Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

انمول سے بےمول

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 32

2nd last epi …..

وہ حیران اور پریشان تھی تیمورشاہ کو باس کی کرسی پر دیکھ کر ۔۔۔

اسی لمحے اسے یاد ایا کہ اس نے سعاد سے کہا تھا ۔۔۔

” آپ کو کیا لگتا ہے ان میں سے کون سی کمپنی مجھے چوز کرنی چاہیے انٹرنشپ کے لیے ۔۔۔رانیہ نے پوچھا یہ جامتے ہوۓ بھی کہ بھی وہ اسے سہی جواب نہیں دے گا کیونکہ جب اس نے ہاسپیٹل میں ریسپشن والی جاب چھوڑی تھی تب بھی سعاد نے اسے کچھ نہ کہا ۔۔۔ پھع جب اسنے بتایا کہ اس نے ایک ٹیوشن سینٹر جوائن کیا جہاں کمپیوٹر آپریٹر کی سیٹ خالی ہوئی تھی ساتھ میں ریسپشنسٹ بھی تھی ۔۔۔ تنخواہ بھی اچھی ملتی تھی بس کام کا برڈن تھوڑا بڑھا تھا ۔۔۔ اس وقت بھی سعاد نے کچھ نہ کہا ۔۔۔ وہ اس کے کسی معاملے میں نہیں بولتا تھا آخر آزاد ملک کے باشندے جو تھے کوئی کسی کے معاملے میں نہیں بولے گا ۔۔۔۔

پر جانے کیوں رانیہ ہر بات اسے بتانا ضروری سمجھتی تھی ۔۔۔ جس پر سعاد کا رویہ نارمل ہی رہتا تھا ۔۔۔

” میری کمپنی کے علاوہ کوئی بھی جوائن کرو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔ سعاد نے سکوں سے کہا تھا ۔۔۔

“اور اگر میں آپ کی ہی کمپنی جوائن کرنا چاہوں تو ۔۔۔ رانیہ جانے کیوں بات بڑھانا چاہ رہی تھی تاکہ وہ کھل کے اظہار کرے جو اس کے دل میں ہے ۔۔۔

“اوکے , نو پرابلم , تمہاری مرضی جیسا تمہیں ٹھیک لگے ۔۔۔ تم نے رائے مانگی میں نے دے دی ۔۔۔ اس کی یہی بےنیازی رانیہ کو ہرٹ کرتی تھی ۔۔۔ وہ انکار کرے اس کی بات ماننے سے اور اس پر حق جتاکر زبردستی اپنی بات منواۓ ۔۔۔ عورت یہی بات پسند کرتی ہے کاش سعاد جیسے شوہر مرد سمجھ سکیں۔۔۔

کچھ لمحوں کے بعد وہ سنبھل کر بولی ۔۔۔

“تو چلیں آپ دیکھ لیں ان میں سے کون سی جوائن کرو ۔۔۔ رانیہ نے پھر پوچھا ۔۔

“رانیہ ایک بات میری سمجھ لیں ایسے فیصلے آپ خود لیا کریں کیونکہ یہ آپ کے کیریئر کو لے کر فیصلے ہیں ۔۔۔ میرے اوپر ڈیپینڈ نہ کریں , نا ہی اس کی ضرورت ہے اگر میری رائے مانگی ہے تو بس اتنا سمجھ لیں میری کمپنی کے علاوہ کوئی بھی جوائن کریں آپ کے لیے بہتر رہے گی ۔۔۔سعاد کے سرد انداز میں کہی بات پر وہ چپ ہوگئی ۔۔۔

پھر اس نے اپنی سھولت کے حساب سے جوائن کرلی ایک کمپنی بغیر جانے کہ اس کا اونر کون ہے ۔۔۔ وہ قطعی بےخبر تھی تیمور شاہ ان کے باس ہونگے ۔۔۔

رانیہ نے سنبھل کر ان کو گڈ مارننگ وش کیا ۔۔۔ جیسے ایل امپلائی اپنے باس کو کرتا ہے ۔۔۔

“بیٹھیں مس رانیہ ۔۔۔ تیمور شاہ نے حکم دیا ۔۔۔

“مس رانیہ نہیں سر , مسز رانیہ سعاد ۔۔۔ رانیہ نے نرم لہجے میں جتایا ۔۔۔

“اوکے مسز رانیہ ۔۔۔ تیمور شاہ نے دانت کچاۓ ۔۔۔ اب کے سنبھل کر بولا ۔۔۔

“یہ لیں فائل ۔۔۔ تیمور شاہ نے فائیل بڑھائی اور رانیہ نے اسے تھام لیا ۔۔۔

“فائل میں ساری پروجیکٹ کی ڈیٹیلز ہیں اور چھ مہینے کا پروجیکٹ ہے جو میرے سپرویژن میں ہی آپ لوگ کریں گے اس میں سب ٹیم ممبرز کے بھی نام ڈیٹیل وغیرہ مینشن ہے ۔۔۔

تیمور شاہ نے مغرور انداز میں کہا ۔۔۔ ہونٹوں سے مسکراہٹ جدا نہ ہورہی تھی جس کا مطلب واضع تھا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا تھا ۔۔۔ رانیہ اس کا ہر انداز سمجھ رہی تھی ۔۔۔

وہ کشمکش کا شکار تھی ۔۔۔ بےچینی اس کے ہر انداز سے بیان تھی ۔۔۔ زیادہ تر انٹرنشپ بغیر تنخواہ کے ہوتی ہیں اس لیۓ کوئی کانکریکٹ سائن نہیں کیا جاتا پر یہ انٹرنشپ ودھ پے تھی اس لیۓ کانکریکٹ سائن کیا تھا رانیہ نے ۔۔۔ اسے اس سرد ماحول میں بھی پسینے چھوٹ رہے تھے ۔۔۔ اپنی بےوقوفی پر جی بھرکے رونا ارہا تھا ۔۔۔ کاش وہ جان لیتی یہ تیمور شاہ کی کمپنی ہے تو کبھی نہ جوائن کرتی ۔۔۔۔

“مجھے کسی بھی طرح یہ چھ مہینے گزارنے ہیں یہاں ۔۔۔ اللہ میری مدد کرنا اور اس غلیظ شخص سے میری حفاظت کرنا ۔۔۔ اس نے دل ہی دل میں اللہ کو یاد کرکے دعا کی تھی ۔۔۔

تیمور شاہ بغور اسے دیکھتا رہا اور سوچا ۔۔۔

“حسن تو بہت دیکھا ہے تیمور شاہ نے پر اتنا معصوم حسن پہلی دفعہ دیکھا ہے ۔۔۔ جسے چھونے کی تمنا دن بدن بڑھتی جا رہی ہے ۔۔۔

اسی لمحے کسی نے عجلت میں دروازہ کھولا ۔۔۔ تیمور شاہ کے چہرے کے زاویۓ ناگوار ہوۓ ایک دم , جس پر رانیہ نے پلٹ کر دیکھا ۔۔۔ اپنے سامنے فائزشاہ کو کھڑا دیکھ کر وہ حیران ہوئی اور خوش بھی ۔۔۔

پر فائز شاہ نے اس پر نظر ڈالے بغیر اپنے باپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا “ڈیڈ آۓ چینج ماۓ مائنڈ ۔۔۔

“کیا مطلب اس بات کا ۔۔۔ انہوں نے آئی برو اچکا کر پوچھا ۔۔۔

“میں مسٹر جانسن کی کمپنی میں کام نہیں کر رہا بلکہ اپ کی سپرویژن میں اس پروجیکٹ میں کام کروں گا ۔۔۔ فائز نے مغرور انداز میں اپنا فیصلہ سنایا ۔۔۔

“ٹیم مکمل ہے , دوسرے پروجیکٹ میں تمہارا نام ڈال لیتا ہوں ۔۔۔ اوکے ۔۔۔ تیمور شاہ نے کہا ضبط کرتے ہوۓ ۔۔۔ غصہ تو شدید آ رہا تھا پر سامنے جوان بیٹا تھا جس سے الجھنا بیوقوفی تھی اور تیمور شاہ کوئی بیوقوف ہرگز نہیں تھا ۔۔۔

“ناٹ اوکے ڈیڈ ۔۔۔ میں مسز سعاد کے ساتھ ہی اسی پروجیکٹ میں کام کروں گا کیونکہ ہم یونی فیلو ہیں , اٹز ڈن ڈیڈ ۔۔۔ خودسر اور مغرور لہجے میں کہتا وہ اپنے باپ کو لاجواب کرگیا ۔۔۔

“سعاد ٹراۓ ٹو انڈرسٹینڈ ڈیٹ ۔۔۔ اب تیمور شاہ نے مفاہمت سے کہا ۔۔۔

رانیہ خاموش تماشائی تھی ۔۔۔ اتنی شدید بحث ہورہی تھی دونوں میں سے کسی نے اسے جانے کو نہیں کہا تھا اسی لئے جانا اسے بدتمیزی لگ رہا تھا سو چپ رہنا بہتر لگا وہ سرجھکاۓ بیٹھی تھی ۔۔۔ انداز ایسا تھا جیسے اندھی گونگی اور بہری ہو , ان کے سخت لفظوں پر بھی اس نے کوئی تاثر نہ دیا نہ ذرہ چونکی کسی لمحے اور نہ ہی اپنا جھکا سر اٹھایا ۔۔۔ ایسا لگ رہا تھا اس کا ہونا نہ ہونا ایک ہی بات تھی ۔۔۔

وہ سختی سے ان کی بات کاٹ کر بولا ۔۔۔ “بسسس اٹز ماۓ فائینل ڈسیشن ۔۔۔ ہوپ یو انڈرسٹینڈ می ۔۔۔

“اوکے فائن فائز , تم ہو اس پروجیکٹ میں ۔۔۔ آخرکار تیمور شاہ نے ہار مانی ۔۔۔ فائز شاہ اب کے مسکرایا اور کہا۔۔۔

“ڈیٹس لائیک اے گڈ فادر ڈیڈ ۔۔۔

“آئیں مسز سعاد اس پروجیکٹ پر ڈسکس کرتے ہیں ۔۔۔۔ فائز نے حکمیہ لہجے میں کہا اور رانیہ کو اٹھنے کو کہا ۔۔۔

وہ جلدی سے اٹھی ۔۔۔ اب وہ مطئن تھی کہ تیمور شاہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔۔۔

“اللہ خود زمین پر نہیں اتا اپنے بندوں کی مدد کرنے کسی نہ کسی کو ذریعہ بناتا ہے ۔۔۔ اج رانیہ کو فائز شاہ وہ ذریعہ لگا تھا ۔۔۔

@@@@@@@@@@@

ولید خانزادہ , ہانیہ سے جڑ کر کھڑا ڈوبتے سورج کا منظر دیکھ رہا تھا ۔۔۔ کروز کے ڈیک پر کئی کپلز کھڑے تھے سب اس منظر سے لطف اندوز ہورہے تھے ۔۔۔

“اس سے خوبصورت بھی کوئی منظر ہوگا بھلا ۔۔۔ ولید خانزادہ نے مبھم لہجے میں کہا ۔۔۔

“مجھے اس سے زیادہ تکلیف دہ منظر اج تک کوئی نہیں لگا ہو شاید ۔۔۔ ہانیہ نے دھیمے لہجے میں کہا ۔۔۔

ولید نے اس کا رخ اپنی طرف کیا ایک دم ۔۔۔

“پوچھ سکتا ہوں کیوں ۔۔۔ ابھی بھی اس کو خود سے لگاۓ ولید نے پوچھا ۔۔۔

“جانے کیوں میرا دل بیٹھا جاتا ہے اس منظر کو دیکھ کر , ایسا لگتا ہے سورج کے ساتھ ساتھ میری زندگی کا سویرا جارہا ہو جیسے , چارسوں اندھیرا بڑھ رہا ہے اور میں کسی تاریکی کا حصہ بنتی جارہی ہوں ۔۔۔۔ ایک وحشت سی سوار ہونے لگتی ہے مجھ پر ۔۔۔ ہانیہ نے یاسیت بھرے لہجے میں کہا ۔۔۔ ٹھنڈی ہواؤں نے اس کے بالوں کو بکھرا رہی تھی ۔۔۔

“جانتی ہو, میں کیسا محسوس کررہا ہوں ۔۔۔ ولید خانزادہ نے اس کے بالوں کو اس کے چہرے سے ہٹایا اور کانوں کے پیچھے کیا ۔۔۔ اس کا نور سے بھرپور چہرا دلچسپی سے دیکھتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔

جانے کیوں اس کی جسارتوں پر وہ اسے روک نہیں پارہی تھی ۔۔۔

“کیسا ۔۔۔ ہانیہ نے آہستہ لہجے میں پوچھا ۔۔۔ سرخ ہوتے چہرے کو بغور دیکھتے ہوۓ وہ کہنے لگا ۔۔۔

” مجھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے آج کے روشن اجالے میں مجھ سے جو غلطیاں ہوئیں ہیں وہ اس ڈوبتے سورج کے ساتھ ڈھل رییں ہیں , کل کا نیا ابھرتا سورج نیا سویرا لاۓ گا جس میں کل کی غلطیوں کا کوئی گمان نہ ہوگا ۔۔۔ کل کے دن سے اج کچھ نیا بہتریں ہوگا ۔۔۔ ہر نۓ سویرے کے ساتھ کچھ نیا اور بہت اچھا ہوگا , میں اس امید سے ڈوبتے سورج کو دیکھتا ہوں ۔۔۔

کتنے لمحے وہ اسےطرف دیکھتی رہی اس شخص سے اتنی مثبت سوچ کی شاید توقع نہ تھی ہانیہ کو ۔۔۔

اسی لمحے شدیدلہر آئی ہانیہ اور ولید کو بھیگاکر گئی پر لہر کا زور شدید تھا گھبراہٹ میں وہ اس کے سینے میں منہ چھپاگئی ۔۔۔

بےساختہ ولید مسکرایا اور کہا “میں نے کہا تھا کچھ اچھا اور بہتریں ہوگا , دیکھ لو ۔۔۔ اس کے شوخ لہجے پر ہانیہ اس کی بات کی گہرائی سمجھ کر الگ ہونے کی کوشش کی پر ولید نے اسے خود میں بھینچ لیا ۔۔۔

جانے کیوں پرسکون ہوکر وہ اس کی بانہوں میں سمٹ سی گئی ۔۔۔ کئی خاموش لمحے دونوں کے بیچ آٹھرے ۔۔۔

محبت کی ہوائیں ان کے ارگرد چلنے لگی ۔۔۔ نا اقرار ہوا نا اظہار ہوا پھر بھی محبت خود کو منوانے لگی تھی ان دونوں کے بیچ ۔۔۔

@@@@@@@@@@@@

“آۓ ڈونٹ بلیوو دس ڈیڈ ۔۔۔ وہ جو اپنے باپ سے کچھ بات کرنے کے لیۓ ان کے کمرے میں ایا تھا بغیر ناک کے ۔۔۔ اس کا باپ صوفے پر بیٹھا تھا سامنے لیب ٹاپ پر رانیہ کی پکس دیکھ کر شاک ہوا ۔۔۔ جنہیں زوم کرکے وہ دیکھ رہے تھے ۔۔۔

وہ اکثر بغیر ناک کے اجاتا تھا تیمور شاہ کو ناگوار گزرتا تھا اسے ڈانٹ بھی دیتے تھے پر وہ فائز شاہ ہی کیا جس پر اثر ہوجاۓ ۔۔۔

“واٹ ۔۔۔ تیمور شاہ نے کہا اور انہوں نے جلدی سے لیب ٹاپ کے اسکریں کو بند کیا ۔۔۔

“آپ اس کی پکس زوم کرکے دیکھ رہے ہیں ۔۔۔ فائز شاہ نے دکھی لہجے میں کہا ۔۔۔ یہ سمجھنا مشکل تھا کہ فائزہ کو اپنے باپ کی اس حرکت پر دکھ ہو رہا تھا یا یہ دکھ رانیہ جیسی باکردار لڑکی کے لیۓ تھا ۔۔۔

“تو تمہیں کیا پرابلم ہے ۔۔۔ اب کے وہ بےنیازی سے بولے ۔۔۔

“ڈیڈ وہ اپ کے بیٹے سے بھی کم عمر ہے , کچھ تو خیال کریں ۔۔. فائز نے ان کو بتایا , جس کا کوئی خاطر خواہ اثر نہ ہوا تیمور شاہ پر ۔۔۔

“تم اپنے کام سے کام رکھو فائز ۔۔۔ میرا باپ بننے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ انہوں نے سختی سے کہا اپنے بیٹے کو ۔۔۔

“آپ اپنے کام سے کام رکھیں ۔۔۔ مسز سعاد سے دور رہیں وہ اپ کی گرل فرینڈس جیسی نہیں ۔۔۔ فائز پر ان کے سخت لہجے کا کوئی اثر نہ ہوا ۔۔۔ فائز کے لہجے میں باپ کے لیے بچہ کچا احترام بھی نہ رہا تھا ۔۔۔

“مجھے مجبور نہ کرو کہ تم کو واپس ترکی بھیجوں ۔۔۔ تیمور شاہ کا خون کھول رہا تھا اس کی بدتمیزی پر ۔۔۔

“مجھے لگتا ہے اپ کو ترکی چلے جانا چاہیۓ ۔۔۔ زیادہ بہتر رہے گا ۔۔۔ کم غصے میں فائز بھی نہ تھا ۔۔

“تم ایک معمولی لڑکی کے لیۓ اپنے باپ کو انسلٹ کررہے ہو ۔۔۔ تیمور شاہ نے کہا ۔۔۔

“کیونکہ اپ اپنی حدیں کراس کررہے ہیں ۔۔۔ یہ مناسب نہیں کہ کسی کی بےخبری میں پکس لی جائیں اور ان کو یوں دیکھا جاۓ ۔۔۔ پلیز ڈیڈ اسٹے اوے فرام مسز سعاد , آۓ ریکوئیسٹ یو ۔۔۔ کچھ سنبھل کر فائز شاہ نے سمجھانے والے انداز میں کہا ۔۔۔

“کہیں تمہیں اس سے محبت و حبت تو نہیں ہوگئی ۔۔۔ یہ مجھے صرف ہمدردی کا بخار تو نہیں لگ رہا فائز ۔۔۔۔ تیمور شاہ نے بغور اس کو دیکھتے ہوۓ کہا ۔۔۔

فائز نے نظریں چرائیں ان کے جتاتے ہوۓ انداز پر ۔۔۔

“ہمممم واقعی رانیہ ہے ہی ایسی کوئی بھی دیوانہ ہوھاۓ کیوں فائز ۔۔۔ اب کے ان کا انداز شرارتی سا تھا ۔۔۔

پر فائز کو ان ہی بات نیزے کی طرح لگی اور تند لہجے میں بولا ۔۔۔

“ہاں ہے , شدید والی ہے , ایسی محبت ہے جس میں پانے کی شرط نہیں رہی ہے اور نا مجھے پانے کا شوق ہے ۔۔۔ اور دیکھنا چاہتے ہیں کتنی اور کس طرح کی محبت ہے ۔۔۔۔ شعلوں سے بھرا اس کا لہجہ تھا ۔۔۔

اس کے لہجے کی تپش کو تیمورشاہ محسوس کرکے گھبراگۓ ۔۔۔

شاید جب تک بات چھپی رہتی ہے تو اس کا بھرم قائم رکھنے کے لئے چپ رہنا پڑتا ہے اور جب بات کھل جائے تو پھر کوئی بھرم رہنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا
اس کے لہجے میں اگ ہی اگ تھی ۔۔۔

تیمور شاہ حیران ہوۓ اس کے انداز پر ۔۔۔ ابھی اسے کچھ کہتے اس سے پہلے اس نے لیب ٹاپ لیا اور زمیں پر پھینکا ۔۔۔

“نہیں فائز , اس میں ضروری ڈیٹا ہے میرا ۔۔۔ تیمور شاہ نے کہا اور جلدی بڑھے اس کی طرف , پر بات ان کے ہاتھ سے نکل چکی تھی ۔۔۔

اور وہ اس پر لاتوں کی برسات کرتا ٹکڑے ٹکڑے کر گیا لیپ ٹاپ کے ۔۔۔ تیمور شاہ اس کے جنون کو دیکھتے رہ گۓ اور افسوس ہوا ان کو کیوں ایسی بات کرگۓ ۔۔۔

“ڈیڈ اسے کوئی نقصان پہنچایا , خدا کی قسم میں خود کو ختم کردوں گا , میں اپ کو کچھ نہیں کرسکتا , خود کو مار کر ختم کرسکتا ہوں ۔۔۔ اور میں ایسا ہی کروں گا ۔۔۔ فائز کا انداز جنونی ہوگیا تھا ۔۔۔ تیمور شاہ سہی معنی میں گھبعا گۓ تھے ۔۔۔۔ اپنے لفظوں پر سوائے پچھتاوے کے کر ہی کیا سکتے تھے ۔۔

“ریلکیس ہوجاؤ فائز , جیسا تم سوچ رہے ہو ویسا کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔ تم میری دنیا ہو , میرا سب کچھ , تمہارے بغیر یہ دولت شہرت عیاشی کوئی معنی نہیں رکھتی , تمہیں کچھ ہوا میں بھی مرجاؤں گا ۔۔۔ مسز سعاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا بسس تم ریلکیس ہوجاؤ ۔۔۔ تمہاری خوشی سے بڑھ کر کچھ نہیں میری جان ہو تم ۔۔۔ تیمور شاہ نے اسے خود سے لگاۓ ہوۓ کہا ۔۔۔

“اپ سچ کہے رہے ہو نا ڈیڈ ۔۔۔ فائز نے تڑپ کر پوچھا ۔۔۔

“تمہاری قسم فائز , تم سے بڑھ کر کچھ نہیں اس جنون سے نکل آؤ ۔۔۔ مجھے میرا بیٹا ہر چیز سے بڑھ کر عزیز ہے ۔۔۔ مجھے صرف اپنا بیٹا سہی سلامت چاہیۓ اور کچھ نہیں ۔۔۔

اپنے باپ کے لفظوں نے فائز پر شبنم کے نرم قطروں سا اثر کیا اور اس کے اندر سکون سا اتر ایا ۔۔۔

پھر وہ ان کو رانیہ کے مطلق سب بتاتا چلا گیا ۔۔۔ جو اس کی اور رانیہ کی یونی کی ملاقاتیں تھیں ۔۔۔ اج پہلی بار وہ اپنے بیٹے کو سن رہے تھے ۔۔۔ دل کو جانے کیوں اچھا لگ رہا تھا اسے سننا ۔۔۔

“نا میری ماں تھی نا بہن اس لیۓ مجھے عورت کی عزت کرنا نہ آئی ڈیڈ , پر اس نے مجھے بتایا ان رشتوں کے علاوہ بھی عورت عزت کے قابل ہے ۔۔۔۔ پھر اس نے ہی کہا کہ میں اچھی لڑکیوں کے ساتھ بہت اچھا ہوں ۔۔۔ اس کی اس بات نے مجھے بدل کے رکھ دیا ڈیڈ ۔۔۔ کیوں مجھے محروم رکھا اپ نے اتنے خوبصورت رشتوں سے کاش میرا بھی کوئی بھائی بہن ہوتا کتنا اکیلا میں خود کو محسوس کرتا ہوں اس رائیل پیلس میں ۔۔۔۔ اپ کو نہیں پتا اپ نہیں سمجھ سکتے مجھے ۔۔۔ اب کہیں مجھے سکوں نہیں اتا ۔۔۔ یہ اکیلاپن تنہائی مجھے اذیت دیتی ہے ۔۔۔

فائز کے لہجے میں کئی قسم کے درد تھے , اتنا سب کچھ بنانے کے بعد اج تیمور شاہ کو احساس ہوا ان سے زیادہ کوئی غریب نہیں رشتوں کے معاملے میں ۔۔۔ اگر وہ سہی معنی میں امیر ہوتے تو سب سے پہلے اپنے بیٹے کی محرومیاں دور کردیتے ۔۔۔ پر ان کے ہاتھ میں کچھ نہ تھا سواۓ ڈھیر ساری دولت کے جس کی اس کے اکلوتے بیٹے کو ضرورت نہیں ۔۔۔ اس سے زیادہ کیا بےبسی ہوگی کسی باپ کے لیۓ ۔۔۔ اج تیمور شاہ خود کو بے بسی کی انتہا پر محسوس کر رہے تھے ۔۔۔۔

تیمور شاہ کی انکھیں نم ہوئیں اپنے بیٹے کی محرومیوں کا سن کر ۔۔۔

“گیا وقت میں نہیں لوٹا سکتا فائز , پر اب تمہارے ساتھ بھرپور وقت گزار کر کچھ تلافی تو کرسکتا ہوں ۔۔۔ تیمور شاہ نے بھاری لہجے میں کہا ۔۔۔

اپنے بیٹے کو گلے لگا کر انہوں نے کہا تھا ۔۔۔۔ اج فائز کو اپنے اندر سکوں اترتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔

“آۓ لوو یو ڈیڈ ۔۔۔ آۓ لوو یو الاٹ ڈیڈ ۔۔۔۔ فائز نے شدت جذبات سے کہا اور وہ بھی دل سے مسکراۓ ۔۔۔

“لویو ٹو ماۓ سن ۔۔۔ تیمور شاہ نے کہا ۔۔۔

تیمور شاہ کو اج احساس ہوا ان کی انمول دولت فائز شاہ ہے اور کچھ نہیں اس سے بڑھ کر ۔۔۔ وہ مطئمن ہوۓ یہ سوچ کر ۔۔۔

@@@@@@@@@@@@

“مجھے سعاد کو نہیں بتانا چاہیۓ کہ تیمور شاہ ہی میرے باس ہیں ۔۔۔ ویسے بھی سعاد نے مجھے کب کچھ بتایا ہے ۔۔۔ رانیہ نے اسے دیکھتے ہوۓ سوچا جو پاستا بنا رہا تھا ۔۔۔

آزاد ملک کے باشندے تھے اس لیۓ برابری کے اصول کو مانتے ہوۓ دونوں کچن میں کھانا بنالیتے تھے ۔۔۔ پھر بھی رانیہ کی کوشش ہوتی کہ وہی کھانا بناۓ کیا کرے پاکستان کی عادتیں چھوٹے نہیں چھٹ رہیں تھیں ۔۔۔ جہاں عورتیں ہی کچن لانڈری وغیرہ سنبھالتی اچھی لگتی ہیں ۔۔۔

ایک ہفتہ گزرچکا تھا آفیس میں کام کیۓ رانیہ کو ۔۔۔ وہ دل ہی دل میں اللہ کا لاکھ دفا شکر ادا کرتی جس نے فائز کو کسی رحمت کے ساۓ کی طرح اس کے لیۓ بنایا تھا ۔۔۔

جب بھی تیمور شاہ اسے اکیلے بلاتے وہ پانچ منٹ کے اندر آفیس کے کیبن میں اجاتا چاہے تیمور کی سیکریٹری روکتی رہ جاۓ ۔۔۔ فائز اپنی من مانی کرتا ۔۔۔

اس باپ بیٹے کی خاموش لڑائی سے وہ انجان ہونے کا تاثر دے رہی تھی ۔۔۔ یہی پروفیشنلزم کی نشانی تھی ۔۔۔

کیسی چل رہی ہے تمہاری انٹرنشپ ۔۔۔ سعاد نے اس کے سامنے پاستا اور جوس رکھتے ہوۓ پوچھا ۔۔۔

” ایک ہفتے کے بعد نواب صاحب کو یاد آیا یہ پوچھنا اب کیا ضرورت ہے نہ پوچھتا کس نے کہا تھا مجھ سے پوچھے ۔۔۔ رانیہ نے کلس کر سوچا پر کہا تو بس اتنا ۔۔۔

“ٹھیک چل رہی ہے ۔۔۔ رانیہ نے جوس کا سپ لیتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“کونٹریک سائن کیا ہوا ہے چھ مہینے کا ۔۔۔۔ رانیہ نے آہستہ سے کہا ۔۔۔

“اوہ اس کا مطلب اس بیچ تم پاکستان بھی نہیں جاسکوگی , جانتی ہو ۔۔۔ سعاد نے اسے بتایا ۔۔۔ کیونکہ یہاں اسی قسم کے کونٹریک سائن کرواۓ جاتے ہیں ۔۔۔

“ہاں جانتی ہوں اگر پاکستان جانے کا سوچا قانونی کاروائی ہوگی ۔۔۔ رانیہ نے سکوں سے بتایا ۔۔۔

سعاد حیران ہوا اس کی سجھداری پر ورنہ اس نے سمجھا کہ اسے معلوم نہیں ہو گا ان باتوں کا ۔۔۔

دونوں خاموشی سے کھانے میں مصروف ہوگۓ ۔۔۔۔

@@@@@@@@@

کروز میں رات کا ڈنر کرنے کے بعد وہ روم میں جانے کا سوچ رہے تھے کہ بچوں کو کال کرنے بیٹھ گئی ہانیہ کیونکہ ان دونوں کی یاد شدت سے ارہی تھی ۔۔۔ ولید کو بھی رکنا پڑا ۔۔۔

بچوں سے ادھا گھنٹہ بات کی اس نے ۔۔۔ وہ دونوں خوش تھے ان کے ممی پاپا ہنی مون پر گۓ ہیں ۔۔۔ ہانیہ حیران ہوئی منان کے منہ سے ہنی مون کا لفظ سن کر ۔۔۔

“واقعی اج کل کے بچے بڑے تیز ہیں ۔۔ ہانیہ نے کال کاٹنے کے بعد سوچا ۔۔۔ بےساختہ مسکرائی وہ ۔۔۔

“چلیں روم میں ۔۔۔ ولید نے کہا ۔۔۔ وہ دونوں ساتھ روم کی طرف بڑھے ۔۔۔

دونوں نے ایک ساتھ کمرے میں قدم رکھا جہاں موم بتی کی روشنی تھی ۔۔۔ ہانیہ سمجھنے کی کوشش کرنے لگی موم بتیوں کو دیکھتے ہوۓ ۔۔۔

اچانک ولید نے لائیٹ آن کی اور ہانیہ پر پھولوں کی بارش ہوئی ۔۔۔ ہر طرف گلاب بکھرے تھے ۔۔۔

ولید مسکرایا اور ہانیہ حیرت سے سجاوٹ دیکھ رہی تھی ۔۔۔

کچھ گفٹس سامنے پڑے تھے ۔۔۔۔ کانچ کی ٹیبل پر کیک پڑا تھا ۔۔۔

“ہیپی برتھ ڈے ہانیہ ۔۔۔۔ ولید نے کہا ۔۔۔ وہ حیران سی کھڑی تھی ۔۔۔

وہ حیرانگی شکریہ بھی نہ کہے سکی ۔۔۔ ولید اس کا ہاتھ تھام کر کیک کے پاس لے ایا اور کہا ۔۔۔۔

“اج سے بہتر اور خوبصورت دن مجھے کوئی نہ لگا جب ہم اپنی ازدواجی زندگی شروع کریں ہانیہ ۔۔۔ اس بارے تم کیا کہتی ہو ۔۔۔

وہ اسے دیکھتی رہ گئی ۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔