Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui NovelR50459

Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui NovelR50459 Zehr-e-Sheren Episode 36 (Last Episode)

224.3K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zehr-e-Sheren Episode 36 (Last Episode)

Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui

وہ اس وقت امان کے گھر موجود تھی۔ معراج کی کار امان کے گھر سے کافی دور پارک کر کے وہ رات کے اس وقت پیدل وہاں تک پہنچی۔

یہ خطرہ کافی بڑا تھا کہ اسے کوئی دیکھ لے لیکن جہاں دن کے وقت چہل پہل کم رہتی وہاں رات کے وقت تو کوئی کتا بھی پایا نا جاتا۔

اس کے گھر کی پچھلی دیوار پھیلانگ کر وہ اس کھڑکی کی جانب پہنچی جسے اس نے سکے کی مدد سے کھلا چھوڑا تھا۔

بےحد احتیاط کے ساتھ اس نے کھڑکی کو ہلکا سا اونچا کیا۔ پھر اپنے اطراف کا جائزہ لے کر جیب میں رکھی پین ٹارچ جلائی اور اس سے آفس کے اندر روشنی کرنے لگی۔

روشنی صرف اتنی ہی تھی کہ وہ اپنے حدف کی دیکھ پاتی۔ زیادہ روشنی اس کے لئے مشکل کا سبب بن سکتی تھی۔

جب اسے مکمل طور پہ یقین ہو گیا کہ آفس خالی ہے تو وہ ٹارچ دانتوں میں دبا کر کھڑکی کو اتنا کھولنے لگی کہ وہ اس سے اندر داخل ہو سکے۔

کسی زندہ مخلوق کو اندازہ بھی نا ہوا کہ وہ کب اس جگہ داخل ہوئی۔

وہ محتاط سی ڈیسک کی جانب بڑھی اور دستانوں میں لپٹے ہاتھوں سے اس کا دراز کھولنے لگی جہاں اس وقت امان نے جلدی سے گن رکھی تھی۔

اس کی قسمت اچھی تھی۔۔۔۔شاید گھر میں کسی کے نا ہونے کی وجہ سے وہ لاپرواہ ہو گیا تھا یا پھر اسے خود پی بہت یقین تھا۔

دراز کھلتا چلا گیا تو صندل نے اس کی بھاری پسٹل کو اپنے ہاتھوں میں تھاما۔

ایک گہری سانس لے کر وہ آفس کے دروازے کی جانب بڑھی اسے کھولنا چاہا لیکن وہ لاک تھا۔

صندل کے چہرے پہ ایک مکروہ مسکراہٹ پھیلی تھی۔ ویسے بھی وہ جس کام کے لئے آئی تھی وہ ہو چکا تھا۔ دروازے کے لاک ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔

وہ اسی طرح ٹارچ کی روشنی سے کھڑکی کی جانب بڑھی اور احتیاط سے پھلانگتی باہر نرم گھاس پہ قدم جمانے لگی۔

کھڑکی کو آہستہ آہستہ بند کرنے لگی حتی کہ اس کے لاک ہونے کی آواز صندل کی سماعت سے ٹکرائی۔ اس کے بعد ایک لمحہ میں وہ وہاں سے نکلی تھی۔

کار میں بیٹھتے ہی اس نے وقت ضائع کئے بنا اسے سٹارٹ کیا اور اس علاقے سے نکلنے لگی۔

کیا وہ یہ سب معراج کے لئے کر رہی تھی۔۔۔بلکل نہیں۔۔۔اگر معراج کے لئے کرتی تو اسے سچائی سے آگاہ کرتی لیکن وہ یہ سب اپنے لئے کر رہی تھی۔

امان اور صدیقی دوبارہ اس کی زندگی کو جہنم نا بناتے تو شاید یہ سب نہیں ہوتا لیکن اب معراج اور ویدونوں کے لئے یہی ٹھیک تھا۔۔۔۔کم ازکم اس کی نظر میں تو یہی حل تھا۔

یہ ہمت اسے کہاں سے ملی تھی شاید حمیرا ہو قتل کرنے کے بعد اسے مثسوس ہوا تھا کہ اس سے ہمیشہ کے لئے جان چھڑوانے کا واحد یہی طریقہ تھا۔

وہ دونوں جب تک زندہ رہتے دوسروں کی زندگی ختم کرتے رہتے تو آج اس نے بھی ان کے ساتھ یہی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

کچھ ہی دیر میں وہ ایک نئے علاقے میں موجود تھی۔ کار کو پھر سے کافی دور کھڑا کرتی وہ کالے کپڑوں میں اندھیرے کا ہی حصہ محسوس ہوتی۔

کسی بھی قسم کی آواز کئے بنا وہ راستہ کا انتخاب کرتی صدیقی کے گھر کے باہر موجود تھی۔

اس کے گھر کے بیرونی جانب کیمرہ موجود ہونے کے باعث اس نے مخالف سمت کا انتخاب کیا تھا دوسری منزل پہ موجود کمرے کی کھڑکی سے روشنی باہر آ رہی تھی۔

شاید اس کا بیٹا آج گھر میں موجود تھا۔ ایک لمحے کے لئے صندل اپنے ارادے کو قطع کرنے کا سوچنے لگی ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہونے لگے تھے لیکن پھر کچن کی کھڑکی کھولنے لگی۔

شوز میں چھپا چاقو نکالا اور اس کی باریک نوک سے کھڑکی کا لاک کھولنے لگی۔

اپنے لمبے قد کی وجہ سے با آسانی اندر داخل ہوئی اور صدیقی کی کمرے کی جانب بڑھی۔

معراج کی زندگی میں آنے سے پہلے صدیقی کو امان اسے چند بار یہاں اپنا نشانہ بنا چکے تھے اس لئے اس جگہ کو اچھے سے جانتی تھی۔

اپنے سر کو زور سے جھٹکتے ہوئے وہ ذہن سے خیالات نکالنے لگی۔ اس وقت اس کی کی گئی ایک بھی غلطی نہایت سنگین شکل اختیار کر سکتی تھی۔

اطراف کا بغور جائزہ لیتی وہ صدیقی کے کمرے کے باہر پہنچی۔ نیند سے آنے والے خراٹے وہ کمرے کے باہر تک سن سکتی تھی لیکن افسوس یہ اس کی آخری نیند ہوتی۔

وہ کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی اور پھر اسے اسی خاموشی سے بند کر دیا۔

وہ دائیں جانب کروٹ لئے بےنیاز سویا تھا۔

کوئی کسی کی نیند حرام کر کے اتنی آسانی سے کیسے سو سکتا تھا۔ اسے صدیقی کو ایسی موت دینی تھی کہ وہ اسی طرح چلاتا جیسے وہ خود چلاتی تھی لیکن وہ خوش قسمت تھا۔ صندل ایسا نہیں کر سکتی تھی۔

لیکن اسے اس کے چہرے پہ آنا والا وہ خوف ہر حالت میں دیکھنا تھا جو صندل جو دیکھ کر آتا۔

اگر وہ ایسا نا کرتی تو شاید اسے کبھی سکون نہیں آتا۔

اس نے ہاتھ بڑھا کر صدیقی کے کمرے میں روشنی پھیلا دی تو وہ کچھ ہی لمحات میں آنکھیں ملتا ہوا بیدار ہونے لگا۔

جب وہ اس روشنی کا باعث تلاش کرنے کے لئے بستر پہ بیٹھا تو صندل جو خود پی نشانہ سادھے ہوئے کھڑا پایا۔

ص۔۔۔صندل۔۔۔۔

صدیقی کے ہونٹ کپکپائے تھے ۔۔۔۔جبکہ اس پہ لبوں پہ ایک دلکش مسکراہٹ پھیلی تھی۔

محض پانچ سیکنڈ کے وقت میں صندل کی انکھوں کے سامنے وہ تمام منظر لہرائے تھے اور ان پانچ سیکنڈ میں آنے والا وہ خوف جو صدیقی کی نظروں میں پھیلا۔۔۔۔۔

زیادہ نہیں تو کسی حد تک صندل کے لئے باعث سکون ضرور بنا تھا۔

وہ چلاتا اس سے پہلے صندل نے فائر کیا جو کہ سیھا اس کے سر کو دو حصوں میں بانٹ گیا۔

دماغ کے حصے اور خون اڑ کر ادھر ادھر پھیلے اور وہ تڑپتا ہوا وہیں گر گیا۔

اسی لمحے وہ لائٹ بجھاتی کمرے سے باہر بھاگی۔

دوسری منزل پہ موجود صدیقی کا بیٹا بھی بوکھلا کر باہر بھاگا۔

صندل کچن کے راستہ اسی کھڑکی سے باہر جانے لگی جب میز سے ٹکرائی اور ہاتھ میں موجود پسٹل وہیں گر گئی۔

وہ اس کی پرواہ کئے بغیر کھڑکی سے دوسری جانب پھیلانگی اور وہاں سے فرار ہونے لگی۔

جب تک وہ گاڑی میں آ کر پہنچی مخاپف سمت سے آتی پولیس اور ایمبولینس کی آواز سن سکتی تھی۔

ہاتھ بری طرح کانپنے لگے تھے وہ اپنے حواس پہ قابو پاتی کار سٹارٹ کرتی وہاں سے نکل گئی۔

اسے لگ رہا تھا جیسے اس کے کندھے سے ایک بوجھ اترا تو دوسرا سوار ہوا تھا۔۔۔۔

نہیں وہ پکڑے جانے کا خوف نہیں تھا۔۔۔۔اس کی پرواہ کب رہی تھی۔۔۔۔اسے امان کی موت سے قبل پکڑے جانے کا خوف تھا۔۔۔۔

اگر وہ پکڑی جاتی اور نعراج کو اس کی وجہ سے کچھ ہو گیا تو وہ خود کو کبھی معاف نہیں کر پاتی۔

بیرونی گیٹ پہ پہنچتے ہی اس نے تیزی سے اتر کر گیٹ کھولا اور گاڑی پورچ میں کھڑی کرتی اںدر داخل ہوئی۔

گھر ابھی بھی پوری طرح خاموشی اور اندھیرے میں ڈوبا تھا۔

وہ اپنی ہوڈ اتارتے ہوئے اسی سمت بڑھنے لگی جہاں اسے پیکے چھپا رکھا تھا۔

اچانک سے ہال میں پھیلنے والی روشنی نے اس کی آنکھوں کو چندھیا دیا تو اس نے انہیں زور سے بھینچ لیا۔

دماغ نے کچھ ہی لمحوں میں پکڑے جانے کی اطلاع دی تھی۔

معراج ستون کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا اسی کا منتظر تھا۔

غصہ کی شدت سے سرخ آنکھیں اس کی خوفزدہ انکھوں سے ٹکرائی تھی۔

کہاں گئی تھی تم۔۔۔۔۔

اس کے لہجے میں کسی بھی قسم کی کوئی ڈھیل نا تھی۔۔۔۔بےحد انجان اور سپاٹ لہجہ جس پی وہ کچھ لمحہ وہیں ساکت سی رہ گئی۔

م۔۔۔میں وہ۔۔۔۔

اسے سمجھ نا آئی تو معراج اس کی جانب بٹھنے لگا۔

کہاں سے آ رہی ہو۔۔۔۔

اس کے عین سامنے کھڑے ہوتے ہوئے اب کی بار اس نے سوال مختلف انداز سے دہرایا تھا۔

صاف ظاہر تھا کہ وہ اپنے آپ پر بمشکل قابو کئے ہے۔۔۔۔

مجھے گھٹن ہو رہی تھی اس لئے۔۔۔۔

وہ اپنی بات مکمل بھی نا کر پائی تھی جب معراج نے اسے بازوؤں سے جکڑا اور اپنے دونوں ہاتھوں کے ذریعے اسے ٹٹولنے لگا۔

آہ۔۔۔کیا کر رہے ہو معراج رکو۔۔۔۔

وہ خود کو اس کی سخت پکڑ سے آزاد کروانے کی کوشش کرنے لگی۔

معراج نے اس کی جیب سے ٹارچ نکالی ایک آواز کے ساتھ وہ ٹارچ دو حصوں میں تقسیم ہوتی ان سے دور جا کر گری تھی۔

صندل اہنی کوشش کو مزید تیز کرنے لگی نہیں چاہتی تھی کہ معراج اس کے چاقو تک پہنچے۔۔۔

معراج۔۔۔رکو مجھے درد ہو رہا ہے۔۔۔۔

وہ خود کو کھینچتے ہوئے کہنے لگی جب معراج پنجوں کے بل بیٹھا اور پہلی ہی نظر میں شوز میں موجود اس چاقو کو دیکھ لگا۔

صندل کچھ کر پاتی اس سے پہلے چاقو معراج کے ہاتھ میں تھا اوہ وہ قہر الود نظروں سے اسے دیکھتا صندل جے سامنے کھڑا تھا۔

یہ کیا ہے۔۔۔۔تمہارے پاس کیا کر رہا ہے۔۔۔۔

معراج دھاڑا تو صندل ایک لمحے کے لئے گنگ ہو گئی۔ وہ اسے کندھے سے تھان کر جھنجھوڑنے لگا تو صندل واپس ہوش میں آئی۔

حفاظت کے لئے لے کر گئی تھی۔۔۔

جھوٹ نہیں بولو مجھ سے صندل۔۔۔۔

معراج کی رگیں اس قدر تن چکی تھی کہ وہ انہیں اس کی گردن اور ہاتھوں میں صاف دیکھ سکتی تھی۔

اس نے چاقو کی نوک کو صندل کی ٹوڑی کے نیچے ٹجا دیا اور اس بار سرد لہجہ اختیار کئے اس سے پوچھںے لگا۔

چاقو اس کی جلد کو چیرنے لگا تو خون کی بوند اس چمکتے ہوئے چاقو کو داغدار کر دی۔

درد سے اس کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں۔

کیا تم مجھے نقصان پہنچانا چاہتے ہو۔۔۔۔

اس نے روندھی ہوئی آواز میں سوال کیا۔۔۔

تم خود کو نقصان پہنچا رہی ہو۔۔۔۔

وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتا ہوا کہنے لگا تو صندل نے نظریں جھکا لیں۔

میں نے کوئی جھوٹ نہیں کہا۔۔۔۔اگر تمہیں یقین نہیں جو سزا مرضی تجویز کر دو۔۔۔۔

وہ اپنے لہجہ میں نرمی پاتے ہوئے بولی تو معراج کی پکڑ چاقو پہ مزید سخت ہونے لگی۔

اس نے اسی غصہ سے چاقو کو اس سے دور پھیکنا تو صندل اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔

کچھ کہتی اس سے قبل معراج نے اسے بالوں سے جکڑہ اور اپنے قریب کر کیا۔۔۔۔

اس کے لفظ اپنے لبوں سے روک دیئے تو وہ کانپنے لگی۔

اس کی شرٹ کو اہنی دونوں مٹھیوں میں جکڑنے لگی تو معراج نے اسے ایک جھٹکے سے خود سے دور کیا جس پہ اس کے سر کی پشت زور سے دیوار سے جا ٹکرائی۔

صندل اس تکلیف پی کراہ اٹھی لیکن وہ اس پہ بنا کوئی نظر ضائع کئے وہاں سے تیزی سے باہر چلا گیا۔

کچھ ہی لمحوں میں اسے جار کے سٹارٹ ہونے کی آواز آئی تھی۔ وہ اپنا سر سہلاتی ہوئی تیزی سے پورچ کی جانب بھاگی۔

معراج رکو۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔میری بات۔۔۔۔

اس کی ایک بھی ںات سنے بغیر وہ زناٹے بھرتا وہاں سے روانہ ہو گیا۔

********

ساری رات وہ اندھیری سڑکوں پہ ادھر سے ادھر گھومتا رہا اور اب اس نے آفس کا رخ کیا تھا۔

رات کو جب اس کی اچانک آنکھ کھلی تو صندل کو بستر سے غائب پایا۔

پہلے تو وہ سمجھا کہ شاید وہ یہیں کہیں ہو گی لیکن جب کچھ وقت گزرنے کے بعد بھی صندل واپس نا آئی تو اسے تشویش ہونے لگی۔

سارا گھر چھان لیا لیکن وہ کہیں نا ملی۔۔۔۔گاڑی بھی غائب تھی۔۔۔رات کے اس وقت وہ تنہا نجانے کہاں گئی تھی پریشانی سے اس حواس خطا ہونے لگے تھے۔

اس کا بس نہیں چل رہا تھا ہر چیز تہس نحس کر دے اگر اسے کچھ ہو جاتا تو۔۔۔۔۔

ابھی وہ پولیس اسٹیشن جانے ہی والا تھا جب کار کی آواز پہ ٹھٹکا اور اس سے بھی کہیں زیادہ اس کے حلیے پہ۔۔۔۔۔

وہ شروعات سے ہی اس سے جھوٹ بولتی تھی وہ جانتا تھا ۔۔۔۔اس کے انکھوں میں اٹھنے والی شرمندگی۔۔۔۔جب بھی وہ اس سے جھوٹ بولتی صاف دکھائی دیتی تھی چاہے وہ جتنا بھی چھپا لیتی۔

لیکن وہ ہمیشہ ہی بات کو ٹال دیتا ۔۔۔۔محبت کرتا تھا اس سے لیکن اس کی حرکات اسی کے لئے خطرناک تھیں۔

وہ پارکنگ میں رک کر خود عمارت کے داخلی دروازے کی جانب بڑھنے لگا۔

صاحب جی۔۔۔۔ابھی تو آفس خالی ہے کوئی بھی نہیں آیا۔۔۔۔۔

میں جانتا ہوں۔۔۔۔

وہ چوکیدار کو مختصر جواب دیتا عمارت میں داخل ہوا اور سیدھا امان کے آفس کے جانب بڑھ گیا اور صوفے پہ گر گیا۔

______

معراج ۔۔۔۔تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔۔کب سے موجود ہو یہاں پر۔۔۔۔

امان نے اسے ہلایا تو معراج نے انکھیں کھول کر اپنے دوست کو دیکھا۔

زیادہ دیر نہیں ہوئی۔۔۔۔

وہ گھڑی کی جانب دیکھتا کہنے لگا جو کہ صبح جے ساڑھے نو بجا رہی تھی۔

تم یہاں کیوں سو رہے تھے۔۔۔۔

امان معراج کو چہرے پہ ہاتھ پھیرتا دیکھ مشکوک انداز میں پوچھنے لگا۔

اسے پتا بھی نا چلا تھا کہ وہ کب صندل جے بارے میں سوچتے ہوئے سو گیا۔

کچھ نہیں۔۔۔۔میں چلتا ہوں ۔۔۔

اسے اب کہیں بھی سکون نا تھا۔۔۔۔وہاں سے جانے کے لئے اٹھا جب امان نے اسے روک لیا۔

کہاں جا رہے ہو یار ۔۔حلیہ دیکھو اپنا۔۔۔۔اچھا رکو میں چائے منگواتا ہوں پھر چلے جانا۔۔۔۔

وہ معراج کے تاثرات دیکھ کر کہنے لگا اس کی یہاں موجودگی جی وجہ جانے بغیر وہاسے کہیں بھی نہیں جانے دینا چہتا تھا۔

معراج سر اثبات میں ہلایا خود اٹیچ واشروم میں چلا گیا اور منہ پہ پانی کے چھینٹے مارنے لگا۔

جب تک وہ واپس آیا ملازم چائے کے کپ ڈیسک پہ رکھ رہا تھا وہ کرسی پہ گرنے کے انداز میں بیٹھا ہی تھا جب دروازے کھولتے ہوئے پولیس افسران اندر داخل ہوئے۔

انہیں دیکھ معراج کی پیشانی پہ بل نمودار ہوئے تھے جبکہ امان بھی حیرانگی سے انہیں دیکھنے لگا۔

وہ دونوں ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگے جب ایک شخص ان کی جانب بڑھا۔

امان آفندی آپ ہی ہیں نا۔۔۔۔

جی میں ہی ہوں پر اپ کو کیا کام۔۔۔۔

امان اپنی نشست سے کھڑا ہوتے ہوئے استفسار کرنے لگا۔

امان صاحب آپ کو صدیقی مرڈر کیس میں گرفتار کیا جاتا ہے۔۔۔

صدیقی کا نام سن جہاں امان بھونچکا گیا تھا وہیں معراج بھی ملے جلے تاثرات لئے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔

یہ آپ کیا کہ رہے ہیں۔۔۔۔

مرڈر۔۔۔۔صدیقی کا۔۔۔۔

امان غائب دماغی سے پوچھنے لگا جبکہ معراج ابھی سب سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

جبکہ پولیس کوئی جواب دیئے بنا امان کو اریسٹ کرنے کے لئے اگے بڑھی۔

رکو۔۔۔ایسے کیسے مجھے اریسٹ کر سکتے ہو۔۔۔کیا بکواس ہے یہ۔۔۔۔

آپ ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔کوئی ثبوت ہے کیا آپ کے پاس۔۔۔۔

ان کے شور و غل سے سارا سٹاف افس کے باہر جمع ہونے لگا۔ معراج نے اگے بڑھ کر انہیں روکا تو انسپیکٹر نے اپنے کارندے کو اشارہ کیا۔

یہ پسٹل۔۔۔اپ کی ہی ہے نا۔۔۔۔

وہ امان کے سامنے اس کی پسٹل لہرانے لگا تو اس کی انکھیں پھٹی رہ گئیں۔

یہ تو میری ہے۔۔۔۔لیکن میں نے کوئی قتل نہیں کیا۔۔۔۔

وہ ایک دم دھاڑا اور خود کو ان کی پکڑ سے آزاد کروانے لگا جس پہ پولیس اسے کھینچتے ہوئے وہاں سے لے گئی۔

معراج معراج۔۔۔۔کچھ کرو۔۔۔میں نے یہ نہیں کیا۔۔۔

وہ چیخنے لگا تو معراج اسے حوصلہ دینے لگا۔

تم گھبراؤ نہیں میں ابھی وکیل کو لے کر پہنچتا ہوں۔۔۔۔معراج اس اچانک افتاد کی وجہ کسی طور سمجھ نہیں پایا تھا۔

صدیقی کا قتل اور اس کا الزام امان پہ۔۔۔۔لیکن امان کہ رہا تھا کہ وہ بےگناہ ہے تو پھر اس کی پسٹل۔۔۔۔

وہ موبائل ڈھونڈںے لگا جب یاد آیا کہ موبائل تو گھر پہ ہی تھا جس وجہ سے وہ خود وکیل سے ملنے فورا روانہ ہو گیا۔

_______

اس کے لئے ہر لمحہ پہلے سے مشکل ہوتا جا رہا تھا۔

پہلے اسے لگا تھا کہ جب سب ختم ہو جائے گا تو وہ معراج کی زندگی سے چلی جائے گی لیکن اب احساس ہوا تھا کہ یہ کتںا تکلیف دہ تھا۔

وہ اس کے دل میں اتر کر زندگی اور روح کا حصہ بن چکا تھا۔

معراج ۔۔۔۔۔

تنہائی اور اندھیرے میں وہ ایک بار پھر سے اس کا نام چلائی تھی۔

صبح سے اس کا رو کر برا حال تھا نوالہ کیا پانی کا ایک گجونٹ تک حلق سے نہیں اترا تھا۔

رات ہونے کو تھی لیکن معراج کا کوئی پتا نہیں تھا۔۔۔وہ موبائل بھی وہیں چھوڑ گیا تھا۔

چوکیدار کے ذریعے معلومات حاصل جرنے کی کوشش تو کی لیکن امان کا بھی نمبر بںد جا رہا تھا جس سے اسے مزید پریشانی ہوتی جا رہی تھی۔

آخر دن جے بعد رات بھی گزرںے لگی لیکن معراج تب بھی واپس نہیں لوٹا۔

وہ ساری رات سیڑھیوں میں بیٹھی اس کا انتئار کرتی رہی۔ انکھیں رونے سے سرخ ہو چکی تھیں اور سوزش کا شکار تھیں۔

اچانک بیرونی دروازہ کھلا تو وہ دیوانہ وار بھاگتی ہوئی اس جانب بڑھی۔

معراج۔۔۔۔کہاں تھے تم۔۔۔۔

اندھیرے میں وہ شخص جو اندر داخل ہوا وہ معراج تو نا تھا ۔۔۔۔

امان کو دیکھ صندل وہیں رکی تھی۔ اس کا وجود ایج لمحہ کے لئے ساکت ہوا تھا۔

وہ اسے کسی وحشی کی طرح دیکھ رہا تھا۔

جیسے ہی اس کی ضمانت ہوئی تھی وہ سیدھا وہاں آیا تھا۔

تیری وجہ سے ہوا یہ سب ۔۔۔۔تو نے قتل کیا نا اسے۔۔۔۔اب تو نہیں بچے گی۔۔۔۔

اس میں جیسے کوئی شیطان تھا۔۔۔چہرہ کے نقوش نفرت اور وحشت سے بدلنے لگے تھے۔

صندل نے اس کے خوفناک تاثرات دیکھے اور پلٹ کر وہاں سے بھاگنے لگی جب امان اس کی جانب بھاگا۔

اس نے صندل کو بالوں سے جکڑ کر کھینچا تو وہ خود کو اس سے آزاد کروانے کی کوشش کرنے لگی۔

چھوڑو مجھے۔۔۔۔ورنہ جان لے لوں گی۔۔۔

وہ اپنی پوری طاقت کا استعمال کرنے لگی۔۔۔۔امان نے اسے اپنی جانب کھینچا تو صندل نے کہنی اس کے چہرے پہ دے ماری۔

وہ ایکجھٹکے سے اس سے دور ہوا تو صندل موقع ملتے ہی سیڑھیوں جی جانب بھاگی۔

ہتھیلیوں کا استعمال کرتی وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھنے لگی جب امان سے اس کی ٹانگ کو پکڑا اور اسے واپس کھینچنے لگا۔

تمہارا تو میں وہ ہال کروں گا کہ کسی کتے کو بھی تیرے جسم کا ایک حصہ بھی نہیں ملے گا۔۔۔۔

وہ چلاتے ہوئے اپنا دوسرا پاؤں اس کے ہاتھ پہ مارنے لگی لیکن امان کو اس کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔

غصہ نے اس کی عقل کو کھا لیا تھا اور وہ اسے بےدردی سے مارنے کا فیصلہ کر چکا تھا۔

صندل کی ٹھوڑی سیڑھی سے ٹکرائی تو اس کا سر درد کی شدت سے گھوم گیا۔

منہ اقر ٹھوٹی سے خون نکلنے لگا تھا جب تک اس نے اپنی حواس سنبھالے وہ صندل پہ مکمل قابو کر چکا تھا۔

امان نے ایک زور دار مکہ اس کی جانب رسید کیا تو وہ زور سے انکھیں بھینچ گئی لیکن جب اسے کوئی چوٹ نا پہنچی تو دوبارہ آنکھیں کھولیں۔

سامنے کا منظر سمجھنے میں اسے کچھ وقت لگا تھا معراج امان کو جکڑے ہوئے تھا اور دونوں ایک دوسرے کو مارنے کی فراق میں تھے۔

صندل لڑکھڑاتی ہوئی اپنے قدموں پہ کھڑی ہوئی۔

امان کو جب سے پولیس پکڑ کر لے کر گئی تھی وہ تب سے وکیل اور اپنے پیچان کے لوگوں سے مل رہا تھا۔

اس نے امان کی رہائی کے لئے پیسہ پانی کی طرح بہایا تھا۔ ساری رات بھی اسی سب میں مصروف رہا۔

واپس پولیس اسٹیشن پہنچا تو معلوم ہوا کہ ایک گھنٹہ پہلے ہی اس کی رہائی ہو چکی ہے۔

اس نے امان سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی لیکن بےسود رہا۔

ساری رات اسے صندل کے لئے پریشانی بھی کھاتی رہی تھی اب امان کو رہائی ہو چکی تھی تو وہ کوئی بھی لمحہ ضائع کئے بنا گھر کے لئے نکلا تھا۔

وہاں پہنچ کر جو منظر اس نے دیکھا وہ اسے کچھ لمحے ساکت کر گیا۔

امان صندل سیڑھیوں سے کھینچ کر اس پہ حملہ کرنے والا تھا جب معراج نے اسے اس کی شرٹ سے پکڑ کر کھینچا۔

صندل کے ایسا کرتا دیکھ اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا جسے صرف اس شخص کو تکلیف دے کر ہی بجھایا جا سکتا تھا۔

ایسی تکلیف جسے دیکھ روح کانپ جائے۔۔۔

تم میری صندل پہ ہاتھ اٹھاؤ گے۔۔۔۔ہمت کیسے ہوئی تمہاری ۔۔۔۔میں تمہاری جان لے لوں گا ۔۔ ۔

وہ ایک کے بعد ایک لات امان کو رسید کرتا ہوا جنونیت سے بولا۔

اس کی آواز اور اس میں موجود شدت دیکھ صندل اپنی جگہ کانپ اٹھی تھی۔

تمہاری بیوی کیا۔۔۔میں تمہیں بھی مار دوں گا۔۔۔۔بہت ہو گیا یہ دوستی کا ڈرامہ۔۔۔۔میں تو تمہیں تبھی قتل کر دیتا جب آئمہ کا ایکسیڈنٹ کروایا تھا لیکن قسمت سے تم اس وقت وہاں موجود نہیں تھے ۔۔۔۔

آئمہ کا ذکر سن معراج اپنی جگہ سن ہوا تو امان سے ایک مکہ کے ساتھ اسے خود سے دور دھکیلا۔

اس کی بیوی اس کا بچہ۔۔۔۔۔سب ۔۔۔۔امان نے ۔۔۔۔اور وہ تو اسے اپنا دوست مانتا تھا ۔۔۔

امان نے اس کی پسلیوں میں ایک اور مکا رسید کیا تو صندل اس کی جانب لپکی اور اس کی انکھیں نوچنے لگی۔

امان اس آفتاد پہ بوکھلا کر پیچھے ہوا لیکن صندل نے اہنے لمبے ناخن اس کی دونوں انکھوں میں گاڑھ دیئے جس پہ چیخنے لگا۔

صندل کی پشت دیوار سے ٹکرائی اور امان نے اس کا سر دیوار میں دے مارا اس کی پکڑ ڈھیلی ہوئی تو وہ اس کی جانب پلٹا لیکن معراج اس سے پہلے ان تک پہنچ چکا تھا۔

اس نے امان کے چہتے پہ ایک کے بعد ایک مکا کو داغنا شروع کیا۔۔۔ایک آوازکے ساتھ امان کے ناک کی ہڈی ٹوٹنے کی آواز آئی تھی۔

معراج دیوانہوار اس پی حملی کرتا چلا گیا اسے روکنا کسی کے لئے بھی ناممکن تھا۔

صندل نے اسے کئی بار پکارا لیکن وہ اپنی ہی دنیا میں کھو چکا تھا۔۔۔۔وہ دنیا جہاں اسے اپنی بیوی اور بچہ کا بدلی چاہئیے تھا ۔۔۔۔وہ دنیا جہاں اسے سالقں تک دھوکے میں رکھا گیا۔

امان کے لئےاس کے وار سے بچنا ناممکن ہو گیا صندل نے معراج کو اس سے کھینچ کر دور کرنا چاہا لیکن معراج کے دھکے سے وہ دور جا گری۔

میں تجھے مار ڈالوں گا ۔۔۔۔مار ڈالوں گا ۔۔ ۔

وہ ایک ہی بات بار بار دہراتا اور پے در پے وار کرتا جاتا حتی کہ امان کا جسم بے حرکت نا ہو گیا۔

_________

معراج غزنوی۔۔۔۔۔

اپنے نام پی اس نے سر اٹھا کر سلاخوں کی پیچھے کھڑے اس شخص جو دیکھا تھا۔

آج اسے جیل میں پورا ایک ماہ ہو چکا تھا۔۔۔۔

یہ تمہارے لئے آیا ہے۔۔۔۔

وہ کتاب جیسے کوئی چیز سلاخوں کے دوسری جانب سے اس کی طرف جھسکاتا وہاں سے چل دیا تو معراج وہیں بیٹھا کچھ لمحے اس کتاب کو دیکھتا رہا۔

اسے ہاتھوں میں تھاما تو جانا پہچانے نام نے اسے متوجہ کیا۔

ذہر شیریں۔۔۔۔

وہ ذیر لب بڑبڑایا تھا ۔۔۔۔سب سے ذہریلا ذہر ۔۔۔۔جسے انسان خود نگل لیتا ہے۔۔۔۔

وہ خود پہ ہنستے ہوئے اسے پلٹ کر دیکھنے لگا۔ اور پھر اسے کھول کر پڑھنے لگا۔

کل اس کی عدالت میں پیشی تھی۔۔۔۔صندل اس کی گواہ تھی لیکن وہ کہاں تھی اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا۔

_______

اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ اب بھی اسی جگہ مقیم تھے۔۔۔۔

صندل سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ یہ اس کی خوش قسمتی تھی یا بد قستمی۔۔۔۔

لیکن اسے یہ باب مکمل کرنا تھا۔۔۔۔جو اس نے سالوں قبل ادھورا چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔

میں جا رہا ہوں۔۔۔۔

دروازے کے دوسری جانب سے کسی کی آواز ابھری تو وہ جلدی سے دیوار کی اوٹ میں چھپ گئی۔

شیش میں نے تمہیں کتنی بار کہا ہے کہ کھانا مکمل کھایا کرو۔۔۔۔

جانی پہچانی اواز اس کی سماعت سے ٹکرائی تو وہ بےخودی سے مسکرا دی۔

لو یو مام۔۔۔۔

وہ نوجوان اس کی حکایت پہ کان دھرے بغیر فلائنگ کس دیتا باہر کھڑی بائک پہ بیٹھا اور لمحوں میں وہاں سے غائب ہو گیا۔

صندل چھپ کر سب دیکھتی رہی جب وی عورت دروازہ بںد کرتے ہوئے اندر جانے لگی لیکن صندل یکدم اوٹ سے بایر نکل آئی۔

کیا مجھے کھانا ملے گا۔۔۔۔مم۔۔۔۔مجھے بھوک لگی ہے۔۔۔۔

وہ یہاں صرف انہیں دور سے دیکھنے ائی تھی لیکن اب جب انہیں دیکھ لیا تھا وہ بات کئے بنا رہ بھی نا سکی۔

ھدیل دروازہ بند کرتے ہوئے بری طرح ٹھٹکی تھی۔۔۔۔

ایک چہرہ جو اس کے لئے جتنا جانا پہچانا تھا اتنا ہی انجان بھی۔

ھدیل نے اپنے دونوں ہاتھ بےیقینی سے اہنے لبوں پہ رکھے۔۔۔

باب کٹنگ بھورے بالوں میں وہ کسی صورت سترہ سالہ بچے کی ماں نہیں لگتی تھی۔

ماما۔۔۔۔

صندل نے رندھی آواز میں اسے پکارا تھا۔۔۔۔اسے خوف تھا کہ کہیں وہ نظریں اسے پھر سے دھتکار نا دیں لیکن اس کے خلاف توقع وہ اس کی جانب دوڑتی ہوئی آئی اور اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا۔

میرا بچہ۔۔۔۔میری بیٹی۔۔۔مجھے معاف کر دو۔۔۔۔مجھے معاف کر دو۔ ۔

وہ صندل کے گلے لگ کر دھاڑیں مارتی رونے لگی۔

سالوں تک وہ سوچتی رہی تھی کہ وہ کیوں لی گئی اور جب احساس ہوا تو وہ خود سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہی تھی۔

کتنا ڈھونڈا تھا اسے لیکن وہ کہیں نا ملی۔۔۔۔

اپنی بیوی کی رونے کی آواز سن کر شمس باہر نکلا تھا اور ھدیل جو یوں روتے دیکھ ٹھٹکا تھا لیکن پھر ان آنسوؤں کی وجہ دیکھ پرسکون ہو گیا۔

________

کہتے ہیں کہ زندگی کے ادھورے باب کسی ناسور کی طرح تکلیف دیتے رہتے ہیں۔۔۔۔

اور یہ ناسور تب زیادہ تکلیف دہ ہو جاتا ہے جب غلطی آپ کی ہو۔

جہاں ھدیل کے لئے صندل کا جانا ایک ادھوا باب بن گیا تھا وہیں صندل کو یہ اندر ہی اندر کھاتا رہا۔

اور اب وہ ایک اور باب ادھورا چھوڑ آئی تھی۔۔۔۔جو کہ اس بار اسے تکلیف نہیں دیتا بلکہ اس کی جان ہی لے لیتا۔

_____

اس نے کتاب بند کی اور پھر سر کی پشت سخت دیوار سے ٹکا لی۔

ان میں لکھے بہت نام اور ان کی پیچان سے وہ بہت اچھے سے واقف تھا چاہے ان کے اخری نام بدل دیئے گئے تھے لیکن وہ سمجھ چکا تھا کہ وہ کن کی عکاسی کرتے تھے۔

صندل۔۔۔امان۔۔۔صدیقی ۔۔۔ان سے تو وہ بہت اچھے سے واقف تھا وہ اس کی زندگی کا حصہ رہے تھے۔

جوسوال وہ اس ایک ماہ میں کئی بار کر چکا تھا ان سب کے جواب اسے آج مل گئے تھے۔

چلو پیشی ہے تمہاری۔۔۔۔

حوالدار اس کی جانب بڑھا اور جیل سے باہر لے آیا۔

بڑھی ہوئی داڑھی انکھوں کے نیچے گہرے حلقے اس کی بےسکونی کی رواداد سناتا تھا۔

عدالت میں گواہ کا انتظار کیا جا رہا تھا۔۔۔۔جب وہ آخری لمحات میں وہاں پہنچی۔

اس کی جوتی کی مخصوص آواز سے ہی وہ اس کی آمد جان گیا تھا۔

وہ نظریں جھکائے ایک کے بعد ایک سوال کا جواب دیتی رہی۔۔۔۔کچھ جھوٹ ۔۔۔کچھ سچ۔۔۔۔

اپنا بیان وہ پہلے ہی رکارڈ کروا چکی تھی لیکن جج کے سامنے گواہی دینا لازمی تھا۔

آخر اس کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا جسے ایج ہفتہ بعد سنایا جاتا۔

معراج اس سے بات کرنے کے لئے تڑپ رہا تھا۔۔۔۔

اس نے کیا کچھ سہا تھا وہ کبھی جان ہی نہیں پایا اور جب جان پایا تو وہ اس سے کتنا دور تھا۔

جب تک وہ کمرہ عدالت سے باہر آیا وہ پھر سے کہیں غائب ہو چکی تھی۔

______

تم اپنے شوہر سے ہمیں کب ملوا رہی ہو۔۔۔۔

شمس نے اس کے لئے خاص طور پی احتتام کیا تھا اور وہ دونوں اس وقت مری کے ریسٹورنٹ میں موجود تھے۔

اپ سے کوئی بات نہیں چھپ سکتی ہے نا۔۔۔۔

وقت نے اپنا اثر شمس پہ بھی دکھایا تھا۔۔۔۔وہ پہلے سی کہیں زیادہ سلجھا ہوا دکھائی دیتا تھا۔

اور ھدیل جے کہنے کے مطابق ناقابل برداشت بھی بس اسے اس سے محبت تھی۔

تم کہیں کھوئی رہتی ہو۔۔۔۔یہ تمہاری جگہ نہیں تماری حالت دیکھ کر صاف محسوس ہوتا ہے۔۔۔

میں اچھی بیٹی نہیں ہوں۔۔۔۔نا ہی اچھی بیوی۔۔۔۔

اس نے نظریں جھکا کر کہا۔

اچھا کیا ہے اور برا کیا ہے یہ تمہاری زندگی کا معیار تہہ کرتا ہے۔۔۔۔اگر تم ظلم سہتے رہتے ہو اس کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے تو یہ برا ہے۔۔۔۔

اور اگر تم پی کوئی ظلم نہیں کر رہا فتور ذہن میں ہے تو تم بری ہو۔۔۔۔

دیکھنا یہ ہے کہ یہ فتور ہے۔۔۔۔یا نہیں۔۔۔۔

کیا محبت کسی ظالم کو معاف کر سکتی ہے پاپا۔۔۔میں نے اس کی ساتھ ظلم کیا۔۔۔

وہ اس کی سرد گرے انکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی۔

اس کے ذہن میں ھدیل اور اس کا ماضی گزرہ تھا۔

اگر ظالم اور محبی ایک ہی ہو تو کچھ بھی ممکن ہے۔۔۔۔خیر تم یہ بتاؤ شیش کیسا لگا تمہیں۔۔۔

وہ بہت ہی قابل ہے۔۔۔۔بہترین ایتھلیٹ بنے گا ۔۔۔

ھدیل جے لئے سب سے بڑی خوشی کی بات یہی تھی کہ اس کا بیٹا شمس سے زیادہ اس پہ گیا تھا۔

شمس صندل کے تجزیہ پہ مسکرا دیا۔

کل میں اور وہ شاپنگ کرنے جا رہے ہیں۔۔۔ابھی تو ہم ایک دوسرے کو جان رہے ہیں۔۔۔یہ شیش اس سات سالہ بچے سے کافی مختلف ہے۔۔۔

وہ کب جوان اور میں کب بوڑھا ہوا پتا ہی نہیں لگا ۔۔۔

صندل نے اس مضبوط شخص کو غور سے دیکھا جو مسکراتا تو آنکھوں کے گرد بڑھاپے کے آثار نمایاں ہوتے اور بالوں میں موجود گرے بال بھی اس کی گواہی دیتے۔

بڑھاپا اس پہ سوٹ کیا ہے ویسے۔۔۔۔

وہ اس کی شخصیت میں موجود رعب کے بارے میں کہنے لگی جو ہمیشہ سے اس کا خاصہ رہی تھی۔

________

شیش یار یہ تم کیا اول فول اٹھا رہے ہو۔۔۔۔

آپ کو کیا پتا ایک ایتھلیٹ کی ضروریات کا۔۔۔۔

وہ مسکراتے ہوئے اس کی عقل پہ ماتم کرتا کہنے لگا جب سامنے سے گزرںے والی اس لڑکی نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔

تم یہ سب کھاتے ہو۔۔۔۔

وہ ٹرالی میں موجود اشیاء کو دیکھ کر کہنے لگی جن میں سے زیادہ تر چیزیں وہ پہلی بار دیکھ رہی تھی۔

خیر جو بھی ہے چلو۔۔۔موم ویٹ کر رہی ہوں گی۔۔۔

وہ کاؤنٹر کی طرف چلتی ہوئی کہنے لگی تو شیش بھی اس کے ساتھ چلنے لگا۔

گاڑی تک جاتے ہوئے شیش کا دھیان ایک بار پھر بھٹکا تھا۔

اپ یہ سب لے کر کار میں چلیں میں ابھی آیا۔۔۔۔

وہ سنجیدگی سے کہتا سب اسے تھما کر یہ جا وہ جا۔

جبکہ وہ اس سے سامان کو گھسیٹتے ہوئے کار تک لیجانے لگی۔

اگلے ہی لمحے شیش کسی لڑکی کی مدد کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا اور وہ دل ہی دل میں اسے کوسنے لگی۔

کیا مدد کی ضرورت ہے آپ کو۔۔۔۔

جسی کی آواز پہ جھنجھلائی ہوئی آواز میں مخاطب ہوئی۔

جی اگر آپ کر دیں تو مہربانی ہو گی۔۔۔۔

وہ بیگ اس شخص کی سمت بڑھاتے ہوئے پہلی بار اسے دیکھنے لگی۔

مخالف کو دیکھ صندل کی دھڑکن وہیں رکی تھی یا شاید دنیا بھی رکتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔

مسز معراج۔۔۔۔کیا آپ کو مدد چاہئیے۔۔۔۔

وہ اس کی جانب جھکتے ہوئے پوچھنے لگا تو صندل بےیقینی سے اسے دیکھنے لگی جس کی نظروں میں اس کے لئے کوئی نفرت نہیں تھی۔۔۔۔نا ہی وہ اسے دھتکار رہا تھا۔۔۔

معراج۔۔۔۔

صندل زیر لب بڑبڑائی تو اس کے چہرے پہ ایک دلکش مسکراہٹ پھیل گئی۔