224.3K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zehr-e-Sheren Episode 12

Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui

وہ دونوں ہاتھ اپنی پینٹ کی جیب میں گھسائے مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا۔

جبکہ مالہ یوں پکڑے جانے پہ تذبذب کی شکار تھی۔

وہ دوسری لڑکیوں کی طرح خوبصورت نہیں تھی اس کا کالے نشانات سے بھرا ہوا تھا۔

سب ہی اس کا مزاق بناتے تھی۔

تنہائی اور اس کی آواز یہیتو اس کے ساتھی تھے لیکن یہ کون تھا جو اس کی تنہائی میں مخل ہوا تھا۔

کیا وہ اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔۔۔۔۔وہ ہمیشہ کی طرح اپنی کتابیں جلدی جلدی اٹھانے لگی اور وہاں سے جانے کے لئے تیار تھی جب میر نے اسے دوبارہ مخاطب کیا۔

ارے رکو۔۔۔۔

کوئی بات نہیں کرو گی کیا۔۔۔۔۔

وہ بنا جواب دیئے وہاں سے جانے لگی جب میر پھر سے مخاطب ہوا۔۔۔۔

نام تو بتاتی جاؤ۔۔۔۔۔

وہ ایک لمئے کے لئے رکی اور اس کی طرف مشکوک نگاہوں سے دیکھا۔

مالہ۔۔۔۔۔

مالہ۔۔۔۔۔وہ اس کے جانے کے بعد زیر لب بڑبڑایا تھا۔

______

آخری سر کے ساتھ اس نے گانا مکمل تھا تو کچھ وقت کے بعد تال چھیڑتے میوزک کے آلات بھی خاموش ہو گئے۔۔۔۔

یار ویسے سب تو ٹھیک ہے لیکن ہمیں ایک فی میل سنگر کی بھی ضرورت ہے۔۔۔۔۔

اس کا دوست اور گروپ کا ڈرمر کچھ جھکتے ہوئے کہنے لگا تو میر نے بھی اپنا گٹار ایک طرف رکھ دیا۔

آج میری ملاقات ایک لڑکی سے ہوئی۔۔۔

وہ کسی سوچ میں کھویا ہوا کہنے لگا۔

ہاں۔۔۔۔تو نے کبھی کوئی لڑکی چھوڑی بھی ہے۔۔۔۔۔

ارسلان سر جھٹکتا کہنے لگا تو میر اسے دیکھنے لگا۔

فضول مت بکو۔۔۔۔۔کافی اچگا گاتی ہے وہ۔۔۔میں سوچ رہا تھا اڈے اپنے بینڈ میں شامل کر لیں۔۔۔۔

یہ فیصلہ تو مل کر ہی ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔وہ تینوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے کہنے لگے۔

ظاہر سی بات ہے۔۔۔۔لیکن پہلے وہ تو مان جائے۔۔۔۔۔

وہ اپنے باس گٹار کو پھر سے اٹھاتا ہوا کہنے لگا۔

______

ہے۔ ۔۔۔رکو سنو تو۔۔۔۔کیا نام تھا تمہارا۔۔۔۔

شالہ۔۔۔۔تالہ۔۔۔۔۔

وہ کالج میں اس کے پیچھے پیچھے چلتا پکار رکا تھا اور وہ اپنا منہ کتابوں میں دھنساتی شرمندگی سے رفتار مزید تیز کر گئی

تالہ۔۔۔۔حالہ۔۔۔۔

مالہ۔۔۔۔مالہ نام ہے میرا اور اب مجھے تنگ مت کرو۔۔۔

وہ چلتے چلتے رکی اور شرمندگی کے تاثرات لئے کہتی پھر سے آگے بڑھنے لگی۔

تمام لوگ انہیں کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔آخر ان کے کالج بینڈ کا سب سے ہینڈسم لڑکا اس بدصورت کو کیوں پکار رہا تھا۔۔۔۔ہر کوئی ہی جاننے کے لئے بےتاب ہو رہا تھا۔

اچھا رکو۔۔۔دیکھو میری بات سن لو۔۔۔پھر میں تمہیں بلکل تنگ نہیں کروں گا۔۔

وہ ایک دم اس کے راستے میں حائل ہوتا کہنے لگا تو مالہ اسے بے یقینی سے دیکھنے لگی۔

وعدہ۔۔۔۔

پکا وعدہ یار۔۔۔۔مردوں والا وعدہ۔۔۔۔

مالہ کے چہرے پہ ایک دم مسکراہٹ نمودار پوئی جسے اس نے فورا دبا لیا۔

اب تو سنو گی نا میری بات۔۔۔۔

وہ اس کے سوال میں محض سر ہلا گئی

______

اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ میر کی باتوں میں کیسے آ گئی۔۔۔۔

یا پھر یوں کہا جاتا کہ میر نے تب تک اس کا پیچھا نا چھوڑا جب تک اس نے حامی نا بھر لی۔

ان کے بینڈ میں انہیں آج چار ماہ ہو چکے تھے۔۔ ۔

اس وقت میں جو ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی تھی وہ اس کے احساسات میں تھی۔

وہ میر کی محبت میں گرفتار ہو چکی تھی۔

اس کے ہوتے ہوئے کوئی اس کی بدصورتی کے بارے میں کچھ نہیں کہ سکتا تھا۔۔۔۔وہ ہمیشہ اس شخص کا منہ توڑنے کے لئے تیار رہتا تھا۔

اور سب سے زیادہ وہ اس کا خیال رکھتا تھا۔۔۔۔پہلے تو اسے لگا کہ وہ بھی اس سے محبت کرتا ہے۔۔۔لیکن یہ غلط فہمی تب ختم ہو گئی جب اسے معلوم ہوا کہ وہ ہر لڑکی کے ساتھ ہی ایسا تھا۔ ۔۔۔۔

سب لڑکیاں اسے پسند کرتی تھیں۔۔۔اور کیوں نا کرتیں۔۔۔وہ خوبصورت تھا۔۔ کیئرنگ۔۔۔فنی۔۔۔ذہین۔۔۔سب کا چہیتا۔۔۔

اور وہ اسے چاہتا بھی تو کیوں۔۔۔کیا تھا اس میں۔۔۔۔کچھ بھی تو نہیں۔۔۔۔کچھ بھی نہیں۔۔۔۔

مالہ۔۔۔۔یہ دیکھو یہ لائن دوبارہ رپیٹ کرو۔۔۔۔

میر نے اسے متوجہ کیا تو وہ پھر سے پریکٹس کرنے لگی۔

_____

ان کی ایلبم نے ایککے بعد ایک ہٹ گانے دیئے تھے اور آج وہ پہلی بار لائیو شو کرنے والے تھے۔

میر مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔۔کیا میں پردے کے پیچھے سے نہیں گا سکتی۔۔۔۔

بلکل بھی نہیں۔۔۔یار تم ہماری لیڈ سنگر ہو۔۔۔۔اور ایسا کیوں کہ رہی ہو۔۔۔

مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔

ڈر لگے تو میرا ہاتھ لینا۔۔۔۔

وہ ہمیشہ کیطرح بات مذاق میں اڑاتا کہنے لگا۔

میر۔۔۔۔۔

وہاس کے ہندجے پہ گھوسہ رسید کرتی چلا ہی تو اٹھی تھی۔

اچھا دیکھو۔۔۔۔پینک مت ہو۔۔۔۔اور تمہیں کوئی کھا تھوڑی نا جائے گا۔۔۔۔

وہ اڈے کیسے سمجھاتی کہ اس چہرے کے ساتھ وہ لائیو شو نہیں کر سکتی تھی لیکن میر اسے کوئی اور اوبشن بھی نہیں دے رہا تھا۔

آخر وہ وقت بھی آ گیا جب انہیں سٹیج پہ بلایا گیا۔

وہ اسے زبردستی کھینچتا ہوا لیجانے لگا۔

سٹیج پہ آتے ہی پہلے ایک عجیب ہلچل سی پیدا ہوئی تھی۔۔۔ہر کوئی اس کے داغ دھبے اور کالے نشانات والے چہرے کو دیکھتا چہہ مگوئیاں کرنے لگا۔

اس کی آنکھوں میں پانی ابھرنے لگا تو میر نے اس کا رخ اپنی طرف پلٹ لیا۔۔۔

اس کی آنکھوں میں اپنائیت دیکھ مالہ کو وہ سب بھول گئے اور وہ بھی اس کا بھر پور ساتھ دینے لگی۔

_______

تمہیں لگتا ہے کہ میر کبھی تن سے محبت کرے گا۔۔۔۔

اندھی ہو کیا۔۔۔۔شکل نہیں دیکھی کبھی آئینہ میں۔۔۔۔تم اس کے ساتھ صرف اپنی آواز کی وجہ سے ہو۔۔۔۔

یہ مت سوچنا کہ وہ تم جیسیکو کبھی کوئی گھاس ڈالے گا۔۔۔۔

وہ کتنی ہمت سے اڈے اپنے دل کا حال بتانے آئی تھی۔۔۔اس کے ہاتھ میں تھامے گلاب کے پھول دیکھ میر کی بہن نے اسے یہ باور کرواںا لازمی سمجھا تھا کہ وہ کبھی اسے نہیں اپنائے گا۔۔۔۔

اس کے سامنے تو وہ کچھ نا بولی اور نا خود کو کمزور پڑنے دیا۔۔۔لیکن اس کادل کیسے سلگ رہا تھا یہ محض وہی جانتی تھی۔

_______

وہ کون تھی جو اس کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔۔

وہ ایک ماہ سے مالہ سے رابطہ کی کوشش کر رہا تھا اور اب وہ انجان لڑکی اسے کہ رہی تھی کہ وہ مالہ تھی۔

صاف شفاف چہرہ۔۔۔۔

پتلے ہونٹوں کی جگہ اب وہاں موٹے ہونٹ تھے۔ ۔۔موٹی ناک اب پتلی ہو چکی تھی۔۔۔۔۔چھوٹی چھوٹی آنکھیں اب چہرے پہ بہت نمایاں تھیں۔

میر نے ایک بار پھر پلکیں جھپکائیں ۔۔۔۔

مالہ ۔۔۔۔یہ تمہیں کیا ہوا۔۔۔۔

میں اچھی لگ رہی ہوں نا میر۔۔۔۔وہ اپنے بال شرماتے ہوئے کان کے پیچھے اڑستی کہنے لگی۔

میں نے پلاسٹک سرجرہ کروا لی۔۔۔۔اب مجھے کوئی بدصورت نہی کہے گا ۔۔

وہ بےقراری سے کہنے لگی جبکہ میر کے چہرے پہ ہنوز سنجیدگی قائم تھی۔

م۔۔۔میں نے یہ سب تمہارے لئے کیا۔۔۔۔وہ نظریں جھکاتی کہنے لگی۔

میرے لئے ۔۔۔۔

وہ پیشانی پہ بل سجائے کہنے لگا۔اور مالہ شدماتے ہوئے اپنے دل کی بات کہنے لگی۔۔۔۔اسے یقین تھا کہ اب وہ اسے جھٹلا نہیں پائے گا۔۔۔

مم۔۔۔میں تم سے کحبت کرتی ہوں میر۔۔۔۔ محبت۔۔۔۔بلکہ عشق ہے مجھے تم سے۔۔۔تمہارے بنا نہیں رہ پاؤں گی۔۔۔۔

وہ پھولوں کا گلدستہ اس کی جانب بڑھاتی کہنے لگی۔

اوہ۔۔۔۔

وہ وہیں کھڑا صرف اتنا کہ کر پلٹنے لگا اور مالہ کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا۔

م۔۔۔میر۔۔۔۔کچھ۔۔۔کچھ تو کہو نا۔۔۔۔

وہ اپنی پھولتی سانس پہ قابو پاتی کہنے لگی۔

میں کسی اور لڑکی سے محبت کرتا ہوں۔۔۔۔

وہ اسے حقارت سے دیکھتا مختصر جواب دیتا چلا گیا۔

کسی اور سے محبت۔۔۔۔کسی اور سے محبت۔۔۔۔نہیں اڈ کے ساتھ ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔وہ تو اب خوبصورت تھی تو میر کسی اور کو کیسے چاہ سکتا تھا۔۔۔

وہ سکتے کے عالم میں زمین بوس ہوتی رونے لگی۔