Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui NovelR50459 Zehr-e-Sheren Episode 14
Rate this Novel
Zehr-e-Sheren Episode 14
Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui
انسپیکٹر صاحب۔۔۔۔کیسے آنا ہوا آپ کا۔۔۔۔
معراج مقابل سے مصافحہ کرتے صوفے پہ براجمان ہوتا استفسار کرنے لگا۔
معراج صاحب اپ ایک قابل عزت شخص ہیں۔۔۔اگر اہم نا ہوتا تو ہم آپ کو تنگ نہیں کرتے۔۔۔۔
اگر ایسا ہی ہے تو کیا اہم مسئلہ آپ کو یہاں کھینچ لایا۔۔۔۔۔وہ اطمینان سے پوچھنے لگا۔
ہمیں معلوم ہوا ہے کہ صندل احمد علی اپ کی اسسٹنٹ ہیں اود کچھ عرصے سے یہیں آپ کے بنگلے کی مکین ہیں۔۔۔۔
وہ تفتیشی انداز سے پوچھنے لگا جس پہ معراج کی پیشانی پہ بل نمودار ہونے لگے وہ اگے کی جانب جھکتا دونوں کہنیاں گٹھنوں پہ ٹکاتا مخاطب ہوا۔
صندل کہاں مقیم ہے یہ آپ کا اہم مسئلہ ہے۔۔۔۔۔۔
صندل کا نام سنتے ہی معراج کا لہجہ اس کی جانب سخت ہوا تھا جس پہ انسپکٹر بھی سنجیدہ لہجہ اختیار کر گیا۔
اصل میں ہم انہیں گرفتار کرنے آئے ہیں۔۔۔۔
گرفتار۔۔۔۔۔کیا مطلب کہ صندل کو گرفتار کرنے ائے ہیں۔۔۔۔
معراج صاحب آپ یہ تو جانتے ہی ہوں گے کہ صندل صاحبہ کی پہلی رہائش آگ لگنے سے خاک ہو گئی۔۔۔
جی اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ صندل اس میں مشکل سے زندہ بچ پائی تھی۔
پہلےتو سب کو یہی لگا تھا لیکن اب اس کےمکان مالک نے صندل صاحبہ کے خلاف کیس دائر کر دیا ہے جس وجہ ہم انہیں گرفتار کرنے ائے ہیں۔۔۔۔آپ برئے کرم انہیں بلا دیں ورنہ ہمیں مجبورا یہاں کی تلاشی لینی ہو گی۔۔۔۔۔
یہ کیسا الزام ہے۔۔۔۔انسپکٹر آپ ہوش میں تو ہیں۔۔۔۔
معراج اب غصہ سے کھڑے ہوتا کہنے لگا۔
دیکھیں معراج صاحب۔۔۔۔۔۔یہ کورٹ کچہری کا معاملہ ہے اپ انہیں بلائیں گے یا ہم خود ڈھونڈ لیں۔۔۔۔
بنا کسی ثبوت کے آپ کیسے اس پہ الزام لگا سکتے ہیں۔۔۔۔
معراج مٹھیاں بھینچتا ہوا شدت سے کہنے لگا۔
اس لڑکی نے اپنا سب کچھ اس اگ میں کھو دیا اور آپ الٹا اسی کو الزام دے رہے ہیں۔۔۔
دیکھیں معراج صاحب ۔۔۔۔۔یا تو انہیں ہمارے ساتھ جانا ہو گا یا پھر ایک ہفتہ کے اندر اس مکان کی اصل مالیت ادا کرنی ہو گی جسے ان کی وجہ سے نقصان پہنچا۔۔۔۔اور رہی ثبوت کی بات تو معراج صاحب ہم پولئس والے ہیں الزام لگانا ہماتے کام کی نوعیت نہیں۔۔۔۔۔ثبوت کی بنا پر ہی ہم انہیں گرفتار کرنے آئے ہیں۔۔۔۔
ثبوت۔۔۔۔کیسا ثبوت۔۔۔۔
اب کی بار معراج متجسس لہجہ میں پوچھنے لگا۔
ثبوت دکھاؤ بھئی صاحب کو۔۔۔۔۔
انسپکٹر کے کہنے پہ حوالدار فورا آگے بڑھا اور ایک موبائل پی ویڈیو چلانے لگا۔
یہ ویڈیو اس واقعہ سے کچھ دیر پہلے کی ہے۔۔۔جو کہ اس مکان کی پشت پہ موجود گھر کےسیکیورٹی کیمرے نے بنائی۔
معراج نے دیکھا تو اندھیرے میں ایک سایہ نمودار ہوا جو کہ کافی ثد تک صندل سے مماثلت رکھتا تھا۔
اندھیرے میں شکل دیکھنا تو ناممکن تھا لیکن یہ صاف ظاہر ہوتا تھا کہ وہ ایک لڑکی ہے۔۔۔۔اور اس کا قد کاٹھ صندل جیسا تھا۔
ویڈیو غور سے دیکھنے سے سمجھ آ رہا تھا کہ وہ لڑکی اس گھر کے اطراف کوئی چیز چھڑک رہی تھی شاید وہ پٹرول یا کوئی ایسا ہی مواد تھا۔
کئی منٹ تک یہ کام کرنے کے بعد وہ مکان کے سامنے کی جانب چلی گئی جس وجہ سے ویڈیو سے اوجھل ہو گئی۔۔۔۔کچھ دیر بعد ہی اس وہاں یکدم آگ بھڑک اٹھی۔
معراج بےیقینی سے اس ویڈیو کو دیکھتا رہا۔۔۔اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ صندل نے یہ سب کیا ہے۔۔۔۔آخر وہ خود اپنا اتنا بڑا نقصان کیوں کرے گی۔۔۔۔
اب تو یقین آ گیا آپ کو۔۔۔۔ بہتر ہے کہ اب ہمارے ساتھ تعاون کریں۔۔۔۔
آپ نے ایک ہفتہ کہا تھا۔۔۔۔ایک ہفتہ کے اندر ان کو پیسہ مل جائیں گے۔۔۔۔
وہ دانت پیستا ہوا چبا چبا کر کہنے لگا تو انسپکٹر اسے آنکھیں سکیڑ کر دیکھنے لگا۔
معراج صاحب۔۔۔۔۔جیسا آپ چاہیں ابھی کے لئے تو میں یہاں سے چلا جاتا ہوں لیکن بہتر ہے کہ خود کو ایسے لوگوں سے دور رکھیں۔۔۔۔
وہ اسے مخلصانہ مشورہ دیکھنے لگا جسے وہ نظر انداز کر گیا۔
______
پولیس کے جانے کے بعد سے وہ ایک کونے سے دوسرے کونے تک مسلسل چکر لگاتا رہا۔۔۔
صندل ایسا کیوں کرے گی۔۔۔۔کیا حاصل ہوتا اسے ایسا کر کے۔۔۔۔۔
اس کی پراسراریت پھر گزشتہ رات کی قربت اور اب یہ سب۔۔۔۔۔ہر چیز اسے ایک الگ ہی راڈتہ پی کھینچ رہے تھے۔
آخر اس لڑکی کی حقیقت کیا تھی۔۔۔۔کیا مقصد تھے جو وہ اس جگہ کو جلا کر ثاصل کرنا چاہتی تھی۔
آہ۔۔۔۔معراج اچھا ہوا تم مجھے یہیں مل گئے۔۔۔۔میں ابھی تمہارے آڈیٹر سے ہی مل کر آ رہی ہوں۔۔۔۔
صندل اس کےآفس میں داخل ہوتی اپنی ہی دھن میں معراج کو بتا رہی تھی جب وہ تیزی سےاس کی جانب بڑھا۔
اس کی کلائی کو سختی سے دبوچا تو وہ دبی سی آواز میں چیخ اٹھی۔
معراج۔۔۔۔۔
ابھی وہ احتجاج بھی نا کر پائی تھی جب معراج نے اس کی پشت کو زور سے دیوار کے ساتھ پٹخا اور تکلیف کے باعث اس کی سانس رکتی ہوئی محسوس ہوئی۔
وہ آنکھیں پھیلائے اسےدیکھنے لگی جبکہ وہ ایک دم اس کےسامنے آتا شعلہ با نظروں سے صندل کو دیکھنے لگا۔
بتاؤ کیوں کیا تم نےایسا۔۔۔۔۔کیوں ۔۔۔۔کیا چاہتی ہو تم۔۔۔۔
وہ دھیرےسے سانس لینے لگی تو معراج کی خوشبو اس کی سانسوں کےذریعہ اس میں اترنے لگی۔
کیا کی رہے ہو تم۔۔۔۔اور یہ کیا طریقہ ہے۔۔۔۔
وہ اپنا بازو آزاد کروانے کی کوشش کرنے لگی تو معراج نے اس کی دوسری جلائی کو بھی دبوچ کر دونوں بازو اس کی سر کے اوپر بلند کرتے دیوار سے چسپاں کر دیے۔۔۔۔
انجان مت بنو صندل۔۔۔۔تم نے اپنا گھر کیوں جلایا۔۔۔۔
وہ سرخ انگارے لئے سخت لہجہ میں استفسار کرنے لگا۔
تم کیا بکواس کر رہے ہو چھوڑو مجھے۔۔۔۔
اس کے لئے معراج کا یہ روپ نیا تھا۔۔۔۔لیکن اس نے اس بھی کئی گنا بھیانک رویہ کا سامنا کیا تھا۔
صندل۔۔۔۔۔میں تمسے پوچھ رہاہوں کیوں جلایا تم نےاپنا گھر۔۔۔۔۔میں سب جان چکا ہوں۔۔۔۔مجھ سے جھوٹ مت بولنا۔۔۔۔
اب کی بار اس کے لہجہ میں صاف وارننگ پائی جاتی تھی۔
میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔اب چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔
وہ پوری قوت سے خود کو اس کی پکڑ سے آزاد کروانے کی کوشش کرنے لگی تو معراج اسے آزاد کرتا دو قدم دور ہوا اور ایک زوردار طمانچہ اس کےرخسار پہ رسید کیا۔
وہ بےیقینی سے آنکھیں پھاڑے معراج کو دیکھنے لگی تو انکھیں سکیڑے اسے دیکھ رہا تھا۔
نظریں نیچی۔۔۔۔۔
وہ اسے غصہ سے گھورنے لگی تو معراج اس کی انگارہ برساتی نظریں دیکھ کر کہنے لگا۔
صندل مسلسل جانلیوا نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی تو اب کی بار معراج نے غراتے ہوئے اپنا مطالبہ دہرایا۔
میں نے کہا نظریں نیچی۔۔۔۔۔۔
صندل ناچاہتے ہوئے بھی اپنی نظریں جھکا گئی۔
پولیس کے پاس تمہاری ویڈیو ہے جس میں تم پٹرول ڈالتے ہوئے دیکھی جا سکتی ہو اس لئے جھوٹ مت بولنا۔۔۔۔کیوں کیا تم نے یہ۔
میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔نا ہی میں کسی ایسی ویڈیو سے واقف ہوں۔۔۔۔جب اگ لگی تو می سو رہی تھی۔۔۔۔
وہ نظریں جھکائے ہوئے مضبوط لہجہ میں گویا ہوئی۔
تو پولیس تمہیں گرفتار کرنے کیوں آئی تھی۔۔۔۔
میں نہیں جانتی۔۔۔۔کیا تم ںے میرا چہرہ دیکھا۔۔۔۔
اب کی بار وہ سوالیہ نظروںسے معراج کو تکنے لگی۔
نہیں لیکن صاف ظاہر تھا کہ وہ تم ہی ہو ۔۔۔۔تمارا قد کاٹھ سب اسی جیسا ہے۔۔۔۔
لیکن میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ تم نے ایسا کیوں کیا۔۔۔۔بتاؤ مجھے صندل۔۔۔۔
تم پاگل ہو گئے ہو میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔وہ کوئی اور بھی ہو سکتی ہے۔۔۔اور اگر میں ہوتی تو کیا اتنی بےوقوف ہوتی کہ اپنی ویڈیو بننے دیتی۔۔۔۔۔تمہیں اگر یقین نہیں تو بلاؤ پولیس کو اور کروا دو گرفتار۔۔۔۔
اب کی بار وہ اس کے چہرے کےسامنے چلاتی ہوئی آفس سے باہر چلی گئی۔
کچھ دیر بعد معراج کو اس کے کمرے کے دروازہ کی زوردار آواز سنائی دی۔
وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا آنکھیں بھینچ گیا۔۔۔
یہ وہ کیا کر رہا تھا۔۔۔۔صندل پہ ہاتھ اٹھایا۔۔۔۔اور وہ سچ بھی تو کہ سکتی تھی اس ویڈیو میں چہرہ صاف نہیں تھا تو وہ کوئی اور بگی تو ہو سکتی ہے۔
اور ایسا کیسے ہو سکتا ہےکی صندل اس سیکیورٹی کیمرے سے اتنی انجان ہو۔ آخر وہ اس جگہ کافی عدصہ سے رہتی تھی۔
شٹ۔۔۔۔یہ میں نے کیا کیا۔۔۔۔
وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھامےافسوس کرنے لگا۔
_______
وہ ائینہ کے سامنے کھڑی اپنے کندھوں سے رستا خون دیکھ رہی تھی۔
آنکھیں غصہ اور تکلیف سے سرخ تھیں معلوم ہوتا تھا جیسے ان میں بھی خون اتر آیا ہو۔
ہاتھ میں پکڑے بلیڈ سے وہ ایک بار پھر اہجے کندھے کو کاٹتے ہوئے اپنا نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبا گئی اور پھر بلیڈ ایک طرف پھینک کر آئینہ پہ جھکتی اپنا عکس دیکھنے لگی۔
جب تکلیف کی شدت سے اس کی غصہ کم ہونے لگا تو وہ چھت کو دیکھنے لگی۔
یہ تم نے اچھا نہیں کیا معراج۔۔۔۔۔بلکل بھی نہیں۔۔۔۔
اس کے چہرے پہ ایک مکروہ مسکراہٹ پھیلی تھی اور وہ گہعہ سانس لیتی رستے ہوئے خون کو دیکھنے لگی۔
