Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui NovelR50459 Zehr-e-Sheren Episode 9
Rate this Novel
Zehr-e-Sheren Episode 9
Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui
صندل اس کی آنکھوں میں دیکھتی اپنی بازو معراج سے آزاد کروانے کی کوشش کرنے لگی۔
معراج۔۔۔۔
چھوڑیں مجھے۔۔۔۔
وہ سلگتے ہوئے ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کرتی کہنے لگی۔
پہلے مجھے میرے سوال کا جواب دو۔۔۔۔
وہ اپنی پکڑ کو مضبوط بناتا کہنے لگا۔
آپ کو جوبدہ نہیں ہوں میں۔۔۔۔اب چھوڑیں مجھے۔۔۔۔۔
اس نے ایک جھٹکے سے اپنی بازو آزاد کرنے کی کوشش کی لیکن وہ کوشش بھی ناکام رہی۔
معراج سختی سے اس کی باز دبوچے دہکتی نظروں سے اسے دیکھتا رہا اور پھر اپنے دانت پیسنے لگا۔
وہ ٹھیک کہ رہی تھی۔۔۔۔صندل اسے جواب دہ تو نا تھی۔۔۔۔۔اور یہ وہ کیا کر رہا تھا۔۔۔۔
بہت مشکل سے اس نے صندل کی بازو کو آزاد کیا اور وہ اپنی بازو کو سہلاتی اسے آنکھیں سکیڑ کر دیکھتی روانہ ہو گئی۔
جبکہ معراج وہاں کھڑا یہی سوچتا رہ گیا کہ آخر اسے اچانک کیا ہو گیا تھا۔
_____
نہیں۔۔۔اسے پلیز یہاں سے اٹھا لو اور کالے رنگ کے ٹیبل کور استعمال کرو۔
اور ہر ٹیبل پہ کچھ گلاب لازمی ہونے چاہئیے۔۔۔۔۔۔
صندل ہال کی انتظامیہ کو تاکید کرتی باقی انتظام دیکھنے آگے بڑھ گئی۔
معراج کے لئے یہ فنکشن خاص طور پہ آدگینائز کیا گیا۔ جس لئے تمام انتظامات صندل دیکھ رہی تھی۔
مقصد اس کا اپنے قارئین سے تعلق بہتر کرنا اور اس کی آنے والی کتاب کے بارے میں اناؤنسمنٹ کرنا تھا۔
مقامی اخبار کے جریدے میں بھی یہ خبر شائع کی جاتی اور اس کے علاوہ وہ اپنے قارئین کو آٹوگراف بھی دینا تھا۔
وہ چاہتی تھی یہ ایک کامیاب فنکشن رہے اس لئے صبح سے وہیں پہ موجود تھی اور اب ریفریشمنٹ چیک کر رہی تھی۔
تقریبا ساٹھ کے قریب لوگ مدعو کئے گئے تھے اور اس کے علاوہ وہ سو کے قریب لوگوں کو آٹوگراف بھی دیتا جس کے لئے ایک لمبی قطار پہلے ہی وجود میں آ چکی تھی۔
اس دن کے بعد سے ان کے درمیان ایک سرد سے لہر حائل ہو گئی تھی۔
معراج زیادہ تر وقت اپنے آفس میں ہی بند رہتا اور صندل سے محض کام کے وقت ہی بات ہوتی۔
اس نے بھی کوئی خاص بات کرنے کی کوشش نہیں کی۔۔۔ابھی اس کا وقت بھی نہیں تھا۔
وہ آدھے گھنٹے پہلے وہاں پہنچا تھا اور لگاتار صندل کو یہاں سے وہاں ہر چیز چیک کرتے دیکھ رہا تھا۔
صاف ظاہر تھا کہ اس لڑکی کو مطمئن کرنا خاصا مشکل کام ہے۔
اگلے کچھ منٹوں میں مختلف لوگ وہاں نمودار ہونا شروع ہوئے۔
اس کے آڈیٹر کے علاوہ اور کئی جانے پیچانے لوگ وہاں مدعو تھے۔
وہ اناؤنسمنٹ سے پہلے ان سے گفتگو میں مصروف ہو گیا۔
صندل کے ساتھ اس دن جو بھی ہوا اسے وہ جتنا سوچتا اتںا ہی جھنجھلاتا جاتا۔
امان ے ساتھ بات کرتا دیکھ اسے کافی برا لگا تھا اور کیوں برا لگا اس بارے میں وہ سوچنا نہیں چاہتا تھا۔
لیکن اس نے جس جنونیت سے ردعمل کیا وہ اس کے لئے پریشان کن تھا۔
اسی لئے وہ صندل سے فاصلہ اختیار کئے تھا۔۔۔۔یہ عمل اس کے لئے مشکل ہو رہا تھا لیکن اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نا تھا اخر وہ اس کے گھر میں مقیم تھی۔
مسٹر معراج۔۔۔۔۔میرے خیال سے اناؤنسمنٹ کے لئے یہی وقت بہتر ہے۔۔۔۔
وہ جینز اور پرپل کلر کے ٹاپ میں ملبوس تھی۔ جبکہ سرخ رنگ میں رنگے اس کی لب صندل کی خوبصورتی کو مزید نکھار رہے تھے۔
صندل معراج کی جانب جھکتی سرگوشی کرتے ہوئے کہنے لگی جس پہ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا اور پھر صندل کا آگے بڑھایا ہوا مائک ہاتھ میں تھام لیا۔
وہ اسے مائک دیتی خود وہاں کے مینجر سے بات کرنے لگی۔
میں نے جو بکس منگوائی تھی وہ کہاں پر ہیں۔۔۔۔
میم۔۔۔۔وہ میں ابھی منگوا دیتا ہوں۔۔۔۔
کوئی بات نہیں آپ مجھے بتا دیں میں خود ہی لے آؤں گی۔۔۔۔
وہ اپنے بال ہاتھ کی مدد سے کندھے سے ہٹاتی ہوئی پوچھنے لگی۔
دوسری منزل پہ سیڑھیوں کے ساتھ دوسرے کمرے میں ہے۔۔۔۔
تھینکس۔۔۔۔
جانے سے پہلے اس نے ایک نظر معراج کو دیکھا اور اس ہونٹوں سے بکس کا اشارہ کرتی چلی گئی۔
سیڑھیوں کے قریب ہی اسے ایک جانے پہچانے چہرے نے وہیں روک لیا۔
عشاء۔۔۔۔ایم آئی رائٹ۔۔۔۔
وہ اسے ناگوار تاثرات لئے دیکھنے لگی جو کہ عشاء کو کافی برا لگا۔
ج۔۔۔جی۔۔۔۔
لیکن یہاں پہ بس وہی آ سکتے ہیں جنہیں پاس دیا گیا ہو۔۔۔۔
وہ کن اکھیوں سے اسے دیکھتی کہنے لگی۔
عشاء جلدی سے اپنا بیگ چیک کرنے لگی اور پاس نکال کر اس کے سامنے کر دیا۔
صندل نے بذات خود لسٹ بنائی تھی وہ اچھے سے جانتی تھی کہ پاسز کن لوگوں کو اجراء کئے گئے ہیں۔
تمہیں یہ پاس کیسے ملا۔۔۔۔۔
وہ حیرت سے استفسار کرنے لگی۔
وہ اصل میں کل میری معراج سر سے سرسری سی ملاقات ہو گئی تھی انہوں نے مجھے بتایا تو میں نے بھی یہاں آنے کی خواہش ظاہر کی۔۔۔۔
صندل جانتی تھی کہ معراج کو دو سپیشل پاسز دیئے گئے تھے شاید یہ انہی میں سے ایک تھا۔
اوہ۔۔۔۔۔
وہ سپاٹ چہرے سے کہنے لگی۔
حیرت ہے۔۔۔سرسری سی ملاقات میں اتنا کچھ ڈسکس ہو گیا۔۔۔۔
صندل زبردستی مسکراتے ہوئے کہنے لگی۔جبکہ عشاء غصہ پہ قابو پاتی ادھر ادھر گھورنے لگی۔
خیر جاؤ۔۔۔۔لیکن اس پاس کو کسی اور چیز کا پاس مت سمجھ لینا۔۔۔۔
عشاء غصے سے اس کی جانب پلٹی لیکن صندل اس سے پہلے سیڑھیوں کی جانب بڑھ چکی تھی۔
عشاء خود پہ قابو پاتی معراج کی جانب بڑھ گئی جو کہ اناؤنسمنٹ ختم کرنے ہی والا تھا۔
____
صندل کچھ دیر سیڑھیوں پہ کھڑی عشاء کی جانب دیکھتی رہی جو کہ آنکھوں میں جذبات لئے اسے دیکھ رہی تھی۔
یہ جذبات کس قدر خطرناک تھے وہ اچھے سے جانتی تھی کبھی وہ بھی اپنی آنکھوں میں ایسی ہی شدت رکھتی تھی۔
صندل نے اپنی آنکھیں زور سے بھینچی اور پھر مطلوبہ کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
کمرے میں اور بھی کافی سامان موجود تھا اسے بکس ڈھونڈنے میں کچھ وقت لگا لیکن جیسے ہی ان پر نظر گئی وہ انہیں اٹھا کر پلٹ گئی۔
ابھی وہ دو سے تین سیڑھیاں ہی اتری تھی جب زوردار دھکے کے باعث اپنا توازن برقرار نا رکھ پائی اور لڑکھڑاتے ہوئے سیڑھیوں سے نیچے گرنے لگی۔
صندل کی چیخنے کی آواز پہ سیڑھیوں کے قریب لوگ متوجہ ہوئے اور وہ اس کی جانب بھاگے۔
لوگوں میں شور کی آواز بلند ہوئی تو سب کی طرح معراج بھی اس جانب متوجہ ہوا۔
صندل۔۔۔۔۔صندل۔۔۔۔
وہ مسئلہ کی وجہ جاننے کے لئے آگے بڑھا تو صندل کو فرش پہ گرا دیکھ بےچینی سے آگے بڑھا
صندل کیا ہو تمہیں۔۔۔۔
اس کا سر اپنی گود میں رکھتا وہ اس کا چہرہ تھپتھپانے لگا۔
صندل کی کہنی بڑی طرح زخمی ہوئی تھی اور شاید بازو ٹوٹ بھی گئی تھی۔
چہرے پہ اس کا لمس محسوس کرتی اس نے آنکھیں کھولیں اور بازو میں تکلیف سے کراہ اٹھی۔
بہت ضبط کے باوجود آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
آہ۔۔۔میری بازو۔۔۔۔
ایمبولینس کو بلاؤ۔۔۔۔۔۔
معراج یکدم دھاڑا تھا اور مینجر ایک دم حرکت میں آیا۔
