224.3K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zehr-e-Sheren Episode 26

Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui

وہ اس کے ساکت وجود کو اٹھاتا واپس لے جانے لگا چہرے پہ پھیلی مسکراہٹ اس کے حیوان ہونے کا واضح ثبوت تھی۔

اس کے ساتھ کسی جانور سے بھی زیادہ برا سلوک کیا گیا تھا۔ اس تکلیف سے بچنے کے لئے وہ خود میں قید ہونے لگی۔ وہاں سے فرار حاصل کرنے کا یہی ذریعہ تھا۔

اس کی ہمت ٹوٹ چکی تھی اس کے تشدد سے جسم میں بری طرح تکلیف ہو رہی تھی۔

آہستہ آہستہ وہ ہوش کھونے لگی لیکن اس خوف تھا کہ وہ درندہ صفت پھر سے اپنا عمل نا دہرائے۔

شھیر نے اسے ٹھنڈے سخت فرش پہ پھینکا تو وہ کسی آواز کے بنا وہیں پڑی رہی۔

اب تمہیں سبق مل گیا ہو گا میری پالتو۔۔۔۔۔

وہ اس کے بےجان وجود کو دیکھتا ہوا چل دیا۔۔۔۔کچھ وقفہ کے بعد وہ ایک وزنی زنجیر کے لوٹا تھا۔

صندل کے گردن میں وہ زنجیر لپیٹتا اسے دیوار سے بنے ہک کے ساتھ باندھ کر گردن پہ تالا لگا دیا۔

یہ تمہیں اپنی اوقات یاد دلاتا رہے گا۔۔۔۔

وہ اس کو تمسخرانہ دیکھتا ہوا کہنے لگا۔

________

اپ کو یقین ہے کہ کوئی ایسا شخص جو آپ لوگوں سے دشمنی رکھتا ہو یہ نہیں کر سکتا۔۔۔۔

انسپکٹر نے اپنا بات کو اس بار قدرے نئےانداز سے دہرایا تو ھدیل کی پریشانی سے تبریز کو دیکھںے لگی۔

وہ دونوں ہی پچھلے پانچ دنوں سے سو نہیں پائے تھے اور وہ ہر اس شخص تک رسائی حاصل کر رہا تھا جو اس کی زرا بھی مدد کر سکے۔

ہم یہاں کچھ عرصے پہلے ہی شفٹ ہوئے ہیں۔۔۔ہماری یہاں کسی سے پہچان بھی نہیں۔۔۔۔

جتنا مجھے علم ہے اپ یہاں پہلے بھی مقیم تھے۔۔۔۔

وہ ابرو اچکاتے ہوئے کہنے لگا تو شھیر اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔

میں نے کچھ سرچ کی ہے اور آپ کے کیس کی سٹڈی بھی کی۔۔۔۔اسی حوالے سے میں کچھ سوالات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔

میری بیٹی کی ابھی تک کوئی خبر نہیں اور تمہیں ہمارے ماضی کی پڑی ہے۔۔۔۔

وہ سختی سے کہنے لگا۔

دیکھیں ہمیں ہر طرح سے کیس کو فالو کرنا ہے آپ تعاون کریں گے تو ہم مجرم تک اتنی ہی جلد پہنچ پائیں گے۔

تبریز ایک بار سن تو لو۔۔۔۔

وہ پھر سے کچھ کہنے لگا تو ھدیل نے اس کی بازو کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔

کہیں جو کہنا ہے۔۔۔۔

آپ کا بھائی شھیر۔۔۔۔جو کہ لاپتا ہے اتنے عرصے سے۔۔۔۔

مر گیا ہے۔۔۔۔وہ مر چکا ہے۔۔۔۔

اس کا نام سنتے ہی تبریز کے جسم میں تناؤ آیا تھا۔

کیا آپ کو یقین ہے۔۔۔کیونکہ اس شخص کی سرچ کے دوران محض ایک انگلی ملی تھی اور ہمارے مطلوبہ شخص کا بھی ہاتھ کی دو انگلیاں غائب ہیں۔۔۔۔

ھدیل انسپکٹر کی بات پہ دنگ رہ گئی اور ان دونوں کے تاثرات دیکھنے لگی۔

جہاں انسپیکٹر تبریز کو جانچ رہا تھا وہیں اس کے تاثر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔

آ۔۔۔آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔۔۔۔

جب ھدیل اس کی باتوں کا رخ نہیں سمجھ پائی تو اسے سے سوال کر لیا۔

دیکھیں میڈیم۔۔۔۔ہم نے کالج میں میں تفتیش کی ایک دو لڑکیوں نے اسے ایک کار میں بیٹھتے ہوئے دیکھا تھا ہم اس کار کی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔۔۔

وہ دونوں اب اس کی جانب متوجہ تھے۔۔۔۔

تشخیص سے معلوم ہوا کہ مطلوبہ شخص کا چہرہ آپ کے مرحوم بھائی سے کافی ملتا ہے۔۔۔۔

ایک لمحہ کے لئے شمس کے تاثرات بدلے تھے لیکن وہ ان پہ قابو پا گیا۔

کیا پاگل ہو گئے ہو وہسالوں پہلے مر گیا تھا ۔ ۔۔

وہ صوفے سے کھڑا ہوتا ہوا کہنے لگا اور تیزی سے چکر لگانے لگا۔

تبریز۔۔۔۔

ھدیل اس نے اسے پہلی بار یوں بوکھلاہٹ کا شکار دیکھا تھا۔

وہ انکھیں مضبوطی سے بھینچ گیا اور ھدیل جو دیکھنے لگا ۔۔۔اس کے تاثرات اڈے بہت کچھ بتا رہے تھے۔

سچ بتائیے۔۔۔۔ہو سکتا ہے وہ زندہ ہو۔۔۔۔اور مت بھولیں کہ یہاں سوال آپ کی اولاد کا ہے۔۔۔۔

انسپیکٹر نے اڈے صندل کا یاد کروایا تو وہ مٹھیاں بھینچ گیا۔

وہ جانتا ہوں۔۔۔۔مجھے اپنی بیٹی کی تم سے زیادہ پرواہ ہے۔۔۔

تبریز۔۔۔۔کیا شھیر مر گیا تھا۔۔۔۔

وہ احتیاط سے اس کے سامنے آتی ہوئی مشکوک نظروں سے کہنے لگی جبکہ وہ اس سے نظریں چرانے لگا۔

انسپیکٹر اپنے ماتحت کو لئے وہاں سے جانے لگا وہ جو جاننا چاہتا تھا معلوم کر چکا تھا۔

تبریز۔۔۔۔

وہاس بار قدرے اونچا بولی تو تبریز اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔

چںد ہی دنوں میں وہ کتنی کمزور ہو گئی تھی۔

تمہیں اس حالت میں آرام کرنا چاہئیے۔۔۔۔

میں کچھ پوچھنا چاہتی ہوں مجھےاس کا سیدھا جواب دینا۔

تم نے کیا تھا کہ تم نے شھیر پہ گولی چلائی اور وہ گھاٹی میں گر گیا کیا وہ مر چکا تھا یا نہیں۔۔۔۔

میں نہیں جانتا سمجھے تم۔۔۔۔جب میں نے گولی چلائی تو خون زیادہ بھی جانے سے توازن کھو چکا تھا۔

وہ غرایا تو ھدیل اسے بےیقینی سے دیکھنے لگی۔

کیا مطلب نہیں جانتے۔۔۔۔تمہاری گولی اسے لگی تھی کہ نہیں۔۔۔۔

وہ گر گیا تھا میں دیکھ نہیں پایا۔۔۔۔

وہ اس کی انکھوں میں جھانکنے لگی تو بےیقینی سے سر نفی میں ہلانے لگی۔

تم نے اسے جان بوجھ کر شوٹ نہیں کیا۔۔۔۔

اس کے نتیجہ پی شمس مٹھیاں بھینچنے لگا۔۔۔

تم نے اسے فرار ہونے کا موقع دیا۔۔۔۔

وہ رندھی ہوئی آواز میں کہنے لگی تو شمس اس کی جانب بڑھا۔

میں کیا کرتا۔۔۔۔۔مار دیتا اسے۔۔۔۔۔بھائی ہے وہ میرا۔۔۔

تمہارے بھائی نے کئی معصوم لوگوں اور میرے والدین کا قتل کیا ۔۔۔۔۔

وہ چیخی تو شمس بھی دھاڑ اٹھا۔

مجھے بھی تمہارے والدین کا افسوس ہے اور رہی بات باقیوں کی تو مجھے ان سے کوئی سروکار نہیں۔۔۔۔

ھدیل اس کی بےحسی پہ اشک با ہوئی تھی۔

غلط تھی غلط تھی میں جو سوچا تم بدل سکتے ہو۔۔۔۔۔تم دونوں بےحس ہو۔۔۔۔

ھدیل بات سنو میری۔۔۔۔۔

وہ اس کی بازو کو تھامنے لگا تو ھدیل اس سے تیزیسے دور ہوئی۔

چھونا مت مجھے۔۔۔۔تم سب جانتے ہوئے ہمیں یہاں لائےاور اب تمہاری وجہ سے صندل کی جاں خطرے میں ہے۔۔۔۔۔دور رہو تم مجھ سے۔۔۔

وہ چلاتی ہوئی کمرے کی جانب بھاگی اور خود کو اس میں قید کر لیا۔۔۔

ھدیل دروازہ کھولو۔۔۔۔

وہ دروازے پہ مکا مارتا ہوا کہنے لگا لیکن جب ھدیل نے کوئی جواب نا دیا تو اسے دھماکے لگا۔

دروازہ کھولو ھدیل ورنہ میں اسے توڑ دوں گا۔۔۔۔

وہ دروازے پہ اپنی پیشانی ٹکائے کہنے لگا۔

پاپا۔۔۔۔کک۔۔۔کیا ہوا ماما کو۔۔۔۔

وہ دروازہ توڑنے کی نیت سے اس سے دور ہوا جب شیش کی آواز نے اسے متوجہ کیا۔

وہ نیند سے بھری انکھیں ملتا ہوا اس سے سوال کر رہا تھا۔ جو کہ شاید ان کے جھگڑے کی وجہ سے جاگ گیا تھا۔

شمس نے ایک نظر دروازہ کو دیکھا اور پھر اپنے بیٹے کی جانب بڑھ گیا۔

کچھ نہیں۔۔۔۔آو آج آپ پاپا کے ساتھ سو گے۔۔۔۔۔

وہ اسے کے نیند سے جھومتے جسم کو اٹھا کر دوسرے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔

_______

امان۔۔۔۔میں کب سے کال کر رہا ہوں تم پک ہی نہیں کر رہے۔۔۔۔

امان کے کال اٹھاتے ہی معراج نے کہا تھا اور پھر جواب سنے بنا ہی اپنی گفتگو جاری رکھتے گویا ہوا۔

کیا تم آدھے گھنٹے تک یہاں آ سکتے ہو۔۔۔۔

وہ اپنی گھڑی کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔

ہاں ٹھیک ہے میں آ جاؤں گا۔۔۔۔۔

وہ لاتعلقی سے کہنے لگا جسے معراج محسوس نا کر پایا۔

ہاں بھابی اور بچوں کو بھی لے آنا۔۔۔۔

اب کی بار وہ قدرے متجسس ہوا تھا۔

کیا بات ہے ۔۔۔۔۔ خیریت تو ہے نا۔۔۔۔

ہاں خیریت ہے۔۔۔۔تم آؤ گے تو معلوم ہو جائے گا۔۔۔۔

وہ مختصر بات کرتے ہوئے کال کٹ کر گیا جب کہ امان پیشانی پہ بل پھیلائے موبائل کو دیکھنے لگا۔

اسے کسی بہت بڑی گڑ بڑ کا احساس ہونے لگا تھا۔

وہ بستر سے اٹھ کر واشروم فریش ہونے گھس گیا اور پھر ہال میں آ کر اپنی بیوی کو تلاش کرنے لگا۔