Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui NovelR50459 Zehr-e-Sheren Episode 20
Rate this Novel
Zehr-e-Sheren Episode 20
Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui
حال۔۔۔۔۔۔
معراج۔۔۔۔کیا اسے ہوش آیا۔۔۔۔
وہ اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے تفتیشی انداز میں پوچھنے لگی۔معراج کا حلیہ دیکھ صاف ظاہر تھا کہ وہ ساری رات جاگتا رہا ہے۔
نہیں۔۔۔۔اس کے بچنے کے چانسز بہت کم ہیں۔۔۔۔
اس کے جواب پہ صندل کی پکڑ صوفے پہ مضبوط ہوئی تھی۔
پولیس مجھے نہیں چھوڑے گی۔۔۔۔میں جیل نہیں جانا چاہتی۔۔۔۔مجھے قید نہیں ہونا۔۔۔۔
وہ کسی خوف کے تحت بول رہی تھی جسے معراج نے فورا محسوس کیا۔
صندل۔۔۔۔۔ادھر دیکھو میری جانب۔۔۔۔وہ اس کے سامنے زانوں بل بیٹھتا کہنے لگا۔
تمہیں کچھ نہیں ہو گا۔۔۔۔کوئی تمہیں کہیں نہیں لے کر جائے گا۔۔۔۔میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔۔۔۔
اس کے لہجہ میں بلا کی مضبوطی تھی لیکن صندل اسے بےیقینی سے دیکھنے لگی۔
تم ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔۔تم نہیں روک پاؤ گے انہیں۔۔۔۔اور تم روکو گے بھی کیوں۔۔۔۔مئں تمہاری کیا لگتی ہوں۔۔۔۔محض ایمپلوئے۔
مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔
وہ بازواپنے گرد حمائل کرتی ہوئی گویا اور اور پھر اپنی آنکھیں زور سے بھینچ لیں۔
کوئی تمہیں جیل نہیں لے جائے گا تم نے سب اپنی جان بچانے کے لئے کیا۔۔۔۔اور وہ ایک حادثہ تھا۔۔۔۔عدالت یہسب ضرور سمجھے گی۔
وہ اسے سمجھانے لگا لیکن صندل لگاتار سر انکار میں ہلا رہی تھی۔
کیا کیا۔۔۔۔تم مجھ سے وعدہ کرتے ہو۔۔۔۔
وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو مضبوطی سے تھام کر پوچھنے لگی۔
اسے جاننا تھا کہ معراج اس کے لئے کیا کر سکتا ہے۔۔۔۔کیا وہ اس کے لئے یہ رسک لیتا۔
میں وعدہ کرتا ہوں صندل۔۔۔۔معراج اس کے ہاتھ پہ دباؤ ڈالتا کہنے لگا۔
اس سب کے باوجود کہ تمہیں اس سے نقصان ہو سکتا ہے۔۔۔۔تمہاری ساکھ کو نقصان ہو سکتا ہے۔۔۔جیسے ہی یہ خبر پھیلے گی لوگ سوال اٹھائیں گے کہ میں یہاں کیوں ہوں۔۔۔۔کیا کر رہی ہوں۔۔۔۔تم میرے لئے یہ سب کیوں کر رہے ہو۔۔۔۔
وہ اسے کھوجتی ہوئی نظروں سے دیکھتی پوچھنے لگی جس پہ معراج اس کے ہاتھ چھوڑتا سامنے سے اٹھ گیا۔
کیا تمہیں اپنی فکر نہیں۔۔۔۔کسی کی باتوں سے میری زندگی پہ فرق نہیں پڑے گا لیکن تمہارے آنے والی زندگی ضرور برباد ہو جائے گی۔
وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتا کہنے لگا۔
میری زندگی یہیں تک ہے۔۔۔۔سب رک گیا ہے۔۔۔۔ہر راستہ کی منزل تم ہی ہو اب۔۔۔۔
وہ دھیمے لیکن جذبات سے چور لہجے میں کہنے لگی۔
اس کے شیریں لفظ سن کر معراج کے لئے اپنے جذبات پہ قابو پانا مشکل تھا۔
صندل کا کہا ہر لفظ اس کے دل میں اترتا جا رہا تھا اور وہ اس کی زندگی کا اہم ثصہ بنتی جا رہی تھی۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ اس لڑکی کے سحر سے کب تک آزاد رہتا۔
_______
یہ لو۔۔۔۔یہ رہے پیپرز۔۔۔۔جتنی جلد تم ان پہ سائن کروا لو گی یہاں سے آزاد ہو جاؤ گی اور میری شکل تمہیں پھر کبھی دیکھنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔
وہ اس وقت ایک کیفے میں صدیقی کے ساتھ ملاقات کر رہی تھی۔
تمہیں لگتا ہے پیپرز پہ سائن کروانا اتنا آسان ہے۔۔۔۔
اگر تم یہ کام نہیں کر سکتی تو کوئی نہیں کر سکتا۔۔۔میں نے دیکھا ہے کہ وہ تمہیں کن نظروں سے دیکھتا ہے اس لئے میرے ساتھ یہ کھیل مت کھیلو۔
صندل اسے جان لیوا نگاہوں سے دیکھتی فائل پہ پکڑ مضبوط کرنے لگی۔
وہ بنا پڑھے کوئی پیپر سائن نہیں کرتا یہ بات تم اچھے سے جانتے ہو۔۔۔
صندل نے اسے اپنا مسئلہ بیان کیا تھا۔
تو اس کا دھیان بھٹکا دو۔۔۔۔اسے ذہر شیریں دو۔۔۔
وہ چائے کا گھونٹ بھرتا بےحد آسانی سے کی گیا جبکہ صندل انگلیاں میز پہ ٹکرانے لگی۔
مجھے مزید وقت چاہئیے۔۔۔۔
وقت نہیں ہے ہمارے پاس۔۔۔۔مت بھولو کہ تم پہ کیس ہے۔۔۔اور اگر تم یہ کام نہیں کرو گی تو کوئی اور کرے گا۔۔۔
کیا کہنا چاپتے ہو تم۔۔۔۔
وہ انکھیں سکیڑ کر پوچھنے لگی تو مرتضی چہرے پہ مکروہ مسکراہٹ سجائے اس کی جانب جھکا۔
سوچو اگر معراج کو کچھ ہو جاتا ہے۔۔۔۔یا اگر یہ کہیں کہ وہ مر شر جاتا ہے۔۔۔۔تو اس کا الزام کس پہ آئے گا۔۔۔۔
صندل اپنی دانت پیستی اسے ذہر آلود نگاہوں سے دیکھنے لگی۔
اسی لئے بہتر ہے کہ اپنا کام کرو اور جاؤ یہاں سے۔۔۔۔تمہارے یہ معراج کے سامنے سج سنور کے جانا۔۔۔۔اس کے لئے کھانے بنانا۔۔۔۔اور محبت کا اظہار کرنا کسی کام تو آنا چاہئیے۔۔۔۔
وہ بات ختم کرتا فائل پہ ہاتھ ماعتا وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔
تم نے غلطی کی مرتضی۔۔۔وہ فائل کو ہاتھوں میں لیتی واپسی کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
________
جب وہ بیرونی دروازے سے اندد داخل ہوئی تو سر درد سے پھٹا جا رہا تھا۔
معراج صبح سے ہوسپٹل میں تھا اور اس کے علاوہ اسے اپنے آڈیٹر سے بھی ملنا تھا۔۔۔۔۔یہ خبر اس تک بھی پہنچ چکی تھی۔
وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھنے لگی لیکن پھر کسی آواز کی بنا پہ معراج کے آفس کی جانب بڑھی۔
دروازہ یکدم کھلنے پہ حمیرا ہڑبڑا کر معراج کے ڈیسک سے دور ہوئی۔
وہ۔۔۔وہ میں صفائی کر رہی تھی۔۔۔۔
صندل جب کچھ لمحات تک خاموش رہی تو وہ انگلیاں مروڑتی ہوئی ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
ایک کپ چائے ملے گا۔۔۔۔سر میں کافی درد ہے۔۔۔۔
جج۔۔۔ججی۔۔۔۔ابھی۔۔۔ابھی بنا کر لاتی ہوں۔۔۔۔
وہ شکر کا سانس خارج کرتی تیزی سے صندل کے قریب سے ہوتی باہر چلی گئی جبکہ وہ اسے دلچسپ نظروں سے دیکھتی پیچھے پیچھے چلنے لگی۔
حمیرا چولہے پہ چائے کا پانی چڑھانے لگی جب صندل اس سے مخاطب ہوئی۔
کیا میری غیر موجودگی میں معراج آیا تھا۔۔۔۔
وہ عام سے لہجے میں پوچھنے لگی جس پہ حمیرا نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر اپجے کام میں جٹ گئی۔
نہیں۔۔۔صاحب تو نہیں آئے۔۔۔۔
صندل بنا کسی آواز کے ریک سے چھری نکالتی اس کی جانب بڑھی۔
صدیقی کو تم کیا خبریں پہنچاتی ہو۔۔۔
وہ اس کے پیچھے کھڑی سوال کرنے لگی جس پہ حمیرا اس کی جانب پلٹی۔
میں سمجھی نہیں آپ کیا۔۔۔۔۔
اس کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی صندل نے چھری اس کے ہاتھ پہ دے ماری جو اس کے ہاتھ کو کاٹتی اس کے آر پار ہو گئی۔
ایک دلخراش آواز اس کے حلق سے ابھری اور وہ چیختے ہوئے اس سے دور ہونے لگی۔
پاگل عورت۔۔۔۔۔
وہ کانپتے ہوئے اپنے ہاتھ دیکھتی چیخنے لگی جس سے خون بہنے لگا تھا۔
میرے سوال کا جواب دو ورنہ اگلی بار یہ تمہاری گردن میں ہو گا۔۔۔۔
وہ قہر آلود لہجہ میں کہنے لگی۔
کمینی۔۔۔۔تجھے تو صدیقی زندہ گاڑھ دے گا۔۔۔۔
وہ چیختی آہ و بکا کرتی کچن سے نکل گئی جبکہ چائے کا پانی کھولتا ہوا برتن سے باہر نکلنے لگا۔
بری بات۔۔۔۔چائے بھی بنا کر نہیں گئی۔۔۔۔
وہ چولہا بند کرتی اطمینان سے اپنے کمرے کے جانب بڑھنے لگی۔
