224.3K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zehr-e-Sheren Episode 17

Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui

ماضی۔۔۔۔۔

وہ اس پراسرار شخص کو تجسس سے دیکھتی رہی۔

اسے جب تک اس شخص کا نام پوچھنے کا ہوش آیا وہ وہاں سے جا چکا تھا۔

صندل کندھے پہ اپنا بیگ لٹکاتی ہوئی کالج کی جانب بڑھنے لگی۔۔۔۔

ہمیشہ کی طرح اس کے حلیہ کو لے کر فقرے کسنے شروع کئے گئے لیکن آج وہ ان سب سے لاپرواہ بیٹھی تھی۔

کسی کی انگلیاں ایسے تو نہیں نا کٹ سکتیں۔۔۔۔ضرور کوئی نا کوئی بات ہو گی۔

وہ اپنے ہاتھ کو حرہت دیتی سوچںے لگی۔۔۔۔کیا وہ کوئی سپیشل اجنٹ تھا جس نے جنگ کے دوران انگلیاں کھو دی ہوں۔۔۔۔یا پھر کسی مافیا کا باس۔۔۔۔

وہ اپنی سوچ پہ خود ہی ہنس دی تو قریب سے گزرتی لڑکی اسے عجیب نظروں سے دیکھنے لگی۔

پاگل۔۔۔۔

وہ زیر لب بڑبڑاتی ہوئی گزر گئی جس پہ صندل محض کندھے اچکا گئی۔

کندھوں تک آتے بال جنہیں اس نے سر کی پشت پہ جکڑ رکھا تھا۔ ٹی شرٹ اور پینٹ میں وہ کسی ڈھانچہ کے مترادف ہی تو لگتی تھی۔

ارے دیکھو کون آیا ہے۔۔۔۔۔

سامنے سے آتے زین اور اس کے دوستوں کو دیکھ وہ راستہ بدلنے لگی۔

وہ ہمیشہ اسے تنگ کرتے تھے۔۔۔۔اگر اسے باقی لڑکیوں کی طرح بننا سنورنا نہیں آتا تھا تو اس میں اس کا کیا قصور تھا۔۔۔اور پھر اس کا یہ دراز قد اور ڈھانچہ سے جسامت تو سونے پہ سہاگا تھا۔

دفع ہو جاؤ زین۔۔۔۔

اس نے صندل کو اس کی شرٹ سے پکڑ کر کھینچا تو وہ تڑپ اٹھی۔

ہاں تو مجھے کونسا تم جیسے خواجہ سرا میں کوئی دلچسپی ہے۔۔۔۔

وہ اپنے دوست کے ہاتھ پہ پاتھ پھینکتا ہستے ہوئے کہنے لگا۔

اس کی آواز اتنی بلند تھی کہ اردگرد سے گزرتے دوسرے سٹوڈنٹس بھی ان کی جانب متوجہ ہوئے۔

صندل کو اپنی ذات سے نفرت محسوس ہوئی تھی۔

چھوڑو مجھے۔۔۔۔

وہ ایک دم چیخی تو زین نے اسے ایک جھٹکے سے آزاد کیا جس سے وہ گرتے ہوئے بمشکل سنبھلی تھی۔

ویسے تم جیسی کراس جینڈر کو یہاں ایڈمیشن کس نے دے دیا۔۔۔

وہ پھر اس کے دبلے پن پہ چوٹ کرتا کہنے لگا جس پہ صندل شرمندگی سے سرخ چہرہ لئے ہجوم کو توڑتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔

_______

آج کا دن کیسا رہا۔۔۔۔

وہ حسب معمول اس سے پوچھنے لگی۔

ٹھیک تھا۔۔۔۔ہمیشہ کی طرح۔۔۔۔۔

وہ فرائیڈ رائس کو چمچ سے ادھر ادھر دھکیلتی کہنے لگی۔

اگر تمہیں یہ پسند نہیں آیا تو میں کچھ اور بنا دیتی ہوں۔۔۔

ھدیل اس کی کھانے میں عدم دلچسپی دیجھتے ہوئے کہنے لگی جس پہ وہ پلیٹ دور دھکیلتی اٹھ کھڑی ہوئی۔

مجھے بھوک نہیں۔۔۔۔اور ویسے بھی کافی کام ملا ہے وہ کرنا ہے۔۔۔

ارے کچھ تو کھاتی جاؤ۔۔۔۔

ھدیل کے بار بار کہنے پہ بھی وہ نا رکی اور سیڑھیاں چڑھتی اپنے کمرے میں چلی گئی۔

____

خواجہ سرا۔۔۔۔کیا واقعی میں ایسی دکھتی ہوں۔۔۔۔

وہ آئینہ کے سامنے کھڑی ہو کر اپنا جائزہ لینے لگی۔

سفید رنگت۔۔۔۔تیکھے نین نقش۔۔۔۔ستواں ناک۔۔۔۔

کیا الگ تھا اس میں بس دبلی ہی تو تھی۔

اس کے ہاتھ اپنے بالوں کی جانب بڑھے جسے وہ آزاد کرتی کندھوں پہ پھیلانے لگی۔

اخخخ۔۔۔یہ تمہارے بس کی بات نہیں صندل۔۔۔۔

وہ بیڈ کی جانب اچھل کر اس پہ گرتی ہوئی سوچنے لگی۔

جب اس کے والدین بمب بلاسٹ میں گزر گئے تھے تو حکومتی عملے نے اسے ایک فوسٹر ہاؤس بھیج دیا۔

وہاں پہلے سے ہی اتنے بچے تھے کہ ان کی بنیادی ضروریات بھی بمشکل پوری ہوتی تھیں۔

بچپن میں اڈے پانی سے ڈر لگتا تھا لیکن پھر بھی اس کی امی اسے روز نہلاتی تھیں۔۔۔۔جب وہ فوسٹر ہاؤس پینچی تو ان کی صفائی کا دھیان نہیں رکھا جاتا تھا۔

عملہ وہاں موجود تمام بچوں کے بال سر کے قریب تک کاٹ دیتا تاکہ انہیں جلد نہلانا نا پڑے۔

اس وقت صرف ایک احساس ہر وقت رہتا تھا۔۔۔اپنے ماں باپ سے دور ہونے کا اور بھوک کا۔۔۔۔

جیسے جیسے وقت گزرتا گیا بھوک کا احساس والدین سے جدائی کے احساس پہ سبقت لے گیا۔

اس نے بھی وہاں کے کئی بچوں کی طرح کچن سے کھانا چوری کرنا شروع کر دیا۔

جس دن وہ پکڑی گئی اسے بہت مارا گیا۔۔۔۔۔اس کے بعد وہ ٹھیلوں سے کھانا چراتی یا کسی دوکان سے آنکھ بچا کر۔۔۔۔

تب اسے کہاں ہوش تھی کہ اسے لڑکی جیسے دکھنا ہے۔۔۔پہننے کے دوسرے بچوں کے کپڑے مل جاتے جو ہمیشہ بےڈھنگے سے لگتے۔۔۔۔لیکن وہ جسم ڈھانپتے تھے۔۔۔۔کسی سے جڑنے کا احساس تبھی ختم ہو گیا تھا۔

اس کی قسمت باقیوں سے اچھی تھی جو ایک دن کھانا چوری کرتے ہوئے جب وہ پکڑی گئی تو شمس وہاں موجود تھا۔

وہ اسے اپنے گھر لے آیا اور ھدیل نے اسے نہلا کر کھانا کھلایا۔

جب اس کے سامنے ایک غرصے بعد اتنا کھانا آیا تو وہ اسے پیٹ بھر کر کھانے کے بعد اپنی شرٹ میں روٹی اور فروٹ رکھنے لگء تو ھدیل اسے حیرت سے دیکھنے لگی۔

صندل۔۔۔یہ آپ کیا کر رہی ہو۔۔۔۔

میں یہ سب ساتھ لے جاؤں گی۔۔۔۔اور روز کھاؤں گی۔۔۔۔

وہ سیب کو کھائی اپنے منہ کو بازو سے صاف کرتی بولی۔

اس وقت جو جذبہ اس نے ھدیل کی آنکھوں میں دیکھا اس سے وہ قدرے نا آشنہ تھی۔

اسے صرف غصے کی ہی پہچان تھی۔جو کہ ان دونوں میں نہیں دکھائی دیا۔

لیکن آپ روز تازہ کھانا کھا سکتی ہو۔۔۔۔

وہ اس کے چھوٹے چھوٹے بال چھوتی ہوئی کہنے لگی جس پہ صندل نے سر ہلا دیا لیکن اس کی پکڑ ان اشیاء پی ایک لمحہ کے لئے بھی ڈھیلی نا ہوئی۔

ھدیل تبریز کو مدد طلب نگاہوں سے دیکھنے لگی جس پہ وہ اسے صبر کا کہنے لگا۔

اگلے روز وہ اسے مارکیٹ لے کر گئے اور ڈھیر سارے خوبصورت لباس دلوائے۔

کیا ہوا۔۔۔۔۔

وہ رونے سے اس کا سرخ چہرہ دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی۔۔۔

یہ یہ۔۔۔۔مجھے کاٹ رہے ہیں۔۔۔۔

وہ اپنا خوبصورت فراک ننھے ہاتھوں سے دور کھینچتی کہنے لگی۔

لچھ نہیں کہ ہو صندل۔۔۔۔

نہیں یہ مجھے کھا جائیں گے۔۔۔۔وہ تب تک شکایت کرتی رہی جب تک ھدیل نے اسے اس کا وہی لباس نا پہنا دیا۔

اگلے روز وہ تمام فراک کی جگہ اس جیسے ڈھیلے ڈھالے کپڑے لے آئے اور وہ آج تک وہ عادت نا بدل پائی تھی۔

جب وہ اسے قانونی طور پہ گود لینے کے لئے فوسٹر ہاؤس پہنچے تو تبریز کو پہلی بار غصہ میں دیکھا۔

انہیں معلوم ہی جا تھا کہ صندل تین روز سے وہاں نہیں تھی۔۔۔

وہ تو ہر کسی سے خوف کھاتی تھی اور تبریز کو غصہ میں دیکھ تو ھدیل بھی کپکپا اٹھی تھی۔

وہاں ہر کسی کا حال ایسا ہی تھا۔۔۔۔برے سے بدتر۔۔۔۔

تبریز سے جتنا ہو سکا اس نے ان بچوں کی مالی معاونت کرنی شروع کی اور صندل کو اپنانے کا یہی راہ تھا کہ وہ اسے گود لے لیتے سو انہوں نے کیا۔

تبریز۔۔۔۔مجھے صندل کہیں نہیں مل رہی۔۔۔۔۔

وہ بوکھلائی ہوئی سیڑھیوں سے بھاگتے ہوئے نیچے اتری۔

یہیں کہیں ہو گی ھدیل۔۔۔۔

وہ کیس کی سٹڈی کرتے ہوئے مصروفیت سے بولا۔

میں نے ہر جگہ دیکھ لیا۔۔۔۔کہیں نہیں مل رہی وہ۔۔۔۔مجھے فکر ہو رہی ہے ۔۔

اسے اس سے بے حد مانوسیت تھی شاید اس لئے کہ اس کے والدین بھی کسی کے پست ذہن کی وجہ سے چھن گئے تھے۔

وہ لیپ ٹاپ بند کرتا اس کی جانب بڑھا اور تیزی سے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔

میں نے آپ کو کہا بھی تھا کہ اسے الگ کمرہ مت دیں۔۔۔

وہ شکایت کرتی کہنے لگی جسے تبریز نے زرا بھی اہمیت نا دی۔

میں کمرہ دیکھ چکی ہوں۔۔۔۔

ھدیل اس کی تقلید میں ماسٹر بیڈروم کے ساتھ والے کمرے میں داخل ہوتی کہنے لگی۔

وہ کمرے میں نظر دوڑاتا دروازے کی جانب بڑھا جب کمرے کے وسط میں رکھ گیا۔

کیا ہوا۔۔۔۔

وہ جھنجھلاتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی چہرے پہ پریشانی کے تاثرات نمایاں تھے۔

وہ ہاتھ بلند کرتا اس خاموش رہنے کا اشارہ کرتا جھک کر بیڈ کے نیچے چھوٹی سے جگہ پر دیکھنے لگا۔

کچھ سامان سامنے سے ہٹایا تو صندل وہاں زمین پہ لیٹی سو رہی تھی ساتھ ہی ایک کپڑے پہ کھانے پینے کا کچھ سامان رکھا تھا جو وہ ھدیل سے نظریں بچا کر یہاں جمع کر رہی تھی۔

احتیاط سے۔۔۔۔

وہ اسے باہر نکالنے لگا تو ھدیل نے فورا اسے آگاہ کیا۔

جانتا ہوں میں۔۔۔۔جانور نہیں ہوں۔۔۔۔

اس کی بات پہ تو ھدیل اپنا ہونٹ کچل کر رہ گئی تھی۔

تبریز اسے باہر بیڈ کے نیچے سے نکال کر بستر پہ لیٹانے لگا اور ھدیل اس پہ چادر اوڑھا گئی۔

تمہیں کیا لگتا ہے۔۔۔۔اس نے یہ سب یہاں کیوں جمع کیا۔۔۔

وہ بیڈ کے نیچے سے کھانے پینے کی اشیاء نکالتی پوچھنے لگی۔

اسے لگتا ہے کہ وہ بھوکی نا رہے اس لئے ابھی سے یہ سب جمع کر رہی ہے۔۔۔۔مت اٹھاؤ ھدیل یہ سب وہیں چھوڑ دو۔۔۔۔

لیکن۔۔۔۔

وہ مخالفت کرںا چاہتی تھی لیکن پھر اس کے سرد نظریں خود پہ گڑی دیکھ کر سب وہیں چھوڑ دیا۔

چلو اب اسے سونے دو۔

وہ لیمپ جلا کر کمرے کی روشنی بجھاتا اسے وہاں سے لے گیا۔