224.3K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zehr-e-Sheren Episode 10

Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui

مینجر ایمبولینس کو کال کرنے کے لئے بڑھا لیکن معراج کو مزید انتظار نہیں کر سکا۔

صندل میں تمہیں اٹھا رہا ہوں۔۔۔۔

وہ اس کا تکلیف سے بدلتے تاثرات اور فق ہوتا رنگ دیکھ کر بولا۔

معراج نے اسے اپنی بانہوں میں اٹھایا تو وہ کراہ اٹھی۔

اس کے پاؤں سے ایک ہیل فرش پہ گری لیکن وہ کسی بھی چیز کی پرواہ کئے بغیر باہر کی سمت بھاگا۔

بیک سیٹ پہ اسے بٹھا کر وہ جلدی سے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتا کا سٹارٹ کرنے لگا۔

بس کچھ دیر صندل۔۔۔اور پھر ہم ہوسپٹل پہنچ جائیں گے۔۔۔۔

ہمممم۔۔۔

وہ درد کی وجہ سے ہونٹ دانتوں تلے دباتی محض اتنا ہی کہ پائی۔

_____

آپ پریشان مت ہوں۔۔۔۔

وہ اپنی بازو پہ گریں اس سبب ان کےبازو میں فریکچر ہے۔ وہ اس وقت دوا کےزیر اثر ہیں۔۔۔جب بھی انہیں درد ہو یہ ٹیبلیٹ دے دیجئیے گا۔

باقی صرف ہلکی سی خراش ہے جو کہ جلد ہی ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔

ڈاکٹر اسے تفصیل سے سمجھانے لگا تو اس کو سکون کا سانس آیا۔

صندل۔۔۔۔۔

لگتا ہے میں آپ کا سر درد بن گئی ہوں۔۔۔۔

وہ ایک کہنی پہ وزن دیتی بیٹھتے ہوئے مخاطب ہوئی۔

نہیں ایسا نہیں ہے۔۔۔۔لیکن ہاں تمہیں صحت مند دیکھ کر مجھے برا نہیں لگے گا۔

وہ متبسم سا اسے تکتا کہنے لگا تو صندل مسکرا دی۔

میں جان بوجھ کر نہیں گری۔۔۔۔

آہاں۔۔۔۔تمہیں اوپرجانا ہی نہیں چاہئیے تھا۔۔۔

وہ اس کے قریب بیٹھتا پریشانی سے کہنے لگا۔

نہیں۔۔۔۔۔مجھے کسی نے دھکا دیا۔۔۔۔

وہ اپنی بازو کو چھوتی ہوئی کہنے لگی۔

دھکا۔۔۔۔معراج کی پیشانی پہ کچھ بل نمودار ہوئے۔

کوئی تمہیں دھکا کیوں دے گا۔۔۔۔کیا تم نے دیکھا کہ وہ کون تھا۔۔۔

نہیں۔۔۔وہ افسردگی سے کہنے لگی۔

میں نے بکس تھام رکھی تھیں اس لئے سارا دھیان ان پر تھا اچانک دھکا لگنے سے میں گری تو پھر کچھ سمجھ نہیں آیا۔۔۔

وہ اپنے ایک ہاتھ کو ہوا میں لہراتے ہوئے کہنے لگی۔

معراج نے اپنی یاداشت پہ زور دی لیکن اس وقت وہ محض صندل کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا۔

وہ صندل کو دیکھنے لگا جو نظریں جھکائے اپنے بازو کو دیکھ رہی تھی۔

معراج کا ہاتھ بےخودی میں اس کی جانب بڑھا اور اس کے رخسار کو نرمی سے اپنی انگلیوں کی پوروں سے چھونے لگا۔

صندل نے نظروں کا زاویہ بدل کر اچنبھے سے اس کی جانب دیکھا تو معراج نے اپنا ہاتھ اس کے چہرے سے ہٹا لیا۔

کیا ہوا۔۔۔۔

وہ اس کی جانب ہلکا سا جھکتے ہوئے پوچھنے لگی۔

میرے خیال سے ہمیں چلنا چاہئیے۔۔۔۔

وہ اپنا حلق تر کرتا کہنے لگا تو صندل اس سے دور ہونے لگی۔ جبکہ معراج کھڑا ہوتا اس کی مدد کرنے لگا۔

_____

آج بھی وہ گلاب کی مہک سے بیدار ہوئی تھی۔

اس کا سارا کمرہ گلاب کی پھولوں سے بھرا ہوا تھا۔

وہ انہیں دیکھتی خوشی سے کھلکھلا اٹھی اور پھر انہیں نرمی سے چھونے لگی۔

دروازہ کھولتی وہ سیڑھیوں سے اترنے لگی تو معراج کو ناشتہ کرتے ہوئے پایا۔

آپ مجھے بگاڑ رہے ہیں۔۔۔۔

وہ کرسی کھینچتی اس کے برابر میں بیٹھ گئی۔اور معراج اسے کھوجتی نظروں سے دیکھنے لگا۔

مجھے خوشی ہے تمہیں پسند آیا۔۔۔۔

پسند۔۔۔۔آئی جسٹ لو اٹ معراج۔۔۔۔۔

اصل میں میں آپ سے اس دن کے اپنے رویہ کے لئے معافی مانگنا چاہتا ہوں۔۔۔۔

وہ گلاس کو گھورتا ہوا کہنے لگا۔

معافی لیکن کس لیئے۔۔۔

وہ دونوں ہاتھوں کو میز پہ رکھ کر اسے سنجیدگی سے کہنے لگی۔

اس دن میں نے آپ سے غلط سوال کیا وہ میری جگہ نہیں تھی اور میں نے اپ سے غلط رویہ بھی اپنایا۔

لیکن مجھے اس بات کا برا نہیں لگا۔۔۔

وہ نہایت اطمینان سے بولی اور معراج پیشانی پہ بل سجائے اسے دیکھنے لگا۔

تو کس بات کا برا لگا ۔ ۔۔۔۔

میں نے آپ سے حق کا سوال کیا تھا اور آپ نے اپنی ضد چھوڑ دی۔

وہ اس کی بازو کو اپنی انگلیوں سے چھوتی ہوئی کہنے لگی۔

اگر آپ کہتے کہ ہاں حق رکھتا ہوں تو میں ضرور آپ کو جواب دیتی۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ذومعنی سے کہتی وہاں سے چلی گئی جبکہ معراج اسے دیکھتا ہی رہ گیا جب تک وہ وہاں سے اوجھل نا ہو گئی۔

_____

معراج سر۔۔۔۔۔کیسے ہیں آپ ۔۔ ۔۔

وہ ابھی لائبریری داخل ہی ہوا تھا جب عشاء سے ملاقات ہوئی۔

مس عشاء کیسی ہیں آپ۔۔۔۔۔

وہ خفیف سا مسکراتا پوچھنے لگا۔

میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔کل آئی تھی میں بھی فنکشن پہ پر افسوس ملاقات نہیں ہو پائی۔۔۔۔

وہ افسردہ سی کہنے لگی۔

آپ وہاں ائیں مجھے خوشی ہوئی۔۔۔۔۔وہ نارمل انداز سے کہنے لگا۔

میں نے کچھ کتابوں کا آرڈر دیا تھا کیا وہ ابھی تک آ گئیں۔۔۔۔

نہیں ایم سوری سر۔۔۔۔لیکن چند دنوں تک آ جائیں گی۔۔۔۔

اٹس اوکے۔۔۔۔۔میں انتظار کر لوں گا۔۔۔۔

وہ پیشہ ورانہ طریقہ اختیار کرتا کہنے لگا اور اپنی مخصوص جگہ کی جانب بڑھ گیا۔

______

وہ چائے اس کے سامنے رکھتی خود بھی بیٹھ گئی۔

کیا ہوا۔۔۔۔

معراج کسی سوچ میں کھویا ہوا پیپر ویٹ کو اپنی انگلیوں سے گھما رہا تھا۔

میرے ذہن میں کچھ ہے لیکن اسے قلم بند نہیں کر پا رہا۔۔۔۔

کیا ہے آپ کے ذہن میں شاید میں کچھ مدد کر پاؤں۔۔۔۔۔۔

وہ چائے کا سپ لیتی کہنے لگی۔

میں اس بار کچھ مختلف کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔سین کچھ رغبت دلانے کے حوالے سے ہے۔۔۔۔

ہممم۔۔۔۔شاید میں کچھ کر پاؤں۔۔۔۔

اب کی بار وہ مسکرا دیا۔مجھے نہیں لگتا آپ اس بارے میں کچھ کر سکتے ہیں۔۔۔۔

یہ تو ہم بعد میں دیکھیں گے۔۔۔۔۔

وہ ذومعنی طریقے سے کہتی وہاں سے چل دی۔

_______

تو کیسا چل دہا ہے سارا کام۔۔۔۔

وہ امان سے سرسری سا پوچھنے لگا۔۔۔

تم جانتے تو ہو یا۔۔۔۔آج کل مارکیٹ کافی ڈاؤن جا رہی ہے۔۔۔۔

وہ ہر ماہ کم از کم ایک بار امان کے گھر ضرور جاتا تھا اور اس کی فیملی کے ساتھ کھانا کھاتا تھا۔۔۔۔بچوں کے لئے گفٹس لے جانا بھی اسی میں شامل تھا۔

بھائی جان آئیں نا کھانا تیار ہے۔۔۔۔

امان کی بیوی ٹیبل سجاتی ان دونوں کو کھانے کے لئے بلانے آئی۔

ہاں حالات تو خراب ہیں لیکن مجھے یقین ہے تم کچھ کر لو گے۔۔۔۔

وہ اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتا کہنے لگا جب بیرونی دروازے سے امان کی بارہ سالہ بیٹی اور دس سالہ بیٹا اندر داخل ہوا۔۔۔۔

معراج انکل۔۔۔۔۔۔

اسے دیکھتے ہی وہ چھوٹی سی توند کا حامل شخص بیگ سمیت ہی اس کی جانب بھاگا۔۔۔۔

آ گیا میرا شیر۔۔۔۔۔

وہ اس کے بال خراب کرتے کہنے لگا تو شہروز اس کے ہاتھ دیکھنے لگا۔۔۔۔

کیا آپ میرے لئے وہ کار لائے۔۔۔۔۔

شہروز بری بات ۔۔۔۔

امان کی بیوی اسے ڈانٹنے لگی جبکہ وہ دونوں مسکرا دیئے۔۔۔۔

بلکل لایا ہوں پر پہلے مجھے یہ بتاؤ کہ تمہارے اتنے گندے نارکس کیوں آئے۔۔

وہ اس کا کان کھینچتا کہنے لگا جس پہ وہ چلانے لگا۔۔

چھوڑیں انہیں ۔۔۔۔۔آپ چلیں کھانا کھا لیں یہ تو بہت تنگ کریں گے آپ کو۔۔۔۔

وہ پھر سی کہتی بچوں کے ساتھ دوسری جانب چل دیں ایک بار پھر امان اور معراج تنہا رہ گئے۔

ویسے صندل ابھی تک تمہارے گھر ہے تم تو کہ رہے تھے کہ جیسے ہی ٹھیک ہو گی اپنا بندوبست کر لے گی۔۔۔

امان یار۔۔۔۔تم جانتے تو ہو کہ وہ گر گئی تھی ایسے میں میں کیا کہتا۔۔۔۔۔

حیرت کی بات ہے کہ پہلے وہ اگ کی وجہ سے زخمی تھی اور اب گرنے سے۔۔۔۔۔

کوئی بھی یہ سمجھے گا کی وہ یہ سب اسی لئے کر رہی ہے کہ تن اسے وہاں سے جانے کا نا کہ دو۔۔۔۔

وہ دونوں کیز کی جانب بڑھ رہے تھے جب امان کہنے لگا۔

تمہیں تو وہ کافی پسند تھی۔۔۔۔

معراج کے ذہن میں وہ مجظر گھوم گیا تھا جب اس نے ان دونوں کو باتیں کرتے دیکھا تھا۔۔۔۔

صندل کا ذکر اس کے منہ سے سننا معراج کو خاصا ناگوار گزرا تھا۔

اسے جب تک ضرورت ہے وہ وہیں رپے گی۔۔۔۔۔اور جب تک میں بہتر سمجھوں گا اسے وہاں رہنے دوں گا۔۔۔۔

معراج نے مانو حتمی فیصلہ سنایا تھا اور امان اس کے لہجہ کی مضبوطی دیکھ خاموش ہو گیا۔