224.3K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zehr-e-Sheren Episode 7

Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui

وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چل دیا جبکہ وہ وہیں فرش پہ گری اسے خود سے دور جاتے دیکھتی رہی۔

ایک جھٹکے میں اس کی کائنات الٹ گئی تھی۔۔۔۔سب چھین لیا گیا تھا اور اس کا زخمی وجود ناسور بننے لگا۔

____

پورا مہینہ وہ اسی اپارٹمنٹ میں قید رہی اس کا رابطہ سب سے ختم ہو گیا تھا۔

وہ واپس نہیں جا سکتی تھی۔۔۔بوجھ نہیں بن سکتی تھی اپنے بوڑھے والدین پر۔

جب کھانے کو ایک دانہ بھی نا بچا تو اسے مجبورا باہر نکلنا پڑا۔۔۔۔

جب جینے کی چاہت نا رہے۔۔۔۔۔جب انسان ز دہ نا رہے لیکن سانسیں چلتی رہیں تو اس بوجھ کو اٹھانا سب سے تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔

وہ خود کو گھسیٹتی نوکری کی تلاش میں باہر نکلی۔۔۔۔جہانزیب کی واپسی کی جو امید اب تک اس نے پال رکھی تھی وہ اب ٹوٹنے لگی تھی۔

یہ مایوسی قطرہ قطرہ زہر بن کر اس کے وجود میں پھیلنے لگا تھا۔

ایک سال ہو چکا تھا ان کے طلاق کو۔۔۔۔وہ کہاں گیا۔۔۔کوئی معلومات نہیں تھی اسے نا ہی جہانزیب نے اس سے کوئی رابطہ رکھا۔

وہ ویٹریس کی نوکری کرتی وہاں سے بچا کھانا لاتی اور وہی روکھا سوکھا کھا کر گر جاتی۔

آج بھی اس کے دل میں جہانزیب کے لئے محبت تھی جو اسے سکون نا لینے دیتی۔

شب و روز اس کی یاد میں رورے ہوئے گزرتے۔

اس دن بھی وہ کمرے کے کونے میں بیٹھی ہیجانی انداز میں رو رہی تھی۔۔۔

نجانے کتنی بار اس نے خودکشی کا سوچا تھا لیکن کبھی عمل نہیں کر پائی۔۔۔۔

اپنے گٹھنوں کو جکڑے وہ روتی جاتی اور اپنے سر کی پشت کو دیوار سے پٹکتی۔

ٹسک ٹسک ٹسک۔۔۔۔۔

کسی کی آواز پہ اس نے اپنی سوج چکی آنکھیں وا کی تھیں۔

اندھیرے میں وہ اس شخص کا دراز قد ہی دیکھ پائی وہ اس کے ایک دم سامنے کھڑا تھا۔

کک۔۔۔۔کون ہو تم۔۔۔۔

وہ اس کے دھندھلا عکس دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی۔۔۔۔

وہ کون تھا اور اس کے اپارٹمنٹ میں کیڈے داخل ہوا۔

شش۔۔۔۔

وہ اسے انگلی سے خاموش رہنے کا اشارہ کرنے لگا۔۔۔۔

نازلین نے اپنے جگہ سے کھڑے ہونے کی کوشش کی جب اس شخص نے اس کے سر میں کسی زوردار چیز سے حملہ کیا۔

______

اسے ہوش آئی تو وہ کسی اندھیری جگہ پہ تھی۔۔۔۔اس کے اندر اور باہر ہر سمت تاریکی تھی۔۔۔۔

اسے اپنے چہرے پہ کچھ جما ہوا محسوس ہوا جب وہ اسے چھونے لگی تو احساس ہوا کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔

اس کی دونوں کلائیاں کسی رسی کی مدد سے چھت سے باندھی گئی تھیں۔۔۔۔اور اس کی پاؤں بمشکل اس ٹھنڈی جگہ کو چھو رہے تھے۔

اچانک دروازہ کھلنے کی آواز پہ وہ اپنی گردن پلٹنے کی کوشش کرنے لگی لیکن بندھے ہونے کی وجہ سے یہ ناممکن تھا۔۔۔

کون ہو تم۔۔۔۔اور کیوں لائے ہو مجھے یہاں۔۔۔۔

وہ خوفزدہ ہوتی چلا اٹھی تھی۔

لیکن وہ شخص ٹھنڈے پانی کا فوارہ اس پہ ڈالنے لگا۔

ٹھنڈے پانی سے وہ بری طرح کانپنے لگی لیکن وہ پانی کسی پائپ کی مدد سے مسلسل اس پہ ڈالتا رہا۔

جب یہ عمل رکا تو اس کے دانت کٹکٹانے لگے۔۔۔لباس پانی سے تر تھا۔

اگلے عمل میں اس کا لباس بھی اس کی آزادی کی طرح چھین لیا گیا۔

_____

وہ کب تک وہاں قید رہی۔۔۔۔اسے یاد نہیں تھا۔۔۔۔۔کیا اس نے کبھی سورج دیکھا بھی تھا۔۔۔۔یہ بھی یاد نا رہا۔۔۔۔

کتنے لوگ اسے نوچتے تھے اور وہ ہر بار چلاتی۔۔۔۔۔

اس کے ساتھ ایسا کیوں ہوا ۔۔۔۔وہ تو کتنی خوش تھی۔۔۔۔کتنا وقت بیت گیا تھا۔۔۔۔

اس کو دیئے گئے زخم اب رسنے لگے تھے ۔۔۔۔کوئی اب اسے چھوتا نہیں تھا۔۔۔۔اس کے زخم اسے مار رہے تھے۔ ۔۔

اسے باندھا گیا تھا۔۔۔۔پہلی بار کی طرح۔۔۔۔۔وہ لٹک رہی تھی لیکن اس کے لبوں سے ایک سسکی بھی نا نکلی۔۔۔۔

وہ کبھی جان نہیں پائی کہ وہ لوگ کون تھے۔۔۔۔۔اندھیرہ اور ان کے چپروں کے نقاب اسی مقصد کے لئے تھے۔

شاید اس کا آخری وقت آ گیا تھا۔۔۔۔وہ جانتی تھی کہ وہ اسے مارنے والے ہیں۔۔۔۔اسے شدت سے انتظار تھا اپنی موت کا۔۔۔۔شاید پھر ہی اسے سکون ملتا۔۔۔۔۔

اس نے اپنی سوزش کا شکار آنکھیں کھولیں تو سامنے کچھ ہیولے دکھائی دینے لگے۔

شاید وہ اس کی موت کا نظارہ دیکھنے وہاں جمع تھے۔۔۔۔

وہ شخص اس کے قریب آیا جو اسے وہاں لایا تھا۔۔۔۔

تمارا آخری وقت آ گیا ہے۔۔۔۔اب تمہیں جانا ہو گا۔۔۔۔تم ہمارے کسی کام کی نہیں رہی۔۔۔۔اور تمہاری جگہ بھرنے کوئی اور مل چکا ہے ہمیں۔۔۔۔

وہ اس کے چہرے کو نرمی سے چھوتا کہنے لگا۔۔۔۔۔

کیا تم دیکھنا نہیں چاہوں گی کہ میں کون ہوں۔۔۔۔

وہاس کی ٹھوڑی کو انگلیوں سے اونچا کرتا کہنے لگا۔

نازلین نے جب اسے کوئی جواب نا دیا تو وہ خود ہی کچھ لمحے بعد اپنا نقاب ہٹانے لگا۔

ایک آنسو اس کی آنکھ سے بہتا زمین پہ گرا تھا۔

جہانزیب۔۔۔۔۔۔۔

اس کے ہونٹ کپکپائے تھے۔۔۔۔۔

نازلین کودن یاد آیا جب وہ پہلی بار اس سے ٹکرائی تھی اور اس کی کتابیں زمین پہ گر گئیں۔۔۔

وہ اس کی محبت اور پھر شوہر بنا۔۔۔۔

تمہیں طلاق دینے کے بعد میں نے شادی کر لی اور میرے دو بچے بھی ہیں۔۔۔۔

وہ مسکراتا ہوا کیسے فخر سے اسے بتا رہا تھا۔۔۔۔

لیکن میں تمہیں اپنے حواس سے نکال نہیں پایا اور اس لئے تمہیں اغواء کیا۔۔۔۔

پھر سوچا کہ میں اکیلا ہی کیوں اس سے لطف انداز ہوں۔۔۔۔

وہ اس کے بنجر ہونٹوں پہ انگوٹھا پھیرتا کہنے لگا اور نازلین دھندھلائی نظروں سے اسے دیکھتی رہی۔۔۔۔

جس کی محبت کے دیپ وہ ہمیشہ دل میں لئے گھومتی رہی وہی اس کا مجرم تھا۔

جہانزیب نے اپنے ماتحت سے چمکدار چاقو ہاتھ میں تھاما تو نازلین آنکھیں موندھ گئی۔

الوداع نازلی۔۔۔۔۔

اس نے چاقو پوری قوت سے اس کے پیٹ میں گھونپا تھا اور آخری سانس بھرتے ہوئے نازلین کو صرف ایک پچھتاوا تھا۔

کہ کاش وہ ہمت کرتی۔۔۔۔۔اور خود کو یوں برباد نا کرتی۔۔۔۔تو شاید آج اتنی تکلیف نا ہوتی۔

__________

کہانی ختم ہوتے ہی معراج نے لیپ ٹاپ کو ایک جھٹکے سے بند کیا اور ایک سمت رکھ دیا۔

وہ اپنے سر کو زور سے جھٹکنے لگا۔۔۔۔

آخر اس طرح کی منتشر تحریر لکھنے کا کیا مقصد۔۔۔۔۔

گھڑی صبح کے چھ بجا رہی تھی اور وہ ساری رات اس ناول کو پڑھنے کے لئے جاگتا رہا تھا۔

وہ بستر سے اٹھا اور اپنا ٹریک سوٹ پہنتا جاگنگ کے لئے روانہ ہو گیا۔