224.3K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zehr-e-Sheren Episode 19

Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui

کیا آپ میرا پیچھا کر رہے ہیں۔۔۔۔

وہ اس کی جانب بڑھتی مسکراتے ہوئے کہنے لگی۔

ہاں بلکل۔۔۔۔

اس کے جواب پہ وہ یکدم رکی اور بےیقینی سے دیکھنے لگی۔

تمہیں اکیلا دیکھا تو سوچا کچھ وقت اپنی دوست کے ساتھ گزار لوں۔

وہ صندل کی جانب قدم بڑھاتا ہوا کہنے لگا۔

آپ۔۔۔۔آپ مزاق کر رہے ہیں نا۔۔۔۔میرا پیچھا کیوں کریں گے آپ۔۔۔

وہ گردن کو ہلکا سا ٹیڑھا کرتی ہوئی پوچھنے لگی۔

نہیں میں مزاق کیوں کروں گا۔ ۔

وہ اپنی انگلیوں سے اس کے چہرے پہ منڈلاتے ہوئے بال ہٹاتے ہوئے کہنے پگا جو کہ تیز ہوا کی وجہسے اس کے چہرے پہ پھیل گئے تھے۔

امم۔۔۔۔م۔۔۔مججے اب چلنا چاہئیے۔۔۔۔

جب وہ کچھ سمجھ نا پائی تو اردگرد دیکھتی کہنے لگی اور پھر آسمان کو دیکھنے لگی۔

بارش بھی ہونے والی ہے۔۔۔۔بابا پریشان ہوں گے۔۔۔۔

وہ خود سے ہی بڑبڑاتی ہوئی کہنے لگی۔

اتنی اداس کیوں ہو۔۔۔۔

وہ دلچسپی سے پوچھنے لگا تو صندل اپنا ہونٹ چبانے لگی۔

کچھ خاص نہیں۔۔۔۔ماما سے کچھ ناداضگی ہو گئی بس۔

وہ گھاس کو اپنے پیروں سے مسلتی ہوئی کہنے لگی۔

وہ پہلا شخص تھا جو اس کا دوست بننا چاہتا تھا اور اس کی اداسی کی وجہ جاننا چاہتا تھا یہ سوچ کر ہی اس کی آنکھیں چھلک اٹھیں۔

میں جا رہی ہوں۔۔۔۔

وہ مخالف راستہ پہ چل دی تو اس کی آواز پہ رک گئی۔

اگر تمہاری غلطی نہیں تو تمہیں کسی کی پرواہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے صندل۔۔۔۔اگر وہ نہیں دیکھ پا رہی کہ تم ایک بہترین بیٹی ہو تو یہاس کا قصور ہے تمہارا نہیں۔۔۔۔

صندل اس کی بات کو من و عن لیتی سر ہلاتی ہوئی چلی گئی۔

وہ سہی کہ رہا تھا۔۔۔۔ہمیشہ اس نے وہی سب کیا تھا جو اس سے چاہا گیا۔۔۔۔اس کے باوجود بھی اگر وہ اسے تسلیم نہیں کر پاتے تھے تو اس کی وجہ یقینا یہی تھی کہ وہ ان کا اپنا خون نہیں تھا۔

ورنہ کیا وہ اپنی سگی اولاد کا بھی کمرہ یوں چیک کیا کرتی۔۔۔۔۔اور کیا اس کے جذبات کو نظر انداز کر کے ہر سال دوسرے شہروں میں رہائش اختیار کرتی۔

ان کے مسائل کا ہرجانہ وہ کیوں بھگتتی۔

وہ جب تک واپس آئی ھدیل اسے سارے گھر میں تلاش کر رہی تھی۔

صندل کہاں تھی تم۔۔۔۔

وہ پریشانی سے پوچھنے لگی جسے صندل نے نظر انداز کر دیا۔

اس کے تاثرات دیکھ ھدیل نے فی الوقت مزید سوالات کرنا مناسب نا سمجھا سو بات بدل گئی۔

چلو۔۔۔۔آ جاؤ۔۔۔۔کھانا کھا لو۔۔۔۔تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔۔۔۔

مجھے نہیں کھانا آپ ہی کھائیں۔۔۔۔

وہ ناک سکیڑتے ہوئے کہتی اپنے کمرے کی جانب بڑھنے لگی جب شمس کی آواز نے اس کے بڑھتے قدم وہیں روک دیئے۔

صندل۔۔۔

جی بابا۔۔۔۔

وہ سیڑھیوں کے درمیان کھڑی پلٹ کر اسے دیکھنے لگی جو ابھی اپنے کمرے سے نکلا تھا۔

یہاں آؤ کچھ بات کرنی ہے۔۔۔۔

وہ حاکمانہ انداز میں کہتا ڈائیننگ ٹیبل کی جانب بڑھ گیا تو صندل نا چاہتے ہوئے بھی نظریں جھکائے اس کی جانب بڑھنے لگی۔

ھدیل ان دونوں کو کھانا سرو کرنے لگی جسے ان دونوں میں سے کسی نا چھوا۔

ھدیل۔۔۔۔جاؤ دیکھو شیش کیا کر رہا ہے۔۔۔۔

ھدیل تبریز کو نظروں میں خاموش رہنے کی دہائی دینے لگی جسے اس نے نظر انداز کر دیا۔

وہ ٹھنڈی آہ بھرتی شیش کے لئے ڈش تیار کرتی اس کی کمرے کیں چل دی۔

کھانا کھاؤ صندل۔۔۔۔۔مجھے نہیں پسند کہ تم سارا دن بھوکی پھرتی رہو۔۔۔۔

کیوں نہیں۔۔۔۔

وہ نظریں اس کی جانب اٹھاتی پوچھنے لگی۔

کیونکہ یہ مجھے اس بچی کی یاد دلاتا ہے جو تم اب نہیں ہو۔۔۔۔

میں ابھی بھی وہی ہوں بابا۔۔۔۔بس اب اسے چھپا لیا ہے۔۔۔۔

نہیں تم نہیں ہو۔۔۔۔ہر لمحہ کے انسان میں بدلآؤ آنا زندگی کا حصہ ہے ۔۔۔۔

کیا آپ مجھے چاہتے ہیں۔۔۔۔

اس نے کسی خوف کے زیر اثر پوچھا تھا۔

ہمیشہ۔۔۔۔اگر اولاد یہ سوال اپنے والدین سے کرے تو یقینا ان میں کہیں کوئی کمی رہ گئی ہے۔۔۔۔

شاید ہماری محبت میں بھی کچھ کمی رک گئی جو تم نے یہ سوال اٹھایا۔

وہ افسردگی سے کہنے لگا تو صندل کو اپنے دل میں ٹیس اٹھتی محسوس ہوئی۔

ایسی بات نہیں ہے۔۔۔۔سچ تو یہ ہے کہ آپ دونوں کے علاوہ مجھے کوئی نہیں چاہتا۔۔۔۔اس لئے مجھے خوف آتا ہے کہ کہیں کسی دن میں کچھ غلط کر دوں اور آپ بھی مجھ سے بدگمان ہو گئے تو۔۔۔۔

وہ آنکھوں میں آنسو سجائے کہنے لگی تو وہ شمس نے اس کا چہرہ ٹھوڑی سے تھام کر بلند کیا۔

میرا بچپن اچھا نہیں گزرا صندل۔۔۔۔نا ہی میں جانتا ہوں کہ ایک آئیڈیل ماں باپ کیسے ہوتے ہیں لیکن ایک بات ضرور جانتا ہوں کہ میں یا ھدیل اپنی اولاد سے وقتی ناراض تو ہو سکتے ہیں پر بدگمان نہیں۔

اس کے جواب پہ صندل مسکرا دی تو شمس بھی خفیف سا مسکرا دیا۔

تم یہاں بستی ہو۔۔۔۔

وہ اپنے دل پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہنے لگا۔

تم سب کو میں نے یہاں قید کر لیا ہے۔۔۔۔اور جسے شمس تبریز قید کر لے اسے آزادی نہیں ملتی۔۔۔۔۔اپنی ماما سے پوچھ لینا۔۔۔۔

آخری جملہ اس نے پراسرار مسکراہٹ کے ساتھ ادا کیا جسے سمجھنے سے وہ قاصر تھی۔

اب آ جاتے ہیں دوسرے موضوع پہ۔۔۔۔تمہارے اور ھدیل کے درمیان جو مسائل چل رہے ہیں میں اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔ ۔۔۔

وہاسے ہاتھ کے اشاری سے خاموشی اختیار کرنے کا کہنے لگا۔

وہ تمہیں چاہتی ہے اور تمہاری خوشی اسے سب سے زیادہ عزیز ہے۔۔۔۔یقین جانو ھدیل کی زندگی کوئی پھولوں کی سیج کی مانند نہیں گزری۔

میں یہی چاہوں گا کہ تم اسے سمجھنے کی کوشش کرو۔۔۔۔

ایک جگہ سے دوسری جگہ شفٹ ہونا ہم سب کے لئے مشکل ہے لیکن چونکہ اب ہن یہاں ہمیشہ کے لئے سیٹل ہو گئے ہیں۔۔۔۔

کیا۔۔۔۔ہم یہیں رہیں گے اب۔۔۔۔

وہ پرجوش سی شمس کی بات کاٹ کر بولی۔

ہاں۔۔۔۔لگتا ہے تمہیں کافی خوشی ہوئی۔۔۔۔

وہ مسرور سا کہنے لگا جبکہ صندل کی مسکراہٹ مزید پھیل گئی۔

آپ اندازہ نہیں کر سکتے بابا یہ کتنی بڑی خبر ہے میرے لئے ۔۔۔۔۔تھینک یو تھینک یو تھینک یو۔۔۔۔

وہ اپنی کرسی سے اٹھتی اس کی جانب بڑھی تو شمس نے اپنی بانہیں اس کے دبلے سے وجود کے گرد حمائل کر دیں اور پھر اس کی کمر تھپتھپانے لگا۔

چلو اب سکون سے کھاؤ۔۔۔۔

ہاں بہت بھوک لگی ہے قسم سے۔۔۔۔

وہ پیٹ پہ ہاتھ پھیرتی ہوئی کہنے لگی اور پھر اپنی پلیٹ پی ٹوٹ گئی۔

_______

ہمم۔۔۔لگتا ہے کہ تم بال بڑھا رہی ہو۔۔۔۔

وہ اس کے بالوں کو نرمی سے چھوتا ہوا کہنے لگا۔

ہاں بس ویسے ہی۔۔۔۔۔

وہ اپنی مسکراہٹ دباتی ہوئی کہنے لگی تو وہ تمسخرانہ سا مسکرا دیا۔

بہت خوب۔۔ ۔

وہ آج ایک ماہ بعد اس سے مل رہی تھی۔

جب صندل کو لگا تھا کہ وہ دوبارہ کبھی اس سے نہیں مل پائے گی تو وہ اج اچانک اس کے سامنے تھا۔

اسے دیکھتے ہی جہاں وہ خوشی سے نہال تھی وہیں ناراض بھی۔

ویسے اپ اتنا عرصہ کیاں غائب تھے ۔۔۔۔

نا چاہتے ہوئے بھی شکوہ اس کی زبان پہ تھا۔

مجھے کچھ ضروری کام تھا۔۔۔۔

صندل کو اس انجان کام سے حسد محسوس ہوا تھا جس کے باعث وہ ایک ماہ تک اسے نا دیکھ پائی تھی۔

وہ اس کے شکوہ پہ مسکرا دیا اور سامنے کھیلتے اس کے بھائی کو دیکھنے لگا۔

میں آرٹ گیلیری میں کافی کام تھا اس لئے نہیں آ سکا۔

آرٹ۔۔گیلری۔۔۔۔آپ وہاں کام کرتے ہیں۔۔۔۔

صندل دلچسپی سے پوچھنے لگی تو اس نے اپنی نظروں کا زاویہ ایک بار پھر بدلا۔

ہاں تم چلنا چاہو گی؟

ہاں۔۔۔۔لیکن ماما نہیں مانیں گی۔۔۔۔

وہ اس کی خوشی ماند پڑتا دیکھ سکتا تھا۔

تو تم انہیں بھی لے آنا۔۔۔۔اچھا ہے میں ان سے مل بھی لوں گا۔

مقابل نے مخلصانہ مشورہ دیا تھا۔جس پہ وہ سوچنے پہ مجبور ہو گئی۔

میں ان سے بات کروں گی۔۔۔۔اگر وہ مان گئیں تو میں ضرور وہاں آنا چاہوں گی۔

مجھے انتظار رہے گا اس دن کا۔۔۔۔۔

شھیر اس بےوقوف لڑکی پہ ہنستا ہوا کہنے لگا۔