Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui NovelR50459 Zehr-e-Sheren Episode 22
Rate this Novel
Zehr-e-Sheren Episode 22
Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui
آج اس کی عدالت میں پہلی پیشی تھی معراج اس سارے عمل کے وقت ایک لمحہ بھی اس سے جدا نا ہوا تھا۔
کاروائی ختم ہوتے ہی وہ اس کے ساتھ واپس آ گئی تھی۔ اسے اپنے اگلے قدم کو بہت اچھے سے سوچنا تھا۔
صندل۔۔۔۔
ہممم۔۔۔
وہ کھوئے ہوئے لہجے میں بولی تو معراج نے اسے ایک بار پھر اپنی جانب متوجہ کیا جس میں وہ کامیاب بھی ہو گیا۔
میں کچھ وقت کے لئے آڈیٹر کے پاس جا رہا ہوں۔۔۔۔
اس کے پاس کیوں۔۔۔۔
ابھی کچھ روز پہلے تو ملے تھے نا۔۔۔۔میرا مطلب۔۔۔سب ٹھیک تو ہے۔۔۔
وہ پریشانی سے اس سے اتفسار کرنے لگی۔
ہاں پریشانی کی کوئی بات نہیں کام کے سلسلے میں اسے کچھ بات کرنی تھی اسی لئے۔۔۔
لیکن جو بھی بات ہو اسے مجھے بتانی چاہئیے آخر میں تمہاری پی۔اے ہوں۔۔۔۔
وہ جھنجھلاتی پوئی بولی جس پہ معراج مسکرا دیا۔
میں ابھی آتا ہوں۔۔۔۔تم تب تک آرام کر لو۔۔۔
وہ کسی حد ت جانتی تھی کہ معراج کو اس شخص نے کیوں بلایا ہو گا۔۔۔اسی لئے وہ اب سب کچھ جلد از جلد ختم کرنا چاہتی تھی۔
لیکن معراج اس کے دل میں یوں گھر کر جائے گا اس کا اسے کوئی اندازہ نا تھا۔
وہ تو خود کو جذبات ست عاری سمجھتی تھی۔۔۔۔شھیر نے اس میں کچھ چھوڑا ہی نا تھا سوائے ندامت کے۔
اور اب اس کے لئے یہ تمام احساسات رکاوٹ پیدا کر رہے تھے۔ لیکن اگر اسے اس سب سے آزادی چاہئیے تھی تو وہ سب کرنا شرط تھا۔
وہ ایک گہری سانس بھر کر سیڑھیوں کی جانب دیکھنے لگی اور پھر معراج کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
سچ جاننے کے بعد وہ اسے ایک لمحہ بھی وہاں برداشت نا کرتا اور جب تک وہ وہاں تھی اس کی خوشبو کو یوں خود میں اتار لینا چاہتی تھی کہ باقی کی زندگی اس کے حواس پہ چھائی رہے۔
________
یہ سب کچھ کیا ہے معراج۔۔۔۔
وہ اس کے سامنے اخبار پھینکتا کہنے لگا۔
معراج نے ایک نگاہ اس کے پہلے ورق پہ دوڑائی اور پھر سے اپنے مقابل کو دیکھنے لگا۔
اخبار ہے اور کیا۔۔۔
اخبار پہ یہ خبر دیکھ رہے ہو تم۔۔۔۔
وہ اپنی بھویں اچکاتا پوچھنے لگا جس پہ معراج نے اسی بےزاری سے جواب دیا۔
تمہیں جو بات کرنی ہے وہ سیدھے سے کرو
مشہور مصنف معراج غزنوی اپنی اسسٹنٹ کے ساتھ غیر اخلاقی رشتہ میں منسلک۔۔۔۔اور صرف یہی نہیں اسسٹنٹ بھی وہ جس پہ قتل کا کیس ہے۔۔۔۔
معراج اسے آنکھیں سکیڑتا دیکھنے لگا لیکن ظاہری طور پہ صبر کا مظاہرہ کیا۔
تم جانتے ہو اس سے تمہاری ساکھ کو کس قدر نقصان ہوا ہے۔۔۔۔اور ہماری ایجنسی کا بھی نام خراب ہو گیا ہے۔۔۔
اس نے کچھ نہیں کیا وہ بےقصور ہے۔۔۔۔
معراج نے اپنے ایک ایک لفظ پہ زور ڈال کر کہا تو وہ اسے دلچسپی سے دیکھنے لگا۔
دیکھو معراج۔۔۔۔ہو سکتا ہے وہ لڑکی بےقصور ہو۔۔۔۔
وہ بےقصور ہے۔۔۔۔۔۔
معراج نے پرزور طریقے سے دہرایا تو وہ گہری سانس بھر کر رہ گیا۔
ٹھیک ہے مان لیا وہ بےقصور ہے لیکن ابھی یہ کیس کورٹ میں ایک لمبے عرصے تک چلے گا اور ہم یہ سب افورڈ نہیں کر سکتے۔۔۔۔
اس سے تمہاری ایجنسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔
دیکھو معراج تم سمجھ نہیں رہے۔۔۔۔ٹھیک ہے کیس کی بات نہیں کرتے۔۔۔۔لیکن وہ لڑکی تمہارے ساتھ کیوں ہے۔۔۔۔
تم کیا کہنا چاہتے ہو۔۔۔
یہی کہ تم اڈے جاب سے نہیں نکالنا چاہتے مت نکالو لیکن اسے اپنے گھر سے نکال دو فورا۔۔۔
میرے گھر کون رہتا ہے اور کون نہیں۔۔۔اس کا تم سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔۔
ہے تعلق۔۔۔۔اگر تمہیں عیاشی کرنی ہے تو کرو لیکن اسے یوں گھر کیوں بٹھا رکھا ہے۔۔۔۔
وہ بلند لہجہ میں بولا تو معراج غصے سے ایک دم کھڑا ہوا۔
مقابل کا کالر پکڑ کر اسے کھینچا اور اس کے ڈیسک پہ دے مارا۔
خبردار جو تم نے کوئی بکواس کی تو زبان کھینچ لوں گا۔۔۔۔
ہر وقت پرسکون رہنے والے معراج کا یہ ایک نیا روپ تھا جو اس نے دیکھا۔
کعراج اسے جھٹکے سے چھوڑتا ہوا سیدھا ہوا اور اپنا موبائل اٹھاتا اسے خون آلود نظروں سے دیکھتا آفس سے نکلنے لگا۔
تم فارغ سمجھو خود کو۔۔۔۔دوبارہ کبھی یہاں آس پاس بھی دکھائی مت دینا۔۔۔۔
وہ اس کی پشت پہ شرٹ درست کرتے ہوئے چلانے لگا۔
__________
ماضی۔۔۔۔۔۔۔
مجھے نہیں لگتا کہ میں ٹھیک کر رہی ہوں۔۔۔۔
وہ اس کی گاڑی میں بیٹھتے ہوئے تذبذب سی کہنے لگی۔
اگر انہیں معلوم ہوا کہ میں آرٹ گیلری گئی ہوں تو انہیں بہت دکھ ہو گا۔۔۔۔
وہ اپنے قدم پہ جھنجھلاہٹ کا شکار تھی۔۔۔۔دل تیزی سے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی سینہ چاک کرتا باہر آ جائے گا۔
لیکن کہیں نا کہیں وہ اس ایڈونچر کو محظوظ بھی کر رہی تھی۔
اور انہیں بتائے گا کون۔۔۔۔میں تو نہیں بتاؤں گا۔۔۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا اسے کہنے لگا تو صندل بھی بےخودی سے مسکرا دی۔
شھیر اپنا زاویہ بدلتا کار سٹارٹ کرنے لگا جب کہ صندل دل ہی دل میں اپنے والدین سے معافی مانگنے لگی۔
وہ کونسا کسی غلط کام کے لئے جا رہی تھی صرف آرٹ گیلری ہی تو دیکھے گی اور پھر واپس آ جائے گی۔
کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا۔۔۔۔۔۔سب یہی سمجھیں گے کہ وہ کالج ہی گئی تھی۔
ہم کب تک پہنچیں گے۔۔۔۔۔
جب وہ شہر سے دور ویران راستوں پہ پہنچے تو صندل پیشانی پہ بل سجائے استفڈار کرنے لگی۔
جلد ہی۔۔۔۔گیلری شہری آبادی سے کچھ دور ہے تاکہ سامان لاتے اور لیجاتے ہوئے مشکل نا ہو۔۔۔۔اور نا ہی کوئی شور ڈسٹرب کر سکے۔
اوہ۔۔۔۔کیا وہ کافی بڑی جگہ ہے۔۔۔۔
صندل دلچسپی سے آنکھیں پھیلائے سوال کرنے لگی۔
ہاں کافی۔۔۔تم دیکھو گی تو جان جاؤ گی۔۔۔۔
آئی کانٹ ویٹ۔۔۔۔
وہ پرجوش سی کینے لگی جس پہ شھیر پراسرار مسکرا دیا۔
نیدھر کین آئی۔
یہ ہم کہاں آ گئے۔۔۔۔
صندل گردن اکڑاتی اطراف میں دیکھنے لگی۔
اس کی نظروں کے سامنے ایک پرانی حویلی نما عمارت تھی جہان کسی انسان کا نام و نشان معلوم نہیں ہوتا تھا۔
دور تک اس کے علاوہ اور کوئی جگہ نہیں تھی۔
تب سے اسے پہلی بار اپنی فیصلہ پہ افسوس ہوا تھا وہ حلق تر کرتی اس شخص کو دیکھنے لگی جو اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ سے محظوظ کو رہا تھا۔
ی۔۔۔یہاں تو کوئی بھی نہیں ہے۔۔۔۔
ہم ہیں نا۔۔۔اور اندر باقی عملہ بھی ہے۔۔۔۔
اور اسے غور سے دیکھتا کہنے لگا لیکن صندل اس بار اس پہ یقین نہیں کرنے والی تھی۔
لیکن یہاں تو کوئی گاڑی وغیرہ بھی نہیں۔۔۔۔وہ کانپے ہاتھوں سے بیلٹ کھولتے ہوئے کہنے لگی۔
چلو اندر چلیں۔۔۔
شھیر نے اس کی جانب ہاتھ بڑھایا تو وہ خود میں سمٹ گئی۔
نن۔۔۔نہیں مجھے واپس جانا ہے۔۔۔۔مجھے واپس لے چلو۔۔۔۔
اسے لگا کہ وہ اس کے دل کی دھڑکن سن لے گا۔
نہیں ہم اندر جائیں گے۔۔۔۔۔شھیر گاڑی کو ایک جانب لگاتا ہوا کہنے لگا۔
صندل کی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگنے لگیں وہ کار کا دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے لگی لیکن وہ لاکڈ تھا۔
صندل اس شخص کا چہرہ دیکھنے لگی جو کسی بھی جذبہ سے عاری تھا۔
پ۔۔۔پلیز۔۔۔مسٹر ایس۔۔۔۔م۔۔۔مجھے یہاں نہیں جانا۔۔۔۔
اسے خود پی بےتہاشہ غصہ تھا۔۔۔۔وہ تو اس کا نام تک نا جانتی تھی۔
ششش۔۔۔۔مجھے زیادہ بحث پسند نہیں اب چلو میرے ساتھ۔۔۔۔
وہ اس کی جانب پلٹتا لبوں پہ اپنیانگلی رکھ کر کہنے لگا جس پہ وہ خوف سے کانپنے لگی۔
شھیر کار سے اترتا اس کی جانب آیا۔ صندل تیزی سے سیٹ بدلتی مخالف سمت سے اترنے لگی لیکن شھیر نے اس کا پاؤں پکڑا اور اپنی جانب کھینچنے لگا۔
صندل اس آفتاد پہ چیخ اٹھی جب شھیر نے اسے اپنی جانب پلٹا اور ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پہ رسید کیا جس پہ اسے اپنا دماغ تک ہلتا ہوا محسوس ہوا۔
کچھ کمحوں کے لئے وہ اپنی جگہ ساکن سی رہ گئی آواز نے ساتھ دینا چھوڑ دیا۔۔۔گو کہ خون کا ہر قطرہ اس کے بدن سے نچوڑ لیا ہو۔
شھیر نے اسے اپنے کندھے پہ لادا اور عمارت میں لیجانے لگا۔صندل کو جیسے ہی ہوش ایا وہ اپنی پوری طاقت سے چلانے لگی اور خود کو اس سے آزاد کروانے کی کوشش کرنے لگی۔
لیکن وہ ایک کمزور سی لڑکی کسی صورت اس کا مقابلہ نا کر پائی۔
