Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui NovelR50459 Zehr-e-Sheren Episode 27
Rate this Novel
Zehr-e-Sheren Episode 27
Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui
گواہوں کی موجودگی میں ان کا نکاح پڑھایا گیا تھا۔
جہاں معراج اوف وائٹ رنگ کی شیروانی میں ملبوس تھا وہیں صندل لائٹ پنک رنگ کے جوڑے میں بےتحاشی خوبصورت لگ رہی تھی۔
زندگی کے اس اہم موقع پہ اس نے اپنے والدین کو کس قدر یاد کیا تھا یہ وہی جانتی تھی۔
امان نے جب اسے اس جوڑے میں دیکھا تو حیرت اور غصہسے اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔
معراج کو کچھ بھی ظاہر کروائے بغیر موقع کی نزاکت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کا گواہ بنا۔
صندل کے چہرے پہ اپنی فتث اور خوشی کے ملے جلے تاثرات واضح تھے۔۔۔۔اس نے بغاوت کا کھلا اعلان کیا تھا۔
جب کے معراج کی خوشی بھی دیدینی تھی۔
نکاح خوان کے پوچھنے پہ انہوں نے ایک دوسرے ہو دیکھتے ہوئے قبولیت کا مرحلہ طہ کیا تھا۔
اسے اپنے تمام حقوق سونپتے ہوئے صندل نے خود میں ایک سکون پھیلتا محسوس کیا تھا جس سے وہ کب سے عاری تھی۔
شاید کسی کا مضبوط کندھا ہونا ایسی ہی طمانیت بخشتا تھا۔
سب انہیں مبارکباد دینے لگے تو صندل کے چہرے پی مسکراہٹ پھیل گئی۔
معراج نے کیسے ایک دن میں ہر چیز کا انتظام کیا تھا وہ اس کی گواہ تھی۔
معراج۔۔۔۔اب تو تم گھر والے ہو گئے ہو لیکن کچھ بات کرنی ہے تم سے۔۔۔۔
صدیقی کو بھی مدعو کیا گیا تھا اور وہ ابھی پہنچا تھا۔
وہ صندل کو مسکراتے ہوئے دیکھتا اس کے ساتھ آفس چلا گیا تو امان کی بیوی اسے کمرے میں لیجانے کے لئے آگے بڑھی۔
چلیں بھابھی۔۔۔۔اپ کو اپ کے کمرے میں چھوڑ آؤں۔۔۔۔
یہ ان دونوں کی پہلی ملاقات تھی۔۔۔۔اسے ان کی بیٹی اور بیٹا دونوں ہی بہت پسند آئے تھی۔ لیکن اس سے کہیں زیادہ ان کے لئے افسوس ہو رہا تھا۔
وہ خفیف سا مسکراتی صوفے سے کھڑی ہوئی تو وہ اسے معراج کے کمرے میں لے گئی۔
اس کے کمرے میں سب ویسے ہی ترتیب سے موجود تھا دیکھنے پہ وہ کسی بھی صورت نوبیاہتے جوڑے کا کمرہ تو نا لگتا تھا۔
صندل نے دیوار کی جانب نظر گھمائی تو وہاں اب آئمہ کی تصاویر کا کوئی نام و نشان نا تھا یقینا وہ سب تصاویر ہٹا دی گئی تھیں۔
صندل جو ایک عجیب خوف میں مبتلا تھی پرسکون ہوتی چلی گئی۔
کیا کوئی کسی مرے ہوئے شخص سے کے لئے حاسد ہو سکتا ہے۔۔۔ وہ تھی۔۔۔۔اس نے وہ حسد کسی ذہر کی طرح خود میں پھیلتی ہوئی محسوس کی تھی۔
وہ معراج کے دل میں بستی تھی اور ہمیشہ رہنے والی تھی جبکہ صندل۔۔۔۔۔
وہ اس کی زندگی میں بھیجی گئی اور اس کے اقدام معراج کے لئے کس قدر نقصان دہ تھے۔۔۔۔
جب یہ کھیل ختم ہو گا تو وہ میرے نام سے بھی نفرت کرے گا۔۔۔۔
صندل دیوار کو گھورتے ہوئے وہیں ساکت تھی۔
امان کی بیوی نے اسے ایک بار پھر اپنی جانب متوجہ کرنا چاہا تو وہ اپنے حواس میں لوٹی۔
اس بیڈ پہ بٹھا کر وہ ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگی لیکن وہ اپنی ہتھیلیاں دیکھتی کسی سوچ میں غرق تھی۔
شاید اس نے بھی صندل کی عدم دلچسپی کو محسوس کیا تھا اسی لئے اسے کنرے میں تنہا چھوڑ کر چلی گئی۔
______
معراج۔۔۔۔یہ سب کیا ہے تم نے شادی کر لی۔۔۔۔
مرتضی نے حیرت سے پوچھا تو معراج کے چہرے کے زاویہ بگڑنے لگے۔
مجھے نہیں معلوم تھا کہ میری شادی سب کے لئے اتنا کریٹیکل میٹر بن جائے گی۔۔۔۔
وہ بگڑا تو مرتضی بھی گڑبڑا گیا۔
نہیں لیکن تمہیں کیس ختم ہونے تک انتئار کرنا چاہئیے تھا۔۔۔۔اس سے مشکل ہو جائے گی۔
اور تمہیں مشکل ہو گی تو میں کسی ایسے کو ڈھونڈ لوں گا جس کے لئے یہ آسان ہو۔۔۔۔
وہ سرد مہری سے کہنے لگا تو مرتضی اپنی بات بدل گیا۔
دیکھو معراج تم اسے جانتے ہی کتنا ہو۔۔۔۔جب سے وہائی ہے تمہارا ہر طرح ست نقصان ہو رہا ہے اور تم نے اسی سے شادی کر لی۔۔۔۔۔
صندل لباس بدل کر واپس کمرے میں آئی تو امان خطرناک تاثر لئے اس کا انتئار کر رہا تھا۔
اسے دیکھتے ہی صندل کی جانب لپکا اور اسے گلے سے دبوچ لیا اس کے سر کی پشت دیوار سے ٹکرائی تو وہ کراہ اٹھی۔
تمہیں یہاں معراج کی جائیداد ہتھیانے بھیجا تھا اس سے عشق لڑانے نہیں۔۔۔۔
وہ غصہ سے پھنکارا تو تکلیف کے باوجود صندل کے چہرے پہ مسکراہٹ پھیل گئی۔
تمہیں لگا کہ میں تمہارے تابع ہو جاؤں گی۔۔۔۔افسوس۔۔۔ لیکن اب وقت گزر گیا ہے۔۔۔۔
امان نے اپنی پکڑ مضبوط کی تو اس کی انکھوں سے پانی بہنے لگا۔
مجھے تمہیں یہاں لانا ہی نہیں چاہئیے تھا۔۔۔لیکن گھبراؤ نہیں۔۔۔۔تمہاری اور معراج کی قبر جلد ہی کھودوں گا۔۔۔۔
وہ اسے ایک جھٹکے سے آزاد کرتے ہوئے دور ہوا۔
لالچ نے اس کی انکھوں پردہ ڈال دیا تھا۔
جب سے معراج نے اپنا ہاتھ بزنس سے کھینچا تھا وہ تمام تر نفع سے اپنا الگ بزنس سیٹ کر چکا تھا جس کی کوئی بھی معلومات معراج کو نا تھی۔
لیکن جب پچھلے سال اس کے کاروبار کو بھاری نقصان ہوا تو اس کے پاس ایک ہی حل تھا کہ وہ معراج کی وراثت میں ملی جائیداد ہتھیا لیتا ان کی کمپنی کو تو وہ پہلے ہی ڈبو چکا تھا۔
اسی لئےصندل کو اس کے پاس بھیجا گیا۔
کسی آواز پہ امان نے اس کا گلہ آزاد کیا اور دروازے کی جانب دیکھنے لگا جب کچھ دیر تک کوئی وہاں نا آیا تو وہ پھر سے صندل کی جانب پلٹا۔
اوہ کھانڈتی ہوئی صندل کی کلائی کو دبوچ لیا۔
میں تم دونوں کو نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔
وہ دانت پیستے ہوئے کہنے لگا۔
جانتے ہو جب شھیر نے میرے ساتھ اتنا سب کیا تو میں نے کیا سوچا تھا۔
یہی کہ تمہارے ساتھ ایسا کیوں ہوا آخر۔۔۔۔
وہ تمسخرانہ لہجہ میں کہنے لگا تو صندل اسے انکھیں سکیڑ کر دیکھنے لگی۔
نہیں۔۔۔۔میں نے خود سے یہ وعدہ کیا تھا کہ میں آئندہ اپنے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہونے دوں گی۔۔۔۔
اپنی بات ختم کرتے ہی اس نے امان کے چہرے پہ زوردار طمانچہ رسید کیا۔
تم جیسے لوگ ہی آستین کے سانپ جانے جاتے ہو۔۔۔۔اور دوستی جیسے رشتے کو ناپاک کرتے ہو۔۔۔
وہ اس سے اپنی بازو آزاد کرواتی ہوئی پھنکاری تھی۔
تم۔۔۔۔تم خود کو۔۔۔۔
وہزید کچھ کہتا اس سے پہلے کمرے کا دروازہ کھلا اور معراج چہرے پہ اہنی مسکراہٹ سجائے اندر داخل ہوا تھا۔
امان کو صندل کے ساتھ یوں اپنے کمرے میں پا کر اس کی حیرانگی کی کوئی حد نا تھی۔
امان۔۔۔۔تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔
وہ سرد مہری سے پوچھنے لگا تو امان صندل سے کچھ قدم دور ہوا۔
میں تو یہاں بھابھی کو مبارکباد دینے آیا تھا۔
دے لی۔۔۔۔
وہ جس طرح امان سے بات کر رہا تھا صندل نے اس کا یہ روپ پہلی بار دیکھا تھا۔
اتنی اجنبیت۔۔۔۔اتنی سردمہری۔۔۔۔
کہاں تھی اس کی نظروں کی وہ نرمی اور اپنا پن۔۔۔
معراج نے اپنی نظروں کا زاویہ بدکا تو صندل نے اپنے لئے بھی وہی برف سی سیت محسوس کی۔
وہ حدت کہیں بھی نا تھی جو نکاح کے وقت اس کی نظروں میں صندل کے لئے موجود تھی۔
اگر مبارکباد دے لی تو کیا میں اپنی بیوی سے کچھ بات کر لوں۔۔۔
وہ اسی لہجہ میں مخاطب ہوا تو امان اپنے حواس میں واپس لوٹا۔
ہاں میں ویسے بھی جا ہی رہا تھا ۔۔
وہ اپنا گلہ صاف کرتا چلا گیا۔
امان کے جاتے ہی صندل معراج کی جانب بڑھی تھی لیکن وہ اسے ہاتھ کی اشارے سے خامقش رہنے کا کہتا خعد بھی باہر چلا گیا۔
جبکہ صندل دل ہی دل میں امان کو کوستی انکھیں بھینچ گئی۔
__________
لو کھاؤ۔۔۔۔۔
وہ کب سے بھوکی تھی۔۔۔۔اور بھوک کی شدت نے اسے باقی سب جیسے بھلا ہی دیا تھا۔
وہ اس کے سامنے میز پہ طرح طرح کے کھانے سجا کر بیٹھا تھا جب کے ان سے اٹھتی خوشبو صندل کی بھوک کو مزید بڑھا رہی تھی۔
وہ منہ میں آتے پانی کو نگلتی ہوئی اپنی نظرویں پلٹ گئی۔
وہ گٹھنوں کے بل اس کے قدموں میں بیٹھی تھی۔
ہاتھ اس کی پشت پہ رسی سے بندھے تھے۔
شھیر نے ہاتھ میں لیا لقمہ اس کی جانب بڑھایا تو وہ اس کی جانب بڑھی وہ اس منہ میں لینے کو ہی تھی جب اس شخص نے اپان ہاتھ دور کھینچ لیا۔
شکریہ ادا کرو مجھے۔۔۔۔
وہ اپنے پیروں کی جانب اشارہ کرتا دیکھنے لگا۔
وہ چاہتا تھا کہ صندل اس کی پاؤں چومے۔۔۔۔لیکن اسے جتنی بھی بھوک لگی ہوتی وہ ایسا کسی صوعت نہیں کرتی اس لئے اپنے لب سختی سے بھینچ کر نظریں پھیر گئی۔
وہ اس کی ضد پہ مکروہ سا مسکرایا اور پھر لقمہ اپنے منہ میں رکھ لیا۔
جانتی ہو تم اور تمہاری ماں دونوں بہت ضدی ہو۔۔۔۔لیکن تم دونوں میں ایک بہت بڑا فرق ہے۔۔۔۔
ھدیل کے ذکر پہ صندل اس کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔
یہ تب سے تیسری بار تھا جب اس نے صندل کے والدین کا ذکر کیا تھا لیکن وہ ابھی بھی نا کچھ سمجھ پائی ٹھی اور نا کچھ جان پائی۔
شھیر اس کی نظروں میں چھایا سوال دیکھ کر خود ہی اس کا جواب دینے لگا۔
ھدیل کو کوئی توڑ نہیں پایا۔۔۔۔نا میں اور نا تبریز۔۔۔۔
وہ اس کی ٹھوڑی کو انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے تھامتا کہنے لگا۔
لیکن تم میری پالتو۔۔۔۔تمہیں میں توڑ کر پھر سے بناؤں گا۔۔۔۔اور یہی ان کی سزہ ہو گی۔۔۔۔
وہ اس کی انکھوں میں جھانکتا ہوا کہنے لگا جس میں روشنی پہلے کی نسبت بجھ چکی تھی اور یہی اعلان تھا شھیر کی فتح کا۔
وہ اس کے چہرے کو ازاد کرتا پھر سے کھانے کی جانب متوجہ ہوا اور اس سے انصاف کرنے لگا جبکہ صندل اسے ایک کے بعد ایک لقمہ لیتے دیکھتی رہی۔
شھیر اگلا لقمہ لینے لگا جب صندل ایک دم اس کی جانب بڑھی اور اسے اپنے منہ میں بھر لیا۔۔۔
یہ اس کی انا کی ہار تھی اور اس پہ شھیر تمسخرانہ مسکرا دیا۔
وہ اسے نگل پاتی اس سے پہلے شھیر نے اس کی زبان کو پکڑ کر باہر کی جانب کھینچا جس سے اس کے منہ میں لیا لقمہ بایر گر گیا اور اس نے اس پہ اپنا پاؤں رکھ دیا۔
صندل دھندھلاتی آنکھوں سے اس کے پاؤں کی جانب دیکھنے لگی۔
ابھی وہ سنبھل بھی نا پائی تھی جب شھیر کا ہاتھ لہراتا ہوا اس کے چہرہ پہ نشان چھوڑ گیا۔
وہ اپنے کندھے کی جانب گری اور زور سے چلا اٹھی تو شھیر اس کے سامنے زانوں بل بیٹھ گیا۔
وہ اب اپنا پھٹا ہوا ہونٹ دانتوں تلے دبائے بےآواز رو رہی تھی۔
شھیر نے اسے بالوں سے پکڑ کر کھینچا تو وہ بلبلا اٹھی۔
تمہیں کھانے کو تب ہی ملے گا جب تم اس کے لئے شکریہ ادا کرنا سیکھ لو۔۔۔۔
وہ اپنا فیصلہ سناتا ہوا وہاں سے روانہ ہو گیا۔
_______
آج وہ اکیلا نہیں تھا دو اور لوگ تھے جو اس کے ساتھ تھے۔
نجانے اسے یہاں جتنا وقت ہو چکا تھا لیکن آہستہ آہستہ وہ واقعی اس کی پالتو بن گئی تھی۔
میرے قدموں میں بیٹھو۔۔۔۔
وہ اس کا حکم سنرے ہی بجا لاتی اور شھیر کے قدموں میں بیٹھ گئی۔
وہ اس کے رخسار کو نرمی سے چھونے لگا تو صندل بےخودی میں اس کے لمس کی جانب جھکنے لگی۔
وہ اس کا مجرم تھا۔۔۔۔اسے نفرت تھی اس شخص سے اس میں کوئی شک نہیں تھا۔۔۔۔لیکن وہ شخص اس کی انسانیت سے آخری کڑی تھی۔۔۔۔وہ چاہتے ہوئے بھی خود کو اس کڑی سے نہیں توڑ پائی تھی۔۔۔۔
اور وہ سچ کہ رہا تھا وہ اسے توڑنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
اپنے مالک کا شکریہادا نہیں کرو گی۔۔۔۔۔
وہ تمسخرانہ مسکراتا ہوا اس کی خالی انکھوں میں دیکھتا کہنے لگا جس میں زندگی کا کوئی نام و نشان نا تھا۔
دیکھو میرے جوتے کتنے گندے ہو چکے ہیں اسے اپنی زبان سے صاف کرو۔۔۔۔
اندھیرے میں کھڑے دو شخص وہ سب دیہھ رہے تھے جب صندل جھکی اور اس کے جوتے صاف کرنے لگی۔
