Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui NovelR50459 Zehr-e-Sheren Episode 3
Rate this Novel
Zehr-e-Sheren Episode 3
Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui
وہ فریش ہو کر واپس ہال میں آیا تو صندل اسے کہیں بھی دکھائی نا دی۔
کچن سے آتی آوازوں کے سبب وہ اس طرف پلٹا تو وہ اسے فریج میں کچھ ڈھونڈتی دکھائی دی۔
آپ کیا کر رہی ہیں۔۔۔۔
وہ دروازہ سے ٹیک لگائے کھڑا اس کو دیکھنے لگا۔
اوہ میں نے سوچا کہ ناشتہ بنا دوں آپ کو۔۔۔۔۔
اس سب کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔یہ آپ کا کام نہیں۔۔۔
اسے کچن میں دیکھ کر معراج کو عجیب سا محسوس ہوا تھا۔
میں جانتی ہوں۔۔۔لیکن آپ کا انتظار کر رہی تھی تو سوچا ناشتہ ہی بنا دیتی ہوں۔۔۔۔
وہ اب ڈش میں میں آملیٹ بریڈ اور جوس کا گلاس سجائے اس کی جانب بڑھی۔
کیا مجھے راستہ ملے گا۔۔۔۔
چہرہ پہ مسکراہٹ سجائے وہ اس سے سوال کرنے لگی تو معراج راستہ سے ہٹ گیا اور وہ ڈش ہال میں لے آئی۔
آپ کا ناشتہ۔۔۔۔
معراج نے ایک نظر صندل کو دیکھا اور پھر اس کے بنائے ناشتہ کو۔
مجھے بھوک نہیں۔۔۔۔آپ کریں ناشتہ۔
وہ مختصر کہتا آفس کی جانب بڑھنے لگا۔۔۔دروازہ زور سے بند کیا اور اپنا سر پکڑ کر کرسی پہ بیٹھ گیا۔
صندل کا اس کے لئے ناشتہ بنانا معراج کو بلکل پسند نہیں آیا تھا۔
اور ویسے بھی پہلے کافی لانا اور ناشتہ بنانا یہ سب ذاتی معاملات تھے وہ یہاں یہ سب کرنے نہیں آئی تھی۔
اس کے آفس کا دروازہ ناک ہوا تو معراج نے اسے داخل ہونے کی اجازت دے دی۔
ایم سوری۔۔۔۔اپ کو برا لگا۔۔۔۔
وہ دونوں ہاتھ باندھے اس کے سامنے کسی بچے کی طرح مودبانہ انداز میں کھڑی تھی۔
دیکھیں مس صندل۔۔۔۔میں نہیں جانتا کہ اپ کو اس کام کا کتںا تجربہ ہے اور کتنا نہیں۔۔۔لیکن میں اپنی پرائیویسی کو بہت اہمیت دیتا ہوں۔۔۔۔
آپ یہاں پہ جس کام کے لئے آئی ہیں اسی پہ دھیان دیں۔۔۔مزید کسی اور چیز کی نا تو میں توقع کرتا ہوں اور نا ہی آپ کو کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔۔
اگر یہسب کچھ مجھے امپریس کرنے کے لئے تھا تو یقین کریں آپ اس میں ناکام رہی ہیں۔۔۔
معراج اس کی جانب سختی سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
جسے صندل خاموشی سے سنتی رہی۔
جی۔۔۔ایم سوری۔۔۔۔
معراج کے ڈانٹنے کے بعد اس نے مختصر سا جواب دیا جس پہ وہ کرسی سے ٹیک لگا کر اسے دیکھنے لگا۔
میرے خیال سے اب ہمیں موضوع کی جانب آنا چاہئیے۔۔۔۔
اب کی بار اس کے لہجے میں خاصی نرمی تھی جس پہ اس نے محض سر ہلا دیا جبکہ نظریں جھکی ہوئی تھیں۔۔
اسے اس وقت دیکھنے پہ بلکل اساس نہیں ہوتا تھا کہ یہ وہی لڑکی ہے جو کہ کچھ دیر پہلے اتنے اعتماد کا مظاہرہ کر رہی تھی۔
معراج کو وہ کسی پہیلی کی طرح لگی تھی۔
آج آپ کا انٹرویو ہے۔۔۔۔اس کے علاوہ اڈیٹر کے ساتھ میٹنگ بھی ہے۔۔۔۔۔
کچھ لمحوں بعد صندل اسے شیڈول سمجھانے لگی۔
______
وہ اس وقت آفس میں اکیلا بیٹھا تھا جب کچھ سوچ کر لیپ ٹاپ پہ کچھ ڈھونڈنے لگا۔
صندل کے نام سے کچھ ناولز اسے باآسانی مل گئے ابھی وہ پہلا ناول پڑھنے کا سوچ ہی رہا تھا جب دروازہ یکدم کھلا اور معراج نے ہاتھ یوں لیپ ٹاپ سے ہٹائے جیسے کوئی بچہ چاکلیٹ چراتے ہوئے پکڑا گیا ہو۔
معراج میرے دوست۔۔۔۔کہا تھا نا آؤں گا ۔۔۔۔تمہاری اسسٹنٹ کیسی ہے۔۔۔۔
اس کے سوال پہ معراج اسے آنکھیں سکیڑتا دیکھنے لگا۔
اسے یقین نہیں تھا کہ امان واقعی میں آ جائے گا۔
بیٹھو لائبریری گئی ہے کچھ کتابیں واپس کرنے تھیں ابھی آتی ہو گی۔
مسٹر معراج۔۔۔۔آپ نے جو منگوایا میں لے ائی ہوں۔۔۔۔
وہ تین سے چار کتابیں پکڑے آفس میں داخل ہوئی اور امان کو دیکھ کر وہیں رک گئی۔
مس صندل ان سے ملیں یہ امان ہے میرا دوست ۔۔۔
معراج ان کا تعارف کروانے لگا تو صندل کتابیں ڈیسک پہ رکھنے لگی
آپ سے مل کر بہت خوشہ ہوئی۔۔۔۔جب سے مجھے معلوم ہوا تھا کہ صندل احمد علی یہاں کام کر رہی ہیں میں آپ سے ملنے کے لئے بےقرار تھا ۔۔۔۔ویسے میں آپ کا بہت بڑا فین ہوں۔۔۔۔
وہ صندل کی جانب ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہنے لگا تو اس نے بھی اپنا نازک ہاتھ امان کی جانب بڑھا دیا۔
امان کے ہاتھ میں اس کا ہاتھ دیکھ کر معراج کو جھنجھلاہٹ سی ہونے لگی جو کہ اس کے چہرے پہ واضح دکھائی دی تھی۔
صندل نے اس کی تاثرات دیکھ کر امان کی پکڑ سے اپنا ہاتھ فورا کھینچا تھا۔
آپ سے مل کر خوشہ ہوئی۔۔۔۔
وہ اپنے مخصوص انداز میں بولی اور پھر ان دونوں کو اکیلا چھوڑ کر چلی گئی۔
اس کے جاتے ہی امان نے سیٹی بجائی تھی اور آنکھیں گھنا کر معراج کو دیکھنے لگا۔
تمہاری اسسٹنٹ تو بہت خوبصورت ہے۔۔۔۔
وہ دانت نکالتا اس کےسامنے کرسی پہ گرتے ہوئے کہنے لگا۔
پتا نہیں میں نے غور نہیں کیا۔۔۔۔۔
معراج کی بات پہ امان ایک جاندار قہقہہ لگا اٹھا۔
ٹھیک ہے یار۔۔۔۔ویسے بھی وہ تمہاری ٹائپ کی نہیں۔۔۔۔۔
اب کی بار وہ ایک آنکھ دباتا کہنے لگا جس پہ وہ سر جھٹک کر رہ گیا۔
______
آپ کا کام کیسا چل رہا ہے۔۔۔۔
آج اسے معراج کے لئے جاب شروع کرنے کے بعد تیسرا دن تھا۔
معراج واقعی ایک ریزرو نیچر کا شخص تھا اقر اس سے دقری ہی اختیار کئے تھا۔
صندل کے سوال پہ اس نے چہرہ کا رخ اس کی جانب موڑا۔
کچھ خاص نہیں۔۔۔۔آپ بتائیں۔۔۔۔
ابھی میں شروعات میں ہی ہوں۔۔۔۔لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ ایک بہتر ناول ثابت ہو گا۔
ویسے کیا ٹاپک کیا ہے۔۔۔۔۔
اب کی بار وہ تجسس سے پوچھنے لگا۔
صندل اسے پھر اسی پراسرار نظروں سے دیکھنے لگی۔
ایک مصنف۔۔۔۔جو اپنی ہی دنیا میں رہتا ہے۔۔۔۔۔اور صرف ایک خاص قسم کے کام کو ہی سراہتا ہے۔۔۔۔۔
صںدل پین کو اپنی پتلی انگلیوں میں گھماتے ہوئے کہنے لگی۔
آپ کا مطلب آپ کا ٹاپک میں ہوں۔۔۔۔۔
معراج اس کی جانب متوجہ ہوتا ہنستے ہوئے کہنے لگا۔
صندل نے اسے پہلی بار یوں ہنستے دیکھا تھا اور کی پرکشش مسکراہٹ دیکھ کر وہ مسکرا دی۔
میں ایسا تو نہیں کہوں گی۔۔۔۔لیکن جی آپ سے مجھے کافی مدد ملے گی۔
اگر ایسا ہے تو پھر تو یہ ناول مجھے ڈیڈیکیٹ کرنا چاہئیے۔۔۔۔
ان دنوں میں وہ پہلی بار اس سے یوں کھل کر بات کر رہا تھا ۔۔۔۔
ویسے میرا ماننا ہے کہ انسان کو کچھ ایسا لکھنا چاہئیے جس سے پڑھنے والے کی شخصیت میں اصلاح ہو نا کہ ایسا کہ جس سے وہ منتشر ہو جائے۔۔۔۔
اس نے صندل کا پہلا ناول کچھ پڑھا تھا۔۔۔۔جس سے اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ کس طرح کی چیزیں لکھتی ہے۔۔۔۔
اصلاح تو ہر چہز میں پائی جا سکتی ہے۔۔۔۔یہ تو ڈھونڈنے والے پہ منحصر کرتا ہے کہ وہ اس سے کیا سیکھتا ہے۔۔۔۔
ہمارے معاشرے میں پہلے ہی بہت فساد پایا جاتا ہے۔۔۔۔اس پہ ایسی تحاریر۔۔۔۔میں اس کی پوری مخالفت کرتا ہوں۔۔۔۔
ہمارے معاشرے مین کتنے لوگ یہ سب پڑھتے ہوں گے مسٹر معراج۔۔۔۔۔۔اور میں دعوے سے کی سکتی ہوں کی جو یہ پڑھتے ہیں ان میں منتشر لوگوں کی شرح بہت کم ہو گی۔
میرا ماننا ہے کہ پڑھنے سے ہماری شخغیت نہیں بنتی۔۔۔۔ہماری شخصیت ہمارے اردگرد ہونے والے واقعات سے بنتی ہے۔۔۔۔
انسان جو کرتا ہے وہ عمل کا ردعمل ہوتا ہے۔۔۔۔۔
آپ کی سوچ مختلف ہے۔۔۔۔میں حث نہیں کرنا چاہتا لیکن مجھے امید ہے کہ جب تک اپ میرے لئے کام کر رہی ہیں شاید میں آپ کی سوچ بدل سکوں۔۔۔۔
وہ اسے غور سے دیکھتا ہوا کہنے لگا تو صندل بھی اسے عجیب نگاہوں سے دیکھنے لگی۔
_____
وہ آج پھر لائبریری آیا تھا اور سیدھا اپنی مختص کی گئی جگہ کی جانب بڑھ گیا۔
عشاء اس وقت کسی طالبعلم کی مدد کر رہی تھی جس اس کی نظر معراج کی جانب اٹھی۔
اسے دیکھتے ہی عشاء کے چہرے پہ مسکراہٹ پھیلی تھی۔
آپ کو یہ کتاب سیکشن بی میں مل جائے گی۔۔۔۔
وہ اس طالبعلم کو کہتی معراج کی جانب بڑھ گئی لیکن پھر اس کے ساتھ ایک لڑکی کو دیکھ کر اس کے قدم وہیں جم گئے۔
وہ لڑکی بےشک حسین تھی اور ہر طرح سے اس سے مختلف بھی۔
اور سب سے بڑھ کر معراج اسے بہت غور سے دیکھ رہا تھا جبکہ وہ کچھ لکھنے میں مصروف تھی۔
اس نے کبھی میری جانب تو نہیں دیکھا ۔۔۔۔۔یہ خیال آتے ہی اس لڑکی کے لئے دل میں برے خیالات پیدا ہوئے جسے اس نے فورا جھٹک دیا۔
ہمت کرتی وہ ایک بار پھر اس کے سامنے کھڑی تھی۔
آپ کیسے ہیں۔۔۔۔
وہ اس کے سامنے جا کر رسمی سی گفتگو کرنے لگی۔
نسوانی آواز پہ صندل کو دیکھتا معراج ایک دم چونکا تھا اور پھر عشاء کی جانب دیکھنے لگا۔
پہلے تو اسے یاد نہیں آیا لیکن پھر اچانک یاد آنے پہ وہ مسکرا دیا۔
کیسی ہیں آپ۔۔۔۔وہ بھی رسما سوال کرنے لگا۔
میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔
جواب دیتے ہوئے اس کی نگاہ بار بار صندل کی جانب اٹھتی جسے معراج نے فورا بھانپ لیا۔
ان سے ملیں۔۔۔۔یہ میری نئی اسسٹنٹ ہیں۔۔۔۔
وہ صندل کا تعارف عشاء سے کرانے لگا۔۔۔۔
وہ مخصوص انداز میں مسکراتی اس سے ہاتھ ملانے لگی جب کہ معراج کے لئے اس کی انکھوں میں جلتے دیئے صندل نے بخوبی دیکھے تھے۔
آپ سے نل کر خوشہ ہوئی۔۔۔۔اور مجھے اب واپس جانا چاہئیے ۔۔۔۔۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتی وہاں سے چل دی جاتے ہوئے اس نے ایک بار پلٹ کر معراج کو ضرور دیکھا تھا جس کی نظریں پھر سے صندل پہ مرکوز تھیں۔
۔۔۔۔
وہ آپ کو چاہتی ہے۔۔۔۔۔
معراج صندل کے ساتھ لائبریری کی پارکنگ کی طرف بڑھ رہا تھا جب صندل کی بات پہ چونکا۔
کون مجھے چاہتی ہے۔۔۔۔
اس کے لہجے میں حیرانگی واضحہ تھی۔
عشاء۔۔ ۔۔۔۔وہ آپ کو چاہتی ہے ۔۔۔۔۔
اب کی بار معراج مسکرا دیا اور اس کی بات پہ سر جھٹک کر رہ گیا
تم عورتیں بھی نا پتا نہیں کہاں کہاں سے باتیں بنا لیتی ہو۔۔۔۔
میں سچ کہ رہی ہوں۔۔۔۔اس کے لہجہ اور نظروں میں اپ کے لئے اپائیت اور محبت صاف جھلکتی ہے۔۔۔۔
وہ دونوں گاڑی کے قریب پہنچ چکے تھے جب وہ صندل کے لہجہ میں سنجیدگی دیکھ کر رک گیا۔
اچھا کیا واقعی۔۔۔۔اور تم کیسے کہ سکتی ہو کہ وہ کوئی اور جذبہ نہیں۔۔۔۔وہ میری تحاریر شوق سے پڑھتی ہے۔۔۔۔ایسا بھی تو ہو سکتا ہے۔ ۔۔
معراج اپنی بات مکمل کرتا اس سے پہلے صندل نے اس کی بات کاٹ دی اور ایک قدم لیتی اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
نہیں معراج۔۔۔۔میں نے اس کی انکھوں میں میرے لئے نفرت اور آپ کے لئے محبت دیکھی ہے۔۔۔۔جانتے ہیں کیسے۔۔۔۔کیونکہ میں وہی محبت روز آئینہ میں آپ کے لئے اپنی آنکھوں میں دیکھتی ہوں۔۔۔۔۔
اس کی بات پہ معراج کو جیسے کسی نے جھنجھوڑ کر نیند سے جگایا تھا۔
وہ اس کی باتوں اور لہجہ کی سنجیدگی کو دیکھنے لگا ۔۔۔
آخر وہ کیا کہنا چاہ رہی تھی۔۔۔۔اسے تو لگا تھا کہ یہ کوئی مذاق ہے لیکن صندل مکمل سنجیدہ لگ رپی تھی۔
تم کیا کہنا چاہ رہی ہو۔۔۔۔۔
وہ اس کی بات کی وضاحت طلب کرتا اس سے پہلے ہی صندل دوبارہ مخاطب ہوئی۔
میرے خیال سے مجھے اب جانا چاہئیے۔۔۔۔۔
وہ جلدی سے کہتی مخالف سمت میں پلٹ گئی جبکہ معراج اسے پکارتا ہی رہ گیا۔
_______
اس کے لبوں سے ایک دردناک چیخ نکلی تھی۔
نہیں۔۔۔۔پلیز یہ نہیں۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔آپ جو کہیں گے میں وہ کروں گی۔۔۔پر یہ نہیں۔۔۔۔
ششش۔۔۔میری جان۔۔۔۔میں وعدہ کرتا ہوں تمہیں درد نہیں ہو گا۔۔۔۔
دو انگلیاں کٹے ہوئے ہاتھ نے اس کا رخسار چھوا نرمی سے چھوا تھا اور وہ اس کا لمس محسوس کرنے کے لئے اس کی جانب جھکنے لگی۔
اچانک بجلی کا ایک زوردار جھٹکے سے اس کے حلق سے ایک دلخراش آواز ابھری تھی۔
صندل پسینے سے شرابور اپنے بستر پہ اٹھ بیٹھی۔
وہ اپنی دھڑکن تیز ہوتی محسوس کر سکتی تھی اور جسم بری طرح کپکپا رہا تھا۔
آنکھیں زور سے بند کرتی وہ اپنے رخسار کو انگلیوں کی پوروں سے چھونے لگی اور اس لمس کو مثسوس کرنے لگی جو کچھ دیر قبل خواب میں کیا تھا۔
آہستہ آہستہ اس کی کپکپاہٹ ختم ہوئی تو ایک اثساس سے اس نے انکھیں یکدم وا کیں۔
کمرے میں جلنے کی بدبو پھیلی ہوئی تھی وہ لائٹ جلا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی دروازے کی نیچے سے دھواں اندر داخل ہو رہا تھا۔
ہڑبڑاہٹ میں اس نے دروازے کا ہینڈل پکڑ کر اسے گھمانا چاہا لیکن گرم ہونے کی وجہ سے وہ اس کا ہاتھ جھلسا دیا۔
ایک چیخ کے ساتھ وہ دروازے سے دور ہوئی۔
ہاتھ کی چمڑی جھلس گئی تھی دھویں سے اس کی انکھوں میں پانی آنے لگا۔
وہ ایک کمرے اور ھوٹے سے صحن والے گھر میں کرائے پہ رہتی تھی۔
بچاؤ مجھے پلیز۔۔۔۔نکالو مجھے یہاں سے۔۔۔۔۔
وہ اونچی اونچی چلانے لگی لیکن آگ تیزی سے بڑھ رہی تھی۔
کچھ سوچ کر وہ کھڑکی کی جانب بڑھی اور اسے کھولنے کی کوشش کرنے لگی لیکن یہاں شفٹ ہوتے ہی اس نے کیلوں کی مدد سے اس کھڑکی کو ہمیشہ کے لئے بند کر دیا تھا۔
وہ دونوں ہاتھوں کا استعمال کرنے لگی جس سے اس کا پہلے سے جلا ہاتھ مزید درد کرنے لگا۔
وہاں موجود لکڑی کی کرسی وہ بمشکل اٹھا کر شیشہ پہ مارنے لگی۔
دھویں سے کھانسنے لگی لیکن یہاں رہنے کا مطلب جان سے جانا تھا۔
اپنے ہاتھ میں اٹھتی تکلیف کو نظر انداز کرتی وہ پھر سے کرسی شیشے پہ مارنے لگی۔
کرسی کی لکڑی اس کے جلے ہوئے ہاتھ میں چبھنے لگی اور اس سے خون رسنے لگا۔
تیسری کوشش پہ وہ کھڑکی کا شیشہ توڑنے پہ کامیاب ہو گئی تو وہ احتیاط سے باہر نکلنے لگی۔
دوسری جانب پاؤں رکھتے ہوئے اس کی پنڈلی شیشے سے زخمی ہو گئی۔
آدھی رات کے وقت لوگ سڑک پہ کھڑے اس جلتے ہوئے مکان کو دیکھ رہے تھے۔
اسے دیکھتے ہی لوگ مزید چلانا شروع ہق گئے اور مدد کے لئے سیڑھی ڈھونڈنے لگے۔
آگ اچانک اتنی تیزی سے پھیلی تھی کہ کوئی کچھ کر نا پایا۔
دھویں کی وجہ سے اسے آنکھیں کھولنے میں بھی مشکل ہو رہی تھی۔
وہ کھڑکی سے گرنے والی تھی جب کوئی سیڑھی کے ساتھ اس تک پہنچا تھا۔
