Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

ناول ۔۔۔۔ انمول سے بے مول

ازقلم ۔۔۔ صبا مغل

قسط ۔۔۔ 10

ولید خانزادہ کو شدید غصہ آ رہا تھا ۔۔۔ وہ جو سوچ کے بیٹھا تھا کہ بچوں کے سکول سے سیدھا آفس جائے گا اور اب اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔۔۔۔

ڈرائیور کو گھر چلنے کا بول کر سیٹ سے اپنی پشت لگالی آرام دہ انداز میں بیٹھا تھا ۔۔۔ اس کی دماغ میں کئی سوچیں آ رہی تھیں اور جا رہی تھیں کہ “اگر حقیقت میں بچوں نے وہ کہہ دیا جو آنٹی نے کہا تو پھر کیا ہوگا ۔۔۔

اس نے بےچین ہوکر پہلو بدلا اور گاڑی اپنی رفتار سے گھر کی طرف جارہی تھی ۔۔۔ اسی طرح ذہن بھی سوچوں کے سفر پر مہو تھا ۔۔۔

ایک اور خیال نے اس کے ذہن پر دستک دی ۔۔ اس نے سوچا ۔۔۔

” کیسے مجھ سے اتنی بڑی غلطی ہوگئی کہ میں نے ایک لڑکی پہ بھروسہ کر لیا ۔۔ اپنے بچے اس کے مکمل سپرد کردیئے ۔۔۔ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیۓ تھا ۔۔

دل بےچین ہو اٹھا ولید خانزادہ کا ان سوچوں سے ۔۔۔

” یہ بات مجھے سوچنی چاہیئے تھی اتنا اٹیج نہیں کرنا چاہیے تھا اپنے بچوں کو ۔۔۔ کیسے میں مطمئن ہو گیا ہر طرح سے بےفکر ہوکر ۔۔۔ میں نے غلط کیا جو اس لڑکی سے بچوں کی تربیت کا کہا ۔۔۔ بچے اس سے کلوز ہو رہے تھے میں سمجھ کر بھی انجان بنا رہا اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا سوچا نہ تھا ۔۔

اب کے وہ اپنا ماتھا مسل رہا تھا بےچینی سے , ڈرائیور بغور اسے مرر سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اس کا صاحب شدید پریشان ہے وہ بھی اندازہ کرچکا تھا ۔۔۔ جس شخص کو آج تک کبھی بزنس کے کتنے بڑے نقصان میں پریشان نہ دیکھا تھا وہ آج بچوں کے اسکول سے آتے ہی اتنا پریشان تھا ۔۔۔ ڈرائیور کے لیے حیرت کا باعث تھی یہ بات ۔۔۔

ولید خانزادہ خود میں مصروف اپنا احتساب کررہا تھا ۔۔۔

“نہیں نہیں ابھی تک میرے بچے اس مقام پر نہیں پہنچے کہ وہ مجھ سے ایسی کوئی بات کرنے کی ہمت کر سکیں ۔۔۔
ولید خانزادہ نے ایک امید سے سوچا ۔۔۔

” نہ اب میں یہ نوبت آنے دوں گا کہ ایسا کچھ ہو ۔۔۔ اس سے پہلے کہ بچوں کے احساسات کو زبان ملے مجھے بچوں کو خود ٹائم دینا ہوگا ۔۔۔

خود کو تسلی دیتے اس نے خود سے کہا ۔۔۔

” ہاں ہاں بالکل مجھے بچوں کو خود ٹائم دینا ہوگا یہ ٹھیک رہے گا جب میں خود ٹائم دوں گا پھر دیکھنا بچوں کو اس کمی کا احساس ہی نہیں ہوگا جو کمی ان کے اندر مس ہانیہ نے دور کرنے کی کوشش کی ہے وہ کمی میں خود دور کروں گا ۔۔۔ جب کہ آج تک میں نے خود کو کبھی بیوی سے محروم نہیں سمجھا بیوی کی کمی نہیں محسوس سمجھی تو میرے بچے کیسے ماں کی کمی سمجھ سکتے ہیں انہوں نے تو ماں دیکھی ہی نہیں ہے پھر اس پیار کی کمی کا احساس میرے بچوں میں نہیں ہونا چاہیۓ ۔۔۔ ویسے بھی ہماری سوسائٹی میں کہاں ماں اپنے بچوں کو پیار کرتی ہے اتنا شدید کے بچے اس کا احساس رکھیں اس کی کمی کو محسوس کریں ۔۔ میری ماں نے کبھی مجھ سے اتنی محبت نہیں کی اج بھی وہ صرف عید پر ہی ملتی ہیں امریکا میں ان اپنا بزنس ہے وہیں خوش ہیں جب یاد اتی ہے مل لیتے ہیں بس ۔۔۔ خالہ آپ کی سوچ غلط ہے میرے بچوں کو کبھی ماں کی کمی کا احساس نہیں ہوگا کیونکہ ہمارے یہاں تو ماں کا پیار بھی مشکلوں سے ملتا ہے ۔۔۔

وہ کافی حد تک خود تسلی دے چکا تھا ۔۔۔ اب اس نے سوچ لیا وہ اپنا فارغ وقت صرف اپنے بچوں کو دے گا ۔۔۔ اس طرح بچے اور کسی کمی کو بلکل محسوس نہیں کریں گے ۔۔۔

اب اس نے پکا ارادہ کرلیا تھا ۔۔۔

جو بات آج اس نے سوچی تھی کاش وہ پہلے سوچ لیتا تو شاید ولید خانزادہ کے حق میں یہ بہتر رہتا ۔۔۔ اسے شاید اندازہ نہیں تھا کہ اس نے سوچنے میں بہت دیر کر دی ہے ۔۔۔
اب وہ بچوں کو اپنا وقت دینے کو تیار تھا کیا واقعی بچے اس کا وقت لینا چاہتے ہیں بھی یا نہیں یہ اسے وقت نے بتانا تھا ۔۔۔

@@@@@@@

وہ آفیس سے سیدھا گھر آیا تاکہ مس ہانیہ سے بات کرسکے ۔۔۔ اسے رضیہ بی نے بتایا کہ مس ہانیہ کب کی جا چکی ہے ۔۔۔ ایک پیپر بھی دیا رضیہ نے اسے ۔۔۔

وہ حیرت سے پیپر دیکھ رہا تھا جس پر ہانیہ نے کچھ یوں لکھا تھا ۔۔۔

السلام علیکم

” آپ نے کہا تھا کہ چھٹی کی بات آپ سے نہ کروں فیاض صاحب سے کروں پر فیاض صاحب کا نمبر نہیں لگ رہا تھا اور مجھے ضروری جانا تھا اس لیۓ جارہی ہوں شام پانچ بجے تک اپ کا انتظار نہیں کرسکتی ۔۔۔ جیسا کہ آپ کو پتہ ہے کہ بچوں کا سکول ایک ہفتے تک بند ہے تو میں چاہتی ہوں کہ یہ ہفتہ مجھے چھٹی کی اجازت دے دیں تاکہ میں اپنی بہن کو شادی کی شاپنگ کروا سکوں ۔۔۔ امید کرتی ہوں آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا میرے چھٹی کرنے پر , اگر کوئی اعتراض ہو یا چھٹیاں کم دینے کا ارادہ ہو تو پلیز فیاض صاحب یا رضیہ کو کہے دجیۓ گا وہ مجھے کال پر انفارم کردیں گے میں اجاؤں گی ۔۔۔

مس ہانیہ ۔۔۔

وہ جو بچوں کو اس سے دور کرنے کا سوچ رہا تھا ۔۔۔ اس کا خود چھٹیوں پر جانے کا پڑھ کر اسے خوشی ہوئی ۔۔اسے اچھی طرح سمجھ ارہا تھا مس ہانیہ نے کیوں خط کی صورت میں اس سے چھٹی لی اسے ہانیہ کی خوداری پسند آئی تھی کیونکہ وہ پچھلی بار چھٹی کی بات پر انسلٹ کرچکا تھا اس کی ۔۔۔ وہ کھڑے کھڑے ہی سوچنے لگا کہ بچوں کو کہاں گھمانے لے جائے اور کس طرح وقت دے ۔۔۔ وہ بےانتہا خوش اور مطمئن تھا ۔۔۔

اسی وقت دوڑتا ہوا منان ایا اور اس کی ٹانگوں سے لپٹا ۔۔۔

“کیا ہوا منان ۔۔۔ وہ جھک کر اس کے برابر ہوا ۔۔۔ وہ اپنے بیٹے کا چمکتا روشن چہرہ خوشی سے دیکھ رہا تھا وجہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا اس کی خوشی کی ۔۔۔

“رضیہ بی یہاں آئیں ۔۔۔ منان کے بلانے پر رضیہ بی کچن سے آئی اس کے ہاتھ میں کیک تھا ان کے پیچھے چہکتا ہوا حنان تھا ۔۔ وہ حیران ہوا ۔۔

“یہ سب کیا ہے منان ۔۔۔۔ ولید خانزادہ نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔

“سرپرائز ۔۔۔ ہیپی برتھ ڈے پاپا ۔۔۔ حنان اور منان نے مل کر کہا ۔۔۔ آج تک کبھی اس گھر میں کیک نا کاٹا گیا تھا اس کی سالگرہ کے دن یہ کام صرف کشف کرتی تھی اس کی جان سے پیاری بیوی ۔۔۔

“جانتی ہو نا مجھے نہیں پسند اپنی پیدائش کے دن کو سیلیبریٹ کرنا۔۔۔ اس نے یہ کشف سے کہا تھا ۔۔۔

“پلیز ولی میرے لیۓ ۔۔۔ کشف کو جب بھی اپنی بات منوانی ہوتی تھی وہ اس کی ٹاۓ سے یوں ہی نخریلے انداز میں کھیلتے ہوۓ کہتی تھی ۔۔۔ “پلیز میرے لیۓ میں تمہاری جان ہوں نا ۔۔۔

“اب تم ایسے کروگی تو ماننا ہی پڑے گا ۔۔۔ وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتا ہوا بولا ۔۔۔ وہ ہمیشہ پگھل جاتا تھا اس کے محبت بھرے انداز پر ۔۔۔

یہ سالگرہ کا دن ان کی شادی کے بعد ایا تھا جس پر کشف نے اس کے لیۓ سرپرائز رکھا تھا ۔۔ شادی سے پہلے ہی کشف اس کے اندر پلتی محرومیوں سے اچھی طرح واقف تھی اس لئے تو کبھی اس نے فرمائش نہیں کی اس سے برتھ ڈے پر کیک کاٹنے کی پر اب وہ اس کے نکاح میں تھی اور اس کی بیوی تھی اس پر پورا حق رکھتی تھی اسی لیے اپنا حق جتا رہی تھی محبت سے ۔۔۔

وہ نفرت کرتا تھا اپنے سالگرہ کا دن منانے پر ۔۔۔

جمیل خانزادہ اور ان کی اہلیہ انعم خانزادہ میں کبھی انڈرسٹینڈنگ نہ تھی جو میاں بیوی میں عموماً ہوا کرتی ہے وہ دونوں شاید الگ ہوجاتے اگر ان کے بیچ میں ولید خانزادہ نامی کڑی نہ ہوتی تو ۔۔ جس طرح وہ دونوں اس کے ہونے پر افسردہ تھے اس طرح ولید خانزادہ کو بھی نفرت ہوگئی تھی اپنی پیدائش کے دن سے ۔۔۔ وہ بچپن سے محسوس کرتا آیا تھا کہ اس کے ماں باپ عام ماں باپ کی طرح نہ تھے ۔۔۔ پھر دس سال کی عمر میں اسے پتہ چل گیا کہ وہ نہ ہوتا تو اس کے ماں باپ کب کہ الگ ہوچکے ہوتے اب تو بالکل ہی الگ نہیں ہو سکتے تھے کیونکہ ان دونوں کے ماں باپ نے ان کو جوڑے رکھنے کے لیۓ سب کچھ ولید کے نام کر رکھا تھا ۔۔ جمیل کا سب کچھ ولید کے نام ہوجاۓ گا اگر انہوں نے انعم کو طلاق دی تو ۔۔۔ انعم کا بھی سب کچھ ولید کے نام ہوجاۓ گا اگر انہوں نے جمیل خانزادہ سے خلع لی ۔۔۔ جمیل خانزادہ اپنے مان باپ کی اکلوتی اولاد تھا جبکہ انعم کی دو اور بہنیں تھیں ۔۔۔ اسی طرح ولید خانزادہ بھی اپنے باپ کی طرح اکلوتی اولاد تھا ۔۔۔ جمیل اور انعم کی لڑائی میں اگر کسی کا نقصان ہوا تھا تو وہ ولید خانزادہ تھا ۔۔۔ اسے محبتوں سے روشناس کروانے والی کشف تھی اس کی خالہ کی بیٹی اس کی پہلی اور آخری محبت ۔۔۔

تب پہلی مرتبہ کئی سالوں بعد اس نے اپنی سالگرہ کے دن کیک کاٹا تھا ۔۔۔ پھر جب تک کشف زندہ رہی وہ ہر دن ہر رات پل پل لمحہ اس کے ساتھ رہی اسے محبت کی دنیا باسی بناگئی وہ خود محبتیں بانٹا کرتی تھی اسے محبت سے عشق تک کا سفر کروادیا چند سالوں میں وہ لمحے ولید خانزادہ کی کل کائنات تھے جو اس نے کشف کے ساتھ گزارے تھے ۔۔۔ وہ بچے نہیں چاہتا تھا کیونکہ اندر سے ایک ڈرا سہما تھا کہیں اس کی والی محرومیاں اس کے بچوں کے نصیب میں نہ اجائیں پر کشف بغیر برا مانے چار سال اپنے اندر پلتے ماں کی ممتا کے جذبوں کا گلہ گھونٹ کر جیتی رہی اس کے ساتھ خوش رہی ہر خوشی کا موقع سیلیبریٹ کرتی اور وہ بھی خوشی خوشی سیلیبریٹ کرتا کبھی ہجوم میں تو کبھی دونوں اکیلے میں ۔۔۔

وہ حیران ہی ہوتا اس کے جذبے پر وہ اس سے کبھی ناراض نہ ہوتی جب وہ بچہ نہ ہو کیئر کرتا ۔۔۔ پھر ان کی شادی کی چوتھی سالگرہ پر اس نے اسے کوئی گفٹ نہ دیا جان بوجھ کر اور پوچھا “کیا مانگو گی تحفہ ,جو چاہو وہ مانگ لو ۔۔۔ شاید اس دن وہ اس سے جان بھی مانگ لیتی تو وہ انکار نہ کرتا اور اس کی ہتھیلی پر رکھ دیتا ۔۔۔ پر اس نے مانگا بھی تو کیا “ولی میں ماں بننا چاہتی ہوں اپنی تکمیل چاہتی ہوں , مجھے مکمل کردو ۔۔۔ وہ شدد رہ گیا اس کے اس تحفے کے مانگنے پر ۔۔ وہ ایک دفعہ محبت سے گلے میں بانہیں ڈال کر مانگ لیتی تو وہ اسے روک نہ پاتا نہ اسے ٹال سکتا تھا پھر اتنے سال وہ صبر کرتی رہی وہ اس عظیم لڑکی کو دیکھتا رہا ۔۔۔ اس کا محبت کے جذبے پر ایمان بڑھا دیا تھا اس نے ۔۔۔

پھر اللہ نے دو مہینوں میں نوید دے دی کہ وہ ماں بننے والی ہے ۔۔۔ کتنا خوش تھی وہ بلکل بچوں کی طرح اور وہ اس کی خوشی میں خوش ۔۔۔ جانے کیوں ایسا ہوگیا کہ وہ ڈلیوری دوران گزر گئی جب کہ سات مہینوں تک سب نارمل تھا پھر طبیت اکثر خراب رہنے لگی تھی ڈاکٹر نے کہا تھا جڑوان بچے ہیں اس وجہ سے ۔۔۔ اس کی زندگی سب سے بڑی خوشی اس کی زندگی لے گئی ۔۔۔ یہ صدمہ سب کے لیۓ تکلیف دہ اس طرح کشف چلی جاۓ گی کسی نے سوچا نہ تھا ۔۔۔

وہ دنیا کے لیۓ روڈ ایروگینٹ بزنس ٹائیکون تھا پر اندر سے وہ کشف کا ولی تھا ۔۔۔ کئی دفعہ اسے سب نے سمجھایا “شادی کرلو بچوں کو ماں کی ضرورت ہوتی ہے پر وہ ٹال دیتا یہاں تک کہ اس کے ماں باپ نے بہت کوشش کی پر وہ نہ مانا ۔۔۔ یہاں تک خود کشف کی ماں نے بھی کہا شادی کرلو پر ولید خانزادہ اس معاملے میں چکنا گڑھا ثابت ہوا اس کے کان پر جوں بھی نہ رینگی ۔۔اس کا ایک ہی جواب ہوتا اپنے ماں باپ اور خالہ کے سمجھانے پر ۔۔۔ ” سانس لے رہا ہوں یہی نشانی ہے زندہ ہوں ورنہ مر اسی دن گیا تھا جس دن میری کشف مجھے چھوڑ کر چلی گئی تھی اسی دن میں بھی قبر میں اتر جاتا پر اگر وہ اپنی نشانی نہ چھوڑ کر جاتی تو ورنہ اب تک ولید خانزادہ کا وجود خاک کے سپرد ہوچکا ہوتا ۔۔۔ زندہ ہوں تو صرف ان دونوں کے لیۓ ۔۔۔

پھر کبھی کسی کی ہمت نہ ہوئی اسے کہنے کی شادی کا ۔۔۔ سب تھک کر مگن ہوگۓ اپنی زندگیوں میں مرنے والوں کے ساتھ کوئی نہیں مرتا پر ولید خانزادہ زندگی وہیں ٹھر گئی تھی جہان کشف سے اس کا ہاتھ چُھوٹا تھا ۔۔۔

“پاپا کہاں کھوگۓ ہیں اپ پلیز کیک کاٹیں نہ ۔۔۔ منان نے کہا ۔۔۔ دونوں امید بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگے ۔۔۔ تین سال پہلے انہوں نے بابا سے کہا تھا کیک کاٹنے کو جس پر ولید خانزادہ نے سختی سے منع کیا تھا ۔۔ جس کے بعد دونوں کی ہمت ہی نہ ہوئی کہنے کی ۔۔۔ آج ان دونوں کی ہمت پر وہ حیران تھا ۔۔۔

اگر کچھ دیر پہلے اس نے خود سے وعدہ نہ کیا ہو تا کہ وہ بچوں پر توجہ دے گا اور ٹائم دے گا تو شاید کیک کاٹنے کے لیے کبھی نہ مانتا اور اس وقت بچوں کا اعتماد جیتنے کے لیے اسے یہ سب کرنا تھا ۔۔ پھر پہلی دفعہ ہوا کشف مینشن میں کشف کے جانے کے بعد ولید خانزادہ نے کیک کاٹا ۔۔۔ بچے بےانتہا خوش تھے ۔۔۔ موبائل میں کئی یادگار فوٹو نکال چکے تھے وہ ان لمحوں کے ۔۔۔

بچوں کو رات کو باہر ڈنر کا وہ وعدہ کرچکا تھا ۔۔۔ بچوں نے مس ہانیہ کے لیۓ کہا جس پر وہ پیار سے سمجھا کر وہ دونوں کو منع کرچکا تھا ۔۔۔ دونوں اداس ہوۓ پر ولید خانزادہ نے اگنور کیا ۔۔ وہ ان کو ایسی کوئی امید نہیں دلا سکتا تھا ۔۔۔

@@@@@@

پھر کچھ سوچ کر ولید نے سوچا کیوں نہ بچوں کو گھما کر ڈنر پر لے جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت بچوں کو دے سکے ۔۔۔ اس لئے ان کے روم کی طرف ایا ۔۔

مس ہانیہ کی آواز سن کر وہ چونکا ۔۔۔ وہ وہیں ٹھر گیا دروازہ کھلا تھا اس لیۓ اس کی اوٹ میں وہ اندر کا منظر دیکھ رہا تھا ۔۔۔

“تھینک یو ٹیچر کیک کے لیۓ بہت مزا ایا ۔۔۔ اپ کا آئیڈیا کام کرگیا ۔۔۔

بچے اس سے وڈیو کال پر بات کررہے تھے واٹس اپ پر ۔۔۔ بچے ویسے بھی اپنی نانی اور دادا دادی سے اسی طرح بات کرتے تھے اس لیۓ مکمل استعمال واٹس اپ کا دونوں کو اتا تھا ۔۔۔

“ویلکم بچوں ۔۔۔ پکس تو بہت زبردست کلک کیں ہیں اپ دونوں نے ۔۔۔ ہانیہ نے کہا ۔۔۔

“سچ ۔۔۔ دونوں نے کہا ۔۔۔

“مچ ۔۔ وچ۔۔ ویری مچ ۔۔۔ ناک پر بالوں کی لٹ رکھ کر ہانیہ نے کہا ۔۔ جس پر وہ دونوں قہقہے لگا کر ہنس پڑے تھے ۔۔۔ اپنے دونوں بچوں کی کھل کھلاہٹ اور چہچاہٹ بھری آواز پر لمحے کے لیۓ ولید خانزادہ خوش اور مسرور ہوا ۔۔۔ یہ صرف لمحے کی بات تھی پھر دوبارہ ولید خانزادہ اپنے خول میں سمٹ گیا تھا ۔۔۔

وہ دونوں چہک کر اپنے پورے دن کی رپوٹ دے رہے تھے وہ بھی خوشی خوشی سن رہی تھی ۔۔۔ ولید خانزادہ شاک تھا وہ نہ ہوکر بھی یہیں تھی اسے افسوس ہوا ۔۔۔

اب وہ اسے ضد کررہے تھے وہ پزا پر جائیں گے بابا کے ساتھ وہ بھی اجاۓ تو اسے بلالیں گے دونوں ۔۔۔ وہ انہیں پیار سے سمجھانے لگیں کہ ” وہ اس طرح فیملی ٹائم میں کسی کے انولوو نہیں ہوسکتی ۔۔۔

“تو آپ ہماری فیملی کا حصہ بن جائیں نا ۔۔۔ منان نے لاڈ سے کہا ۔۔۔ پھر یہی بات حنان نے کہی ۔۔۔ پھر ہانیہ ان کو سمجھانے لگی یہ ناممکن ہے ایسا کچھ نہ سوچیں وہ دونوں ۔۔۔

اس سے زیادہ ولید خانزادہ کی برداش سے باہر تھا وہ واپس پلٹ گیا ۔۔۔

رضیہ بی سے کہے کر بچوں کو ریڈی کروایا اور انہیں گھمانے لے گیا ۔۔۔ پر وہ اچھی طرح محسوس کررہا تھا وہ ہانیہ کو مسس کررہے تھے اور ہر جگہ پکس لینے میں ان کو زیادہ دلچسپی تھی اچھی طرح سمجھ رہا تھا کہ وہ اپنی مس ہانیہ کو دکھانے کے لئے اتنی زیادہ پکچرز کلک کر رہے ہیں ۔۔۔ وہ دونوں اس چیز میں خوش تھے تو ولید خانزادہ ان کو کیسے روک سکتا تھا اسے تو اپنے بچوں کی خوشی ہی چاہیۓ تھے اس لیۓ وہ خاموش تھا ۔۔۔ پھر ڈنر کے بعد وہ گھر اگۓ ۔۔۔ بچوں نے خوب انجواۓ کیا پر ولید خانزادہ خود پریشان تھا بچوں کی اس دیوانگی پر ۔۔۔ اگے کے حالات کا سوچ کر وہ فکرمند تھا ۔۔۔

@@@@@@@

آج سعاد کے ساتھ رانیہ کو شاپنگ پر جانا تھا شادی اور مہندی کا ڈریس لینے ۔۔۔ اسے لگا وہ شاید اکیلا آۓ پر نایاب اپی بھی ساتھ تھی تو رانیہ نے ہانیہ کو بھی ساتھ لے لیا تھا ۔۔۔

سعاد کو کئی دفعہ نایاب نے کہا “دیکھو یہ کیسا رہے گا ۔۔۔

“آپی یار اپ دیکھ لو مجھے پاکستانی شاپنگ کا اندازہ نہیں پلیز ۔۔۔ رانیہ تم جو چاہو لے لو ۔۔۔ وہ دوبارہ فون پر مصروف ہوگیا ۔۔۔ رانیہ سے مخاطب ہوا تو اس انداز میں سلام دعا کے بعد یہ پہلی بات تھی جو سعاد نے رانیہ سے کی تھی ۔۔۔

رانیہ کو اس کی بیزار طبیت کا اندازہ اچھی طرح ہوگیا اج کے دن میں ۔۔ نکاح کے بعد مرد اپنی بیوی کو کوئی خوبصورت لمحہ یا کوئی آنے والے وقت کی خوبصورت آہٹ کا احساس دیتے ہیں پر رانیہ کو ایسا کوئی احساس نہ دے سکا تھا سعاد ۔۔۔

شام تک ہانیہ کو بھی اندازہ ہوگیا وہ سوٹ بوٹ میں چلتا روبوٹ ہے جو ہر چیز وقت پر کرنے کا عادی ہے جیسے 2 بجے انہوں نے لنچ کیا ۔۔۔ پانچ اس کی ایونگ ٹی ٹائم ہے تو ان لوگوں نے وقت پر چاۓ پی ۔۔۔ کچھ باتیں نایاب تو کچھ باتیں سعاد کا رویہ سمجھا رہا تھا ۔۔۔ “اتنی خوش مزاج بہن کا اتنا سڑو مزاج کا بھائی اف تمہارا کیا ہو گا رانیہ بیگم ۔۔۔ ہانیہ نے دل ہی دل میں سوچا اور منہ بنایا ۔۔۔ وہ یہ باتیں سوچ تو سکتی تھی پر اپنی بہن کو کہے نہیں سکتی تھی ۔۔۔ رانیہ ایک خوش مزاج اور ہنس مکھ قسم کی لڑکی تھی اس لیۓ ہانیہ کو افسوس ہوا اس کے لیۓ ۔۔۔

رانیہ بھی بجھی بجھی اور خاموش تھی ۔۔۔ پر امریکا کا سوچ کے اس نے خود کو تسلی دی وہاں گھومیں گے پھریں گے دونوں سیٹ ہوجائیں گے ۔۔۔

نایاب نے اسے ڈھیر ساری شاپنگ کروائی کئی دفعہ ہانیہ نے پیسے نکالنا چاہے جو احمد صاحب نے دیۓ تھے شاپنگ کے لیۓ پر نایاب نے کسی چیز کی ان کو پےمنٹ نہ کرنے دی ۔۔۔

ہانیہ کندھے اچکا کر رہ گئی ۔۔۔ اٹھ بجے ڈنر کرتے ہوۓ بیزار ہورہی تھی ہانیہ کیونکہ وہ رات دس بجے ڈنر کرنے کے عادی تھے پر سعاد صاحب کی بدولت یہ بھی کرنا پڑا ۔۔۔

“اف کیا بندہ ہے خود کے اگے کسی کو کچھ نہیں سمجھتا ۔۔۔ تھک کر ہانیہ نے رانیہ کے کان میں سرگوشی کی ۔۔۔

“آپی اپ تو چپ کرجائیں ۔۔۔ رانیہ نے اس کے ہاتھ پر دباؤ ڈال کر کہا ۔۔۔ وہ ہانیہ ہی کیا جو کسی کے کہنے سے چپ ہو جائے اسی لئے اس کے کان میں دوبارہ کہا ۔۔۔

” دن سے منہ میں کنکریاں لے کر ہی تو چل رہی ہوں , نہ سعاد صاحب خود بولتے ہیں نہ کسی اور کو اتنا بولنے دیتے ہیں ۔۔ ہانیہ نے طنزیہ طور پر سعاد کو سعاد صاحب کہا بجاۓ سعاد بھائی کہنے کے ۔۔۔ اگر دونوں بھائی بہن موبائل پر کچھ دیکھ نہ رہے ہوتے تو اس طرح ہانیہ نہ بول سکتی تھی ۔۔۔

“اف بس کریں آپی۔۔۔ رانیہ نے انکھیں دکھا کر کہا ۔۔۔ یوں دونوں چپ ہوئیں ۔۔

“آؤ رانیہ ہانیہ تم بھی دیکھو سعاد کا دوست اس کے فلیٹ کی سیٹنگ کروارہا ہے تاکہ رانیہ کو وہاں جاکر اچھا لگے ۔۔۔ نایاب نے محبت سے کہا تھا ۔۔۔ جس پر وہ دونوں اس کے نزدیک ہوئیں ۔۔۔ اب سعاد کی موبائل نایاب کے ہاتھ میں تھی رانیہ اور ہانیہ کو دکھا رہی تھی وہ فلیٹ کی پکچرز ۔۔۔ کافی دیر وہ اپس میں بول رہیں تھیں ۔۔۔

“اب چلیں دس بجے تک مجھے سونا ہوتا ہے ۔۔۔ سعاد نے بیزاریت سے کہا وہ اب تک بل پے کرچکا تھا ان کے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگا جب وہ فری ہونے کا نام نہ لے رہیں تھیں تو تھک کر وہ بولا تھا ۔۔۔

رانیہ اور نایاب جلدی اٹھیں اس کے کہنے کی دیر تھی جبکہ ہانیہ مزے سے اپنی پرس چیک کرکے پھر اپنی موبائل دیکھنے لگی جیسے کچھ ضروری ہو اس کے اندر نایاب اور سعاد اس کے فارغ ہونے کا انتظار کررہے تھے سعاد کے تاثرات بیزاریت لیۓ ہوۓ تھے جانے کیوں ہانیہ کو مزا ارہا تھا اس سڑو کو تنگ کرنے میں ۔۔جبکہ رانیہ اسے گھورنے لگی وہ بےنیاز بنی رہی ۔۔۔

“ہانیہ اپی چلیں اپ گاڑی میں موبائل دیکھ لجیۓ گا ۔۔۔ رانیہ نے دانت پیس کر کہا ۔۔۔

“ہمممم اوکے ۔۔۔ ہانیہ نے مصروف لہجے میں کہا ۔۔۔ ایسی حرکتیں کرکے وہ سعاد کو اور بیزار کرچکی تھی ۔۔۔ رانیہ کو اچھی طرح سمجھ آ رہا تھا کہ وہ سب جان بوجھ کر رہی ہے ۔۔۔ وہ ایسی ہی تھی جب وہ خود تنگ ہوتی تو دوسروں کو تنگ کرکے بیزار کرکے حساب برابر کردیتی ۔۔۔ وہ ایسی ہی تھی ۔۔۔

“چلیں ۔۔۔ اب کے رانیہ اس کا ہاتھ تھام کر کہا ۔۔۔

“ہمممم چلو ۔۔ پھر وہ باہر نکلے ہوٹل سے ۔۔۔ نایاب اور سعاد نے گھر تک ڈراپ کیا دونوں کو ۔۔ رانیہ نے اندر چلنے کا کہا ان کو جبکہ ہانیہ نے ایک دفعہ بھی آفر نہ کی تھی وہ بیزار چہرہ لیے کھڑی رہی۔۔ نایاب نے سہولت سے منع کیا تھا کیونکہ سعاد کے سونے کا ٹائم ہو رہا تھا ۔۔۔ یوں ایک دوسرے کو اللہ حافظ کہہ کر رانیہ اور ہانیہ گھر کے اندر گئیں اور نایاب اور سعاد گاڑی میں چلے گئے۔۔۔

@@@@@@@

“پرسوں ہمیں رانیہ کے گھر چلنا ہے شام کے وقت , سارا کے بھائی ثوبان کا رشتہ طے ہورہا ہے ۔۔۔ گاڑی میں اب وہ دونوں تھے ۔۔۔ نایاب نے سعاد کو بتایا تاکہ وہ اپنا ذہن بنا سکے اسے جانا ہے اپنے سسرال ورنہ اسے یہ سب جھنجھٹ لگتا تھا ۔۔۔

“تو ہمارا کیا کام ہے وہاں آپی ۔۔۔ سعاد نے منہ بنا کر کہا ۔۔۔ نایاب کو اندازہ تھا کہ اسے یہ سب پسند نہیں ۔۔۔

“ان سے ہمارے رشتیداری جڑی ہے انہوں نے ہم سب کو دعوت دی ہے کیونکہ اب ان کی دوبیٹیوں کا تعلق ہم سے جڑ گیا ہے ۔۔۔ نایاب نے اپنی بات کی وضاحت کی کیوں ان کا جانا ضروری ہے ۔۔۔

“اپ سب جائیۓ گا میرا موڈ نہیں ۔۔۔ سعاد نے کہا ۔۔۔ سعاد تنہا ہمیشہ رہا تھا اس لیے اسے اتنے رشتے سمجھ ہی نہیں آتے تھے اور یہاں پر تو پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ احمد صاحب رانیہ کے باپ ہیں یا احد اور اگر احد صاحب باپ ہیں تو احمد کے انداز میں والہانہ محبت ہے رانیہ اور سعاد کے لیۓ اور احد صاحب کا انداز لیا دیا سا لگا سعاد کو ایسا کچھ نازیہ اور یسرا کا حال لگا ۔۔۔ اتنی کنفیوژن تھی کہ وہ خود کنفیوز ہوجاتا کونسا چاچا کونسا باپ ہے کونسی خالہ کونسی ماں ۔۔۔ یہی وجہ تھی وہ جانے سے کتراتا تھا ۔۔۔

“کیا بات ہے میرے بھائی تم اتنے بیزار کیوں رہتے ہو ۔۔۔ نایاب نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پیار سے پوچھا ۔۔۔

“کچھ نہیں ۔۔۔ اوکے ڈونٹ وری چلوں گا ساتھ ۔۔۔ سعاد نے تھک کر کہا ۔۔۔

“تھینکس سعاد ۔۔۔ نایاب نے خوشی سے کہا ۔۔۔ اسے کسی بات کے لئے منانا بلی چوہے سے شیر کو بلانے کے مترادف تھا ۔۔۔ وہ کامیاب ہوگئی تھی اسے سمجھانے میں اس لیۓ وہ مطئمن تھی اب ۔۔۔

“تم نے پوچھا نہیں کس کے ساتھ ہورہی ہے ثوبان کی بات پکی ۔۔۔ نایاب خیال انے پر اس سے پوچھا ۔۔۔

“کیوں میرا پوچھنا ضروری ہے ۔۔۔ سعاد نے شانے اچکا کر کہا ۔۔۔

“اب مجھے دھیاں سے ڈرائیوو کرنے دیں ۔۔۔ سعاد نے رش کو دیکھتے ہوۓ کہا ۔۔۔ نایاب کو افسوس ہوا تھوڑا اس کی بےحسی پر ۔۔۔

” مجھے یقین ہے رانیہ تمہیں اپنے جیسا بنا دے گی شوخ چنچل حساس سب کی فکر کرنے والا ۔۔۔ اب ساری امیدیں تم سے ہیں رانیہ , وہ سعاد کو دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں سوچ رہی تھی ۔۔۔۔

@@@@@@@@@

کتنی دیر وہ حیران ہوکر اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ جسے وہ بچپن سے پسند کرتی تھی جسے دیکھ کر اس کے دل کو سکوں ملتا تھا ۔۔۔ وہ خود اس سے شادی کرنا چاہتا یہ اس کے لیۓ حیران کن بات تھی ۔۔۔

نائلہ بیگم نے جب اسے بتایا کہ ” ثوبان اور اس کے رشتے کی بات گھر میں چل رہی ہے ۔۔۔ احمد بھائی نے رشتہ مانگا ہے ۔۔۔ ثوبان نے اقرار کیا ہے تم کیا کہتی ہو اس رشتے کے متعلق تمہیں پورا حق ہے انکار کرو یا اقرار ۔۔۔

وہ حیرت سے دیکھ رہی تھی ان کا چہرہ ۔۔۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب ممکن ہوا ہے ۔۔۔ وہ تو خود اس کے لیے دعائیں مانگتی تھی کہ ہانیہ کے دل میں اس کے لیے محبت آ جائے ۔۔ صبا کی محبت خود غرض محبت نہیں تھی بلکہ محبت کا انمول جذبہ اپنے دل میں رکھتی تھی اسی لیے ہمیشہ ثوبان کی خوشیوں کی دعائیں مانگا کرتی تھی ۔۔۔ جسے ہم چاہیں اس کی خوشیاں مانگنی چاہیے یہی تو اصل محبت ہے ۔۔۔ اور اللہ نے بن مانگے ہی اسے اس کی خوشی دے دی ۔۔۔ صبا جانتی تھی کہ ہانیہ ایک الگ دنیا کے باسی ہے اس کی اپنی خواہشات اور خواب ہیں وہ اپنے آئیڈیلزم کو جینے پر یقین رکھتی ہے ۔۔۔ سب جاننے کے باوجود بھی وہ ہانیہ کے لیے ہر وقت دعا کرتی تھی کیونکہ جیسی بھی تھی وہ اس کی اپنی تھی صبا اس کے لیۓ دعاگو تھی ۔۔۔

وہ اپنی ماں کو اقرار میں جواب دے چکی تھی ۔۔۔شکرانے کے نفل پڑھ کر اللہ کا شکر ادا کیا ۔۔۔ چند لمحے وہ خوش ہوپائی تھی اسے اس خیال نے بےچین کیا کہیں ثوبان پر کسی نے دباؤ تو نہیں ڈالا جس کی وجہ سے وہ مانا ہے ۔۔۔

“اگر ایسا ہے تو پھر تو یہ غلط ہوگا ۔۔۔ صبا نے خود سے کہا ۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔

upcoming scene of next Epi ….

“سعاد اپ نے گھونگھٹ اٹھالیا میری منہ دکھائی تو دی نہیں ۔۔۔ رانیہ نے ساری شرم بالائے طاق رکھ کر اپنے دل کی بات کہی کیونکہ منہ دکھائی والی رسم اس کی سب سے پسندیدہ رسم تھی شادی کی رسموں میں ۔۔۔ اس لیۓ اس نے خود مانگ لیا منہ دکھائی کا تحفہ ۔۔۔

“رانیہ میں ایسی فضول رسموں کو نہیں مانتا اتنا کچھ دیا ہے ہم نے اور کوئی کمی رہ گئی وہ بھی لادوں گا ۔۔۔ پوری شادی میں اپ نے گھونگھٹ نہیں کیا تھا سب نے آپ کا منہ دیکھا اتنا لمبا فوٹو شوٹ ہم نے ساتھ کروایا اب کمرے میں آکر گھونگھٹ کرلیا اور پھر منہ دکھائی کے نام پر گفٹ لینا بھی کتنا فضول لگتا ہے اور میں اس فضول ٹرینڈ کو فالو نہیں کرتا سوری رانیہ ڈیئر ۔۔۔

اور وہ ہکا بکا ہوکر اسے دیکھنے لگی ۔۔۔ یہ امید نہ تھی رانیہ کو سعاد سے ۔۔۔۔ وہ اس شخص کی بےحسی پر دنگ رہ گئی ۔۔۔