Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui NovelR50459 Zehr-e-Sheren Episode 25
Rate this Novel
Zehr-e-Sheren Episode 25
Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui
اسے کال کر کے فورا بلایا گیا تھا اور اب وہ مرتضی کے آفس میں موجود تھی۔
یہ کیا سن رہا ہوں میں۔۔۔۔کعراج تم سے شادی کرنا چاہتا ہے۔۔۔
ہاں۔۔۔صحیح سنا ہے۔۔۔
وہ زور سے ڈیسک پہ ہاتھ مارتا اٹھ کھڑا ہوا۔
تم اس سے شادی نہیں کر سکتی۔۔۔وہ خونخوار آنکھوں سے اسے گھورتا ہوا دھاڑا تھا۔
میں اس سے شادی کر سکتی ہوں۔۔۔لیکن ہاں میں ایسا نہیں کروں گی اس لئے تمہیں اپنا بلڈ پریشر ہائی کرنے کی ضرورت نہیں۔
اس کی بات پہ وہ آنکھیں سکیڑ کر صندل کو دیکھنے لگا تو وہ مقالمہ جاری رکھتے ہوئے مزید گویا ہوئی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مجھ پہ اعتبار کرنے لگا ہے۔۔۔اس نے شادی کی تاریخ ایک ماہ بعد سوچی ہے۔۔۔میں اس ایک ماہ میں باآسانی اس نے پیپرز سائن ہروا سکتی ہوں۔۔۔
اگر تمہیں ایسا کرنا ہوتا تو تم اب تک کروا چکی ہوتی۔۔۔۔
اگر تمہیں یہ اتنا ہی آسان لگتا ہے تو خود کیوں نہیں کر لیتے۔۔۔
صندل اس سے زچ ہوتی ہوئی کہنے لگی۔
ایک ہفتہ۔۔۔محض ایک ہفتہ ہے تمہارے پاس اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے ورنہ یقین مانو صندل صاحبہ ہمارے پاس اور بھی راستے ہیں۔
وہ انگلی سے اس کی جانب اشارہ کرتا وارن کرتے ہوئے کہنے لگا جس پہ وہ تمسخرانہ مسکرا دی۔
گھبراؤ نہیں ۔۔۔۔بہت جلدی تمہیں ایک سرپرائز ملنے والا ہے۔۔۔۔
خیر اب میں چلتی ہوں۔۔۔۔تم میرا نام عشاء والے کیس سے صاف کرواؤ۔۔۔اور میں پراپرٹی پیپرز پہ سائن کروا دوں گی۔
وہ شان بےنیازی سے اٹھتی اس کے آفس کی دہلیز پار کر گئی جبکہ وہ اسے دیکھتا رہ گیا۔
_______
معراج۔۔۔۔۔یہ ۔۔۔یہ سب کیا ہے تم شادی کیوں کر رہے ہو اس سے۔۔۔۔
مبارکباد دینے کا بہت بہت شکریہ۔۔۔
معراج امان کے یوں بھڑکنے پر طنزا کہنے لگا تو وہ اپنی کرسی چھوڑ کر معراج کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
مجھے لگا تھا میری شادی کے فیصلہ پر تن سب سے زیادہ خوش ہو گے۔۔۔اسی لئےسب سے پہلے تمہیں ہی خبر دی تھی۔
دیکھو معراج میں جانتا ہوں۔۔۔اور اس فیصلے سے مجھے سب سے زیادہ خوشی ہوتی لیکن اگر تم اس لڑکی کی جگہ کسی اور سے شادی کر رہے ہوتے۔۔۔
امان اس پہ زور دیتا ہوا بولا۔
میں سمجھ نہیں پا رہا تمہیں صندل سے کیا مسئلہ ہے۔۔۔۔پہلے تو تم اسے بہت پسند کرتے تھے۔۔۔
میں اس کی تحاریر پسند کرتا تھا۔۔۔۔اور ہاں اسسٹنٹ ہونا ایک الگ بات ہے لیکن اس لڑکی سے شادی کرنا الگ بات۔۔
موراج تمہیں اس فیصلہ پہ سوچنے کی ضرورت ہے۔۔۔
کچھ چیزیں سوچ کے تحت نہیں اثساسات کے تحت کی جاتی ہیں امان۔۔۔میری صندل سے شادی نلبھی انہی احساسات کی وجہ سے ہے۔۔۔
لیکن تم اسے جانتے ہی کتنا ہو۔۔۔کون ہے کہاں سے آئی ہے۔۔۔پہلے گھر جلا کر تمہارے گھر پہنچی اور پھر تم نے ایک کروڑ روپے بھرے۔۔۔۔
پھر اس لڑکی کا قتل کر دیا۔۔۔اور اب تم سے شادی۔۔۔۔کیا یہ سب تمہیں مشکوک نہیں لگتا۔۔۔
امان کی باتوں پہ معراج خود کو بمشکل قابو کر رہا تھا۔
اگر یہ باتیں تنہاری جگہ کسی اور نے کی ہوتیں تو میں ابھی تک اس کا منہ توڑ چکا ہوتا۔۔۔۔اور وہ دوبارہ یہ سب کہنے کے قابل نا رہتا۔۔۔
معراج نے جس شدت سے کہا وہ امان کو بھی حیران کر گیا۔
تو نوبت یہاں تک آ گئی ہے۔۔۔۔
ہاں بلکل۔۔۔۔تم میرے عزیز دوست ہو اور میری ہونے والی بیوی۔۔۔۔اس کی عزت لازمی ہے۔۔۔۔
وہ کھڑا ہوتا اپنے ایک ایک حرف پہ زور ڈالتا کہنے لگا۔
ایک ماہ میں شادی کی تقریب ہے۔۔۔۔شرکت کرو گے تو خوشی ہو گی۔۔۔
وہ سردمہری سے کیتا وہاں سے چل دیا۔
اسے امان سے یہ امید تو نا تھی۔۔۔۔وہ تو ہمیشہ سے ہی اسے دوسری شادی کے لئے زور دیتا تھا اور اب جب وہ اس پہ عمل کرنے جا رہا تھا تو وہی اس کی مخالفت کر رہا تھا۔
_______
وہ کچن میں کام کرتی حمیرا کو آنکھیں سکیڑے دیکھ رہی تھی۔
جب سے اس پہ انکشاف ہوا تھا کہ وہ مرتضی کے لئے کام کرتی ہے تب سے وہ اس پی چیل کی نگاہ رکھے تھی۔
آج اس نے دوسری بار معراج کی جان لینے کی دھمکی دی تھی۔
اور یہ بات بھی صاف تھی کہ مرتضی کسی صورت ان دونوں کی شادی برداشت نہیں کرتا۔
اگر ان کی شادی ہو جاتی تو وہ قانونی طور پہ اس کی جائیداد میں حصہ دار ہوتی اور اس کی موت کی صورت میں بھی وہ سب صندل کا ہوتا۔
دو ہفتہ تھے اس کے پاس۔۔۔۔اگر وہ اس میں معراج سے سائن نا کرواتی تو وہ اس کی جان کے پے در پے ہو جاتے۔
لیکن کیا گیرنٹی تھی کہ اس کے بعد وہ معراج کو نقصان نا پہنچاتے۔
تو اسے جو بھی کرنا تھا ان دو ہفتوں کے اندر ہی کرنا تھا وقت کم تھا اور اس قیمت بہت بڑی۔
_____
تم آج سارا دن مصروف رہے۔۔۔۔
جب تم مجھے آپ کی جگہ تم کہ کر پکارتی ہو دل کے قریب محسوس ہوتی ہو۔۔۔۔
وہ عام سے لہجے میں کہنے لگا تو صندل مسکرا دی۔
آپ بہت عجیب شخص ہیں۔۔۔
وہ آپ پہ زور دیتی کہنے لگی تو معراج بھی مسکرا دیا۔
ویسے ایک بات تو ہے۔۔۔اب مجھے کبھی اسسٹنٹ کے لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہو گی اور نا اس کی پے کی۔۔۔۔
وہ اس کے تاثرات دیکھتا شرارت سے کہنے تھا تو صندل ہنس دی۔
جب سے میں نے شادی کے لئے حامی بھری ہے مجھے تمہارا نیا روپ دیکھنے کو مل رہا ہے۔۔۔۔
کہنا پڑے گا مسٹر معراج۔۔۔آئی ایم کوائٹ امپریسڈ۔۔۔۔
وہ آلوہی مسکراہٹ چہرے پہ سجائی اس کی کمپنی سے محظوظ ہوتے کہنے لگی۔
بندہ اسی لئے تو حیات ہے۔۔۔۔اور ویسے بھی پہلے ہمارا رشتہ پروفیشنل نوعیت کا تھا اور اب پرنسل نوعیت کا ہونے والا ہے۔۔۔
اب کی بار وہ قہقہہ بھر اٹھی۔
اب بس اوکے۔۔۔ویسے بھی میں یہاں کا کے سلسلے میں آئی تھی۔
وہ ایک کاغذ اس کی جانب بڑھاتی کہنے لگی۔
یہ لیٹر ایجنسی سے آیا ہے۔۔۔۔وہ آئندہ تمہارے ساتھ کام نہیں کریں گے۔۔۔۔
معراج نے لیٹر اس کے ہاتھ سے تھاما اور ایک جانب پھینک دیا۔
ویسے بھی میں اب ان کے ساتھ کام نہیں کرنے والا تھا۔
معراج میں اسی لئے چاہتی تھی کہ۔۔۔۔
بس صندل ہم اس بارے میں مزید بات نہیں کریں گے۔۔۔۔
اس نے حتمی فیصلہ سنایا تو وہ سر اثبات میں ہلا گئی۔
لیکن مجھے کچھ اور بات بھی کرنی ہے۔۔۔۔
کہو۔۔۔۔
وہ اس کی جانب متوجہ ہوتا کہنے لگا۔
میری خواہش سمجھ لو یا جو بھی لیکن اگر ایسا ہو پائے تو مجھے خوشی ہو گی۔
میں سن رہا ہوں صندل۔۔۔۔
وہ اسے بات مکمل کرنے پہ اکساتے ہوئے کہنے لگا۔
معراج۔۔۔۔میں چاہتی ہوں کہ ہم کل ہی شادی کر لیں۔۔۔۔
صندل کی خواہش پہ وہ اسے حیرت سے دیکھنے لگا۔
کیا مطلب کل۔۔۔
مجھے معلوم ہے کہ پہلے میں راضی نہیں تھی اور پھر اب اچانک لیکن میں نہیں چاہتی کہ مزید ایسی خبریں گردش کریں۔۔۔۔
وہ اخبار کی جانب اشارہ کرتی کہنے لگی جو معراج نے ایک جانب رکھا ہوا تھا۔
دیکھو معراج آپ کے ذہن میں سوالات ہوں گے لیکن۔۔۔
ٹھیک ہے ہم کل ہی نکاح کر لیں گے۔۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
کک۔۔۔کیا واقعی۔۔۔۔اپ کو کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔
وہ آنکھیں پجیلائے خوشی اقر حیرت کے ملے جلے جذبات لئے اسے دیکھتی رہی۔
ایک ماہ کا وقفہ میں نے تمہارے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے رکھا تھا۔ میں ایک پریکٹیکل شخص ہوں صندل ہم دونوں ہی شادی کرنا چاہتے ہیں تو کب کعتے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
کیا تم خوش ہو۔۔۔۔
بہت۔۔۔۔
وہ اس کی انکھوں میں دیکھتی جواب دینے لگی۔
اور آپ۔۔۔۔
میں بھی۔۔۔۔لیکن کل شادی کے بعد مزید خوش ہو جاؤں گا۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا تو صندل بھی مسکرا دی۔
میرے خیال سے اب مجھے چلنا چاہئیے۔۔۔۔
وہ اس کی نظروں کے حصار سے گھبراتی ہوئی کہنے لگی۔ جبکی معراج کی نگاہیں آخری لمحہ تک اسی پہ مرکوز تھیں۔
صندل کے نظروں سے اوجھل ہونے پر وہ امان کو کل کے بارے میں بتانے کے لئے کال کرنے لگا لیکن پھر کچھ سوچ کر موبائل ایک سمت رکھ دیا۔
_______
وہ کانپتے ہاتھوں اور بےقابو ہوتی دھڑکن کے ساتھ پچھلے ایک گھنٹے سے فرش پہ بکھرا خون صاف کر رہی تھی۔
لیکن اسے لگتا تھا وہ جتنا خون صاف کرتی اتنا ہی خون پھر سے وہاں آ جاتا۔
صندل کا دل پھر سے خراب ہونے لگا اور وہ بدبو کی شدت سے الٹی کرنے لگی۔
شھیر اس وقت اس لڑکی کے جسم کو کاٹ کر ایک بیگ میں ڈال رہا تھا۔
وہ پوری کوشش کر رہی تھی کہ نظریں اس جانب نا اٹھیں۔
لیکن خوف اور وثشت اس کے حواس پہ سوار ہونے لگی تھی۔
اسے ایسی موت نہیں چاہئیے تھی۔۔۔اسے کسی بھی صورت میں وہاں سے نکلنا تھا۔
جلدی صاف کرو ورنہ تمہارے لباس سے یہ سب صاف کرواؤں گا۔۔۔۔
وہ کھانس رہی تھی جب اس بدبخت کی دھمکی پہ اس کے ہاتھوں میں پھرتی در آئی اور وہ اسے تیزی سے سرانجام دینے لگی۔
شھیر کو کن آکھیوں سے بیرونی راستے پہ جاتی وہ جلدی جلدی اس خون کو صاف کرنے لگی۔
______
صندل جب تک فرش صاف کر کے کمرے سے باہر نکلی وہ صوفے پر نیم دراز تھا۔
اس کے بازو اور پیر پھیلے ہوئے تھے۔
صندل کو اپنی آنکھوں پہ یقین نا آیا کہ وہ اونگھ رہا تھا۔
وہ بنا آواز کئےاس کے قریب پہنچی اور بے یقینی سے اسے دیجھنے لگی جو واقعی سو رہا تھا۔
صندل کی دھڑکن مزید بگڑنے لگی حتی کہ وہ اپنے خون کی گردش کو بھی سننے لگی۔
وہ اسی سمت دھیرے سے بڑھنے لگی اور کھلے ہوئے دروازے کے پار ہو گئی۔
کچھ ہی منٹ لگے تھے اسے حویلی سے باہر کا راستہ ڈھقنڈنے میں۔
اس نے جیسے ہی دہلیز پار کی اندر سے آتی آواز نے اسے خوف سے بھاگنے پہ مجبور کر دیا۔
وہ جنگل کی جانب بھاگی تاکہ اس کی نظروں سے اوجھل ہو سکے۔
وہ اس کا نام پکارتا ہوا جنگل کی جانب بڑھا تو صندل جھاڑیوں میں چھپ کر بیٹھ گئی۔
صندل۔۔۔۔کہاں ہو تم۔۔۔۔تم مجھ سے دور کیوں بھاگ رہی ہو ۔۔۔
وہ اس کے قریب آتا جا رہا تھا۔ صندل دونوں ہاتھ اپنے منہ پہ رکھ کر مزید جھاڑیوں میں چھپنے لگی جس پہ ایک خشک ٹہنی نے اس کی موجودگی کی نوید سنائی۔
تو یہاں ہو تم میری پالتو۔۔۔۔
وہ اس کی جانب لپکا تو صندل چیختی ہوئی مزید جنگل میں اندر کی جانب بھاگنے لگی۔
کچھ ہی سیکنڈ گزرے تھے لیکن صندل کے لئے اس کا ایک ایک لمحہ ایک زندگی پہ قائم تھا۔
شھیر نے اسے پشت سے دبوچا تو منہ کے بل زمین بوس ہو گئی۔
اس کی فرار کی کوشش ناکام کر دی گئی تھی۔
وہ چیخنے لگی تو شھیر نے اسے بالوں سے دبوچا اور گردن کو اس کی پشت کی جانب کھینچنے لگا۔
گردن میں تںاؤ بڑھا تو صندل کو لگا کہ وہ اس کی گردن الگ کر دے گا حلق سے آواز بمشکل نکل رہی تھی۔
شکار کا مزہ اڈے تڑپانے کے بعد ہی آتا ہے۔۔۔
وہ مسرور سا اس کے کان میں سرگوشی کرنے لگا تو صندل تڑپ اٹھی۔
شھیر کی نیت بھانپ کر وہ خود کو اس سے آزاد کروانے کی کوشش کرنے لگی۔
اپنی انگلیاں مٹی اور پتھر میں مارتی وہ انہیں زخمی کر چکی تھی جبکہ شھیر اس کی چیخوں سے محظوظ ہوتا اس کی نسوانیت کی توہین کرتا رہا۔
