Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui NovelR50459 Zehr-e-Sheren Episode 21
Rate this Novel
Zehr-e-Sheren Episode 21
Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui
وہ آنکھیں بند کئے صوفے پہ لیٹا تھا جب کسی آواز کی وجہ سے اٹھ گیا۔
معراج۔۔۔۔کیا ہوا تمہیں۔۔۔۔
صندل اسے پریشان دیکھ کر اس کے قریب آتی پوچھنے لگی۔ معراج اپنے ہاتھ آپس می رگڑتا اسے دیکھنے لگا۔
یہاں آؤ۔۔۔۔تم سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔۔۔
اس کے لہجہ میں کچھ تھا اسے محتاط کر گیا۔
سب ٹھیک تو ہے نا۔۔۔۔
وہ اس کے ساتھ نشست سمبھالتی ہوئی مخاطب ہوئی۔
عشاء کی ڈیتھ ہو گئی ہے۔۔۔۔
وہ اسے کھوجتی نظروں سے دیکھتا ہوا کہنے لگا۔
صندل کو ایک لمحہ کے لئے اپنا وجود لرزتا ہوا محسوس ہوا جس پہ وہ قابو پانے لگی۔
تم گھبراؤ نہیں۔۔۔۔میں کوئی حل نکال لوں گا۔۔۔۔
وہ رخ اس کی جانب پلٹتے ہوئے کہنے لگا
آپ نے میرے لئے پہلے ہی بہت کچھ کیا ہے۔۔۔۔میں اس مسئلہ میں آپ کو الجھانا نہیں چاہتی۔۔۔
لیکن میں الجھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔اس مسئلہ میں بھی اور ہر اس مسئلہ میں جس کا تم سے تعلق ہو۔۔۔
صندل کے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔۔۔وہ اس بہت غور سے دیکھنے لگی۔
تم مجھ سے واقعی محبت کرتے ہو۔۔۔۔۔
وہ سرگوشی کرتے ہوئے حدت بھرے لہجہ میں گویا ہوئی۔
ہاں محبت کرتا ہوں میں تمہیں۔۔۔۔کب ۔۔۔۔۔کیسے۔۔۔۔معلوم نہیں۔۔۔لیکن تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچنے دوں گا۔۔۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں براہ راست دیکھتے ہوئے گویا ہوا جبکہ صندل کو لگا کہ وہ پشیمانی کے سمندر میں ڈوب جائے گی۔
جب وہ راستہ میں تھا اسے تبھی عشاء کی موت کی خبر ملی۔۔۔۔اس نے اسی لمحہ ایک فیصلہ کر لیا تھا وہ صندل کو اپنائے گا۔۔۔۔آئمہ کی یادوں میں اس نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ گنوا دیا تھا لیکن اب۔۔۔۔۔اب وہ اس احساس کو نظر انداز نہیں کر سکتا یہ جانتے ہوئے کہ صندل مشکل میں ہو سکتی ہے اس کے لئے اپنے احساسات کو قفس کرنا ناممکن ہو گیا تھا۔
مجھے افسوس ہے جو سب عشاء کے ساتھ ہوا۔۔۔۔۔
وہ اپنی نظروں کا رخ بدلتی ہوئی کہنے لگی۔
اگر مجھے زرا بھی خدشہ ہوتا تو میں ۔۔۔۔۔۔
جو ہونا تھا وہ ہو گیا ہے۔۔۔۔۔عشاء نے جب یہ انتہائی قدم اٹھایا تو اسے اندازہ ہونا چاہئیے تھا کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
اس میں اس کی غلطی تو تھی بھی نہیں نا۔۔۔۔
اس کے جواب پہ معراج چونکا تھا اور اس کی پیشانی پہ بل نمودار ہونے لگے۔
کیا مطلب اس کہ غلطی نہیں تھی؟ وہ سوالیہ انداز اپناتا کینے لگا۔
تمہیں پانے کے لئے کوئی بھی ایسا کرے گا۔۔۔۔
اس کی بات پہ وہ مسکرا دیا۔
میں سچ کہ رہی ہوں۔۔۔۔۔اور تمہیں مزاق لگ رہا ہے۔۔۔۔
معراج اپنی مسکراہٹ دباتا کچھ سوچنے لگا اور پھر کچھ توقف سے گویا ہوا۔
میں نے ہوٹل کے کیمرے چیک کروائے تھے۔۔۔۔۔
لیکن وہ کیوں۔۔۔۔
تاکہ کوئی ثبوت مل سکے جس سے ہم تمہیں بےگناہ ثابت کر پائیں۔۔۔۔
تو کچھ حاصل ہوا۔۔۔۔
کچھ خاص نہیں۔۔۔آڈیٹوریم کے کیمرے میں تمہیں اس سے بات کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔۔۔۔اور تمہارے اوپر جانے کے کچھ لمحے بعد ہی اسے بھی۔
اور اس کے بعد تمہارا سیڑھیوں سے گرنا۔۔۔
لیکن اس سے یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کی مجھے دھکا عشاء نے دیا۔
تم ٹھیک کہ رہی ہو لیکن مجھے امید ہے کہ صدیقی اس کا کوئی حل نکال ہی لے گا۔۔۔۔
صدیقی کے نام پہ صندل کے تاثرات ایک لمحہ میں بدلے تھے۔
معراج جاؤ کچھ دیر آرام کر لو۔۔۔۔وہ اپنی نشست چھوڑتی ہوئی بولی تو معراج اثبات میں سر ہلانے لگا۔
________
ماضی۔
مام۔۔۔۔۔وہ مجھے کچھ بات کرنی ہے آپ سے۔۔۔۔اصل میں اجازت لینی ہے۔۔۔۔
شیش اس وقت تیزی سے کھانا کھا رہا تھا تاکہ جلد از جلد اپنے دوستوں سے کھیلنے جا سکے۔
میں سن رہی ہوں صندل۔۔۔۔
ھدیل برتن صاف کرتی ہوئی مصروف سے لہجہ میں گویا ہوئی۔
ایسے نہیں جب آپ فارغ ہو جائیں گی تب۔۔۔۔
ھدیل اسے ایک نظر دیکھتی پھر سے اپنے کام میں جٹ گئی۔
ماما میں نے کھانا کھا لیا اب میں کھیلنے جاؤں۔۔۔۔
بلکل بھی نہیں۔۔۔۔ چلو شاباش جا کر اپنا کام کرو اس کے بعد جہاں مرضی جانا۔
نہیں مجھے پہلے کھیلنا ہے۔۔۔۔وہ ضدی لہجہ میں بولا تو ھدیل اسے خفگی سے دیکھنے لگی۔
اگر پڑھو گے نہیں تو فیل ہو جاؤ گے۔۔۔۔۔
آپ کی طرح۔۔۔۔۔وہ معصومیت سے بولا۔۔۔۔
کیا مطلب میری طرح۔۔۔۔۔
وہ انکھیں پھیلا کر اسے دیکھنے لگی۔
بابا بتا رہے تھے کہ آپ کو اکثر چیزیں سمجھ نہیں تھی آتیں اور وہ آپ کو سمجھاتے تھے۔۔۔۔
وہ بولنے پہ آیا تو بولتا چلا گیا جبکہ صندل مزے سے منہ میں چپس ڈالتی انہیں دیکھ رہی تھی۔
اپنے باپ کے کچھ لگتے ۔ ۔
بیٹا۔۔۔۔
شیش اور صندل نے اسے فورا درست کیا تھا۔۔۔۔
میں کبھی فیل نہیں ہوئی۔۔۔۔اور وہ ہماری یونی میں جاب کرتے تھے تو ظاہر ہے وہی سمجھائیں گے۔۔۔۔۔ہونہہ۔۔۔۔آیا بڑا مجھے فیل کرنے والا۔۔۔۔
وہ دل میں شمس کو ایک بار پھر صلواتیں سنانے لگی۔
اور ویسے وہ جان بوجھ کر مجھے کم نمبر دیتے تھے جلتے تھے میری ذہانت سے۔۔۔۔
لیکن آپ کو تو شطرنج کھیلنا نہیں آتا۔۔۔۔
صندل نے اسے فورا ٹوکا۔
ہاں تو نہیں آتا اور اس سے ذہانت کیسے ثابت ہوئی۔۔۔۔وہ سرخ چہرہ لے کر بولی تو شیش اور وہ دونوں ہنسنے لگے۔
تم دونوں بہت خراب ہو گئے ہو آنے دو تبریز کو نجانے کیا کیا سکھاتا ہے تم دونوں کو۔۔۔۔
وہ شیلف کو صاف کرتی ہوئی بولی تو صندل مسکرا دی۔
اب رہنے بھی دیں۔۔۔۔ان کے سامنے تو آپ ایک دم خاموش ہو جاتی ہیں۔۔۔۔
صندل نے اسے یاد دہانی کروائی تھی کیوں کہ یہ سچ بھی تھا۔ اتنے سالوں میں اس میں کافی ساری تبدیل رونما ہوئی تھی لیکن اس کے معاملہ میں وہ آج بھی ویسا ہی تھا۔
تمہیں جو بھی اجازت چاہئیے تھی اس کا انکار سمجھو۔۔۔۔
ھدیل نے دھمکی لگائی تو وہ اپنے ہونٹوں پی انگلی رکھ کر خاموش ہونے کی اداکاری کرنے لگی۔
ویسے موم مجھے کچھ پوچھنا ہے۔۔۔۔۔
شام کے وقت وہ ھدیل کو تنہا پا کر گویا ہوئی۔
ہاں بولو۔۔۔۔
ھدیل ٹی۔وی ی آوازکم کرتی اس سے استفسار کرنے لگی۔
میری ایک دوست ہے۔۔۔۔اس کے انکل کا آرٹ سٹوڈیو ہے۔۔۔۔اور اس نے مجھے وہاں انوائٹ کیا ہے۔۔۔۔
وہ رک رک کر کہتی اس کے تاثرات دیکھ کر کہنے لگی۔
ھدیل کے ذہن میں پہلی خیال انکار کرنے کا ہی ابھرا تھا لیکن پھر تبریز کا خیال آتے ہی خاموش ہو گئی۔
یہ تو بہت اچھی بات ہے صندل۔۔۔لیکن تمہیں یوں بھیجنا۔۔۔۔اور ہ۔ تو جانتے بھی نہیں کون ہے وہ نا کبھی تم نے ذکر کیا۔۔۔۔
وہ اب مکمل طور پی صندل کی جانب متوجہ تھی۔
ہاں تو میں اکیلی تھوڑی نا جاؤں گی۔۔۔۔آپ بھی چلیں گی میرے ساتھ۔۔۔۔چلیں گی نا پلیزززز۔۔۔۔
وہ اس کے دونوں ہاتھ مضبوطی سے تھامتی کہنے لگی تع ھدیل بےاختیار مسکرا دی۔
اچھا ٹھیک ہے چلیں گے۔۔۔۔کس دن جانا ہے۔۔۔۔
یہ تو ابھی نہیں معلوم پوچھ کر بتاؤں گی۔۔۔۔
خوشی سے صندل کا چہرہ کھل اٹھا تھا جس سے اسے بھی سکوں حاصل ہوا۔
ویسے کون ہے وہ۔۔۔۔اور تم اسے یہاں انوائٹ کرنا کسی دن ملاقات بھی ہو جائے گی۔۔۔اب اس نے ہمیں انوائٹ کیا ہے تو ہمیں بھی کرنا چاہئیے نا۔۔۔۔
ھدیل کچھ سوچتے ہوئے اپنی ہی دھن میں کہنے لگی لیکن صندل کے تاثرات فورا بدلے تھے۔
اس کے چہرے پہ یکدم خوشی کی جگہ سرد مہری ابھری تھی۔
رہنے دیں مجھے نہیں جانا۔۔۔۔
وہ سخت لہجہ میں کہتی کشن زمین پر پھینک کر اٹھی تو ھدیل اسے حیرانگی سے دیکھنے لگی۔
کیا ہوا ہے صندل۔۔۔۔
وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اسے اچانک کیا ہوا۔
آپ اس لئے ملنا چاہتی ہیں نا تاکہ آپ اس سے عجیب و غریب سوالات کر سکیں۔۔۔۔اور پھر میں شرمندہ ہوں۔۔۔
ایسا نہیں ہے۔۔۔۔میں تو بس اس لئے کہ رہی تھی کہ ہمیں بھی اسے مدعو کرنا چاہئیے۔۔۔۔اور اگر میں تمہارے سرکل کو جاننا چاہوں تو اس میں برائی کیا ہے۔۔۔۔
والدین ہمیشہ ہی اپنی اولاد کے لئے بہتر ہی منتخت کرتے ہیں۔۔۔اس نے جو غلطیاں کی تھیں وہ نہیں چاہتی تھی کہ صندل سے کوئی ایسی غلطی سر زد ہو۔
اور پھر وہ اس خوف میں بھی لاحق رہتی تھی کہ تبریز نے جو اس کے ساتھ کیا وہ مقافات عمل کی صورت میں کہیں اس کے ںچوں کے سامنے نا آ جائے۔
دیکھو صندل میری بچی۔۔۔۔۔
نہیں مجھے نا تو کچھ دیکھنا ہے نا ہی سننا ہے۔۔۔۔۔
وہ غصہ سے چلاتی ہوئی سیڑھیاں پھلانگتی اپنے کنرے میں بھاگ گئی جب کی ھدیل اس کے رویہ پہ وہیں بیٹھی رہ گئی۔
صندل واقعی وہاں جانا چاہتی تھی اور ھدیل کے یوں کہنے پر وہ کسی اپنی دوست کی صورت میں اس سے ملواتی اور یوں اپنے خوابوں کے بکھرںے پہ اس کی جو منہ میں آیا وہ اسے کہتی چلی گئی۔
______
تو تم اپنی مام کے ساتھ آ رہی ہو۔۔۔۔۔۔
شھیر اسے جانچتی نظدوں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
اس کے سوال پہ صندل افسردگی سے گھاس کو تکنے لگی۔
نہیں میں نہیں آ پاؤں گی۔۔۔۔موم ایگری نہیں ۔۔۔
وہ مختصر سا جواب دیتی ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
شھیر شدت سے ھدیل سے ملنا چاہتا تھا ۔۔۔۔اسے ان سالوں کا حساب چکتا کرنا تھا جو اس نے حجر میں گزارے۔
شمس سے بدلا لینے کا وہ بہترین ہتھیار تھی لیکن وہ صندل جے ساتھ دھکنے کے مشید چانس نہیں لے سکتا تھا۔
اور اگر ھدیک نہیں صندل ہی سہی۔۔۔۔۔
یہ سوچ اس کے چہرے پہ دلکش مسکراہٹ پھیلا گئی جس میں صندل نے خود کو کھوتے ہوئےپایا۔
وہاس قدر پر کشش شخص تھا کہ اس کے سحر سے آزاد ہونا آسان نا تھا۔
تو کوئی بات نہیں ۔۔۔۔تم آ جانا۔۔۔۔
مم۔۔۔میں۔۔۔۔لیکن اکیلی۔۔۔۔
اس نے اپنے دھڑکتے دل پہ قابو پاتے ہوئے کہا۔
ہاں کیوں نہیں۔۔۔۔۔اور میں تمہی سب اچھے سے سمجھاؤں گا۔۔۔۔
وہ اپنی انگلیوں سے اس کا رخسار تھپتھپاے ہوئے کہنے لگا جس پہ صندل من و عن مسکرا دی۔
