Anmol Se Bemol By Saba Mughal readelle50047 Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
انمول سے بے مول
ازقلم صبا مغل
قسط 13
ہانیہ گم صم نظروں سے دیکھ رہی تھی ولید خانزادہ کو ۔۔۔ سبکی کا احساس جاگا , شدید شرمندگی اور توہیں محسوس کی اس نے ۔۔۔ پر سامنے کسے پرواہ تھی اس کی , جسے پرواہ ہونی چاہیۓ وہ واشروم جاچکا تھا ۔۔۔ کچھ دیر میں باہر ایا چینج کرکے بیڈ پر اکر لیٹ گیا اپنے سائیڈ کا لیمپ آف کرکے ۔۔۔
ہانیہ ڈرسینگ کے اگے کھڑی شیشے میں سے اس کی کاروائی دیکھتی رہ گئی وہ جو کبھی آویزوں سے الجھتی تو کبھی بالوں کی پنوں سے جیسے تیسے کرکے ان زیور سے چھٹکارا پایا ۔۔۔
“پلیز ذرہ جلدی نظریں , مجھے نینند ارہی ہے اور لائیٹ چبھ رہی ہے انکھوں کو ۔۔۔ ولید خانزادہ کی بھاری آواز گونجی کمرے میں ۔۔۔
“جی ۔۔ ہانیہ نے کہا ۔۔۔
اور جلدی سسے اپنا ڈریس اٹھاکر واشروم گئی ۔۔۔
“کچھ لائیٹس کم کرتی ہوئی جائیں ۔۔۔ ولید خانزادہ کی آواز پر جاتی جاتی ٹھری اور سب لائیٹس آف کرکے صرف زیرو بلب کھولتی واشروم چلی گئی ۔۔۔
“تھینکس ۔۔۔ کہے کر اس نے دوبارہ انکھیں موند لیں ۔۔۔ وہ مردہ قدموں سے واشروم گئی ۔۔۔ واپس آئی تو وہ سوچکا تھا ۔۔۔ آنکھیں نم ہوئیں اس کی بےحسی پر اور تھک کر وہ نیند کی وادیوں میں اترگئی ۔۔۔
@@@@@@@@
“تیار رہنا آج شاپنگ پر چلنا ہے شام میں ۔۔ ثوبان نے صبا سے کہا ۔۔۔ جو اس کے سامنے ناشتہ رکھتی ہوئی جانے لگی تھی ۔۔۔
“جی مجھے کہا ۔۔۔۔ وہ حیران تھی بات پکی ہونے کے بعد یہ پہلی بات کی تھی ثوبان نے کی تھی جس میں بھی اس کا نام نہ لیا تھا اس لیۓ پوچھ بیٹھی ۔۔۔
“اور کوئی تو مجھے دِکھ نہیں رہا , تم سے ہی کہے رہا ہوں ۔۔۔ ثوبان نے سرسری لہجے میں ادھر ادھر دیکھ کر کہا ۔۔۔ وہ شرمندہ ہوئی اس کے انداز پر ۔۔۔
اس کے سانولی چہرے پر اداسی صاف نظر ارہی تھی ۔۔۔
“ٹھیک ہے ۔۔۔ صبا نے مختصر جواب دیا ۔۔۔
“شام پانج بجے اور رانیہ کو بھی کہے دینا ۔۔۔ ثوبان نے یاد انے پر دوبارہ کہا جس پر صبا نے اثبات میں سرہلایا اور چلی گئی ۔۔۔
@@@@@@@
ہانیہ سے گھر والوں نے فون پر بات کی تو پتا چلا کہ ناشتے کا منع کردیا ہے ولید خانزادہ نے اور شام کو ارہے ہو تم دونوں ۔۔۔ ہانیہ الجھی الجھی سی تھی اسے اپنی کل رات کی بےعزتی نہیں بھول رہی تھی ۔۔۔ ابھی بھی ولید خانزادہ نے اسے بتایا تک نہیں وہ اس کے گھروالوں سے بات کرچکا ہے ۔۔۔ کیا بات ہوئی وہ اس بات سے بھی بےخبر تھی ۔۔۔
ولید خانزادہ ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھا ناشتہ کررہا تھا وہ اکر بیٹھی جس پر اس نے خاص نوٹس نہ کیا ۔۔۔
“اپ نے گھروالوں سے بات کی مجھے بتانا چاہیۓ تھا ۔۔۔ ہانیہ نے دھیمے لہجے میں کہا ۔۔۔
” میں تمہیں ہر ایک بات بتانے کا ذمہ دار نہیں ہوں تھوڑا خود بھی باتیں سنبھال لیا کریں ۔۔۔ ولید خانزادہ کے اکھڑے لہجے پر چونکی ۔۔۔ اج تک کسی نے اس سے اس طرح بات نہ کی تھی دل پر برچھیاں تو چلنی ہی تھیں اس کے کاٹ دار لہجے پر ۔۔۔
“کیا اج شام گھر چلیں گے ۔۔۔ ہانیہ نے جھجھکتے ہوۓ پوچھا ۔۔
“ہممم چلیں گے ۔۔۔ تیار رہیۓ گا شام سات بجے ۔۔۔ ولید خانزادہ نے املیٹ کھاتے ہوۓ کہا ۔۔۔ وہ مکمل اپنے ناشتے کے ساتھ انصاف کررہا تھا بغیر اس طرف دھیاں دیۓ ہانیہ نے کچھ لیا بھی ہے کہ نہیں ۔۔۔
“ٹھیک ہے میں تیار رہوں گی ۔۔۔ اس نے جلدی سے کہا ۔۔
“ایک بات میں واضح کردوں کہ روز روز چلنے کا ڈرامہ مجھ سے نہیں ہوگا آئندہ سے اپ کے اور بچوں کے لیۓ علیدہ گاڑی اویلیبل ہوگی ۔۔۔ اس بات کا خیال رہے کہ بچوں کو ان کا ٹائم پورا آپ دیں گی باقی جس وقت بچے مصروف ہوں اس وقت آپ جانا چاہیں تو آپ جا سکتی ہیں اپنے میکے مینس ان کے اسکول کے ٹائم ۔۔۔ آپ کو اجازت ہے ۔۔۔
وہ خاموشی سے دیکھتی رہی اس شخص کو جو دنیا کے سامنے اس کا شوہر ہے اصل زندگی میں اس کی اہمیت کچھ بھی نہ تھی اس کی نظر میں ۔۔۔ ناشتہ کرکے وہ چلا گیا بچے تو الریڈی اسکول جاچکے تھے ۔۔۔ وہ اکیلی رہ گئی تھی گھر پر ۔۔۔ کچھ سمجھ نہ ایا تو ٹی وی کھول کر بیٹھ گئی ۔۔۔
@@@@@@@@@
رانیہ کو اعتراض تھا ثوبان اور صبا کے ساتھ جانے پر , اسے کباب میں ہڈی بننے کا شوق نہ تھا پر ان کے فورس کرنے پر جانا پڑا ۔۔۔
ثوبان گاڑی چلا رہا تھا اور صبا اس کے ساتھ اگے بیٹھی تھی جبکہ رانیہ پیچھے بیٹھی تھی ۔۔۔مسلسل خاموشی تھی پہلے تو رانیہ ادھم مچاۓ رکھتی تھی ۔۔۔
اس خاموشی کو ثوبان نے توڑا اور کہا “کیا بات ہے چڑیا تم نے تو بولنا ہی چھوڑ دیا تم نے کب سے چپ کے روزے رکھنا شروع کیۓ ہیں ۔۔ وہ کہے رانیہ سے تھا پر دیکھ صبا کو رہا تھا ۔۔۔
“کیا بولوں ثوبان بھائی ۔۔۔ وہ پھیکی سی ہنسی ہسی ۔۔۔ رانیہ کی اصل ہنسی تو لہیں کھوگئی تھی جس کا احساس شدت سے تھا صبا اور ثوبان کو ۔۔۔ اپنی سچی خوشی اور دلی مراد برآۓ پھر بھی کوئی دکھی تھا تو وہ رانیہ تھی ۔۔۔
“کہو تو تمہارے مسکرانے کی وجہ کو بلا لیا جاۓ ۔ ۔ ثوبان نے شرارتی لہجے میں کہا ۔
“کیا مطلب ۔۔۔ رانیہ نے پوچھا ۔۔
“کچھ نہیں ۔۔۔ ثوبان نے کہا ۔۔
دوبارہ خاموشی چھاگئی ۔۔۔
“یہ ہم کہاں جا رہے ہیں ثوبان بھائی ۔۔۔ رانیہ نے راستہ دیکھتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“پتا چل جاۓ گا ۔۔۔ ثوبان نے کہا ۔۔۔
کچھ دیر میں وہ لوگ سی ویو کے سامنے گاڑی روکی ۔۔۔ تینوں ساتھ چلنے لگے گاڑی پارک کرنے کے بعد ۔۔۔
@@@@@@@@
تھوڑا دور چلنے کے بعد ایک جگہ اکر ٹھرے تینوں ۔۔۔
“لجیۓ سعاد صاحب اپ کی امانت ۔۔۔ ثوبان ایک شخص کے پاس اکر کھڑا ہوکر بولا جس کی پیٹھ تھی ان کی طرف ۔۔ اس کی آواز پر پلٹا اور ثوبان سے ملا ۔۔۔ سلام دعا کے بعد ثوبان نے کہا ۔۔۔
“ہم اس طرف ہیں چلیں صبا ۔۔۔ ثوبان نے پیار سے کہا ۔۔۔ اس کے لہجے پر صبا کا دل زور زور سے دھڑکا۔۔۔
رانیہ حیران تھی سعاد کو دیکھ کر ۔۔ اب سمجھ ایا تھا اسے ثوبان کا ذومعنی لہجہ ۔۔۔ دونوں ساتھ چلنے لگے ۔۔۔
“کیسی ہیں اپ ۔۔۔ لمحوں کی خاموشی کے بعد سعاد نے کہا تھا ۔۔۔
“میں ٹھیک ۔۔ جانے کیوں اسے دشواری ہوتی تھی اس سے بات کرتے ہوۓ ۔۔۔
“اپ کیسے ہیں ۔۔۔ اس نے پوچھا ۔۔۔ جانے کیوں دل خوش ہونے لگا تھا اسے دیکھ کر ۔۔۔
“سپرب فائن ۔۔۔ سعاد نے کہا ۔۔۔
سعاد نے اسے آئیسکریم کھلائی اور دونوں کے بیچ ہلکی پھلکی گفتگو کا آغاز ہوا ۔۔۔ رانیہ کے چہرے پر خوشی صاف دِکھ رہی تھی ۔۔
رانیہ ایک باتونی لڑکی تھی جو جلد ہی فرینک ہوجایا کرتی تھی ۔۔۔ اس لیۓ ابھی بھی سعاد کو مزے سے بتانے لگی کس طرح ثوبان اسے زبردستی لایا ورنہ وہ ان دونوں کے بیچ نہ اتی ۔۔۔
“مجھے نہیں اندازہ تھا یہ پروگرام اپ نے بنایا ہے ۔۔۔ وہ اپنی رو میں بولی ۔۔۔
“تمہارا اندازہ درست ہے رانیہ یہ پروگرام میں نے نہیں بنایا ۔۔۔ سعاد نے سادہ لہجے میں کہا جس پر وہ شاک ہوئی ۔۔۔
“پھر کس نے بنایا ۔۔۔ اس نے عجیب لہجے میں پوچھا ۔۔۔
“سارہ بھابھی اور نایاب اپی والوں نے ۔۔۔ میں تو اپنے دوستوں کی طرف جارہا تھا پھر کینسل کرنا پڑا ۔۔۔ سعاد نے چلتے ہوۓ کہا وہ پیچھے رہ گئی اور وہ اگے بڑھ گیا شاید وہ اپنے دھیاں میں تھا اس لیۓ اس کا پہلے چوکنا پھر رکنا محسوس نہ کرسکا ۔۔۔
“کہیں میں نے کوئی غلط فیصلا تو نہیں کرلیا جس شخص کو میرا ہونا نہ ہونا محسوس نہیں , اس کا ساتھ کیسا ہوگا ۔۔۔ دل اتھا گہرائیوں میں ڈوبنے لگا رانیہ کا یہ سوچ کر ۔۔۔
“وہاں کہاں رک گئیں رانیہ , چلو ساتھ ۔۔۔۔ سعاد کے بلانے پر چونکی اور اپنی سوچوں سے باہر نکلی ۔۔۔ دوبارہ اس سے قدم ملاۓ ۔۔۔ اب پہلے سی خوشی نہ تھی دل مضطرب تھا ۔۔۔
وہ اسے اپنا لائیف اسٹائل اور امریکا کی باتیں بتارہا تھا جانے کیوں اس کے اندر دلچسپی نہ پیدا ہوئی جو اسے غور سے سنے اس لیۓ بےدلی سے سن رہی تھی ۔۔۔
کچھ دیر گزرنے کے بعد سعاد نے کہا ۔۔۔
“کچھ دیر اور ٹھرنا ہے یا چلیں ۔۔۔
“چلتے ہیں ۔۔۔ رانیہ نے کہا ۔۔۔ اب اس کے ساتھ رکنے کا من نہ تھا رانیہ کا ۔۔۔ دل بھر سا گیا تھا تنہا گوشہ پاکر رونے کا تھا ۔۔۔
“اوہ ہاں یاد ایا کچھ لینے کا موڈ ہو تو شاپنگ پر لے چلوں , نایاب اپی نے کہا تھا اپ سے پوچھ لوں ۔۔۔ سعاد نے کہا اس کے لہجے کا سرری پن ظاہر کررہا تھا اسے کوئی دلچسپی نہیں ایسی کسی چیز میں پھر کسی پر مسلط ہونے کا کیا فائدہ ۔۔۔
“کیسا عجیب شخص تھا جسے کسی کا دل بھی رکھنا نہیں اتا ۔۔۔ کاش بغیر نایاب کا نام لیۓ پوچھتا تو شاید وہ اس کے ساتھ چلی بھی جاتی جسٹ ونڈو کے لیۓ ۔۔۔ پر اب اسے فضول لگا ۔۔۔ اس لیۓ نفی میں سرہلایا اور کہا ۔۔۔
“نہیں کسی چیز کی ضرورت نہیں ۔۔۔ رانیہ نے سامنے کا منظر دیکھتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“تو پھر چلتے ہیں ۔۔۔ سعاد نے کہا ۔۔۔۔
وہ گاڑی میں اس کے ساتھ اگے بیٹھی اور یاد انے پر بولی ۔۔۔
“ثوبان بھائی اور صبا کو تو دیکھ لیں ۔۔۔
“وہ بچے نہیں ہیں ان کے پاس اپنی گاڑی ہے ڈونٹ وری ۔۔ سعاد کے انداز پر اسے سبکی ہوئی ۔۔۔
“واقعی یہ شخص جب بولتا ہے تو بغیر لحاظ کے بولتا ہے ۔۔۔ رانیہ نے دل میں سوچا ۔۔۔
گاڑی ان کے گیٹ پر رکی تو سعاد بولا ۔۔۔
“رکو ایک منٹ اور ڈیش بورڈ سے ایک ڈبیا نکال کر اس کی طرف بڑھائی اس نے حیرت سے دیکھا ۔۔۔ رانیہ نے جلدی ہاتھ نہیں بڑھایا تو اس کی جھولی میں رکھی ڈبیا سعاد نے ۔۔۔
“یہ کیا ہے ۔۔۔ رانیہ نے پوچھا ۔۔۔
“آپ کا گفٹ ۔۔۔ سعاد نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوۓ پوچھا ۔۔۔
“کس کی طرف سے کس خوشی میں ۔۔۔ رانیہ نے پوچھا ۔۔۔ سوال تو بےتکا تھا پر جلدی میں پوچھ بیٹھی ۔۔۔
“افکورس میری طرف سے , آپی نے کہا تھا دینے کو پسند بھی ان کی ہے , میں نے تو دیکھا بھی نہیں ۔۔۔ سامنے بھی سعاد تھا جس نے منٹوں میں رانیہ کی ذات کو دوکوڑی کا کردیا تھا ۔۔۔
“ہممممم ۔۔۔ تھینکس ۔۔۔ اس نے مردہ آواز میں کہا ۔۔
سعاد نے ایک دفعہ بھی اس کے چہرے کی طرف نہ دیکھا جس پے اداسی کی ایک داستاں رقم تھی ویسے دیکھا بھی ہو پر نوٹس نہ کیا وہ اپنی دھن میں چلتا تھا اور اپنی رو میں بولتا سامنے والے کے تاثرات کی وہ کبھی پرواہ نہ کرتا تھا اتنا تو رانیہ کو سمجھ اگیا تھا اب تک ۔۔۔۔
“اب کھولو میں بھی دیکھوں کیا پسند کیا نایاب اپی نے تمہارے لیۓ ۔۔۔ سعاد نے تھوڑا ایکسائیٹمنٹ میں کہا ۔۔۔
سعاد کے ہشابشاش انداز بھی اس کے دل کی کوئی دھن نہ چھیڑسکا وہ بےدلی سے ڈبیا کھولی ۔۔۔ رات کے نو بجے تھے گاڑی میں اندھیرا تھا باہر کی ہلکی روشنی ارہی تھی رانیہ نے ڈبیا کھولی جس میں خوبصورت ڈائمنڈ ایرینگز جگمگاۓ پر ان کی روشنی بھی اس کے دل میں اٹھی ٹیس کو دبا نہ سکی ۔۔۔
“واؤ اٹس نائیس , واٹ اباؤٹ یو ۔۔۔ سعاد نے تعریف کی اور ساتھ میں اس کی راۓ لینا چاہی ۔۔۔
“یس اٹس نائیس ۔۔۔ رانیہ نے کہا اور ڈبیا بند کردی ۔۔۔
“آپ چلیں گے اندر ۔۔۔ رانیہ نے دل سے پوچھا ۔۔۔
“نہیں دیر ہورہی پھر کبھی ۔۔۔ سعاد نے تھکن بھرے لہجے میں کہا ۔۔
“اللہ حافظ ۔۔
“اللہ حافظ ۔۔۔ دونوں نے ایک دوسرے سے کہا ۔۔۔
“کاش اسے کہے سکتی اندر چلو میرے ماں باپ سے مل لو ۔۔ شاید ان کا دل کچھ نرم ہوسکے میرے لیۓ ۔۔۔ پر وہ بس سوچتی رہ گئی ۔۔
@@@@@@@@@
رانیہ گھر میں داخل ہوکر سب کو سلام کیا اور دھم سے صوفے پر آبیٹھی اس کے چہرے ہر تھکن کے آثار تھے جیسے میلوں کی مسافت کرکے آئی ہو ۔۔۔ نازیہ بیگم نے اسے پیار کیا جبکہ نائلہ اپنے کام میں مصروف تھی یسرا اٹھ کر جاچکی تھی کچن کی طرف ۔۔۔ وہ اپنی ماں کو جاتا دیکھتی رہی جس نے ایک دفعہ اس کا حال نہ پوچھا ۔۔ رانیہ کو دکھ ہوا ۔۔۔
“کیسا رہا سب ۔۔۔ سارا نے پوچھا ۔۔۔
“سہی رہا ۔۔۔ ہانیہ آپی کہاں ہے ۔۔۔ اب کے رانیہ نے ادھر ادھر دیکھ کر پوچھا ۔۔۔ جیسے اسے ڈھونڈرہی ہو ۔۔۔
“وہ چلی گئی ولید بھائی کو جلدی تھی پھر بچوں کا اسکول بھی تھا ۔۔۔ سارا نے ڈیٹیل بتائی ۔۔۔
“اوہ میں مل بھی نہ سکی ان سے ۔۔۔ رانیہ کو افسوس ہوا ۔۔۔
“صبا اپی وہ کہاں ہیں ۔۔۔ یاد انے پر پوچھا رانیہ نے ۔۔۔
“وہ تو نہیں آئیں اب تک , شاپنگ میں مصروف ہیں شاید باہر ڈنر کرکے پھر ہی آئیں وہ لوگ ۔۔۔ سارا نے بتایا ۔۔۔
“اچھا یہ تو زبردست رہے گا ان کے لیۓ ۔۔۔ رانیہ نے دل سے کہا ۔۔۔
“ہاں اچھا ہے ۔۔۔ سارا نے بھی خوشی سے کہا ۔۔۔
“تم نے دکھایا نہیں سعاد بھائی نے کیا دیا تم کو ۔۔۔ سارا نے خوشی سے پوچھا وہ جانتی تھی رانیہ گفٹس کی شوقین ہے ۔۔۔ گفٹس لینا اسے بڑا پسند تھا ۔۔۔
“آپ کو تو پتا ہوگا سب سارا آپی ۔۔۔ اس کا لہجہ عجیب تھا پر سارا نے بلکل برا نہ منایا اس کے لہجے کا ۔۔۔
“ہاں مجھے تو پتا ہے پر گھروالوں کو دکھانا ہوتا ہے ۔۔۔ اس نے پرس سے نکال کر ڈبیا ان کے ہاتھ پر رکھی ۔۔۔
پھر سب نے دیکھا سعاد کا دیا گفٹ اور تعریف کی سب نے پر کسی کی کسی بات نے اس کے چہرے پر رونق نہ لاسکی ۔۔۔
@@@@@@@@
“کیا بات ہے صبا , تم چپ چپ ہو ۔۔۔ سی ویو کی ریت پر ننگے پاؤں چل رہے تھے وہ دونوں ۔۔۔ سعاد اور رانیہ کو چھوڑ کر اب وہ دوسری طرف اکیلے ساتھ تھے ۔۔۔
“میں تو پہلے بھی ایسے ہی چپ رہتی تھی ۔۔۔ صبا کو اچھا لگا وہ اس کا نام لے کر اس سے مخاطب ہوا ۔۔۔ اس لیۓ آہستہ آواز میں بولی ۔۔۔
“اور اگر میں کہوں میں تمہیں بولتے ہوۓ سننا چاہتا ہوں تو ۔۔ اس نے تو کو ذرہ لمبا کھینچا ۔۔۔ وہ اس کی انکھوں میں جھانکا ۔۔۔ اس نے پلکیں جھکالیں شرم سے ۔۔۔
“تم شرماتی بھی ہو صبا ۔۔۔ اسے اور زیادہ شرم آئی اس نے چہرے پر ہاتھ رکھ لیا ۔۔۔ اس کا مبہم لہجہ اس کا دل دھڑکا رہا تھا ۔۔۔
“اب چہرے سے ہاتھ تو ہٹاؤ ۔۔۔ سب نے اس طرف متوجہ ہونا ہے ۔ اب کے ثوبان نے نارمل لہجے میں کہا ۔۔۔
اس کے کہنے پر اس نے ہاتھ ہٹادیۓ ۔۔۔ پر اس کے معصوم انداز ثوبان کو اچھے لگے ۔۔۔
“پلیز ایسی باتیں نہ کریں ۔۔۔ صبا نے دھیمے لہجے میں کہا ۔۔۔
“اوکے نہیں کروں گا پر ایک شرط پر ۔۔۔ ثوبان نے اس کی انکھوں میں جھانک کر کہا ۔۔۔
“کیسی شرط ۔۔۔ صبا نے پوچھا ۔۔۔
“جلدی آئیسکریم کھا کر یہاں سے چلنا ہے قریب شاپنگ مال ہے وہاں سے ہم اپنی پسند سے مگنی کا ڈریس لیں گے اور رانیہ اور سعاد کاتحفہ بھی لینا ہے , یہ سب کام مل کے کرنے ہیں ہمیں اور جلدی کروگی تم ۔۔۔ وہ مسکرائی اس کی معصوم شرط سن کر ۔۔۔
“ٹھیک ہے ۔۔۔ پھر دونوں نے ہلکی پھلکی باتیں کیں آئیسکریم کھاتے ہوۓ ۔۔۔
دونوں نے مل کر شاپنگ کی اور کچھ گفٹس لیۓ , یاد انے پر اس نے ہانیہ کا پوچھا “اس کے لیۓ بھی لینا چاہیۓ گفٹ ۔۔۔
“ہمممم لے لو مجھے نہیں لگتا اب وہ ہمیں اس قابل سمجھے گی ۔۔۔ ثوبان نے سادہ لہجے میں کہا ۔۔۔ اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہ ہانیہ کے نام پر ۔۔۔ صبا کے دل کو کچھ سکوں ایا ۔۔۔
“وہ اس کی سوچ اس کی نیت , ہمیں اسے کچھ دینا چاہیۓ اس شادی ہوئی ہے ۔۔۔ صبا نے کہا ۔۔۔
“ٹھیک ہے لے لو ۔۔۔
“میرا خیال ہے بچوں کے لیۓ بھی کچھ لے لیتے ہیں ۔۔۔ ثوبان نے کچھ سوچ کر کہا ۔۔۔ ولید خانزادہ کے بچوں کی طرف اس کا اشارہ تھا ۔۔۔
“ٹھیک ہے ۔۔۔
رات دس تک دونوں فارغ ہوۓ ۔۔۔
“اب چلیں گھر صبا نے کہا ۔۔۔
“ڈنر کے بعد ۔۔۔ ثوبان نے کہا ۔۔۔
” پر بہت لیٹ ہوگئی ہے ۔۔۔ صبا نے اس کا دھیان وقت کی طرف کروایا ۔۔۔
“پہلی دفعہ اکیلے آۓ ہیں اور بغیر ڈنر کے واپس لے جاؤں گھر ناممکن ۔۔۔ ثوبان نے شرارتی لہجے میں کہا ۔۔۔
ڈنر کے بعد واپسی میں اس کے ہاتھ میں گجرے پہناۓ ۔۔۔ وہ آج بہت خوش تھی یہ دن اس کی زندگی کا یادگار دن تھا ۔۔۔
@@@@@@@
گھر میں شادی کی تیاریاں زوروں پر تھیں ۔۔ آخر پھر وہ دن بھی آیا جب رانیہ کو مایوں بٹھایا گیا ۔۔۔ مایوں کی رسم تھی اس کے سسرال والے بھی آۓ تھے رات دیر تک فنکشن چلتا رہا ۔۔۔
ہانیہ اکیلے آئی تھی بچوں کے ساتھ , کل بچوں کا اسکول تھا اس لیۓ جلدی چلی گئی سب نے روکا پر وہ نہ رکی ۔۔۔
ہانیہ نے ولید سے دو تین دن پہلے کہا تھا ۔۔۔
“تو کیا اپ نہیں چلیں گے میرے ساتھ , ابھی رانیہ کی شادی قریب ہے ۔۔۔ اس کے فنکشن شروع ہونے ہیں ۔۔۔ ہانیہ کے لہجے میں بیچارہ پن تھا ۔۔۔ اکیلاپن تنہائی نے اسے ایسا بنادیا تھا ۔۔۔ بچے خوش تھے اسے دیکھ دیکھ کر پر ہانیہ اب پہلے سی نہ رہی تھی سادہ دل بچے اتنے میں بھی خوش تھے ۔۔۔ اسکول سے اتے اس سے ملتے ۔۔۔ پھر شام میں خود پڑھاتی , کسی طرح وقت تو گزارنا تھا ۔۔۔ وہ ولید خانزادہ کو شکایت کا موقع نہیں دینا چاہتی تھی اس کے سرد رویۓ کے باوجود ۔۔۔
“کوئی ایک فنکشن اٹینڈ کروں گا باقی میں بچے اپ کے ساتھ ہونگے ۔۔۔
” تو پھر بچوں کو بھی لے جانے کی کیا ضرورت ہے میں اکیلی اٹینڈ کر کے آ جاؤ گی جس میں آپ ساتھ ہونگے اس میں بچے چلیں گے ۔۔۔ ہانیہ کو اس کا انداز ناگوار گزرا تھا اس لیۓ اس طرح روڈ لہجے میں کہا ۔۔۔
“جتنا برداش کررہی ہوں اتنا یہ شخص مجھے ازما رہا ہے ۔۔۔
ہانیہ نے کلس کر سوچا پر ولید خانزادہ کی اگلی بات نے اسے سہی معنوں میں ہوش اڑاۓ ۔۔۔
زبان سنبھال کر بات کیا کریں ۔۔۔ اگر بچوں کے جانے کی ضرورت نہیں تو آپ کو بھی جانے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ میں ایک بات واضح کر دوں میرے بچے آپ کے گھر والوں سے اٹیج ہیں اگر اس طرح میرے بچوں کو اگنور کریں گی تو پھر یہ آپ کے حق میں اچھا نہیں ہوگا ۔۔۔ ولید خانزادہ کا انداز سرد تھے ۔۔۔
“سوری میرا وہ مقصد نہ تھا ۔۔۔ ہانیہ نے جلدی سے بات سنبھالی ۔۔۔
“پر جو میں نے کہا میرا وہی مقصد تھا ۔۔۔ ولید خانزادہ نے دوٹوک لہجے میں کہا ۔۔۔
کافی سارا کیش اس کے سامنے رکھا اور ایک کارڈ اس کی طرف بڑھایا ولید خانزادہ نے ۔۔۔ “جو لینا ہو لے لیں اور جتنے تحفے دینے ہو رانیہ اور صبا بہن کو میری طرف سے اجازت ہے ۔۔۔
وہ حیران تھی اتنا کچھ دیکھ کر ۔۔۔ الریڈی اتنا زیور اور کپڑے وہ لےچکی تھی اب دوبارہ وہ اسے اجازت دے رہا تھا ۔۔۔
” اور ایک بات جو اپ تحفے دے دیں گی وہ میرا اسٹینڈر سوچ کر دیں گی ۔۔۔ گاٹ اٹ ۔۔۔
“جی بلکل ۔۔۔۔ہانیہ نے کہا ۔۔۔ اور وہ وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔
شادی اور ولیمہ اٹینڈ کرے گا ولید خانزادہ وہ اسے بتاچکا تھا ۔۔۔ اس لیۓ اس نے اپنے طریقے بات سنبھال لی تھی ۔۔۔
@@@@@@@@
مہندی کی رات , پہلے ثوبان اور صبا کی مگنی کی رسم ادا کی گئی پھر سعاد اور رانیہ کی مگنی کی رسم ۔۔۔ رانیہ کو تب پتا چلا سعاد کو مہندی کی خوشبو سے الرجی ہے اس لیۓ رسم میں وہ کچھ دیر بیٹھا وہ بھی رومال رکھ کر منہ پر ۔۔۔
مہندی اسے بہت پسند تھی اور سعاد کا یہ انداز اسے دکھی کرگیا , اگر اس سے پہلے پتا ہوتا مہندی نہیں لگاتی اب تو وہ ہاتھوں بازوؤں اور پیروں پر لگا چکی تھی ۔۔۔ افسوس ہوا رانیہ کو ۔۔۔
آج بھی ہانیہ بچوں کو ساتھ لائی تھی ۔۔۔ ولید خانزادہ کی مصروفیت کا بہانہ کیا کہ وہ شہر سے باہر ہے ۔۔۔ ہانیہ بےخبر تھی ولید خانزادہ اپنے طریقے سے احد صاحب کو فوں کرکے اپنی مجبوری بتاچکا تھا ۔۔۔
کافی دیر فوٹو سیشن ہوا , کپل فوٹو شوٹ ہوا ۔۔۔ ثوبان اور صبا کو بیچ کھڑا کرکے سارا فیاض اور اس کی کزنز نے ڈانس کیا ۔۔۔ سعاد تو ویسے بھی بہت موڈی بندہ تھا اس لیۓ اس کے اور رانیہ کے ساتھ کم مستی کی اس کی کزنز نے ۔۔۔ سعاد کی خود کی کزنز زیادہ مستیاں ثوبان اور صبا سے کررہیں تھیں سارا اور فیاض بھی ساتھ تھے ۔۔۔ ڈانس بھی کیۓ سب نے ۔۔۔
اگلے دن شادی تھی رانیہ کی ۔۔۔ ثوبان نے پارلر کی بکنگ صبا کی بھی کروائی تھی ۔۔۔ رانیہ دلہن بنی حسین لگ رہی تھی ۔۔۔۔ ہر کسی نے تعریف کی ۔۔۔
صبا کی بھی سب نے تعریف کی تھی ۔۔۔ کئیں دفعہ ثوبان کا اسے دیکھنا اسے شرمانے پر مجبور کر گیا ۔۔۔
آج ولید خانزادہ نے بھی شرکت کی تھی ۔۔۔ احد صاحب خوش ہوۓ ۔۔۔ ہانیہ اج بہت حسین لگ رہی تھی فیروزی ساڑی میں سب نے تعریف کی جس نے کرنی چاہیۓ تھی اس نے ایک نظر نہ دیکھا تھا ۔۔۔
نکاح تو ہوچکا تھا اس لیۓ دودھ پلائی کی رسم ہوئی کھانے کے بعد اور پھر رخصتی کا وقت اگیا آخرکار ۔۔۔
احد صاحب اور یسرا بیگم کی دعاؤں میں وہ رخصت ہوئی۔۔۔ سب کی انکھیں نم ہوئیں اس کی رخصتی پر ۔۔۔
@@@@@@@@
وہاں ایک فوٹو شوٹ ہوچکا تھا اب گھر پر بھی ایک اور فوٹو شوٹ ہوا ۔۔۔ کچھ رسمیں کیں گئیں جن سے فارغ ہوکر دلہن کو کمرے میں بٹھایا گیا ۔۔۔ دوبارہ اس کے میک اپ کو سیٹ کیا سعاد کی ایک کزن نے , نایاب اپی نے اسے بہت پیار کیا اور اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا جس پر سارا خوش ہوئی , بہت تعریف کی اس نند کے پیار کی اور رانیہ کو خوشنصیب کہا ۔۔۔
اسے اکیلے انتظار کیۓ کچھ دیر گزری سعاد اگیا کمرے میں ۔۔۔ اتے ہی سب سے پہلے کوٹ اتارا اس نے ۔۔۔
“اف یار تھکا دیا , پاکستان کی شادیوں میں بہت ڈرامہ ہے کہ بندہ بیزار ہوجاۓ کیوں رانیہ ایسا ہے کہ نہیں ۔۔۔ سعاد نے ٹائی ڈھیلی کرتے ہوۓ کہا ۔۔۔ اس مرتبہ رانیہ کے گھر والوں نے ڈاریکٹ کیش دے دیا سعاد کو شادی کے کپڑوں کے لیۓ بجاۓ شیروانی وغیرہ دینے کے کیونکہ ان کو اندازہ تھا سعاد اپنے موڈ اور مرضی سے کپڑے پہنتا ہے کسی اور کی پسند نہیں پہنتا ۔۔۔
“جی ۔۔۔ رانیہ نے دھیمے لہجے میں کہا ۔۔۔
اف اب یہ گھونگھٹ بھی اٹھاؤ ۔۔۔ سعاد نے آہستہ اواز میں زیرلب کہا ۔۔۔ رانیہ اپنی سوچوں میں گم تھی سن نہ سکی ۔۔۔ رانیہ کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا ۔۔۔ یہ رات ہی کچھ ایسی تھی ۔۔۔ بہت خوبصورتی سے سجا تھا کمرہ , اس رات کا فسون سب کو جکڑتا ہے سو رانیہ بھی کھوئی تھی ان مسحورکن لمحوں میں ۔۔۔
سعاد نے اس کا گگوگھنٹ اٹھایا اور کہا ۔۔۔ ” اپ بہت اچھی لگ رہیں ہیں رانیہ ۔۔۔ اور اس کے ہاتھ تھامے ۔۔۔ وہ اس کے اتنی زیور کو غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ رانیہ نے اس کا دھیان ہٹایا اور کہا ۔۔۔۔
“سعاد اپ نے گھونگھٹ اٹھالیا میری منہ دکھائی تو دی نہیں ۔۔۔ رانیہ نے ساری شرم بالائے طاق رکھ کر اپنے دل کی بات کہی کیونکہ منہ دکھائی والی رسم اس کی سب سے پسندیدہ رسم تھی شادی کی رسموں میں ۔۔۔ اس لیۓ اس نے خود مانگ لیا منہ دکھائی کا تحفہ ۔۔۔ وہ اس کی تعریف کرچکا تھا اس لیۓ ایک ادا اور حق سے مانگی اس نے منہ دکھائی ۔۔۔
“رانیہ میں ایسی فضول رسموں کو نہیں مانتا اتنا کچھ دیا ہے ہم نے اور کوئی کمی رہ گئی وہ بھی لادوں گا ۔۔۔ پوری شادی میں اپ نے گھونگھٹ نہیں کیا تھا سب نے آپ کا منہ دیکھا اتنا لمبا فوٹو شوٹ ہم نے ساتھ کروایا اب کمرے میں آکر گھونگھٹ کرلیا اور پھر منہ دکھائی کے نام پر گفٹ لینا بھی کتنا فضول لگتا ہے اور میں اس فضول ٹرینڈ کو فالو نہیں کرتا سوری رانیہ ڈیئر ۔۔۔
اور وہ ہکا بکا ہوکر اسے دیکھنے لگی ۔۔۔ یہ امید نہ تھی رانیہ کو سعاد سے ۔۔۔۔ وہ اس شخص کی بےحسی پر دنگ رہ گئی ۔۔۔۔
“آۓ ہوپ یو انڈرسٹینڈ ڈیئر ۔۔۔ اوکے میں چینج کرلوں ۔۔۔ تب تک اس جھنجھٹ سے تم چھٹکارا پاؤ ۔۔۔ اتنا زیور مجھے دیکھ کر الجھن ہورہی ہے اور اپ نے پہنا کیسا ہے ماۓ گاڈ میں تو حیران ہوں پاکستان کے ٹرینڈس پر ۔۔۔ سعاد نے اس کا گال تھپتھپایا اور اٹھ کھڑا ہوا اپنی بات کہے کر وہ حیران ہوتی رہ گئی اس شخص پر ۔۔۔۔ آنکھوں میں ہلکا نمکیں پانی جمع ہوا اور گلہ رندہ سا گیا ۔۔۔ لمحوں میں وہ اسے بےمول کرگیا ساری خوشی سکوں دور ہوتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔
“کیسے گزرے گی زندگی اس شخص کے ساتھ جو کسی کے بھی احساسات سے عاری ہے نہ اسے پرواہ ہے کسی کی ۔۔۔ اس نے دکھ درد کی ملی جلی کیفیت میں سوچا ۔۔۔ سعاد واشروم جاچکا تھا ۔۔۔۔ وہ شیشے میں خود کو دیکھتی رہ گئی ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
