Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui NovelR50459 Zehr-e-Sheren Episode 16
Rate this Novel
Zehr-e-Sheren Episode 16
Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui
وہ جب عشاء کو ہوسپٹل لے کر پہنچا تو کچھ دیر بعد ہی اس کے والدین بھی وہاں پہنچ گئے اور پولیس بھی تفتیش کے لیے وہاں آ چکی تھی۔
یہ سراسر ایک پولیس کیس تھا اور صندل بھی اس وقت پولیس کسٹڈی میں تھی۔
عشاء کے والدین کو وہاں آتا دیکھ وہ خاموشی سے پولیس اسٹیشن روانہ ہو گیا۔
______
کمال کی بات ہے مس صندل۔۔۔۔پہلے اپجے گھر میں آگ لگائی اور اب جانلیوا حملہ۔۔۔۔اور کیا کیا کرنے کا ارادہ ہے آپ کا۔۔۔۔
میں کتنی بار بتا چکی ہوں اس نے مجھ پہ حملہ کیا تھا۔۔۔۔
وہ ایک دم چیخ اٹھی تو انسپکٹر نے ہاتھ زور سے ڈیسک پہ دے مارا۔
چلاؤ مت۔۔۔۔یہ چیخنے سے تم بچنے والی نہیں۔۔۔۔خود ہی اعتراف کر لو ورنہ ہمیں بہت طریقہ آتے ہیں۔
وہ اپنی مٹھیاں زور سے بھینچتی اسے نفرت بھری نگاہوں سے دیکھنے لگی۔۔۔۔
صندل۔۔۔۔
معراج کی آواز پہ وہ مخالف سمت متوجہ ہوئی اور اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
معراج۔۔۔۔پلیز۔۔۔پلیز۔۔۔۔بیلیو می۔۔۔۔اس نے مجھ پی اچانک حملہ کیا۔
وہ اپنا زخمی کندھا اسے دیکھاتے ہوئے کہنے لگی جسے معراج پہلے نظرانداز کر گیا۔
خود کو بچاتے ہوئے حادثاتی طور پہ وہ چھری اس کی آنکھ میں جا لگی۔۔۔۔میں نے یہ سب جان بوجھ کر نہیں کیا۔۔۔۔
وہ اسے اپنی بےگناہی کا یقین دلاتی ہوئی کہنے لگی تو معراج نے اسے دونوں کلائیوں سے تھام لیا۔
کام ڈاؤن صندل۔۔۔۔وکیل صاحب میرے ساتھ آئے ہیں وہ سب دیکھ لیں گے۔۔۔۔
صندل نے تب سے پہلی باراس سے کچھ فاصلہ پہ کھڑے شخص کو دیکھا۔
وہ اپنا حلق تر کرتی اسے تشکر بھری نگاہوں سے دیکھنے لگی۔
اگر آپ لوگوں کا ڈرامہ یو گیا ہو تو کیا ہم مزید سوالات کر سکتے ہیں۔آپ پہ تو مرڈر کے چارجز لگیں گے مس صندل۔۔۔۔
کیا آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے کہ یہ کیس اسی نوعیت کا ہے۔۔۔۔
آپ انہیں ہوسپٹل لیجانے کی جگہ یہاں پولیس اسٹیشن لے آئے اس پہ تو آپ کے خلاف بھی چاعجز لگ سکتے ہیں۔
وکیل اس کے خون آلود کندھے کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو مخالف انکھیں سکیڑ اسے دیکھے لگا
ہمیں مت سکھائیں ہمارا کام۔۔۔۔
جب تک مس صندل کے خلاف آپ کو کوئی ثبوت یا گواہ نہیں ملتا آپ انہیں یہاں نہیں رکھ سکتے۔۔۔۔۔اور جب بھی آپ کوان سے کوئی سوال کرنا ہو تو پہکے مجھ سے رابطہ کرنا ہو گا
صدیقی صاحب اطمینان سے بولے تو صندل کو کچھ سکون حاصل ہوا۔
اور آپ کیسے کہ سکتے ہیں کہ اس سب میں صندل صاحبہ معصوم ہیں۔۔۔
کیونکہ عشاء نے اسے پہلے بھی سیڑھیوں سے دھکا دے کر نقصان پینچانے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔
معراج کے جواب پہ وہ اسے آنکجیں پھیلائے دیکھنے لگی۔۔۔۔
اس کے علاوہ اس گھر کو آگ لگانے میں بھی عشاء کا ہی ہاتھ تھا۔۔۔شاید آپ نے غور نہیں کیا لیکن وہ لڑکی قد و قامد میں صندل جیسی ہی ہے۔۔۔
اور اب میرے گھر آ کر صندل پی حملہ سے یہ واضح ہو ججاتا ہے کہ وہ وہاں اسی نیت سے آئی تھی۔
معراج کی بات مکمل ہوئی تو صدیقی صاحب کچھ دستاویزات لے کر انسپکٹر صاحب کی جانب بڑھے۔
صدیقی صاحب میں صندل کو لے جا رہا ہوں۔۔۔آپ پلیز سب سنبھال لیجئے گا۔۔۔
آپ اطمینان سے جائیں میں یہاں سب دیکھ لوں گا ۔۔۔۔
وکیل کی جانب سے ہری جھنڈے دکجتے ہی وہ صندل کو سہارہ دیئے تھانہ سے باہر لے آیا۔
تھینک یو۔۔۔۔تھینک یو سو مچ۔۔۔۔
وہ اس کا شکر ادا کرنے لگی جس کے جواب میں وہ محض سر ہلا گیا۔
گاڑی میں بیٹھو۔۔۔۔
وہ حاکمانہ انداز میں کہتا خود ڈرائیونگ سیٹ پہ آ بیٹھا۔
ہم کہاں جا رہے ہیں۔۔۔۔۔
وہ اپنے کندھے کو چھو کر درد سے کانپتے ہوئے سوال کرنے لگی۔
اس کی شرٹ بھی کمر تک خون سے رنگی ہوئی تھی اور چھری سے بنا وہ گھاؤ نیلا پڑنے لگا تھا۔
ہوسپٹل۔۔۔۔تمہیں سٹیچز لگوانے۔۔۔۔
وہ مختصر کہنے لگا اور صندل ایک بار پھر ہوسپٹل پہنچنے پہ دل میں سب کو کوسنے لگی۔
________
وہ بار بار ہوسپٹل کال کرتا اور عشاء کے بارے میں معلومات حاصل کرتا۔
وہ ابھی تک ہوش میں نہیں آئی۔۔۔۔
وہ صندل کو بتاتا اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا۔
صندل اس کی نظروں میں بے شمار سوال دیکھ سکتی تھی۔
میرے جانے کے یہاں کیا ہوا صندل۔۔۔
گٹھنوں پہ کہنیاں ٹکائے وہ اس کے جواب کا منتظر تھا۔
مم۔۔۔میں تمہارے لئے کچھ سپیشل کرنا چاہتی تھی اسی لئے ملازمین کو بھیج دیا اور کچن میں کام کر رہی تھی۔
وہ نظریں جھکا کر کہنے لگی۔
جبکہ معراج اس بات پہ اپنے تاثرات پہ قابو پاتے اپنی بات جاری رکھنے کا کہنے لگا۔
دروازے پہ ہماری کچھ بات ہوئی وہ تمہارا پارسل لائی تھی لائبریری سے۔۔۔۔
میں نے کہا کہ تم یہاں نہیں ہو لیکن اس نے تمہارا انتظار کرنے پہ زور دیا۔
وہ کندھے اچکا کر کہنے لگی لیکن اسٹیچز کی وجہ سے کندھے میں درد ہوا تو سسک کر رہ گئی۔
آرام سے۔۔۔۔بلا وجہ اڈے حرکت نہیں دو۔۔۔
معراج پیشانی پہ بل سجائے اسے کہنے لگا۔ تو صندل زبردستی مسکرا دی۔
تم بہت اچھے شخص ہو معراج۔۔۔۔کبھی کبھی مجھے بہت برا لگتا ہے۔۔۔۔۔
برا۔۔۔کس بات کا۔۔۔۔اور شاید تم وہ تھپڑ بھول گئی ہو۔۔۔۔
وہ اس کے رخسار کی جانب اشارہ کرتا کہنے لگا جہاں ابھی بھی اس کی انگلیوں کے نشان دکھائی دے رہے تھے۔
ہاں۔۔۔۔تم اچھے کے ساتھ جذباتی بھی ہو۔۔۔۔
اب کی بار معراج نے کچھ توقف کیا اور پھر اس سے آگے کا قصہ بتانے کا کہنے لگا۔
میں کچن میں سبزیاں کاٹ رہی تھی جب وہ اس نے میری کمر پہ وار کیا۔۔۔
لیکن وہ تمہارے ساتھ ایسا کیوں کرے گی۔۔۔۔جبکہ تن دونوں تو جانتے بھی نہیں ایک دوسرے کو۔۔۔
وہ جھنجھلا کر کہنے لگا۔
معراج وہ تمہیں چاہتی ہے۔۔۔وہ بھی جنون کی حد تک۔۔۔۔
صندل اس کے ہاتھ پہ اپنا ملائم ہاتھ رکھ کر اپنی بات پی زور دیتی کہنے لگی۔
وہ دیکھ سکتی ہے کہ میں بھی تمہارے لئے جذبات رکھتی ہوں۔۔۔۔وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتی کچھ تلاش کرنے لگی۔
اور سچ تو یہ ہے کہ تم بھی مجھے چاہتے ہو۔۔۔۔
صندل نے اسے اسی کے جذبات سے روشناس کروایا تو وہ نظریں پھیر گیا۔
صندل ابھی یہ اس سب کا وقت نہیں۔۔۔
وہ اس کے ہاتھ کو تھامتا کہنے لگا تو وہ اثبات میں سر ہلا گئی۔
میں ڈر گئی تھی معراج۔۔۔۔
صندل اکڑ کر بیٹھتی کہنے لگی جیسے کوئی اس پہ اچانک حملہ کرنے والا ہو۔
بہت ڈر گئی تھی۔۔۔۔وہ دوبارہ میری جانب لپکی تو مجھ سے چھری اس کی آنکھ میں جا لگی۔
وہ اپنی انگلیاں مروڑ کر کہنے لگی۔
صندل۔۔۔۔کوئی بھی آپ پہ حملہ کرے تو انسان ہمیشہ وہاں سے بھاگنے کا سوچتا ہے حملہ کا نہیں۔۔۔۔اور وہ بھی ایسی نازک جگہ۔۔۔۔
تم جانتی ہو وہ ابھی تک کریٹیکل سچویشن میں ہے۔۔۔۔اس کا زندہ بچنا تقریبا ناممکن ہے۔۔۔۔
تم مجھے مرد الزام نہیں ٹھہرا سکتے معراج۔۔۔۔
بھاگنے سے کچھ نہیں ہوتا۔۔۔۔یہ مجھ سے زیادہ بہتر کوئی اور نہیں سمجھ سکتا۔۔۔۔میں نے۔۔۔۔۔
وہ بولتے ہقئے ایک دم رکی تھی اور پھر گہرہ سانس لے کر کھڑی ہو گئی۔
ایم سوری۔۔۔۔میری وجہ سے تمہیں اس سب سے گزرنا پڑ رہا ہے۔۔۔۔
تم کچھ بتا رہی تھی اپنے بارے میں۔۔۔۔۔
معراج نے اس سے پوچھنا چاہا تو وہ انکار میں سر ہلا گئی۔
میں تھک گئی ہوں۔۔۔۔آرام کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔
اس نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا تو معراج اس کی آنکھوں کے نیچے چھائے گہرے حلقے دیکھ کر خاموش ہو گیا۔
پھر کبھی صندل۔۔۔۔لیکن ایک دن ضرور۔ ۔
وہ خفیف سا مسکراتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی جبکہ معراج نے وہ ساری رات کبھی ہوسپٹل تو کبھی اپنے وکیل کو فون کرتے ہوئے گزار دی۔
_______
معراج۔۔۔۔مس صندل کیسی ہیں آپ۔۔۔۔۔
صدیقی صاحب ان دونوں سے ملتے ہوئے کہنے لگے۔
ہم ٹھیک ہیں آپ یہ بتائیں کہ کیس کا کیا ہوا۔۔۔۔
وہ دونوں مخالف صوفے پہ براجمان ہو گئے۔
ابھی تک تو کیس ہمارے ہاتھ میں ہے لیکن یہ کس طرف جاتا ہے اس کا فیصلی تبھی ہو پائے گا جب عشاء ہوش میں آئے گی۔۔۔۔
وہ اپنا چشمہ درست کرتا صندل کو تکتا ہوا کہنے لگا
معراج میں صندل سے کچھ سوالات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔
صدیقی صاحب کی بات پہ صندل کے بدن میں ایک غیر معمولی تناؤ آیا تھا۔
جی تو پوچھیں۔۔۔
وہ صندل کی جانب اشارہ کرتا کہنے لگا۔
تم سمجھے نہیں معراج مجھے صندل سے اکیلے میں کچھ سوالات کرنے ہیں۔۔۔
معراج احتجاج کرتا اس سے پہلے ہی صدیقی صاحب نے اسے ٹوک دیا۔
دیکھو معراج۔۔۔۔۔یہی بہتر ہے کہ کچھ معاملات وکیل اور اس کے کلائنٹ کے درمیان ہی رہیں۔۔۔۔
وہ کچھ توقف کے بعد محض سر ہلا گیا اور پھر وہاں سے اٹھ کر اپنے آفس کی جانب بڑھ گیا۔
تم نے عشاء پہ حملہ کیوں کیا۔۔۔۔۔
میں نے اپنی جان بچانے کے لئے یہ سب کیا۔۔۔۔
صندل کے جواب پہ صدیقی اسے حقارت سے دیکھتا اس کی جانب جھکا۔
مجھ سے جھوٹ مت بولو۔۔۔۔۔تم یہ سب کر کے بچ نہیں سکتی۔۔۔۔بہتر ہے کہ تمہیں جو کال کے لئے یہاں لایا گیا ہے وہ کرو۔۔۔۔نا کہ کوئی توجہ اپنی طرف کھینچو۔۔۔۔
وہ دبی ہوئی آواز میں اسے وارن کرنے لگا۔
شاید تم نے دیکھا نہیں معراج نے میرے لئے ایک کروڑ کا حرجانہ بھرا ہے۔۔۔۔
یہ بات ایک کروڑ کی نہیں بلکہ کروڑوں کی ہے۔۔۔۔۔جلد از جلد اپنا کام مکمل کرو۔۔۔۔
میں تمہیں کچھ پیپرز دوں گا تم اس پہ سائن کروا لینا۔
وہ کوئی بیوقوف نہیں جو کیکڈی بھی پیپر پہ سائن کر دے گا۔۔۔۔مجھے اس سب کے لئے وقت چاہئیے۔۔۔۔
اب کی بار وہ مکروہ سا مسکرا دیا۔
جب شہیر نے پہلی بار تمہیں ہمارے سامنے پیش کیا میں تب ہی سمجھ گیا تھا تم میں کچھ غیر معمولی ہے۔۔۔۔
وہ غلیظ نظروں سے اسے دیکھتا اپنی زبان سے آواز نکالتا کہنے لگا تو صندل اپنی مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی۔
اس کی نازک گردن میں مزید تناؤ در آیا۔۔۔۔
احتیاط سے۔ ۔۔۔۔کہیں تمہارا انجام بھی وہ نا ہو جو اس کا ہوا۔۔۔۔
وہ کسی ناگن کی طرح پھنکارتی وہاںسے اٹھ کر معراج کے تعاقب میں چلی گئی۔
