Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

ناول انمول سے بےمول

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 31

ولید کتنی دیر سوچتا رہا اور ہر لمحے اپنے بدتریں رویۓ پر افسوس کرتا رہا , اب سوچ لیا تھا اسے مناۓ گا نا کہ زبردستی خود کو اس پر مسلط کرے گا ۔۔۔

ایسا نہیں تھا کشف کو وہ بھول گیا تھا ۔۔۔ بات اتنی سی تھی کی کہ اسے یہ بات سمجھنے میں بہت وقت لگ گیا کہ مرے ہوۓ لوگوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا بلکہ انہیں اچھی یادوں کی طرح سنبھال کر رکھا جاتا ہے جب یاد شدت سے آۓ تو ان یادوں کا سہارا لے کر ان لمحوں کو خوبصورت کیا جاسکتا ہے ۔۔۔

@@@@@@@

جب تھا تو بہت پُختہ تھا اِک شخص سے رشتہ

ٹُوٹا ہے تو اب ٹُکڑے سنبھالے نہیں جاتے

جس دِن سے نگاہوں پہ ترا رستہ کھلا ہے

اُس دِن سے مرے پیروں کے چھالے نہیں جاتے

اب تک وہی منظر ہے سر ِ راہ ِ تمنّا

تاریکی میں ہمراہ اُجالے نہیں جاتے

کتنے لمحے وہ ساکت سی رہ گئی تھی ۔۔۔ ہر منظر کو حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

“چلیں ہانیہ ۔۔۔ ولید خانزادہ نے کہا ۔۔۔

“یہ اسلام آباد ہے کیا ۔۔۔ وہ حیرت بھرے لہجے میں پوچھ بیٹھی تاکہ اپنی سماعتوں کا تعین کرسکے ۔۔۔

وہ اس وقت اس کے پرائیوٹ پلین سے اتری تھی ۔۔۔

“نہیں یہ پیرس ہے ۔۔۔ جو تم نے ابھی سنا تھا ۔۔۔ ولید خانزادہ محفوظ لہجے میں بولا ۔۔۔ کیونکہ ابھی ان کو انفارم کیا گیا تھا کہ پیرس کی سرزمیں پر وہ لینڈ کرنے والے ہیں تب سے وہ ساکت ہی ہوگئی تھی ۔۔۔

“پر آپ نے تو ۔۔۔ ہانیہ نے حیرت سے بھرپور لہجے میں کہنے لگی تھی کہ ولید خانزادہ اس کی بات کاٹ کر بولا تھا ۔۔۔

“کبھی کبھی, میں بھی, کہتا کچھ ہوں ,کرتا کچھ ہوں ۔۔۔ اس کا انداز بولنے کا کچھ الگ ہی لگا ہانیہ کو ۔۔۔

“پر پیرس کیوں ۔۔۔ ہانیہ نے کھوۓ لہجے میں کہا ۔۔۔

“اس کا جواب بھی مل جاۓ گا اتنی جلدی کیا ہے ۔۔۔ ولید خانزادہ نے کہا ۔۔۔ اس کا ہاتھ تھامتا وہ پلین سے اترا اور ان کی گاڑی باہر کھڑی تھی انہیں ہوٹل تک لے جا سکے ۔۔۔

@@@@@@@@

کچھ لوگوں کی ہر دور میں پڑتی ہے ضرورت

کچھ لوگ کبھی دِل سے نِکالے نہیں جاتے

اب تک تری ذُز دیدہ نِگاہی کے ہیں چرچے

اب تک تری آنکھوں کے حوالے نہیں جاتے

کیوں چاند کو پڑتی ہے بناوٹ کی ضرورت

کیوں چاند کے اطراف سے حالے نہیں جاتے

وہ گاڑی سے باہر کے منظر دیکھ رہی تھی بظاہر , پر حقیقتً وہ سوچ رہی تھی کل کے دن جب اسے ولید خانزادہ نے کہا “تمہیں اسلام آباد چلنا ہے کل اس کے ساتھ ۔۔۔

پہلے انکار کا سوچا اس نے پھر کچھ سوچ کر خاموش ہوئی اور بولی تو بس اتنا کہ “بچے بھی ساتھ چلیں گے نا ؟؟

“نہیں کیونکہ ان کو اپنی گرینڈ مدر اور گرینڈ پا کے پاس لندن جانا ہے ۔۔۔ اس لیۓ اپ میرے ساتھ چل رہی ہیں ۔۔۔ ولید خانزادہ نے اسے بتایا ۔۔۔ جانے کیوں بچوں سے دوری کا سوچ کر اس کا دل اداس ہوا ۔۔۔

“اکیلے کیسے جائیں گے میں ان کے ساتھ چلی جاتی ہوں ۔۔۔ اس کے لہجے میں فکر تھی ۔۔۔ ( ہمارے ماں باپ تو اگلی گلی تک اکیلے جانے نہیں دیتے اور یہاں دوسرے ملک اکیلے بھیجا جا رہا ہے ) ہانیہ نے کلس کر سوچا ۔۔۔

“رضیہ بی جارہی ہیں ساتھ ڈونٹ وری ۔۔۔ ولید خانزادہ نے کہا ۔۔۔

“میں ماں بیٹھی ہوں , ساتھ چلی جاتی ہوں ۔۔۔ رضیہ بی کو جانے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔ ہانیہ نے ہمیشہ کی طرح اپنی بات رکھنا ضروری سجھا ۔۔۔

“آج ایک بات تم کو واضع کررہا ہوں بار بار نہیں بتاؤں گا کہ میں اج تک ایسی کسی جگہ قدم نہیں رکھا جہاں میں کسی کے لیۓ اہمیت نہ رکھتا ہوں۔۔ پھر تم تو میری بیوی ہو تو میں تمہیں وہاں کیسے بھیجوں گا جن کو تمہارا وجود گوارا نہیں پھر چاہے وہ میرے ماں باپ ہی سہی ۔۔۔ آئندہ سے خیال رہے اس بات کا ۔۔۔ ولید خانزادہ کے سخت انداز پر اسے چپ ہونا پڑا ۔۔۔

ہانیہ جانتی تھی اس کے ساس سسر اسے کچھ خاص پسند نہیں کرتے , اس لیۓ چپ ہونا پڑے اسے ۔۔۔ بچے رات کی فلائیٹ سے روانہ ہوگۓ رضیہ بی کے ساتھ ۔۔۔ بار بار آنسو پونچھتی رہی وہ اور رضیہ بی کو ان کے مطلق ہدایت دیتی رہی ۔۔۔ بچے اداس تھے پر ہر سال کی طرح ان کا جانا ضروری تھا ۔۔۔

“بچوں ماما کو کال کرکے اپنی خیریت بتاتے رہنا پلیز ۔۔۔ ہانیہ نے بھاری لہجے میں ایک اور ہدایت کی ۔۔۔

“یسس ماما بتائیں گے ۔۔۔ دونوں نے ایک ساتھ کہا ۔۔۔

“رضیہ بی میری کوئی کال مس مت کرنا پلیز بچوں سے میری بات کرواتی رہنا ۔۔۔ ہانیہ نے ایک اور ہدایت کی ۔۔۔ ولید کلس کر رہ گیا ۔۔۔

ان کو ایئرپوٹ ولید خانزادہ اور ہانیہ دونوں چھوڑنے گۓ تھے ۔۔۔

کتنی دیر ان پر آیتین پڑھ کر پھونکتی رہی وہیں بیٹھ کر وہ ۔۔

“بسس کرو ہانیہ گھر چلیں ۔۔۔ ولید نے کہا ۔۔۔

“جی ۔۔ اتنا کہے کر وہ اٹھی ۔۔۔

سارا راستہ وہ بےآواز روتی رہی ۔۔۔ جانے کیوں ولید خانزادہ کو اس کی معصومیت پر پیار ارہا تھا ۔۔۔

@@@@@@@@@@@

وہ گھر اتے ہی بچوں کے کمرے میں چلی گئی ۔۔۔ کسی احساس کے تحت اس نے لیب ٹاپ کھولا اور وہاں کا منظر دیکھا ۔۔۔ ہانیہ جو بچوں کی چیزیں چھوکر بچوں کو محسوس کررہی تھی ۔۔۔ ان کے کمرے میں یوں پھوٹ پھوٹ کر روتا دیکھ کر اس کے دل کو کچھ ہوا ۔۔۔ وہ جلدی سے اٹھا اور ان کے کمرے کی طرف گیا ۔۔۔

سیدھا ہانیہ کے پاس گیا اسے بازو سے تھام کر اٹھایا اور خود کے روبرو کیا۔۔۔

اس کا چہرہ گلاب کی مانند لال ہورہا تھا ۔۔۔ اتنا حسن اس کے چہرے پر بکھرا تھا رونے سے کہ ولید خانزادہ دنگ رہ گیا ۔۔۔ واقعی اسے کوہ کاف کی شہزای لگی وہ ۔۔ کئی دفعہ پارٹیز عورتوں کو ہانیہ کے مطلق کہتے اس نے سن رکھا تھا ۔۔۔ آج حقیقتً لگا تھا اسے ۔۔۔

بھیگی پلکیں گلابی گال سرخ ناک اس پر سرخ ہونٹوں کو ضبط سے کچلتی وہ حسین لگی اسے ۔۔۔ دوپٹے سے بےنیاز کانپتا وجود اس کے جسم کی سب رعنائیاں نمایاں تھیں ۔۔۔ کسی بھی مومن کو بہکا دے ایسا حسن تھا اس کا ۔۔۔

ابھی وہ اسے کچھ کہتا چپ کروانے کے لیۓ وہ اس کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی ۔۔۔

“پلیز بچوں کو مجھ سے دور نہ بھیجا کریں , میں نہیں رہ سکتی ان کے بغیر , ماں کی کوئی انا نہیں ہوتی پلیز مجھے ان کے پاس لے چلیں یا ان کو واپس بلائیں ۔۔۔ پلیز ۔۔۔ وہ سسکتی ہوئی کافی کچھ کہے رہی تھی ۔۔۔ وہ اس کے گلے لگ کر اس کے بچوں کو روتی اس کے دل کو دھڑکا رہی تھی ۔۔۔ ہاں ولید خانزادہ کا دل وہ دھڑکا رہی تھی ۔۔۔ وہ جو دعویدار تھا کہ کبھی بھی کشف کے بعد اس کا دل کسی لڑکی کے لیے نہیں دھڑکے گا آج ہانیہ کے لیۓ دھڑک رہا تھا ۔۔۔

وہ اس کی پینٹھ پر ہاتھ پھیر کر تسلی دے رہا تھا ۔۔۔ اچانک ہانیہ اس سے جدا ہوئی اور “سوری” کہتی دوسرے کمرے میں اگئی ۔۔۔ دروازہ لاک کرچکی تھی وہ ۔۔۔

زمیں پر بیٹھ کر وہ روتی رہی ۔۔۔ سسک سسک کر ۔۔۔

جذبے کسی ٹکسال میں ڈھالے نہیں جاتے

سِکّے یہ ہواؤں میں اُچھالے نہیں جاتے

پلکوں کی مُنڈیروں پہ اُتر آتے ہیں چُپ چاپ

غم ایسے پرندے ہیں جو پالے نہیں جاتے

لوگوں کی تو فریاد پہنچتی ہے فلک پر

تُجھ تک مری آہیں مرے نالے نہیں جاتے

@@@@@@@@@

آگلے دن اس نے پیکنگ تو کرلی تھی جیسا اسے کہا گیا تھا کہ اسلام آباد جارہے ہیں وہ لوگ ۔۔۔ پرائیوٹ پلین دیکھ کر وہ حیران ہوئی ۔۔۔ پر خاموشی کے ساتھ بیٹھی رہی ۔۔۔ سفر لمبا تریں ہوا جارہا تھا وہ حیران ہوتی رہی پر ولید خانزادہ سے کچھ پوچھنے کی ہمت نہ کرسکی ۔۔۔ ولید کے ہاتھ میں دو پاسپورٹ دیکھ چکی تھی ۔۔۔۔ حالات سمجھ سے باہر تھے اس کے کہ کیا ہو رہا ہے ۔۔۔

جانے کتنے گھنٹوں بعد وہ سوکر اٹھی تھی پر اب تک پلین میں خود کو دیکھ کر حیران ہورہی تھی ۔۔۔ جب انفارم کیا گیا وہ پیرس کی سرزمیں پر لینڈ کرنے والے ہیں تو وہ حیرت میں اگئی شاکنگ تاثرات سے اسے دیکھتی رہی جبکہ وہ بےنیاز بن کر بیٹھا تھا ۔۔۔

پیرس کے راستوں کو دیکھ کر ہانیہ کو اپنی بےوقوف بناۓ جانے کا سخت افسوس ہوا پر یہ سب ولید خانزادہ نے کیوں کیا اس کی سمجھ سے باہر تھا ۔۔۔

“دیکھنا اتنا امیر کبیر ہوگا میرا شوہر جس کا اپنا پلین ہوگا اس میں بیٹھ کر ہم ورلڈ ٹوئر پر جایا کریں گے ۔۔۔ ہانیہ اتراتی ہوئی ہمیشہ مغرور لہجے میں کہا کرتی تھی صبا اور سارہ سے ۔۔۔

ہمیشہ سے اس کے بڑے بڑے خواب اور اونچیں خواہشیں ہوا کرتی تھیں ۔۔۔ خواہشیں اور خواب یوں بھی پوری ہوا کرتی ہیں سوچا نہ تھا ہانیہ نے ۔۔۔ جب اس دور سے نکل آئی تھی تب ان کے پورے ہونے سے خوشی کیوں نہیں مل رہی تھی افسوس ہوا خود پر اسے ۔۔۔

“میں ناشکری نہیں بننا چاہتی پر بےحس کیوں ہوگئی ہوں ۔۔۔ ہانیہ نے خود سے کہا ۔۔۔

@@@@@@@@@@

اگلے دن وہ دونوں پیرس کی وال آف لوو کے سامنے کھڑے تھے جب ولید خانزادہ نے بات کا اغاز کچھ یوں کیا تھا ۔۔۔

“اگر کسی کو محبت کا یقین دلانا ہوتو میرا خیال ہے اس شہر سے بہتریں کوئی جگہ نہیں اج اس جگہ میں تم سے ۔۔۔۔ وہ تمہید ہی تو باندھ رہا تھا جب ہانیہ نے اس کی بات کاٹ کر کہا ۔۔۔

“پلیز ولید صاحب یہاں ایک لفظ نہیں , مانتی ہوں یہ محبتوں کا شہر ہے , پر یہاں سے جو محبت شروع ہوگی وہ خوبصورت ہوگی اور منفرد بھی ہوگی ۔۔۔

پہلی دفعہ ولید خانزادہ کی بات کسی نے کاٹی تھی پر اسے بلکل غصہ نا ایا ہانیہ پر نا ہی برا لگا تھا , بلکہ دھیمے لہجے میں کہتی ولید کو وہ اپنی سی لگی ۔۔۔

“میں اگر پہلے والی ہانیہ ہوتی تو اج خوشی سے پاغل ہی ہوجاتی اپ کے اس انداز پر ۔۔۔ شاید ایسی ہی اچھوتی میری خواہشات ہوا کرتیں تھیں ۔۔۔ پر میں وہ نہیں رہی ۔۔۔ ہانیہ نے یاسیت بھرے لہجے میں کہا ۔۔۔۔

“اور اگر میں کہوں مجھے پہلے والی ہانیہ ہی چاہیۓ تو ۔۔۔ ولید کے لہجے میں معصوم سی خواہش تھی ۔۔۔

“تو میں کہوں گی پلیز ایسا نہ چاہیں ۔۔۔ پہلے والی خودغرض ہانیہ سے یہ ہانیہ ہزار درجہ بہتر ہے ۔۔۔ ہانیہ نے جلدی سے کہا ۔۔۔

“میں ہمارے رشتے کو مکمل کرنا چاہتا ہوں جو میری غلطیوں سے ادھورا رہا ہے ۔۔۔ کیا مجھے معافی مل سکتی ہے ۔۔۔ سب سے مشکل لفظ آخرکار وہ کہے گیا ۔۔۔ ہانیہ کی آنکھیں نمکیں پانیوں سے بھر گئیں ۔۔۔

“تم رورہی ہو ۔۔۔ پلیز یوں نہیں رویا کرو ۔۔۔ وہ اس کے آنسو پونچھتا ہوا بولا ۔۔۔

“پتا نہیں کیوں نکل آۓ جب ان کو نہیں انا چاہیۓ ۔۔۔ ہانیہ نے آہستہ سے کہا ۔۔۔ وہ اس کے چہرے پر آئی لٹوں کو پیچھے کرتا ہوا بولا ۔۔۔

“تم بھی عجیب ہو اور ہمارا رشتہ بھی ۔۔۔ ولید خانزادہ نے بےساختہ کہا ۔۔

“یہ آپ نے ٹھیک ہی کہا ۔۔۔ ہمارا رشتہ بھی عجیب ہی تو ہے جس میں , میں پہلے ماں بنی ہوں اور پھر اپ کی بیوی بننے جارہی ہوں ۔۔۔ عجیب ہی تو ہے ہمارا رشتہ ۔۔۔ ہانیہ نے دھیمے لہجے میں اعتراف کیا ۔۔۔

“مشکل ہے تمہیں کبھی لاجواب کرسکوں میں ۔۔۔ تم خاص ہو ہانیہ میرے لیۓ میرے بچوں کے لیۓ , ہمیں مکمل کیا ہے تم نے ۔۔۔۔ تمہارے بغیر ہم ادھورے ہیں ۔۔۔ ولید خانزادہ کے ایک ایک لفظ میں سچائی تھی ۔۔۔

ہانیہ حیراں ہی ہوتی رہی اس شخص کے بولنے پر ۔۔۔ ولید خانزادہ کے موبائل پر کال ارہی تھی جس نے دونوں کو چپ کروادیا ۔۔۔ وہ کال سننے کے لیۓ سائیڈ پر ہوا ۔۔۔

@@@@@@@@@

وال اف لوو کے بعد وہ دونوں کروز پر اگۓ تھے جہاں ان کو سن سیٹ اور سن رائیز ویو کرنا تھا ۔۔۔ اج کی رات ان کو یہیں رہنا تھا ۔۔۔ ابھی تک ولید خانزادہ نے اسے نہیں بتایا تھا کہ وہ یہاں کس مقصد سے اسے لایا تھا ۔۔۔

ہانیہ کی خاموشی اسے زیادہ بولنے سے روکتی ہی رہتی تھی ۔۔۔ اس وقت بھی وہ دونوں کروز کے ڈیک کے پاس تھے جہاں سے سورج کے غروب کا منظر دیکھنے کو کپل جمع ہونے لگے تھے ۔۔۔ یہاں پر زیادہ تر کپلز ہی تھے ۔۔۔

“کیا ہوا تم چپ ہو کچھ کہتی ہی نہیں ۔۔۔ آخر کار ولید خانزادہ نے ہی اس خاموشی کو توڑا۔۔۔

“کیا کہوں کچھ سمجھ نہیں ارہا ۔۔۔ لاجواب سی ہوگئی ہوں ۔۔۔ ہانیہ نے کہا ۔۔۔ رومینٹک سا ماحول اس پر کچھ کپلز کے بولڈ انداز اسے شرم سے پانی پانی کررہے تھے ۔۔۔ ایسی باتیں وہ ولید خانزادہ سے کہے نہیں سکتی تھی کیونکہ اس طرح کا ان کا رشتہ تھا ہی نہیں ۔۔۔

“شاید کبھی کبھی جو ہم چاہیں ویسا ہوجاۓ تو ویسی خوشی نہیں ہوتی جیسی ہمیں لگتا ہو کہ ایسا ہوجاۓ تو کتنا اچھا ہو ۔۔۔ اج میں تمہیں سننے کا متمنی ہو ہانیہ ۔۔۔ ولید خانزادہ کی کہی گہری بات پر چونکی اور سنبھل کر بولی ۔۔۔

“بات اتنی سی ہے ولید صاحب ۔۔۔

“پلیز پہلی بات مجھے صاحب کہنا چھوڑو , صرف ولید کہو یا کچھ اور کہوگی پیار سے تو میں بلکل مائینڈ نہیں کروں گا ۔۔۔ ولید کی بات پر شاک ہوئی خاص کر اس انداز پر ۔۔۔

“یہ شخص اتنا بولتا ہوگا میں نے کبھی سوچا نہ تھا ۔۔۔ ہانیہ نے سوچا ۔۔۔

“کشف کے ساتھ شاید اتنا ہی بولتا تھا میں ۔۔۔ ولید خانزادہ نے بےساختہ کہا ۔۔۔ وہ حیران ہوئی ۔۔۔

“میں نے دل میں کہا تھا ۔۔۔ ہانیہ نے حیرانگی سے کہا ۔۔۔

“نہیں تم نے زیرلب کہا ہو شاید ولید خانزادہ نے مسکرا کر کہا ۔۔۔

“کتنا خوبصورت لگتا ہے یہ شخص مسکراتا ہوا ۔۔۔ ہانیہ نے دل ہی دل میں اعتراف کیا ۔۔۔ وہ بھرپور انداز میں مسکرایا اور وہ اسے دیکھتی رہی ۔۔۔ ولید خانزادہ نے اسے اور کنفیوز کرنے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے کہا ۔۔۔

“آؤ ڈیک پر کھڑے ہوکر سن سیٹ کا ویو انجواۓ کریں ۔۔۔ ولید اس کا ہاتھ تھامتا ہوا ڈیک پر لے ایا ۔۔۔

“تو کیا میں کشف جیسا مقام پانے لگی ہوں ۔۔۔ ہانیہ نے سوچا پر کہا کچھ نہیں ۔۔۔ وہ اسے دیکھتی رہ گئی جو اس کی کمر پر ہاتھ رکھے اسے خود سے اگے کھڑا کیا اور اس کی پینٹھ سے اپنا سینا جوڑ کر اسے خود سے لگاۓ سورج غروب ہونے کے منظر کا انتظار کرنے لگا ۔۔۔ وہ اس کے رومینٹک پوز پر حیرت زدہ تھی ۔۔۔

@@@@@@@@

“سر آپ نے بلایا ۔۔۔ سعاد نے انگلش میں کہا ۔۔۔ اپنے باس کی آفیس میں ان کے سب سے بڑے انویسٹر تیمور شاہ کو دیکھ کر حیران ہوا ۔۔۔

مارننگ وش کرتا ان کے اجازت دینے پر بیٹھ گیا ۔۔۔ تیمور شاہ کی حیثیت باس جیسی ہی تھی اس آفیس میں ۔۔۔

“کیسے ہیں مسٹر سعاد ۔۔۔ تیمور شاہ نے پوچھا ۔۔۔

“فائین سر ۔۔۔ سعاد نے کہا ۔۔۔

“پھر کب ارہے ہیں میرے رائیل پیلس ۔۔۔۔ تیمور شاہ نے مغرور انداز میں کہا ۔۔

“سر جب کہیں گے آجائوں گا میں ۔۔۔ سعاد نے مسکرا کر کہا ۔۔۔

“اپ کی مسز کے ساتھ جب چاہیں آئیں ۔۔۔ تیمور شاھ نے سگار سلگاتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔ اس کی مسز کے لفظ پر لہجہ جتاتا ہوا تھا ۔۔۔

“سوری سر میری مسز کسی کے پرائیوٹ پلیس پر نہیں جاتی ۔۔۔ اور نا میں لے جانا پسند کرتا ہوں ۔۔۔ بظاہر مسکرا کر سعاد نے کہا تھا ۔۔۔

“ہمممم ۔۔۔ اوکے ۔۔۔ تیمور شاہ نے کہا ۔۔۔

یہ امریکا تھا جہاں ایسی آفرز دی تو جاسکتی ہیں پر زبردستی منوائی نہیں جاسکتی ۔۔۔ صرف حالات ایسے بناۓ جاتے ہیں جو آفرز پر غور کرنے پر مجبور ہوجاۓ انسان ۔۔۔ تیمور شاہ حالات کو بدلنا بھی جانتا تھا ۔۔۔

سعاد کا باس حیران تھا اور پھر سعاد نے اجازت چاہی تو اسے جانے کی اجازت دے دی گئی تھی ۔۔۔

بات یہیں تک رہتی تو ٹھیک تھا ۔۔۔ پھر کچھ دن بعد پھر جب مسٹر جانسن نے اسے آفر دی کہ کچھ نۓ انٹرنیز کے لیۓ جگہ خالی ہے اسے ہی انٹرویو لینا ہے ۔۔۔ اور اسے آفر دی کہ “اگر تو وہ چاہے اپنی مسز کو بھی جوائن کرواسکتا ہے ۔۔۔

کیونکہ اب سب کو پتا چل چکا تھا اس کی بیوی ایم ابی اے پڑھ رہی ہے ۔۔۔ ان کی کمپنی ملک کی بڑی کمپنیوں میں سے ایک تھی اگر یہاں سے انٹرنشپ کرتی ہے تو اس کی سی وی میں چار چاند لگ جانے تھے اور اس کے پروجیکٹ مارکس اچھے ملنے ہیں ۔۔۔

سعاد خوبصورتی سے ان کو بھی ٹال گیا یہ کہے کر کہ “یہ ممکن نہیں کیونکہ اس کی بیوی سب اپنے بل بوتے پر کرنا چاہتی ہے ۔۔۔ جس پر وہ حیران ہوتے رہے ۔۔۔ سعاد بےنیازی سے چلا گیا ۔۔۔

@@@@@@@@

“کیا بات ہے سعاد کچھ پریشانی ہے ۔۔۔ سعاد سے اس کے بیسٹ فرینڈ میک نے پوچھا انگلش میں ۔۔۔ جو گہری سوچ میں لگا تھا اسے ۔۔۔

“نہیں نہیں کچھ بھی نہیں۔۔۔ فکر نہ کرو میک ۔۔۔ سعاد نے انگلش میں کہا اسے ۔۔۔

“پر کافی دن سے پریشان دکھ رہے ہو , شیئر کرو آسانی رہے گی ۔۔۔ میک نے فکرمندی سے کہا ۔۔۔

وہ اپنی فائل لے کر اٹھا ٹیبل سے اسی وقت فائل سے ایک کاغذ گرا ۔۔۔ جسے میک نے اٹھایا اور حیرت سے بھرپور لہجے میں بولا ۔۔۔

“تم جاب چھوڑ رہے ہو سعاد , پر کیوں ۔۔۔ وہ حیران ہیبتو تھا ۔۔۔

“یہ مجھے بہانے سے نکال کر میرے کیریئر کو تباھ کریں اس سے پہلے میں خود چلا جاتا ہوں ویسے بھی مجھے اچھی خاصی آفرز ہیں اب تک ۔۔۔ سعاد نے سکوں سے کہا ۔۔۔

اسی وقت میک اس کا ہاتھ تھامتا اسے لفٹ کی طرف لایا اور کچھ دیر بعد وہ دونوں باہر نکل آۓ بلڈنگ سے ۔۔۔ اب وہ کمپنی کے سامنے والے ریسٹورینٹ میں آخری ٹیبل پر اکر بیٹھے تھے ۔۔

“میک تم مجھے یہاں کیوں لاۓ ہو ۔۔۔ سعاد نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔

“یہ پوچھنے کہ اتنی بڑی غلط فہمی کیوں ہوگئی ہے تمہیں کہ تمہیں نکالنے کی سازش کی جارہی ہے جبکہ تمہارا پروموشن پکا تھا ۔۔۔ مجھے پرسنلی پتا ہے ۔۔۔ میک نے رازداری سے اسے سمجھایا ۔۔

“یہ غلط فہمی نہیں , حقیقت ہے ۔۔۔ چاہو تو پرسنلی دوبارہ معلوم کر سکتے ہو ۔۔۔ سعاد نے ارام سے کہا ۔۔۔

حقیقت یہ تھی کمپنی کے باس کی سیکریٹری روز میری , میک کی گرل فرینڈ تھی ۔۔۔۔ اس لیے وہ مذاق میں اسے اپنی پرسنل انفارمیشن سورس کہا کرتا تھا ۔۔۔ میک سعاد کا گہرا دوست تھا اکثر باتیں اسے بتایا کرتا تھا ۔۔۔

“مجھے یقین نہیں ارہا تم اتنے یقین سے کیسے کہے سکتے ہو ۔۔ میک کے لہجے میں فکرمندی تھی ۔۔۔

“مجھے بھی یقین نہیں اتا کہ میں خود کو پکا امیریکن سمجھنے لگا تھا پر اندر سے پاکستانی مرد نکلا ہوں وہی عام سوچ رکھنے والا ۔۔۔ اور جانتے ہو اندر سے میں پکا والا پاکستانی مرد ہوں جس کی غیرت جوش مارتی ہے اپنی بیوی کے معاملے میں ۔۔۔ سعاد نے دکھی لہجے میں اپنی ویکنیس کا اعتراف کیا ۔۔۔

بظاہر جسے وہ اپنی ویکنیس سجھ رہا تھا اصل میں وہ اس کی طاقت تھی پر سعاد بےوقوف یہ سمجھنے سے قاصر تھا ۔۔۔

“کیا مطلب اس بات کا ۔۔۔ میک نے حیرت سے پوچھا۔۔۔

“تیمور شاہ از ٹریپنگ می ( تیمور شاہ مجھے جال میں پھنسا رہا ہے ) ۔۔۔ سعاد نے مختصر لفظوں میں اپنے دوست کو بتایا ۔۔۔

“ڈونٹ وری فرینڈ یو آر آن رائیٹ ٹریک گو آن (تم نے بالکل صحیح فیصلہ کیا ہے فکر نہ کرو دوست ) ۔۔۔ میک نے اس کا کاندھا تھپ تھپا کر کہا ۔۔۔

“شکریہ دوست ۔۔۔ سعاد نے انگلش میں کہا ۔۔۔

” تم گریٹ مین ہو سعاد ورنہ تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو یہ اپورچیونٹی مس نہ کرتا ۔۔۔ میک نے فخر سے کہا ۔۔۔ اسے خوشی ہوئی تھی سعاد کے ڈسیشن پر ۔۔۔

کھ دیر دونوں ڈسکس کرتے رہے ہر پہلو پر ۔۔۔ میک اسے تسلیاں دیتا رہا کہ اس کس طرح اس مسئلے کو حل کرنا چاہیۓ ۔۔۔

@@@@@@@@

“آپ یہاں ۔۔۔ رانیہ نے حیرت سے کہا ۔۔۔ تیمور شاہ کو باس کی کرسی پر دیکھ کر اس کا حیران ہونا بجا تھا ۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔