Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui NovelR50459 Zehr-e-Sheren Episode 6
Rate this Novel
Zehr-e-Sheren Episode 6
Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui
اس آنکھ کھلی تو سب سے پہلے پھولوں کی بھینی سی خوشبو نے اس کا حواسوں کو جکڑا۔
نظروں کا زوایہ بدلا تو سائیڈ ٹیبل پہ گلاب کا ایک خوبصورت پھول اس کے دیدار کا منتظر تھا۔
صندل کہنیوں کے ذریعے خود کو سہارہ دیتی بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی اور گلاب کےاس خوبصورت پھول کو اپنی انگلیوں سے تھام لیا۔
ایک خوبصورت مسکراہٹ اس کے چہرے پہ پھیلی تھی۔
اسے اپنے ناک کے قریب لاتی صندل اس کی خوشبو کو اپنے اندر اتارنے لگی۔
اس کے حواس مکمل طور پہ اسیر ہونے لگے تھے جب اچانک دروازہ کھلنے پہ وہ خوش میں آئی۔
بی بی جی۔۔۔۔کچھ کھا لیں آپ۔۔۔۔
ملازمہ کھانے کی ڈش لے کر کمرے میں داخل ہوئی تو وہ دیوار پہ لٹکتی گھڑی تکنے لگی۔
گھڑی کے دونوں کانٹے دوپہر کے بارہ بجا رہے تھے۔
وقت دیکھتے ہی اس کی پیشانی پہ کچھ بل ابھرے تھے جسے ملازمہ نے فورا نوٹ کیا۔
شاید دوا کی وجہ سے وہ اتنا عرصہ سوتی رہی تھی۔
ڈش اس کے قریب رکھتی ملازمہ کسی اور ضرورت کا پوچھنے لگی جس پہ اس نے اسے جانے کا کہا۔
ابھی وہ اٹھ کر منہ ہاتھ دھونے کا ہی سوچ رہی تھی جب دروازے پہ نوک ہونے لگا۔
اندر آ جاؤ۔۔۔۔
وہ اپنی مدھر آواز میں گویاہوئی تو دروازہ کھول کر معراج وہاں نمودار ہوا۔
اسے دیکھتے ہی صندل وہیں رک گئی اور اس کی جانب دیکھنے لگی۔
معراج دونوں ہاتھ جیب میں ڈالے دروازے سے ٹیج لگائے کھڑا تھا۔
اب کیسا محسوس کر رہی ہو۔۔۔۔
وہ استفسار کرنے لگا تو صندل مسکرا دی۔
بہت بہتر ہوں۔۔۔۔
کمرے میں ایک بار پھر سے خاموشی چھائی تھی لیکن دونوں کی نظریں ایک دوسرے پہ ٹکی تھیں۔
کیا یہ پھول آپ نے یہاں رکھا۔۔۔۔۔
وہ اسے دیکھتیانگلیوں کی پوروں سے گلاب کی پنکھڑیاں چھوتی پوچھنے لگی۔
مجھے لگا کہ شاید اس سے آپ بہتر محسوس کریں۔۔۔۔
وہ اپنی صفائی پیش کرنے لگا تو صندل کی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی۔
مجھے خوشی ہوئی یہ دیکھ کر کہ آپ میرے بارے میں اتنا سوچتے ہیں۔۔۔۔اور جب تحفہ آپ کے پسندیدہ شخغ کی جانب سے ہو تو انسان بہت بہتر محسوس کرتا ہے۔۔۔۔
وہ گہرے انداز میں کہنے لگی تو معراج نے یکدم اس سے نظریں پھیریں اور کمرے میں ادھر ادھر دیکھنے لگا۔
گلا صاف کرتے ہوئے وہ سیدھا کھڑا ہوا اور ایک بار پھر نظر اس کی جانب موڑی۔
میرے خیال سے میں اب چلتا ہوں۔۔۔۔آپ آرام کریں۔۔۔۔
وہ دروازے کو دھیرے سے بند کرتا وہاں سے چل دیا جبکہ صندل نے اپنا وجود بیڈ پہ گرا لیا اور مسکراتے ہوئے اس گلاب کو دیکھنے لگی۔
_____
وہ دن اس نے زیادہ تر اپنے ملازمین کو تلقین کرتے ہوئے گزارہ تھا۔
اور باقی کا دن صندل کی خبر لیتے ہوئے یا اسے سوچتے ہوئے۔
آئمہ جہاں اس کی خالہ زاد تھی وہیں وہ اس کی بچپن کی محبت بھی تھی۔ اسی لئے اسے کبھی کسی اور لڑکی میں دلچسپی ہی نہیں ہوئی تھی ناہی اس کی موجودگی میں اور نا اب اس کی غیر موجودگی میں۔
لیکن صندل اسے اپنی جانب کھینچتی تھی ہر سرزنش کے بعد بھی وہ اس کے حواس پہ چھائی ہوئی تھی۔
آج صبح بھی جاگنگ سے لوٹتے ہوئے اس نے باغ میں موجود سب سے خوبصورت گلاب توڑا تھا اور پھر بڑے دھیان سے اس کا ایک ایک کانٹا نکال پھینکا۔
اب آدھی رات کو وہ اپنے کمرے میں بیٹھا اس لڑکی کے بارے میں سوچ رہا تھا جو کہ اس سے صرف چند قدموں کے فاصلہ پہ تھی۔
کسی سوچ کے تحت اس نے اپنا لیپ ٹاپ اتارا اور اس کا پہلا ناول پڑھنے لگا۔
_______
اف۔۔۔۔کس قدر دیر ہو گئی ہے مجھے۔۔۔۔
آج تو یقینا پروفیسر مجھے نہیں چھوڑیں گے۔۔۔۔۔۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتی اپنی کلاس کی جانب بڑھنے لگی۔
آہ۔۔۔۔اندھے کہیں کے۔۔۔۔۔
کسی سے زوردار ٹکراؤ سے اس کی ساری کتابیں زمین پہ ڈھیر ہوئی تھیں۔۔۔۔
وہ گیلی زمین پہ گری اپنی بھیگی ہوئی کتابیں دیکھتی اس شخص کو غصے سے گھورنے لگی۔
ایم سو سوری۔۔۔۔
مقابل اس سے معافی طلب کرتا زانوں بل بیٹھا اور اس کی کتب اٹھانے لگا۔
نازلین اپنے سامنے اس شخص کو جھکا دیکھ وہیں منجمد ہو گئی تھی۔
یہ وہی شخص تھا جسے وہ ایک عرصے سے چاہتی تھی لیکن کبھی بات کرنے کی ہمت نا کر پائی۔
یہ لیجئے اپ کی بکس۔۔۔
وہ اس کی جانب کتابیں بڑھاتا کہنے لگا لیکن نازلین تو جیسے اس کسی اور ہی وقت میں تھی۔
جہانزیب اپنی دلکش مسکراہٹ چہرے پہ سجاتا ہاتھ لہرانے لگا۔ تو وہ جیسے ہوش میں آئی۔
تھ۔۔۔تھینک یو۔۔۔۔
وہ اس سے بکس کھینچتی جلدی سے کھڑی ہوئے اور نظریں جھکائے وہاں سے چلتی بنی جبکہ وہ شخص اسے وہیں دیکھتا رہ گیا۔
_______
اسے کہاں خبر تھی کہ اس دن کالج میں ہوا ٹکراؤ یوں اس کی زندگی بدل دے گا۔۔۔
اس دن کے بعد سے نازلین نے ہر موقع پہ خود کو اس کی نظروں کے حصار میں پایا۔
وہ اس کا سینئر تھا اس لئے ان کی ملاقات بہت کم ہوتی تھی لیکن جلد بھی اس کے آس پاس ہوتا ہمیشہ اسے ہی تکتا رہتا۔
آخر ایک دن جب وہ کالج سے گھر جانے کے لئے روانہ ہوئی تو راستہ میں ان کی ملاقات ہوئی۔
جہانزیب نے اسے گرتے ہوئے بچایا تھا اور وہ اس کی قربت پی سرخ ہوتی چلی گئی۔
یہی وہ گھڑی تھی جب اس نے نازلین کو اپنا بنانے کا فیصلہ کیا۔
نازلی۔۔۔۔تم پہ میرا حق ہے۔۔۔۔صرف میرا میں جیسے چاہوں یہ حق استعمال کروں۔۔۔۔
وہ اکثر اس سے یہ کہتا تھا۔۔۔۔
ایک ملاقات دوسری میں اور دوسری تیسری میں بدلتی گئی۔۔۔
دوستی اور محبت۔۔۔۔۔۔۔
نازلین اس کے عشق میں گرفتار تھی اور جہانزیب بھی کوئی کم نا تھا۔۔۔۔
وہ اس کا ہر طرح خیال رکھتا۔۔۔۔نازلین کی زندگی اس سے شروع ہوتی تو اسی پہ ختم ہوتی۔
اس کا کہا ہر لفظ نازلین کے لئے حکم تھا جو وہ ہر حال میں بجا لانا چاہتی تھی۔
وہ ہمیشہ اس کی نظروں کے حصار میں خود کو ڈوبتا محسوس کرتی۔
کالج کے بعد یونیورسٹی لیکن وہ دونوں ساتھ تھے۔۔۔۔اور یہ ساتھ ایک دن شادی کے بندھن میں بھی بدل گیا۔
_____
نازلی اسے ہمیشہ اپنے ساتھ رکھنا۔۔۔۔۔
وہ شادی کی پہلی رات اسے وہ نازک سی انگوٹھی پہناتا نازلین کے ہاتھ کا بوسہ لیتے کہنے لگا۔
ہمیشہ۔۔۔جہانزیب۔۔۔۔یہ مجھے میری سانسوں سے بھی قیمتی ہے۔۔۔۔۔
وہ اس کی محبت میں ڈوبتی چلی گئی اور وہ پہلی بار تھا جب جہانزیب نے اپنی محبت کی مہر اس پہ ثبت کی تھی۔
رات کب بیتی۔۔۔۔سورج کب طلوع ہوا۔۔۔۔جہانزیب کی محبت نے اسے ہر چیز بھلا دی تھی۔
ایک ماہ بعد انہیں ایک اور خوشی تب ملی جب اس کا پروموشن ہوا اور وہ دونوں اپنے والدین سے ملتے اس دیار غیر میں آ بسے۔
مہینے۔۔۔۔سال۔۔۔۔گزرنے لگے۔۔۔۔۔
نازلین کی محبت میں کمی نا آئی۔۔۔۔بلکہ ہر لمحہ کے ساتھ وہ مزید اس کے عشق میں گرفتار ہوتی چلی گئی۔
لیکن شاید جہانزیب کے لئے ایسا نہیں تھا۔۔۔۔
اسے اولاد چاہئیے تھی اور نازلین اسے اولاد کی خوشی نہیں دے سکی تھی۔
یہ اتنا بھی اہم نہیں تھا۔۔۔۔نازلین کے لئے تو نہیں۔۔۔۔اولاد نہیں تھی تو کیا۔۔۔۔وہ تو ساتھ تھے نا۔۔۔۔
نازلین۔۔۔۔کیسی عورت ہو تم جو مجھے ایک اولاد بھی نہیں دے سکتی۔۔۔۔۔
اس کا خمار ٹوٹا تھا۔۔۔۔۔۔
اس تھپڑ کے ساتھ وہ عشق کی وادیوں سے گھسٹتی ہوئی باہر نکالی گئی تھی۔
ج۔۔۔جہانزیب۔۔۔۔۔
وہ کچن میں کھڑی اسے نم انکھوں سے دیکھتی کانپ رہی تھی۔
نام نہیں لو میرا۔۔۔۔تم کسی قابل نہیں۔۔۔۔گھن آتی ہے مجھے تم سے۔۔۔۔۔
نجانے اور بھی کیا کیا کہا تھا اس نے۔۔۔۔۔
وہ جو اس کی محبت تھا۔۔۔۔وہ جون اس کا مان تھا۔۔۔۔۔
سب ایک جھٹکے میں ٹوٹا تھا۔۔۔۔۔
اس دن کے بعد ان کے درمیان ایک سرد جنگ کا آغاذ ہوا تھا۔
میں تم سے علیحدگی چاہتا ہوں۔۔۔۔۔
وہ اسے ناشتہ سرو کر رہی تھی جب جہانزیب نے خاموشی توڑی تھی اور وہ وہیں منجمد ہو گئی۔
میں تم سے علیحدگی چاہتا ہوں۔۔۔۔نازلین۔۔۔۔
اب کی بار اس نے اپنی بات ترش لہجہ میں ادا کی۔
ایک عرصہ ہوا تھا اس نے جہانزیب کے منہ سے نازلی نہیں سنا تھا۔
ج۔۔۔جہانزیب۔۔۔نہیں۔۔۔پ۔۔۔پلیز۔۔۔۔
میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔
بنا رکے اس نے کتنے اطمینان سے کہ دیا تھا۔۔۔۔
وہ جو ایک ایک سانس کے لئے اس کی انحصار کرتی تھی کیسے جیتی۔
نہیں۔۔۔جہانزیب۔۔۔نہیں۔۔۔م۔۔۔مجھے طلاق نہیں دو۔۔۔۔
وہ اس کی پیروں میں گر کے اس ٹوٹے ہوئے رشتہ کے لئے بھیک ماننگے لگی۔۔۔
میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔
وہ اسے لات مارتا خود سے دور کرتا کہنے لگا اور رینگتی ہوئی پھر سے اس کے جانب پلٹی۔
جہانزیب۔۔۔۔تم ۔۔۔تم دوسری شادی کر لو۔۔۔۔پر۔۔۔م۔۔۔مجھے مت چھوڑو۔۔۔۔
روتے ہوئے وہ ہذیانی کیفیت میں بولی۔۔۔۔
وہ تمہیں۔۔۔۔طلاق۔۔۔۔دیتا۔۔۔۔ہوں۔۔۔۔
وہ اپنی انگلیاں اس کے چہرے میں دھنساتا ہوا کہنے لگا اور نازلین خالی آنکھوں سے اسے تکتی رہ گئ۔
جہانزیب نے اس کے چہرے پہ تھوکا اور وہاں سے چلا گیا۔
