وہ نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ فیاض صاحب کو یہ کانفیڈینٹ لڑکی بہت پسند آئی تھی بچوں کے لئے کیونکہ اس میں کچھ تو نظر آیا تھا ان کو ۔۔۔ ہانیہ کی آنکھوں کی جوت بڑھ چکی تھی اور اس کے ہر انداز میں سرشاری ہی سرشاری تھی ۔۔۔
“اٹس اوکے کل اپ خود آئیں گی یا آپ کو گاڑی کی سہولت دی جائے ۔۔۔ کچھ سوچ کر فیاض صاحب نے پوچھا ۔۔۔
” گاڑی کی سہولت ہوگی تو مجھے زیادہ آسانی رہے گی ۔۔۔ ہانیہ نے کہا ۔۔۔
” اوکے فیاض صاحب نے کہا اس کے بعد وہ اپنا ایڈریس سمجھانے لگی اور سیلری پیکج پر بات ہوئی ان کے درمیان ۔۔۔
@@@@@@@@
سب حیران سے تھے ان سب کی باتوں پر ۔۔۔ وہ سارہ کے سسرالی تھے اس لیۓ ان سے جو بھی کہنا تھا سھولت سے کہنا تھا ۔۔۔
احمد صاحب جب بولے تو انداز معذرات خواہ سا تھا اور کہا ۔۔۔
“یہ بہت اعزاز کی بات ہے اپ نے ہم سے دوہرا تعلق بنانا چاہا پر ہم معذرت خواہ ہیں اور بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے ہم نے ہمیشہ یہی سوچ رکھا تھا ہماری رانیہ اور ثوبان کے جوڑ کو ۔۔۔ ہم سب کی جان بستی ہے اس چڑیا میں اس لیۓ یہ چڑیا ہم سے دور نہ ہو اس لیۓ یہ ہم سب بڑوں کا فیصلہ ہے ۔۔۔۔
ان سے جتنا ہوسکا اتنا مناسب الفاظ میں اپنی بات کہی ۔۔۔ نایاب کے چہرے پر دکھ اور افسوس تھا ۔۔ پر ایک رشتہ نہ ہونے کی صورت میں اتنا اچھا تعلق خراب کرنا مناسب نہ تھا ۔۔۔
“کوئی بات نہیں انکل , ساری بات نصیب کی ہی ہوتی ہے ۔۔۔ نایاب نے ضبط سے کہا ورنہ ایک رات میں وہ اسے کئی بار سوچ چکی تھی رانیہ کو سعاد کے ساتھ ۔۔۔
فراز اور اس کے بابا چپ ہوگۓ پھر کب ڈنر لگا کسی کو احساس نہ ہوا اور سارہ فراز کے ساتھ روانہ ہوگئی ۔۔۔ جس خوشی کے ساتھ دن کی شروعات ہوئی تھی اختام اتنا اداس کن تھا کیونکہ نایاب کے چہرے پر اداسی اور مایوسی آئی جسے وہ چھپانے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی پر چاہ کر بھی چھپا نہیں پا رہی تھی اور اس کی اداسی دیکھ کر سب اداس ہو گئے تھے ۔۔۔ احمد صاحب کو اندازہ ہو رہا تھا کہ نایاب فراز کے گھر کے لیے کتنی معنی رکھتی ہے جس کی اداسی دیکھ کر اس کے سب گھر والے اداس ہو چکے تھے ۔۔۔
@@@@@@@@@
“رانیہ اٹھو چاۓ بنادو ۔۔۔ یسرا بیگم نے کہا ۔۔۔
“امی میرا موڈ نہیں ۔۔۔ وہ بستر پر پڑی رہی ۔۔۔
“تمہارے موڈ کو کیا ہوا ہے ۔۔۔ اٹھو صبح سے اکیلی صبا کام کو لگی پڑی ہے ۔۔۔ تم اور ہانیہ نے اسے اپنا نوکر سمجھا ہوا ہے جو اپنی مرضی ہوئی کام کرلیا ورنہ نہیں وہ کچھ کہتی نہیں اس کا مطلب تم دونوں ناجائز فائدہ اٹھاؤ اس بات کا مجھے گوارہ نہیں ۔۔۔ اس طرح نہیں چلے گا ۔۔۔ یسرا بیگم کا لہجہ سخت تھا ۔۔۔
اتنا کہنے پر بھی وہ بستر پر پڑی رہی ۔۔۔
“سنائی نہیں دے رہا اٹھو ۔۔۔ چاۓ بنا کر گھر کے کاموں میں صبا کا ہاتھ بٹاؤ ۔۔۔ رانیہ اٹھو ۔۔۔ اب کے ان کا لہجہ کافی سخت تھا ۔۔۔
“نہیں اٹھنا مجھے سمجھی اپ , ہانیہ اپی ٹھیک کہتی ہے اپ کو اپنی بیٹیوں سے زیادہ دوسروں کی فکر ہے ۔۔۔ آپ کو صبا اپی کا کام کرنا دِکھ رہا ہے اور میرا دُکھ اور تکلیف نہیں دکھائی دے رہی ہے ۔۔۔ رانیہ نے کلس کر کہا ۔ آخر کب تک وہ خاموش رہتی جبکہ یہاں کسی کو اس کی خاموشی سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی ۔۔۔ اسی لیے اسے بولنا ضروری لگا۔۔۔
“کونسی تکلیف کونسا دکھ کیا ہوا ہے کل تک تو ٹھیک تھی تم ۔۔۔ یسرا بیگم نے انکھیں دکھاتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“کیسی ماں ہیں اپ , کیا واقعی اپ کو سمجھ نہیں ارہا ۔۔۔رانیہ نے دکھ سے کہا ۔۔
“تم دونوں بہنوں کا دماغ خراب ہے ۔۔۔ ہر بات کا الٹا مطلب لیتی ہو دونوں ۔۔۔ کس بات پر اتنا موڈ خراب کررہی ہو ۔۔۔ یسرا بیگم کو جب بھی غصہ آتا وہ ہر بات میں ہانیہ کو شامل کر لیتی تھیں ابھی بھی وہ رانیہ پر غصہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہانیہ کو شامل کرنا نہ بھولیں تھیں کیونکہ اُن کو ہمیشہ سے ہانیہ سے شکایت رہتی تھیں ۔۔۔ ان کو آج بھی ہانیہ پر غصہ تھا کیونکہ اس نے ہوم ٹیوشن جو اسٹارٹ کر لی تھی وہ تو سخت خلاف تھیں پر گھر والوں کے سپورٹ نے انہیں قائل کیا تھا ۔۔ ایسے ہی تھے یہ لوگ ساتھ رہ کر ایک دوسرے کو سمجھنے والے ایک دوسرے کا سکھ دکھ بانٹنے والے ایک دوسرے کے بچوں کو اہمیت دینا اور مل کر ہر دکھ تکلیف اور خوشی میں صحیح فیصلہ کرنا۔۔۔ ایسا تھا یہ گھرانہ ۔۔۔ محبتوں سے بھرا ۔۔۔
“ہر ماں اپنی بیٹیوں کے نصیب کے لیۓ دعائیں کرتی ہیں اور کچھ اولاد اتنی خوشنصیب ہوتی ہیں جن کو بن مانگے سب مل جاتا ہے , پر اپ واحد ماں ہیں جو میری خوشنصیبی کو بدنصیبی میں بدل رہی ہیں ایک امریکن لڑکے کا رشتہ آپ ٹھکرا رہی ہیں کس کے لیۓ اپنے بھانجے کے لیۓ جو جابلیس ہے ۔۔۔ میرا فیوچر نہیں دیکھ رہیں اپ ۔۔افسوس کا مقام ہے ۔۔۔ رانیہ نے اپنے اندر کی بھڑاس نکالی جبکہ یسرا بیگم کو امید نہ تھی ان کی رانیہ ایسے کہے سکتی ہے ۔۔
“تم بےوقوف ہو جو میں دیکھ سکتی ہوں وہ تمہیں نظر نہیں ارہا ۔۔۔ جو ہم دیکھ سکتے ہیں وہ تم نہیں سمجھ سکتی ۔۔۔ تم ہماری لاڈوں میں پلی بیٹی کوئی تمہیں خود سے دور نہیں کرنا چاہتا اس لیۓ ثوبان کے ساتھ تمہیں جوڑنے کا سوچا ہے یہ ہماری تم سے شدید محبت کا ہی تقاضہ ہے ۔۔۔ یسرا بیگم نے ضبط کرکے پیار سے اے سمجھایا ورنہ انہیں تو سخت غصہ ارہا تھا اس لڑکی پر ۔
“یہ شدید محبت نہیں خودغرضی ہے امی , جو اپ لوگ اپنی خوشی کے لیۓ میرا روشن مستقبل نہیں دیکھ رہے مجھے اس رشتے پر اعتراض نہیں اپ ہاں کردیں پلیز ۔۔۔
رانیہ نے ہمت کرکے اپنے دل کی بات کہے دی یسرا بیگم حیرت سے اپنی بیٹی کو دیکھ رہیں تھیں جسے وہ چڑیا سمجھتی تھیں جو معصومیت کا پیکر تھی کب وہ اتنی بڑی ہوگئی جو اپنا فیصلہ انہیں سنا رہی تھی اور اتنا کچھ کہے رہی تھی ۔۔۔ جسے اپنوں کا فیصلا غلط لگ رہا ہے ۔۔۔ جسے ہماری محبت خودغرضی لگ رہی ہے ۔۔۔ کب ہوا یہ سب سمجھنا ان کے لیۓ مشکل تھا ان کا دل ہی نہیں مان رہا تھا اس حقیقت کو ۔۔ اگر ہانیہ ایسا کچھ کہے رہی ہوتی تو ان کو زیادہ حیرت نہ ہوتی کیونکہ وہ ماں تھیں اپنے اولاد کو خوب سمجھ رہی تھی پر رانیہ تو سب کا چہرہ دیکھنے والی اپنوں کی محبت کی قدر کرنے والی بیٹی تھی ۔۔۔ کب ایسی ہوگئی پتا ہی نہیں چلا ۔۔۔ ان کی انکھوں میں مرچیں سی بھرنے لگیں ۔۔۔
وہ اٹھ کر ان کے قدموں میں بیٹھ گئی وہ جو بیڈ کے دوسرے طرف بیٹھی تھیں ۔۔۔ رانیہ اب ان کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھے سیدھا ان کی انکھوں میں جھانکتے ہوۓ بولی ۔۔۔
“امی ثوبان اور میں نے کبھی اس طرح ایک دوسرے کو نہیں سوچا , ان کی انکھوں میں میں نے ہانیہ آپی کے لیۓ پسند دیکھی ہے ہمیشہ سے اس لیۓ میرا دل کبھی ان کے لیۓ ویسا کچھ نہ سوچ سکا تھا ۔۔۔ پلیز میری خواہش ہے باہر ملک جانے کی گھومنے پھرنے کی جب قسمت سے ایسا رشتہ اگیا ہے میرے لیۓ تو پلیز میری خواہش کا ہی سوچ لیں پلیز ۔۔۔۔اب کے رانیہ نے منت بھرے لہجے میں اپنی ماں سے کہا ۔۔۔
“بس بسسسسس اپنی خواہش کے لیۓ میرے بھانجے پر الزام نہ لگاؤ سمجھی ۔۔۔ پر تمہاری خواہش کا بتادوں گی گھر کے مردوں کو اگے ان کی مرضی ۔۔۔ کیونکہ میں ماں ہوں اس لیۓ میں اپنا فرض پورا کرتی ہوں پر یاد رکھنا اس میں میری رضا نہیں پر تم نے ہم سب کی محبت کو خودغرضی کا طعنہ دیا ہے اس لیۓ تمہارا ساتھ دوں گی ضرور پر اس رشتے کی ذمیداری تمہارے کندھوں پر ہوگی ہمارا واسطہ نہیں ۔۔۔ یسرا بیگم نے دوٹوک لہجے میں کہے کر اس کے ہاتھ اپنے گھٹنوں سے ہٹاۓ اور مردہ قدموں سے دروازے کی طرف بڑھیں ۔۔۔ رانیہ ان کے لفظوں پر خوش ہونے کے بجاۓ گم سم ہو گئی اور ان کو جاتے ہوئے تکتی رہی ایک لمحے کے لیے دل چاہا کہ روک لے اور کہے دے “جو آپ لوگوں کا فیصلہ ہے وہی مجھے منظور ہے , نہیں جانا مجھے باہر ملک ۔۔ پر کیا کرتی خواہش اور خواب ایسے تھے جس نے اس کے ہونٹوں پر قفل لگا دیئے ۔۔۔
“سہی کہتے ہیں لوگ اولاد آزمائش ہے پر بیٹیاں تو بہت بڑی آزمائش ہوتی ہیں اور میری اس بیٹی نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا ۔۔۔ انہوں نے سوچا ۔
ابھی تو کئی مرحلوں سے گزرنا تھا ان کو ۔۔۔ جس کے لیۓ خود کو تیار کرنا تھا ۔۔ دروازے پر کھڑے اپنے شوہر کو دیکھا جن چہرہ دکھ اور صدمے کی تصویر بنا تھا اس کا مطلب وہ سب سن چکے تھے ۔۔۔ رانیہ شاک کیفیت میں دیکھ رہی تھی سب ۔۔۔ وہ دونوں چلے گۓ اور وہ نڈھال سی ہوکر بیڈ پر بیٹھ گئی ۔۔۔
@@@@@@@
ہانیہ کا اج پہلا دن تھا ۔۔ وہ کافی سنج سنور کر آئی تھی بچوں کو پڑھانے ۔۔ گھر کی پریشانیوں ایک طرف رکھ کر وہ آئی پہلے دن وہ چھٹی افورڈ نہیں کرسکتی تھی ۔۔۔ یسرا بیگم کو رنج تھا اس کی دونوں بیٹیاں بلا کی خودغرض ہیں ۔۔۔ گھر کے سارے مسائل کو جھٹک کر وہ اس محل نما گھر میں داخل ہوئی ۔۔۔ حیران سی ہوکر اس کی ڈیکوریشن کو دیکھا ۔۔۔ اسٹیچوز پینٹنگز شاہی صوفے لاؤنج کے بیچوں بیچ بڑا سا جھومر لٹک رہا تھا ۔۔۔ فلور لیمپس اور لاؤنج کے سینٹر میں فلور کانچ کا تھا ۔۔۔۔ اتنا حسین گھر اس نے فلموں میں نہ دیکھا تھا ۔۔ باہر کھڑی دو گاڑیان دیکھ کر اور ایک گاڑی میں وہ خود آئی تھی وہ بےانتہا حیران تھی پر لاؤنج دیکھ کر تو وہ دنگ ہی رہ گئی تھی ۔۔۔
“اس گھر کے بیڈروم کیا ہونگے جس کا لاؤنج اتنا حسین ہو۔۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا ۔۔۔
اسی وقت ایک سادہ لباس میں ملبوس عورت نے کہا ۔۔۔
“میم میں رضیہ بی بچوں کی ایا اور اس گھر کے نوکروں کی ہیڈ ہوں ۔۔۔ چالیس سالہ عورت نے مودبانہ انداز میں کہا ۔۔۔
“ہمممم بچے کہاں ہیں ۔۔۔ ہانیہ نے پوچھا ۔۔۔
“جی وہ سامنے والے روم میں اپ کا انتظار کررہے ہیں ۔۔۔
وہ روم کی طرف بڑھی تو رضیہ چلی گئی کچن کی طرف ۔۔
وہ جیسے کمرے میں داخل ہوئی اس پر کچرے کا ڈھیر گرا ابھی ایک جھٹکے سے نہ سنبھلی تھی کسی نے جلدی سے دروازہ بند کردیا اور کمرے میں اندھیرا ہوگیا تھا اب اسے کیا پتا کہاں لائیٹس کے بٹن ہو وہ گرتی پرتی صوفے پر بیٹھی تو اس کے ہاتھ پر کچھ چپ چپاہٹ سا احساس ہوا اور ناک کے قریب کیا ہی تھا احساس ہوا یہ تو کسی جانور شاید بلی کا پوٹی ہے ۔۔۔ اس کی چیخیں ہی نکل گئیں ۔۔
اسی وقت کمرہ روشن ہوگیا ۔۔
“ٹیچر ڈر گئیں ٹیچر ڈر گئیں ۔۔ دو بچوں نے تالیاں بجا کر ہنستے ہوئے کھلکھلاتے ہوئے کہا ۔۔۔ دونوں بچوں میں ذرا سا فرق ہی تھا ۔۔۔
“حنان منان یہ کیا حرکت ہے ۔۔۔ اسی وقت دروازہ کھول کر ولید خانزادہ ایا ۔۔۔ اسی وقت دونوں بچوں کے چہروں سے مسکراہٹ غائب ہوئی اور ڈر نے جگہ لی ۔۔۔
“وہ پاپا ہمیں نہیں پڑھنا کسی ٹیچر سے ۔۔۔ ان میں سے ایک نے کہا ۔۔۔
” لگتا ہے پچھلی پنشمینٹ کم تھی جو تم لوگوں کو اور بھی سخت پنشمینٹ دینی پڑے گی ۔۔۔ باپ نے سخت لہجے میں اپنے بچوں سے کہا ۔۔۔
ہانیہ کو لمحوں میں اندازہ ہوگیا وہ ایک سخت باپ تھا جس سے اس کے بچے ڈرتے تھے ۔۔۔ شاید پچھلی ٹیچر سے بھی ان لوگوں نے اسی طرح کی کوئی شرارت کی تھی جس کی سخت سزا ملی تھی اب وہ دونوں بچے ڈرے ہوئے تھے ۔۔۔
ایک لمحے میں اس نے فیصلہ کرلیا اگے اسے کیا کرنا تھا ۔۔۔ ہانیہ نے بغیر اس بات کی پرواہ کیے کہ اس کے کپڑے خراب ہو چکے تھے جو بچوں نے رنگ اور کچرہ پھینکا تھا اس وجہ سے ۔۔۔ ہاتھ بھی اس کے گندے تھے ہر بات سے بے پرواہ ہو کر وہ ولید خانزادہ اور بچوں کے بیچ میں آ کھڑی ہوئی ۔۔ ولید خانزادہ جو شدید شرمندہ تھا ہانیہ کی حالت دیکھ کر وہ بچوں کی طرف بڑھا شاید مارنے کا ارادہ رکھتا ہو اس سے پہلے وہ اپنی سوچ پر عملی جامہ پہناتا بچوں اور ولید خانزادہ کے بیچ ہانیہ اکھڑی ہوئی اور وہ حیران ہوا اس کی جُرات پر ۔۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بچوں کی اتنی بد تمیزی کے بعد وہ اس طرح بیچ میں آ سکتی ہے ۔۔۔ حقیقتً وہ اس مغرور شخص کو شاک کر چکی تھی ۔۔۔۔
“ایک منٹ سر , ان بچوں نے میرے ساتھ شرارت کی ہے تو اسی لیے ان کو سزا دینے کا حق صرف مجھے ہے ۔۔۔ سخت لہجے میں کہا ہانیہ نے ۔۔۔
بچے حیرت سے اپنی ٹیچر کو دیکھ رہے تھے جو ان کے باپ کے اگے بولی ورنہ اج تک یہ ہمت کوئی نہ کرپایا تھا ۔۔
تو کیا سزا سوچی ہے اپ نے ان کے لیۓ ۔۔۔ ان کی بدتمیزی بڑی ہے ۔۔ ولید خانزادہ نے اس کی طرف ٹشو باکس بڑھاتے ہوۓ سائیڈ پے کھڑے ہوکر پوچھا ۔۔ باپ کے نارمل انداز پر دونوں بچوں کی سانس میں سانس آئی جو سانس روکے اپنے باپ کو دیکھ رہے تھے کچھ دیر پہلے ۔۔ ہانیہ نے ٹشو سے ہاتھ صاف کر کے ایک دم پلٹی بچوں کی طرف اور جھک کر دوزانو بیٹھی اور کہا ۔۔۔
“بچوں اپ کا فرسٹ لیسن معاف کرنا ہے ۔۔۔ جیسے میں نے آپ کو معاف کر دیا اور آپ کو آپ کے پاپا کی پنشمینٹ سے بچا لیا بغیر آپ دونوں کے معافی کے مانگنے سے پہلے ۔۔۔۔ وہ دونوں حیران اور خوشی کی ملی جلی کیفیت میں بولے ۔۔۔
“سوری اینڈ تھینک یو ٹیچر ۔۔ دونوں نے باری باری کہا ۔۔
“یو ویلکم اب بتاؤ اج کیا سیکھا اپ دونوں نے ۔۔۔ ہانیہ سرے سے فراموش کرچکی تھی ولید خانزادہ کی موجودگی ۔۔۔
“معاف کرنا سیکھا ہم دونوں نے ٹیچر ۔۔۔ دونوں نے ایک ساتھ کہا ۔۔۔حناں منان اسے گلے لگانے کے لیۓ بڑھے تو وہ جلدی کھڑی ہوئی اور کہا ۔۔۔
“ٹیچر فلحال اپ کو ہگ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ۔۔ ہانیہ نے اپنے کپڑوں کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔
“اوہ سوری ہم نے غلط کیا ۔۔۔ اب وہ دونوں شرمندہ تھے اور حیران تو ولید خانزادہ سہی معنوں میں اب ہوا تھا ۔۔۔
فیاض کے انتخاب کو داد دیۓ بغیر رہ نہ سکا ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
