Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui NovelR50459 Zehr-e-Sheren Episode 8
Rate this Novel
Zehr-e-Sheren Episode 8
Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui
اسے اس کمرے میں بند تین دن ہو چکے تھے اور اب وہ مزید یہاں نہیں رک سکتی تھی۔
اس لئے آہستہ آہستہ کھڑی ہوتی دروازے کی جانب بڑھی۔
ہال میں پہنچی تو کچن سے برتنوں کی آواز نے اس کا دھیان کھینچا۔
صندل لنگڑاتی ہوئی کچن میں گئی تو معراج ان دونوں کے لئے ناشتہ بنا رہا تھا۔
صبح بخیر۔۔۔۔۔ویسے تم یہاں کیوں آئی۔۔۔۔
معراج اسے کچن میں داخل ہوتے دیکھ کہنے لگا اور صندل سٹول کھینچ کر اس پہ بیٹھ گئی۔
میں ٹھیک ہوں اور آپ کو یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔آپ ملازموں کو کیوں نہیں کہتے۔۔۔۔
وہ اس کے تیزی سے چلتے ہاتھ دیکھ کر کہنے لگی۔۔۔معراج اڈ کی بات پہ مسکرا دیا اور آملیٹ پلیٹ میں نکالنے لگا۔
یہ میں اپنے شوق کے لئے کرتا ہوں۔۔۔۔
دلچسپ۔۔۔۔۔ہر بار آپ کے بارے میں ایک نئی بات معلوم ہوتی ہے۔۔۔۔اور کیا کیا ہے جو میں نہیں جانتی آپ کے بارے میں۔
معراج کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔
یہ تو وقت کے ساتھ ہی معلوم ہو گا۔۔۔۔
وہ اس کے سامنے میز پہ پلیٹ رکھتا ہوا کہنے لگا اور خود بھی سٹول کھینچ کر اس پہ براجمان ہو گیا۔
میری وجہ سے آپ کو کافی پریشانی ہوئی۔۔۔۔لیکن میں آپ کی بہت شکرگزار ہوں۔۔۔۔حالانکہ میں آپ کی ذمہداری نہیں۔۔۔
وہ ٹھوڑی کے نیچے اپنی ہتھیلی ٹکائے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔
میں تمہیں ایسی حالت میں تنہا نہیں چھوڑنے والا تھا۔۔۔۔اور فکر مت کرو سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔
وہ اسے غور سے دیکھتا کہنے لگا اس کی لکھی تحریر پڑھ کر صندل کا ایک نیا پہلو اس کےسامنے آیا تھا۔
اور وہ اس سے اس بارے میں تب سے بات کرنا چاہتا تھا۔
صندل آپ نے اپنا نیا ناول شروع کیا۔۔۔
امم۔۔۔۔ہمممم۔بلکل ان دنوں میں اسی پہ کام کیا ہے۔۔۔۔
وہ جام لگی بریڈ کو چباتی ہوئی اس کا جواب دینے لگی۔
معراج کی نظریں اس کے لبوں پہ ٹھری تھیں جیسے وہ اب کی بناوٹ اپنے ذہن پہ چھاپ رہا ہو۔
معراج۔۔۔۔
صندل نے اس کے کندھے کو ہلاتے ہوئے کہا تو وہ ایک دم حواس میں لوٹا۔
ویسے آپ کی پسند اور سوچ مختلف ہے ورنہ میں ضرور آپ کی سوچ جاننا چاہتی۔
وہ اپنے ہاتھ ہوا میں لہراتی ہوئی کہنے لگی اور پھر قریب پڑا جوس کا گلاس اپنے لبوں سے لگا لیا۔
اصل میں میں نے اپنا کا پہلا ناول پڑھا ہے ۔۔۔۔
صندل نے یکدم اس کی جانب نظریں بلند کر کے دیکھا اور پھر گلاس ایکسمت رکھ دیا۔
اوہ۔۔۔تو پھر کیا کہیں گے آپ اس بارے میں۔۔۔
وہ اپنا رخ اس کی جانب کرتے ہوئے پوچھنے لگی۔
ویل۔۔۔۔اشتعال انگیز۔۔۔۔اخلاقیات سے دور ۔۔۔۔۔کسی بھی اصلاح کے بغیر۔۔۔۔
اس کے جواب پہ وہ قہقہہ لگا اٹھی۔ معراج اسے یوں کھلکھلا کر ہنستا دیکھ مسکرا دیا۔
مجھے معلوم تھا آپ ایسا ہی کچھ کہیں گے۔۔۔۔
اشتعال انگیز۔۔۔۔بلکل۔۔۔۔
اخلاقیات سے دور۔۔۔۔شاید ۔۔۔۔
بغیر کسی اصلاح کے ۔۔۔۔۔۔۔یہ مجھے نہیں لگتا۔۔۔۔۔
آپ میری دوسری تحاریر بھی پڑھیں اور پھر ہم اس بارے میں تفصیل سے بات کریں گے۔۔۔۔
ایک اور بات معراج۔۔۔۔
ان میں موجود چھپا ہوا پیغام ضرور ڈھونڈیے گا۔۔۔۔
وہ ایک آنکھ دباتی اس سے کہتی ہوئی کھڑی ہو گئی۔
______
آج وہ معراج کے ساتھ پھر ست ہوسپٹل میں کوجود تھی۔
ڈاکٹر نے اس کا تسلی سے معائنہ کیا تھا اور سٹیچز بھی نکال دیئے گئے تھے۔
اسے احتیاط کی ضرورت تھی اور زخم کافی تیزی سے ٹھیک ہو رہا تھا۔
واپسی پہ وہ معراج کی تقلید میں چلتی اسے پراسرار نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
یکدم صندل کی چیخ پہ پلٹا اور وہ زمین پہ گرتی اس سے پہلے اسے تھام لیا۔
کیا تم ٹھیک ہو۔۔۔
فکر سے اس کی پیشانی پہ بل نمودار ہوئے تھے۔
ہاں۔۔۔بس۔۔۔اچانک درد ہوا تو میں لڑکھڑا گئی۔۔۔۔
وہ اس کے کندھوں سے جھولتی سہارا لیتی کھڑی ہونے لگی اور معراج اسے کہنی سے تھامے رہا۔
رکو میں تمہاری مدد کرتا ہوں۔۔۔۔
وہ اسے بازو سے پکڑتا سہارا دیتے گاڑی کی جانب بڑھنے لگا تو صندل اسے دیکھ کر مسکرانے لگی۔
______
آج اتنے دنوں بعد کیسے یاد آئی تمہیں میری۔۔۔۔
معراج امان کو دیکھتے ہی خوشگوار حیرت سے اسے دیکھتا کھڑا ہو گیا۔
کیا کریں۔۔۔۔جناب آج کل آفس میں کافی کام ہے۔۔۔۔اور محترم کی جب سے نئی اسسٹنٹ آئی ہیں انہوں نے تو رابطہ کرنا ہی بند کر دیا۔۔۔
وہ عادتا اسے زچ کرتا کہنے لگا جس پہ معراج آنکھیں گھما گیا۔
ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔تمہیں بتایا تو تھا کہ اس کا گھر جل گیا ہے۔۔۔۔
ہاں جل گیا تھا تو اس میں ہمیں کیا۔۔۔۔
وہ لاپرواہی سے کہنے لگا لیکن اس کی نظریں معراج کے تاثرات کو غور سے دیکھ رہی تھیں۔
یار۔۔۔۔اس وہ یتیم لڑکی ہے کہاں جاتی۔۔۔۔
کیا مطلب کہاں جاتی۔۔۔۔معراج تم یہ ہر کسی پہ بھروسہ کیوں کر لیتے ہو۔۔۔
دیکھو امان میں سمجھتا ہوں۔۔۔۔لیکن وہ کچھ وقت کے لئے ہی ہے یہاں پہ پھر چلی جائے گی۔
نجانے کیوں اسے امان کی بات کافی بری لگی تھی۔
اچانک دروازے پہ ناک ہوا اور صندل ملازمہ کے ساتھ وہاں داخل ہوئی جو کہ ہاتھ چائے کی ٹرے تھامے ہوئے تھی۔
امان انہیں دیکھتا فورا کھڑا ہو گیا۔
میں چلتا ہوں۔۔۔۔ویسے بھی سائیٹ پہ جانا ہے سوچا جاتے ہوئے تمہیں مل جاؤں۔۔۔۔
معراج جانتا تھا کہ امان کو اس کی تلخ کلامی سے برا لگا ہے لیکن وہ یہ بھی جانتا تھا کہ یہ ناراضگی محض کچھ وقت کی ہے۔۔۔۔
وہ صندل سے سلام کرتا وہاں سے چل دیا اور وہ بھی واپس لوٹ گئی۔
_____
لگتا ہے کہ آپ میرے دوست کی میزبانی کافی انجوائے کر رہی ہیں۔۔۔
وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ رہی تھی جب کسی آواز پہ پلٹی۔
مسٹر امان۔۔۔۔۔
وہ اسے دیکھ کر وہیں رک گئی۔
لگتا ہے کہ آپ کو میرا آنا اچھا نہیں لگا۔۔۔۔
وہ اس کے لہجہ میں موجود بیزاری محسوس کرتا کہنے لگا۔
اب کیا کہا جا سکتا ہے۔۔۔۔ہر کوئی آپ کے دوست کے جیسا نہیں ہوتا۔۔۔۔
وہ ذومعنی طریقہ سے کہنے لگیں تو امان اسے آنکھیں سکیڑ کر دیکھنے لگا۔
میرے خیال سے آپ کو اپنے کام پہ دھیان دینا چاہئے۔۔۔۔جس لئے آپ یہاں پہ آئی ہیں۔۔۔۔نا کہ اپنے باس پہ۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے اسے کہنے لگا جس پہ صندل اپنا ہونٹ چبانے لگی اور وہ تمسخرانہ انداز میں مسکراتا وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
کیا کہ رہا تھا امان تمہیں۔۔۔۔
معراج کی آواز پہ وہ چونکی تھی۔
کچھ بھی نہیں۔۔۔۔وہ میری طبیعت کا پوچھ رہا تھا۔۔۔۔
لیکن تمہارے تاثرات تو کچھ اور کہ رہے تھے ۔۔۔
وہ آفس کے دروازے سے ٹیک لگا کر کھڑا تھا۔
کچھ خاص نہیں۔۔۔۔
وہ اپنے مخصوص انداز میں کہتی پلٹی تھی لیکن معراج کی آواز پہ پھر سے رک گئی۔
میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے۔۔۔
معراج کا انداز تحکمانہ تھا جو اس کے لئے نیا تھا۔۔۔۔
میرے قدموں میں بیٹھو ۔۔۔۔۔یہی تمہاری جگہ ہے۔۔۔۔۔
کسی کی آواز اس کے ذہن میں گونجی تھی اور حاکمانہ انداز اس کی نظروں کے سامنے لہرا گیا۔
صندل نے اپنا سر جھٹکا اور سرد نظروں سے معراج کو دیکھنے لگی جس کی آنکھوں میں اس وقت شعلہ دہک رہے تھے۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم لیتی اس کے عین سامنے آ کھڑی ہوئی اور ایک ہاتھ سے دروازے کو تھام لیا۔
وائے مسٹر معراج غزنوی۔۔۔۔
دیکھنے والے کو لگے گا کہ آپ اپنے ہی دوست سے۔۔۔۔۔جلن محسوس کر رہے ہیں۔۔۔۔
آخری الفاظ اس نے سرگوشی میں کہے تھے۔
اور پھر واپس پلٹ گئی لیکن معراج نے اس بازو سے پکڑ کر ایک جھٹکے سے اپنی جانب کھینچا تھا۔
ہاں میں جلن محسوس کر رہا ہوں۔۔۔۔
وہ اس پہ جھکتا ہوا جارحانہ انداز میں کہنے لگا اور صندل اس حرکت پہ کچھ لمحے وہیں منجمد رہ گئی۔
