224.3K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zehr-e-Sheren Episode 34

Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui

معراج یہ۔۔۔یہ کیا کر رہے ہو۔۔۔۔

وہ اس کے ہاتھ کو نرمی سے چھوتے ہوئے کہنے لگی۔

معراج نے یکدم اسے آزاد کیا۔

ابھی میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا صندل۔۔۔۔

وہ اس کو ہاتھ کے اشارے سے خاموش رہنے کی تلقین کرتا سیڑھیاں چڑھنے لگا۔

نہیں۔۔۔تم مجھ سے یہ رویہ کیسے اختیار کر سکتے ہو۔۔۔۔ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔۔میں تو صرف تمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔۔۔۔تمہیں چاہتی ہوں۔۔۔۔چاہتی ہوں کہ خوش رہیں ہم۔۔۔۔

وہ آنکھوں آنسو لئے حسرت سے کہنے لگی تو معراج کو اپنا غصہ کم ہوتا محسوس ہوا۔

لیکن وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ کیا اس کی باتوں پہ یقین کرسکتا ہے یا نہیں۔۔۔اس لئے محض سیڑھیاں چڑھتا گیا۔

صندل وہیں کھڑی اسے دیکھتی رہی اس کے جاتے ہی غصہ میں میں ریلنگ کو زور سے حرکت دینے کی کوشش کرنے لگی۔

______

صندل معراج کے سامنے ڈنر رکھنے لگی لیکن وہ بنا کسی حرکت کے اسے دیکھتا رہا۔

جب وہ باقی سامان لینے کچن کی جانب بڑھی تو معراج نے اسے مخاطب کیا۔

رکو صندل۔۔۔۔بات کرنی ہے مجھے۔۔۔۔

وہ اپنی قدم پلٹتی اس کی سامنے آ کھڑی ہوئی تو معراج نے اس کا ہاتھ تھان کر اسے اپنے سامنے بٹھایا۔

کیا اس سب میں تمہارا کوئی ہاتھ ہے۔۔۔۔

وہ سپاٹ چہرے سے پوچھنے لگا تو صندل اپنی کلائی اس کی پکڑ سے آزاد کروانے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔

چھوڑو مجھے۔۔۔۔تم مجھ پہ شک کر رہے ہو۔۔۔۔

میں مثض حقیقت جاننا چاہتا ہوں۔۔۔

میں یہاں پی اس شخص کے ساتھ موجود تھی جو تم سے ملنے آیا۔۔۔۔اور پھر پولیس نے بھی اسے حادثہ قرار دیا ہے جب کہ تم مجھ سے یہ عجیب سوالات کر رہے ہو۔۔۔۔کیا یہی وجہ تھی تمہاری پہلے کی حرکت کی۔۔۔۔

ٹھیک ہے صندل۔۔۔۔تم نے یہ نہیں کیا میں سمجھ گیا۔۔۔۔

وہ اس کی کلائی چھوڑ کر ڈش اپنی جانب کھینچتا کظنے لگا جبکہ وہ اسے ہوجقوں کی طرح دیکھنے لگی۔

کیا مطلب ہے تمہارا۔۔۔میں کچھ سمجھ نہیں پا رہی۔۔۔۔

کیا سمجھ نہیں پا رہی۔۔۔۔مجھے تمہارا یقین ہے۔۔۔تم نے کہا میں نے مان لیا۔۔۔

بس ایسے ہی ۔۔۔۔

تو اور تم کیا چاہتی ہو۔۔۔۔

وہ چاہتی پہ زور دیتا کہنے لگا تو صندل خود سے بڑبڑانے لگی۔

کچھ سمجھ نہیں آتی مجھے اس شخص کی۔۔۔

غصہ سے اس کا رنگ سرخ ہونے لگا تو معراج نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیا اور اس کی پشت پہ بوسہ دینے لگا۔

میں بس یہ جاننا چاہتا ہوں کہ تم کوئی مصیبت میں تو مبتلا نہیں کیونکہ جتنا میں نے تمہیں جانا ہے مصیبت تمہاری جانب کھچی چلی آتی ہے۔۔۔۔

وہ مسرور سا کہنے لگا تو صندل نے اس کے کندھے پی ایک دھپ رسید کی جس پہ وہ مسکرا دیا۔

میں مصیبت اپنی جانب نہیں کھینچتی۔۔۔۔

صحیح کہا کیوں کہ تم ازخود۔۔۔۔

وہ مزید کچھ کیتا اس سے پہلے دروازہ پہ بیل ہونے لگی۔

میں دیکھتا ہوں۔۔۔۔

وہ گھڑی پہ ایک نظر ڈالتا دروازے کی جانب بڑھ گیا۔

امان۔۔۔تم اس وقت۔۔۔۔

امان کو اس وقت اپنے گھر کی دہلیز پہ دیکھ وہ حقیقتا حیران ہوا تھا۔

تو اب میں تمہارے گھر بھی نہیں آ سکتا۔۔۔۔

وہ مسکراتے ہوئے شکوہ کرنے لگا تو معراج بھی مجبورا مسکرا دیا۔

ایسا نہیں ہے۔۔۔۔آؤ۔۔۔ڈنر کرو ہمارے ساتھ۔۔۔۔

وہ امان ے ساتھ ہال میں داخل ہوا جہاں صندل اسے دیکھ کرسی سے کھڑی ہو گئی۔

خیریت تو ہے۔۔۔میں مخل تو نہیں ہوا نا تمہارا چوکیدار موجود تھا اور نا تمہاری ملازمی دکھ رہی ہے۔۔۔۔

وہ اطراف کا جائزہ لیتا سرسری سا پوچھجے لگا لیکن اس اچانک آمد کا اصل مقصد صندل اچھے سے سمجھتی تھی۔

وہ امان کا سوال سن کر انکھیں گھما گئی جس سے وہ دونوں انجان رہے۔

ہاں میں تب بتا نہیں پایا۔۔اس کی ڈیتھ ہو گئی۔

ڈیتھ۔۔۔۔وہ کیسے۔۔۔

امان حیرانگی سے کرسی کھینچتے ہوئے پوچھنے لگا۔

حادثہ۔۔۔صفائی کرتے ہوئے کھڑکی سے گر گئی۔۔۔۔

صندل کے جواب میں وہ محض اس کا چہرہ دیکھتا رہ گیا جس پی اس نے ابرو اچکا دیئے۔

کچھ کھا نہیں رہے آپ۔۔۔میرا وعدہ ہے اس میں زہر نہیں ہے۔۔۔۔

وہ بظاہری طور پہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی لیکن امان اس کے مقالمہ پہ بوکھلاہٹ کا شکار ہونے لگا۔

نہیں میں یہاں زیادہ دیر نہیں رکوں گا۔۔۔اصل میں میں معراج تم سے معافی مانگنے آیا تھا۔

اور میں امید کرتا ہو تم ہماری دوستی کے پیش نظر مجھے اس بار بھی معاف کر دو گے۔۔۔۔

دوست ہو کر اگر میں اپنا دل اتنا بڑا بھی نہیں کر سکتا تو دوست کیسا۔۔۔۔

وہ امان سے بغل گیر ہوتے ہوئے کہنے لگا جس پی دونوں مسکرا دیئے۔

اور ہاں میں تم دونوں کو اپنے گھر انوائیٹ کرنے آیا تھا۔۔۔کل تم دونوں ڈنر میرے گھر کرو گے۔۔۔

صندل اعتراض کرنے کے لئے ابھی کچھ کہنے ہی والی تھی لیکں معراج نے اسے اس کا موقع ہی نہیں دیا۔۔۔

آئیں گے نا۔۔۔ضرور آئیں گے۔۔۔۔ویسے بھی بچون سے ملے ہوئے کافی دن ہو گئے۔

ہاں ضرور۔۔۔۔میں انتظار کروں گا۔۔۔۔

وہ صندل کو ذومعنی طریقے سے دیکھ کر کہتا پھر سے معراج سے خوش گپیوں میں مصروف ہو گیا جبکہ صندل اس دعوت کا اصل مقصد سوچنے لگی۔