Anmol Se Bemol By Saba Mughal readelle50047 Episode 25
No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
انمول سے بےمول
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 25
ولید خانزادہ جاچکا تھا ۔۔۔ بچے کھیلنے میں مصروف تھے اس گھر میں ان کو بےپناھ پیار ملتا تھا اس لیۓ وہ اس گھر کو ننھیال سمجھ کر اتے تھے ۔۔۔ یہاں یسرا بیگم ان کی نانو امی تھی تو احد صاحب ان کے بابا جانی تھے ۔۔۔۔ یہی وجہ تھی ولید خانزادہ بہت زیادہ عزت کرتا تھا سب کی ۔۔۔
ہانیہ کی مکمل توجہ بچوں پر تھی ابھی وہ انہیں کہے کر بیٹھی تھی کہ ” کچھ دیر میں گھر چلنا ہے کل سکول بھی جانا ۔۔۔
اور جس پر دونوں نے سعادتمندی سے کہا تھا “یس ماما بسس تھوڑی دیر اور ۔۔۔
وہ “اوکے کہے کر دوبارہ صوفے پر بیٹھ گئی ۔۔
وہ خود میں اس قدر گم تھی اسے پتا ہی نہیں چلا کب یسرا بیگم اس کے پہلو میں اکر بیٹھی ۔۔۔
“کیا بات ہے ہانیہ سب ٹھیک ہے نا تمہارے اور ولید کے بیچ ۔۔۔ ہانیہ یسرا بیگم کی آواز پر چونکی ۔۔
“جی امی سب ٹھیک ہی ہے ۔۔۔ کیوں کیا ہوا ۔۔۔ ہانیہ نے سنبھل کر ہوچھا ۔۔
“تمہارا گم سم اور اداس چہرہ تو کچھ اور کہہ رہا ہے ۔۔۔ یسرا بیگم روک نہ سکیں کہنے سے ۔۔۔
“امی آپ کا وہم ہے اور کچھ نہیں ۔۔ ہانیہ نے جلدی سے کہا ۔۔۔ وہ ان کو سب ٹھیک ہے کا تاثر دینے کی کوشش میں ہلکاں تھی ۔۔
“ماں کو وہم نہیں الہام ہوتے ہیں ہانیہ ۔۔ یسرا بیگم نے مبہم لہجے میں کہا ۔۔۔
ماں کے دکھی لہجے نے اسے شرمندہ کردیا تھا ۔۔ اب کے سنبھل کر مسکرا کر بولی ۔۔
“امی سچ میں سب ٹھیک ہے اپ بےفکر ہوجائیں ۔۔۔ مسکرانے کی شدید کوشش کے باوجود ہونٹوں کو کچھ حد تک پھیلا ہی سکی ۔۔۔ پر ماں تو انکھ کی ویرانی بھی دیکھ لیتی ہے ۔۔ یسرا بیگم حیران ہوئی اپنی بیٹی پر ۔۔
“ہانیہ ایسی تو نہ تھی تم ۔۔۔ انہوں نے دکھی لہجے میں کہا ۔۔۔
“امی میں تو ویسی ہی ہوں ۔۔۔ مجھے چھوڑیں یہ بتائیں رانیہ کب ارہی ہے سچ مزا آۓ گا میں تو اس کی شرارتوں کو مسس کررہی ہوں اس کے انے سے رونق لگے گی اصل میں وہ ہی تو جان ہے اس گھر کی ۔۔۔ ہانیہ نے ان کا دھیان بٹانے کی کوشش کی ۔۔
“ٹھیک کہے رہی ہو ۔۔۔ اس سے ہی رونق ہے گھر کی ۔ وہ نہیں ارہی سعاد کی جاب کی مصروفیات ہیں چھٹی ملنا مشکل ہے اوپر سے اس کے خود کے سیمسٹر اگزامز ہیں ۔۔۔ یسرا بیگم نے دکھ سے کہا ۔۔۔
“اوہ اس کا مطلب مانو نہیں ارہی ۔۔۔ ہانیہ کے لہجے میں افسوس اور دکھ تھا ۔۔۔
“ہمممم ۔۔۔ یسرا بیگم نے کہا ۔۔۔
کچھ لمحوں کے بعد یسرا بیگم بولیں ۔۔۔
“میں نے نازیہ بھابھی سے کہے دیا ہے مایوں اور مہندی کے دن صبا کو ہانیہ تیار کروادے گی ۔۔۔ پورا خاندان تعریف کرتا ہے تمہارے کیۓ میک اپ کی ۔۔۔ ہانیہ تمہیں برا تو نہیں لگا میں نے خود ہی کہے دیا سب , بغیر تمہاری مصروفیت کا پوچھے ۔۔۔ یہ سب کہتے ہوۓ پہلے ان کے لہجے میں فخر تھا ہانیہ کے اس ہنر پر بعد میں آخری لفظ کہتے فکر بھی تھی کہیں وہ انکار نہ کردے اپنی مصروفیات کے بنا پر ۔۔
“نہیں امی مجھے بلکل برا نہیں لگا , اپ نے کہا ہے تو ضرور تیار کروادوں گی ۔۔۔ ہانیہ نے بغیر کسی تاثر کے کہا ۔۔۔
“سچ ہانیہ تم نے مجھے خوش کردیا ۔۔۔۔ ورنہ دھڑکا لگا تھا تم انکار نہ کردو ۔۔۔ وہ اپنی رو میں کہے رہیں تھیں جبکہ ہانیہ بغیر تاثر کے دیکھتی رہی سامنے جہاں ثوبان اور صبا ایک دوسرے میں مگن تھے اور سارہ ان کو چھیڑنے میں مصروف تھی ۔۔۔ صبا حسین نہ سہی پر نکھرنے ضرور لگی تھی یہ ثوبان کی دی محبت ہی تھی ۔۔۔
“واقعی مرد کی توجہ اور پیار معمولی عورت کو بھی حسین بنا دیتا ہے اور مرد کی بے پرواہی اور بےاعنتائی حسین عورت کو بنجر کردیتی ہے ۔۔۔ ہانیہ نے سوچا ۔۔۔
آج صبا پر جلن کے بجاۓ اس کی خوشنصیبی کا اعتراف کیا خود سے ہانیہ نے ۔۔۔
کیسے لوگ وہ بھی تھے
جنہوں نے اپنا نصیب
اپنے ہاتھوں سے
دوسروں کو سونپ کر
خود کو بنجر کیا
کسی اور کو سنوار دیا
یہ میرا کمال تھا
یا تیرا مقدر
میرے نصیب کی بارشین
کسی اور کی چھت پر برس گئیں
@@@@@@@
اگلے دن شام میں ولید خانزادہ نے ملازم سے کہے کر اسٹڈی میں بلایا تھا ہانیہ کو ۔۔۔
وہ ناک کرکے اندر اگئی ۔۔۔ وہ چپ چاپ اس کے سامنے بیٹھ گئی ۔۔۔ کیسے میاں بیوی تھے ایک دوسرے سے بےخبر بےپرواہ ۔۔۔
“یہ لیں ۔۔۔ ولید خانزادہ نے کارڈ بڑھایا اور ساتھ میں لفافہ ۔۔۔
“یہ کس لیۓ ۔۔۔ ہانیہ نے ولید خانزادہ کو حیرت سے دیکھا ۔۔۔
“گھر کی شادی ہے اس کی تیاری کے لیۓ ۔۔۔ لفافہ اور کارڈ اب تک اس نے تھاما تک نہیں ۔۔۔
“سب کچھ پڑا ہے اس کی ضرورت نہیں ۔۔۔ ہانیہ نے سکوں سے کہا ۔۔۔
“ایک کارڈ اپ نے پہلے بھی دیا تھا شاید یاد نہیں اپ کو ۔۔۔ اسے یاد دلانے کی کوشش کی ہانیہ نے ۔۔۔ وہ ہانیہ جو کبھی شاپنگ کی دلداھ ہوا کرتی تھی کوئی موقع جانے نہ دیتی شاپنگ کا, اج اس کے لیۓ کہا جارہا تھا پھر بھی کوئی ایکسائیٹمینٹ نہ جاگی اس کے اندر ۔۔۔ جو یسرا بیگم کو جینا حرام کردیتی تھی اپنے پسند کے مہنگے جوڑے کے لیۓ , اج پیسا موقع دستور سب تھا , نہ رہی تو بس خواہشیں اور حسرتیں نہ رہیں , سو شاپنگ کا بھی دل نہ رہا ۔۔۔
“ہانیہ یہ رکھ لیں ایک اور کارڈ بھی ضروری ہے ۔۔۔ صبا اور ثوبان کے لیۓ بہتریں تحفہ لیں ۔۔۔ ہانیہ نے خاموشی سے کارڈ تھام لیا ولید خانزادہ کے اتنا کہنے پر ۔۔۔
وہ خاموشی سے جانے لگی ایک نظر اس نے ولید خانزادہ پر نہ ڈالی تھی ہمیشہ کی طرح اب وہ عادی ہوگیا تھا ہانیہ کی اس بےاعنتائی کے انداز کا ۔۔۔ پر اج تو اس کی نظریں بھی جھکی ہوئیں تھیں ایسا لگتا تھا جھالر سی گری ہو جیسے اج ولید خانزادہ کو پتا چلا تھا اس کی پلکیں لمبی خم دار تھیں بلکل گڑیا کی طرح ۔۔۔ آہستہ آہستہ وہ حسن کی دیوی کی طرف متوجہ ہونے لگا تھا ۔۔۔ اس کی جھکی پلکوں کا یہ تاثر ولید خانزادہ پر ہوا جیسے وہ اس سے اپنا اپ تو چھپا ہی رہی تھی اب اپنی انکھوں کے تاثرات بھی اس سے چھپاۓ رکھنا چاہتی تھی ۔۔۔
پر ولید اسے بغور دیکھنا نہ بھولا جو عام سے حلیۓ میں تھی مس میچ دوپٹا کندھوں پر پھیلا تھا ۔۔۔ ایک دم اس کا سجا سنورا روپ اس کی انکھوں میں اترا چہکتی اتراتی لڑکی ہوا کرتی تھی کبھی وہ , غرور جس کے ہر انداز سے چھلکتا تھا کبھی , اب یون کوں کہے سکتا ہے یہ وہی لڑکی ہے ۔۔۔
ولید خانزادہ کے دل کو کچھ ہوا ۔۔۔ عجیب درد بھرا احساس جاگا ۔۔۔
“سنو ۔۔۔
“جی کہے کر وہ پلٹی ۔۔۔
“اپنے لیۓ شاپنگ ضرور کرنا ۔۔۔ ولید خانزادہ خود کو کہنے سے روک نہ سکا ۔۔
“ہممممم ۔۔۔ اتنا کہے کر وہ چلی گئی اور وہ اسے جاتا دیکھتا رہا ۔۔۔
@@@@@@@@
سعاد نے گھر میں قدم رکھا رانیہ کو کہیں نا پاکر حیران ہوا ۔۔۔
“اب تک تو اجانا چاہیۓ تھا اسے ۔۔۔۔ کچھ سوچ کر وہ اسے فلیٹ میں دیکھنے لگا ۔۔۔کہیں نا پاکر حیران تھا ۔۔
اچانک گیلری کا دروازہ کھلا دیکھ کر وہ اس طرف ایا ۔۔۔
اس کے قدم ٹھٹھکے رانیہ کے کہے لفظ سن کر ۔۔
“میاؤں رو نہیں , یہ درد کم ہوجاۓ گا دوائی تو دے دی ہے نا ۔۔۔ وہ بلی کے بچے کو گود میں اٹھاۓ پیار کررہی تھی ۔۔۔
سعاد اس کے معصوم انداز پر مسکرایا ۔۔۔ اتنی حساس ہے رانیہ سعاد نے سوچا نہ تھا ۔۔ جانے کیوں وہ اسے اپنی سی اور پیاری سی لگی ۔۔۔ بلی کا بچہ کراہ رہا تھا ۔۔۔
وہ اس کے زخم دیکھ کر دوبارہ بولی “جانتی ہو میاؤں اپنوں سے دور ہوں تو چھوٹا زخم بھی بڑی اذیت دیتا ہے پر جب اپنوں کے پاس ہوں تو بڑا زخم بھی معمولی بن جاتا ہے ۔۔۔ کیا تم بھی میری طرح اپنوں سے دور ہو اس لیۓ اتنی تکلیف میں ہو ۔۔۔۔ رانیہ کی پینٹھ تھی سعاد کی طرف اس لیۓ وہ اسے دیکھ نہ سکی ۔۔۔ پر سعاد تو اسے سن رہا تھا اور چونکا تھا اس کی اتنی گہری بات سن کر جانے کیوں اسے تکلیف سی محسوس ہوئی ۔۔۔
وہ جن قدموں سے ایا تھا ویسے ہی لوٹ گیا ۔۔۔
@@@@@@@@
صبا نے ساری شاپنگ ثوبان کی پسند سے کی تھی ۔۔۔ ثوبان اسے لے کر جاتا تھا ۔۔۔ دونوں ساتھ میں خوش بھی تھے اور ایک دوسرے کی پسند کا خیال کر رہے تھے اکثر رات کو کھانا باہر کھا کر آتے یا صبا کو آئیس کریم ضرور کھلاتا ثوبان , سارہ ان کے ساتھ ہوتی تھی ۔۔۔
پر گھر میں ہانیہ کی پسند ہمیشہ سے سب کو بےانتہا پسند ایا کرتی تھی اس لیۓ نائلہ بیگم اور نازیہ بیگم ضرور کہتی ہانیہ کو ضرور لے جاؤ ۔۔۔ پھر شادی کی رسموں کے جوڑے لینے کے لیۓ اسے کہا گیا تو وہ ساتھ چلنے کو تیار ہوگئی تھی ۔۔۔
اس نے ولید خانزادہ سے پوچھا تھا تو اس نے خوشی خوشی اجازت دے دی , ساتھ میں اسے تلقین کرنا نہ بھولا “اپنے لیۓ جو پسند آۓ لے سکتی ہے اور گھروالوں کو بھی شاپنگ کرواۓ ۔۔۔
پر ہانیہ اپنے گھر والوں کو اچھی طرح جانتی تھی کہ ان لوگوں کو یہ بات پسند نہیں آئے گی ولید کو وہ ہاں کر کے اسنے کچھ بھی گھر والوں سے نہ کہا تھا ایسا کچھ اور جب ولید نے پوچھا تو اس نے سھولت سے ان کی طرف کا جواب دیا کہ شکریہ کے ساتھ وہ انکار کرچکے ہیں ۔۔۔
ہانیہ جس طرح کا ٹرینڈ چل رہا تھا اس طرح سے مشورے دے دیتی پر انداز سنجیدہ ہوتا تھا صبا ثوبان اور سارہ شرارت کرتے رہتے تھے پر وہ سنجیدہ ہی رہتی ۔۔۔ اگر کسی وقت اسے انولو کرتے تو ہلکی سمائل دے کر وہ ایک سائیڈ ہوجاتی ۔۔۔
@@@@@@@
نیکسٹ ویک سے رسموں سے آغاز ہونا تھا ۔۔۔ دو دن بعد صبا نے مایوں بیٹھنا تھا ۔۔۔ پھر ثوبان اور صبا کا پردہ لازمی قرار دے دیا تھا بڑوں نے ۔۔۔
ثوبان کے والہانہ انداز صبا کو شرمانے پر مجبور کردیتے وہ صبا جسے ہر کوئی عام سی, معمولی کہا کرتے تھے اب سب کہنے لگے تھے “ابھی شادی بھی نہیں ہوئی تم سنورنے اور نکھرنے لگی ہو ۔۔۔
وہ ہنس پڑتی یا مسکراتی کسی کے ایسے تبصرے سن کر ۔۔ کیا بتاتی سب کو “یہ ثوبان کی دی محبت اور اعتماد کا نتیجہ ہے وہ سنورنے اور نکھرنے لگی ہے ۔۔۔
صبا ٹیرس پر کھڑی چاند کو دیکھ رہی تھی پر چہرے پر پرسوچ تاثرات لیۓ ہوۓ تھے ۔۔۔ کب ثوبان ایا پتا ہی نہیں چلا تھا اسے ۔۔
“کس کے خیالوں میں گم ہو صبا ۔۔۔ ثوبان نے پوچھا ۔۔۔
“کوئی نہیں ۔۔۔ اس نے جلدی سے کہا ۔۔۔ ثوبان اس کے ہر رنگ سے واقف تھا اس لیۓ جانتا تھا وہ ٹال رہی ہے ۔۔۔
“یقینن میرے خیالوں میں گم نہیں ۔۔۔ پر کسی کے میں تو تم گم ہو ۔۔۔ ثوبان کے لہجے میں یقین تھا ۔۔۔
“ایسے کیوں کہے رہے ہیں ۔۔۔ ہوسکتا ہے اپ کے ہی خیالوں میں گم ہوں ۔۔. اب کے صبا نے کہا اس انداز ٹالنے والا تھا ۔۔
“میرے خیالوں میں بلکل نہیں کیونکہ اگر میرے خیالوں میں گم ہوتی تو مسکراتی رہتی کیونکہ میرے خیال کا بھی احساس ایسا ہوگا ۔۔۔ پر تم فکرمند دکھائی دے رہی ہو اس لیۓ یہ میرا خیال تو ہونے سے رہا ۔۔۔ ثوبان نے مزے سے کہا وہ حیرت سے اس کو دیکھنے لگی اس کے درست اندازے پر ۔۔
“اتنا یقین خود پر ۔۔۔ صبا نے پراعتماد لہجے میں کہا ۔۔۔
“ہمممم بلکل ۔۔۔ ثوبان نے فخریہ کہا ۔۔۔
“بات کو کھینچو مت جلدی بتاؤ پریشانی کیونکہ مجھے تمہارا چہرہ فکرمند بلکل اچھا نہیں لگتا ۔۔۔ ثوبان نے دوبارہ پوچھا ۔۔۔
“شکریہ ثوبان مجھے سمجھنے کے لیۓ , میں جس کے لیۓ فکرمند ہوں شاید تم کو اچھا نہ لگے میرا اس کے لیۓ فکرمند ہونا اس لیۓ ٹالنا چاہا اپ کو ۔۔۔ صبا جیسی سادہ دل لڑکی نے سادگی سے اعتراف کیا ۔۔۔
“تم ہانیہ کی بات کررہی ہو ۔۔۔ ثوبان نے کچھ سوچ کر پوچھا ۔ ۔
“جی , پلیز ثوبان اس سے معلوم کریں کیا تکلیف ہے اسے , کس اذیت سے گزرہی ہے وہ , وہ تکلیف میں ہے ثوبان , اسے کسی اپنے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔ اب کے صبا نے اعراف کرنے کے بعد کھل کے اپنی فکر ظاہر کی ثوبان پر ۔۔۔
“چھوڑو اسے تم , سدا سب کو تکلیف دیتی آئی ہے , تھوڑی سے خود گزرے گی تو فرق نہیں پڑتا ۔۔۔ اس کی پرواہ کرنا چھوڑدو تم , وہ خود کو بڑی توپ چیز سمجھتی ہے خود ہی اپنے مسئلے حل کرلے گی , خود کو ہلکان نہ کرو اس مغرور لڑکی کے لیۓ ۔۔۔ ثوبان نے کھل کے بتایا اس کے مطلق اپنے خیالات کا ۔۔۔
“پلیز ثوبان ایسے نہ کہیں وہ بہت بدل گئی ہے پہلے جیسی نہیں رہی ۔۔۔ صبا نے ایک بار پھر کہا وہ خود کو روک نہیں پارہی تھی اس کے مطلق سوچنے سے ۔۔۔
“صبا تم رہنے دو , وہ بہت بڑی ڈرامے باز ہے , اس کے سب رنگ دیکھ چکا ہوں , نہ وہ بدلنے والی ہے نہ سدھرنے والی ہے ۔۔۔ سمجھی تم ۔۔۔ ثوبان نے اسے سمجھایا ۔۔۔ وہ ہانیہ کو اج بھی غلط سمجھتا تھا ۔۔۔
“ثوبان ۔۔۔ صبا نے کچھ کہنے کے لیۓ لب کھولے پر وہ اس کی بات کاٹ کر بولا ۔۔۔
“بسسسس اس بارے میں تم مت سوچو اور لوگ بیٹھے ہیں اس کی فکر کرنے کے لیۓ ۔۔۔ تم اسے اس کے حال پر چھوڑدو ۔۔۔ تم بسس ہمارے انے والے کل کے بارے میں سوچو ۔۔ چلو مسکراؤ ۔۔۔ پرسوں کے بعد ایک ہفتہ ہم جدا ہوجائیں گے اس لیۓ یہ خوبصورت پل صرف صرف مجھے سوچو اور کچھ نہیں ۔۔۔ ثوبان کے لہجے میں تب کڑواہٹ تھی جب تک ہانیہ کی بات تھی پر اس کے بعد لہجہ میٹھاس سے بھر گیا جب اس کی اور صبا کی بات کررہا تھا ۔۔۔
“آپ کا خیال اپ کی سوچین ہر وقت میرے ساتھ ہیں , اللہ مجھ پر مہربان ہوا ہے جو اپ کا ساتھ مجھے ملنے والا ہے ۔۔۔ جتنا شکر ادا کروں اپنے رب کا کم ہے ۔۔۔ صبا نے محبت سے چور لہجے لہجے میں کہا ۔۔۔ اس کے ہونٹوں پر گلاب کھل اٹھے تھے ثوبان کی بات کرتے ہوۓ ۔۔۔
“دل خوش کردیا صبا یہ سب کہے کر , میں بھی خوشنصیب ہوں جسے تم جیسی خوبصورت دل کی لڑکی میرا نصیب بننے جارہی ہے تم خدا کا دیا کوئی انعام ہو میرے لیۓ ۔۔۔ سچ میں ہر وقت تمہیں دیکھا ہے اب یہ ہفتے بھر کی دوری بھی برداش کرنا مشکل ہے ۔۔۔ ثوبان کے شروع کے لفظوں میں تشکر تھا جبکہ آخری جملے میں دکھ تھا وہ ایک ہفتہ بغیر صبا کو دیکھے گزارنے کا ۔۔ محبت کا جادو دونوں پر سر چڑھ کے بول رہا تھا ۔۔۔ ان کی پاکیزہ محبت میں اکثر لفظوں سے وہ دونوں ایک دوسرے کو معطر کرتے رہتے تھے ۔۔
“ثوبان اس دوری کے بعد تاعمر کے لیۓ ہم ایک ہوجائیں گے اس سے بھی بڑی کوئی خوشی ہوگی ۔۔۔ صبا نے سکوں سے کہا ۔۔۔
“ہمممم ٹھیک کہے رہی ہو تم ۔۔۔ صبا تم میرے جینے کی وجہ بنتی جارہی ہو ۔۔۔ ثوبان کے لفؓوں کی سچائی کو وہ اندر تک محسوس کررہی تھی ۔۔۔ دل زوروں سے دھڑکا تھا اس کا ۔۔۔
وہ شرماگئی اس کے اس انداز پر ۔۔۔
@@@@@@@@@
بہت گہری تھی رات
لیکن ھم سوئے نہیں
درد بھی بہت تھا دل میں
مگر ھم روئے نہیں
کوئی نہیں ھمارا
جو پوچھے ھم سے بھی
جاگ رھے ھو کس لئے
اور کس لئے سوئے نہیں
ہانیہ لاؤنج کے صوفے پر بیٹھی تھی رات کے دو بجنے والے ۔۔۔ رات کے اس پہر اس کا وہاں بیٹھنا عجیب تھا ۔۔۔ روشنی نہ سہی پر لاؤنج میں ملگجہ اندھیرا تھا ۔۔۔
ولید خانزادہ جو اس وقت کشف کے کمرے سے نکل رہا تھا اس وقت اسے اس طرح بیٹھا دیکھ کر حیران ہوا ۔۔
“ہانیہ اس وقت اپ یہاں ۔۔۔ ولید خانزادہ حیران ہوا ۔۔ حیرت بھرے لہجے میں پوچھا ۔۔ وہ جو پہلے سے فکرمند تھی اس کو یہاں اس وقت دیکھ بوکھلا اٹھی ۔۔۔
“خیریت اپ کی طبیت ٹھیک تو ہے ۔۔۔ ولید کے لہجے میں فکر تھی اس کے لیۓ ۔۔۔
“ہممم ٹھیک ہوں ۔۔۔ ہانیہ نے ہاتھ مسلتے ہوۓ شرمندہ ہوئی ولید خانزادہ کو اس وقت دیکھ کر ۔۔۔ اسے لگا وہ سکوں سے سویا ہوگا اپنے کمرے میں وہ نہیں جانتی تھی وہ کشف کے اس بند کمرے میں گیا ہوگا ورنہ ہانیہ کبھی اس طرح لاؤنج میں بیٹھی نہ ہوتی ۔۔۔۔
“تو پھر یہاں ۔۔۔ ولید پوچھے بنا رہ نہ سکا ۔۔۔
“نہیں وہ جارہی ہوں ۔۔۔ ہانیہ نے سنبھل کر کہا ۔۔۔
اتنا کہے کر وہ جلدی جلدی سیڑھیان چڑھ گئی ۔۔۔ اس کے قدموں وہ دیکھتا رہا ۔۔۔ اوپر پہنچ کر پلٹ کر دیکھا تو ولید وہیں کھڑا پرسوچ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ ہانیہ نے جلدی سے نظر پھیری سامنے دیکھا ایک بچوں کا کمرہ دوسرا خود کا اپنا وہ بیچ میں کھڑی تھی ۔۔۔ پلٹ کر دیکھا ولید وہیں کھڑا تھا اور جلدی سے بچوں کے کمرے میں چلی گئی ۔۔۔
ولید حیران ہوا اس کے اس عجیب وغریب انداز پر ۔۔۔
وہ کمرے میں ایا تو اس کے عجیب انداز کو سوچ کر جلدی سے لیب ٹاپ کھولا اور بچوں کے کمرے کا ویوو دیکھا ۔۔۔ اج حیرت کی انتہا تھی بچوں کے کمرے میں صرف ہانیہ تھی ساتھ اس کا ایک بیٹا تھا حنان یا منان میں سے کوئی ایک تھا بیڈ پر جس سے فاصلے پر ہانیہ لیٹ گئی ۔۔۔
“شاید ایک واشروم میں ہو ۔۔۔ ولید نے سوچا ۔۔ کافی دیر انتظار کے بعد وہ سیڑھیان چڑھتا اوپر اگیا اپنے دوسرے بیٹے کو دیکھنے ۔۔۔
اس وقت ولید خانزادہ کو حیرت کا جھٹکا لگا جب منان کو بچوں کے روم کے بجاۓ ہانیہ کے لیۓ جو دوسرا روم سیٹ دیکھا تھا وہاں سوتے پایا ۔۔۔ کیونکہ اس کمرے میں کیمرہ نہ تھا اس لیۓ دیکھنے ایا تھا وہ خود ۔۔۔۔
“منان یہاں کیوں سورہا ہے , یہ کیا ہورہا ہے گھر میں , کیا مجھے ہانیہ سے پوچھنا چاہیۓ اس سب کے مطلق وہ سوچتا رہ گیا ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
