Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui NovelR50459 Zehr-e-Sheren Episode 32
Rate this Novel
Zehr-e-Sheren Episode 32
Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui
وہ صبح جاگی تو معراج اسے کہیں بھی نا دکھا۔
شادی کے بعد پہلی رات اس نے ایسی تو نہیں سوچی تھی۔۔۔وہ کچھ دیر تک چھت کو گھورتی بزو ماتھے پہ ٹکا کر لیٹی رہی اور پھر آرام سے اٹھ کر فریش ہونے چلی گئی۔
ہال میں آئی تو معلوم ہوا کہ معراج جاگنگ کے بعد سے واپس نہیں لوٹا۔۔۔
وہ اس کے خشک رویہ کو نظرانداز کرتی دونوں کے لئے ناشتہ بنانے میں مصروف ہو گئی۔
معراج کافی وقت کے بعد واپس آیا تو صندل کو ڈائیننگ ٹیبل پہ انتظار کرتا دیکھ اسی جانب بڑھ گیا۔
اب کیسی ہو؟
وہ اس کی جانب دیکھے بنا بریڈ کا سلائس اٹھاتے ہوئے کہنے لگا۔
بہتر ہوں۔۔۔۔
وہ اس کے سپاٹ چہرے جو دکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔شاید اسے انتظار تھا کسی بات کا۔
معراج سلائس کو پلیٹ میں پھینک کر اس کی جانب پلٹا۔
میں تم سے نہیں پوچھوں گا کہ ایسا کیا تھا کہ تم رات کو اس قدر خوفزدہ ہو گئی۔۔۔۔جب تک تم خود نا بتانا چاہو۔۔۔
اور نا ہی میں تم پہ ہماری شادی کو لے کر کوئی زور زبردستی کروں گا صندل۔۔۔
لیکن ایک بات جو میری برداشت سے باہر ہے وہ ہم میں کسی کی مداخلت ہے۔۔۔تم نے آج سے پہلے کب کیا کیا۔۔۔مجھے نہیں جاننا۔۔۔۔لیکن مجھے یہ بتاؤ کہ نکاح کے فورا بعد میرا دوست ہمارے کمرے میں کیا کر رہا تھا۔۔۔۔
وہ خود پہ بمشکل قابو پاتا اس کی انکھوں میں جھانکتا استفسار کرنے لگا۔
ساری رات وہ ایک لمحے کے لئے بھی سو نہیں پایا تھا۔۔۔وہ یہ بات کسی بھی صورت برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔
میں نے سوچا تھا کہ ہم محبت بھری باتیں۔۔۔
وہ بات کا رخ بدلنے لگی تو معراج نے اسے کلائی سے تھام کر اپنی جانب کھینچا۔
بات نہیں بدلو صندل۔۔۔میں بےوقوف نہیں ہوں۔۔۔۔سب دیکھتا ہوں۔۔۔سب سمجھتا ہوں۔۔۔
اب کی بار وہ درشت لہجہ میں گویا ہوا۔
مجھے نہیں معلوم وہ وہاں کیوں آیا۔۔۔۔وہ مجھے تمہاری زندگی میں پسند نہیں کرتا معراج۔۔۔۔اور سچ تو یہ ہے کہ مجھے بھی وہ ایک آنکھ نہیں بھاتا۔۔۔۔
وہ تمہارا دوست ہے اور میں تمہاری بیوی۔۔۔میری عزت اس پہ فرض ہے لیکن وہ ہمارے کمرے میں آتا ہے اور مجھے کہتا ہے کہ میں یہ شادی محض تمہاری دولت کی وجہ سے کر رہی ہوں۔۔۔۔
مجھے بتاؤ اس میں میرا کیا قصور۔۔۔۔شاید وہ ہمارے درمیان یہ خلا پیدا کرنا چاہتا تھا جس میں کامیاب بھی رہا۔۔۔
وہ اپنے اور معراج کے درمیان اشارہ کرتی ہوئی کہنے لگی۔
اس کے الفاظ معراج کو کتنی تکلیف پہنچا رہے تھے وہ نہیں جانتی تھی۔۔۔امان کے ساتھ اس کی دوستی ایک عرصے سے تھی اور صندل وہ اس کی محبت تھی۔
صندل اپنی کلائی پہ اس کی پکڑ میں سختی محسوس کرنے لگی تو کراہ اٹھی۔
معراج مجھے درد ہو رہی ہے۔۔۔۔
لیکن وہ اس کی تکلیف کو قدرے نظر انداز کر گیا۔۔۔صاف ظاہر تھا کہ وہ اپنی کسی سوچ میں غرق تھا۔
معراج۔۔۔۔
صندل اب کی بار چلائی تو وہ ہوش میں آیا اور صندل جا خوبصورت چہرہ دیکھنے لگا۔
درد کی وجہ سے اس کی پیشانی پہ بل نمودار ہو چکے تھے جبکہ انکھوں میں پانی تیرنے لگا۔
اس نے صندل کو بالوں سے جکڑ کر یکدم اپنے قریب کھینچا تو اس کی آنکھیں پھیلتی چلی گئیں۔۔۔
اپنی محبت کی پہلی مہر اس نے صندل پہ ثبت کی اور پھر اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔
پہلی بار اس نے صندل کا رنگ سرخ پڑتا دیکھا تھا۔۔۔یہ اس کے لئے ایک نیا پہلو تھا۔
معراج نا چاہتے ہوئے بھی مسکرا تھا۔
سب کچھ وہیں چھوڑ کر وہ اپنی کرسی سے کھڑا ہوا تو صندل اس سے نظریں چراتی ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
آہ۔۔۔معراج یہ ک۔۔۔کیا کر رہے ہو۔۔۔
معراج نے اسے اپنی بانہوں میں اٹھایا تو صندل بوکھلا گئی۔
زیادہ کچھ نہیں۔۔۔بس ہمارہ یہ خلا ختم کرنے والا ہوں۔۔۔۔
وہ خلاء پہ زور دیتا کہنے لگا۔
معراج مجھے نیچے اتارو۔۔۔
وہ اس کا کے چہرے پہ پھیلی مسکراہٹ دیکھ کر مزید بوکھلاہٹ کا شکار ہوئی۔
تو مسز معراج بھی کسی بات پہ بوکھلاہٹ کا شکار ہوتی ہے اور یہی نہیں بلش بھی کرتی ہے۔۔۔
وہ کمرے میں داخل پوتا ہوا اس کے چہرے کو دیکھتا کہنے لگا جس پہ ایک بعد ایک سرخ کے مختلف شیڈ رقص کر رپے تھے۔
جب وہ اسے بیڈ کی جانب لیجانے لگا تو صندل اس کے چوڑے سینے میں چہرہ چھپا گئی جس پہ معراج بےآواز ہنس دیا۔
وہ اسے نرمی سے بستر پہ بٹھا کر خود بھی ساتھ میں بیٹھ گیا۔
چہرے پہ آئی آوارہ لٹوں کو وہ نرمی سے ہٹانے لگا تو صندل اپنی نظریں جھکا گئی۔
کس قدر معصوم لگ رہی تھی وہ اسے۔۔۔
معراج اس پہ جھکنے لگا تو صندل نے آنکھیں بند کر لیں۔
سارا وقت وہ اس کے چہرے پہ بکھرتے قوس و قزاح کو دیکھتا رہا جب کہ صندل نے بھی خود کو اس کے حوالے کر دیا۔
________
حمیرا کے آنے پہ معراج آرام کرتی صندل کو چھوڑ کر باہر نکلا۔
وہ اسے ڈسٹنگ کرتے دیکھ خود آفس کی جانب بڑھنے لگا لیکن پھر وہیں رک گیا۔
صندل زرا آرام کر رہی ہے تو تم اسے ڈسٹرب مت کرنا۔۔۔۔
وہ عام انداز میں کہنے لگا۔۔۔
جی صاحب۔۔۔۔اور دوپہر میں کیا پکاؤں۔۔
وہ پلٹا تو پھر اس کے سوال پہ رک گیا۔۔۔۔
جب صندل جاگے تو اسی پوچھ لینا۔۔۔
وہ متبسم سا کہتا آفس میں چلا گیا۔
______
جی صاحب۔۔۔۔میں نے وہ سنبھال کر رکھا ہے۔۔۔
جی۔۔۔جی۔۔۔۔جب آپ کہیں گے میں ان کے کھانے میں ملا دوں گی۔۔۔۔
کچن میں آتی صندل حمیرا کی سرگوشیوں پہ رکی تھی۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔کل ہی کام ہو جائے گا آپ کا۔۔۔۔
وہ صندل کی موجودگی کو بھانپتی اس سے پہلے ہی وہ دبے پاؤں وہاں سے چلی گئی۔
