Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui NovelR50459 Zehr-e-Sheren Episode 4
Rate this Novel
Zehr-e-Sheren Episode 4
Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui
موبائل کی بیل سے وہ نیند کی وادیوں سے باہر نکلا تھا۔
گھڑی کی جانب دیکھا تو ابھی تہجد کا وقت تھا۔
اتنے میں موبائل پھر سے بجنے لگا تو اس پہ انجان نمبر کو دیکھتے ہوئے معراج کی پیشانی پہ بل نمودار ہونے لگے۔
ہیلو۔۔۔۔
کال اٹینڈ کر کے وہ اکتائے ہوئے انداز میں بولا
اسلام علیکم۔۔۔۔کیا آپ معراج غزنوی بات کر رہے ہیں۔۔۔۔
جی میں معراج بات کر رہا ہیں۔۔۔
دیکھیں سر ہم ہوسپٹل سے بات کر رہے ہیں۔۔۔صندل احمد علی کو یہاں زخمی حالت میں لایا گیا ہے۔
آپ پلیز جلد از جلد بتائے گئے پتے پہ پہنچ جائیں۔۔۔
صندل کو زخمی حالت میں ہوسپٹل لایا گیا ہے۔۔۔۔
ابھی وہ یہی سوچ رہا تھا جب مقابل ہوسپٹل کا نام بتانے لگا۔
لیکن انہیں ہوا کیا ہے۔۔۔۔اور اپ کو میرا نمبر کیسے ملا۔۔۔۔
وہ حیران سا پوچھنے لگا لیکن دوسری جانب سے رابطہ منقطع کر دیا گیا تھا۔
آخر اسے یکدم کیا ہوا۔۔۔۔اور وہ بھی اس وقت ۔۔۔۔
ایک بار پھر اس کی نظر گھڑی کی جانب گئی جہاں رات کے تین بج رہے تھے۔
وہ جلدی سے اپنے ڈریسنگ روم کی جانب بڑھا اور لباس بدلنے لگا۔
نجانے اسے کیا ہوا ہو گا۔۔۔۔اور ہوسپٹل انتظامیہ مجھے کیوں کال کرے گی۔۔۔
کئی سوالات تھے جو اس کے ذہن میں گردش کر رہے تھے لیکن وہ انہیں نظرانداز کرنے لگا۔
____
ہوسپٹل پہنچتے ہی وہ ریسیپشن ایریا کے جانب بڑھا اور وہاں سے صندل کے بارے میں معلومات حاصل کرنے لگا۔
جلد ہی اسے کمرہ نمبر بتا دیا گیا جہاں وہ آرام کر رہی تھی۔
معراج کمرے میں داخل ہوا تو وہ بستر پہ لیٹی ہوئی تھی۔
یوں محسوس ہوتا تھا جیسے پرستان سے کوئی پری یہاں آ گئی ہو۔
وہ اپنی سوچ پہ خود ہی مسکراتا اسے ذہن سے جھٹکنے لگا اور پھر اس کے سامنے کرسی پہ بیٹھ گیا۔
وہ شاید سو رہی تھی۔۔۔۔اسی لئے اس کی موجودگی سے ناواقف تھی۔
اب کی بار وہ اس کی حالت کا معائنہ کرنے لگا تو سب سے پہلے نظر پیشانی پہ ہلکے سے زخم پہ گئی۔
ایک ہاتھ کے گرد پٹی سلتھی اور بازو پہ کوئی مرہم لگا تھا۔
شاید اور بھی چوٹ تھیں جو اس کے لباس نے ڈھانپ رکھی تھیں۔
اسے یوں دیکھ معراج کے دل میں ٹیس سی اٹھی تھی۔ ان چند دنوں میں وہ اس سے مانوس ہو گیا تھا۔۔۔۔کم از کم اسے تو یہی لگتا تھا۔
وہ اپنے ہاتھ کو اس کے چہرے کی جانب بڑھانے لگا لیکن پھر راستہ میں ہی رک گیا۔
لیکن پھر بےخودی میں ہاتھ اس کے جانب بڑھنے لگا۔۔۔۔دل پہ کہاں قابو رہا تھا۔
وہ اس کی پیشانی پہ بکھرے بال نرمی سے چہرہ سے ہٹانے لگا۔
یہ کرتے ہوئے اس کے چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ پھیلی تھی۔
جسارتیں بڑھنے لگیں اور وہ اس کے پیشانی کا زخم اپنی پوروں سے چھوںے لگا۔
اب کی بار وہ ہلکا سا کسمسائی تھی۔
معراج نے اپنا ہاتھ فورا پیچھے کھینچ لگا۔
صندل کے سر میں ابھی بھی درد ہو رہی تھی اس نے آنکھیں کھولیں تو بے تحاشہ جلن ہونے لگی۔
صندل۔۔۔۔آپ ٹھیک ہیں ۔۔۔۔
معراج کی آواز پہ وہ چونکی اور پھر سے انکھیں کھولنے کی کوشش کرنے لگی۔
معراج۔۔۔۔وہ رندھی ہوئی آواز میں بولی۔
حلق میں جلن ہونے لگی تھی۔
صندل آپ ٹھیک تو ہیں۔۔۔۔کیا ہوا۔۔۔۔
صندل کے پکارنے پہ وہ ہوش میں لوٹا تھا۔
اس کے سوال پہ صندل کی پیشانی پی بل نمودار ہوئے تھے جیسے وہ کچھ یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور پھر اپنی کہنیوں کا استعمال کرتی بستر سے اٹھنے لگی۔
لیٹی رہو پلیز۔۔۔۔
نہیں میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔
وہ بمشکل بولی اور پھر کھانسنے لگی۔
معراج نے سائیڈ ٹیبل سے پانی کی بوتل اٹھا کر سے پانی پکڑایا تو وہ اس کا سپ لینے لگی۔
کیا تم ٹھیک ہو۔۔۔۔
اس کے استفسار پہ صندل نے صرف سر ہلا دیا۔
معراج اس کے مقابل بیٹھتا اس کا چہرہ دیکھنے لگا جس پہ تھکاوٹ صاف جھلک رہی تھی۔
کیا ہوا تھا صندل۔۔۔جب آپ پارکنگ میں مجھے چھوڑ کر گئیں تب تو سب ٹھیک تھا۔
آگ۔۔۔۔آگ لگ گئی تھی۔۔۔میں سو رہی تھی۔۔۔
وہ بمشکل اس کا جواب دے پائی اور پھر سے کھانسنے لگی۔
آگ لیکن کیسے۔۔۔۔شکر ہے کہ آپ ٹھیک ہو۔۔۔
وہ پریشانی سے اس کا پھر سے معائنہ کرتے کہنے لگا جب صندل کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
صندل۔۔۔سب ٹھیک ہو جائے۔۔۔شکر ہے کہ آپ ٹھیک ہیں۔
اسے روتا دیکھ معراج کو اپنا دل کھچتا محسوس ہوا تھا وہ اسے حوصلہ دینے لگا جب صندل نے یکدم اپنا سر اس کے کندھے پہ ٹھکا دیا اور خود سسکیاں بھرتی رونے لگی۔
اس کے کندھے پہ یوں سر رکھنے سے پہلے تو وہ چونک گیا لیکن پھر صندل کے سر پہ ہاتھ رکھ دیا۔
آپ جاگ گئیں۔۔۔۔آپ کو تو آرام کرنا چاہئیے تھا ۔۔۔۔۔۔
نرس کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہنے لگی تو صندل اس سے دور ہو گئی۔
میں واپس کب جا سکتی ہوں۔۔۔۔
صبح ہوتے ہی آپ کو ڈسچارج کر دیا جائے گا پھر آپ اپنے گھر جا سکتی ہیں۔۔۔۔
نرس اس کے سوال کا جواب دیتی اسے ادویات کھلانے لگی جبکہ معراج کمرے میں ادھر ادھر ٹہلنے لگا۔
نرس اسے واپس لیٹنے کا کہ کر کمرے سے چلی گئی تو معراج بھی اس کے تعاقب میں چل دیا۔
دروازہ بند کرتے ہی اس نے اس نرس کو پکارا تھا۔
رکیں۔۔۔۔کیا آپ مجھے بتا سکتی ہیں کہ صندل کو کیا ہوا ہے۔۔۔۔
وہ اس کا سوال سن کر اطمینان سے جواب دینے لگی۔
گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے انہیں ہلکی سے چوٹیں آئی ہیں۔اور زیادہ دیر تک دھویں میں رہنے سے انکھوں اور گلے کا کچھ مسئلہ ہے جو کل رات تک ٹھیک ہو جائے گا۔
بس انہیں اپنے ہاتھ اور ٹانگ کو دھیان رکھنا ہو گا جہاں زخم قدرے گہرہ ہے۔
وہ تفصیل سے بتا کر پلٹنے لگی جب معراج نے اسے پھر سے مخاطب کیا۔
مجھے ہوسپٹل سے کال ائی تھی کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ میرا نمبر کیسے ملا یہاں کی انتظامیہ کو۔۔۔
دیکھیں یہ تو کوئی رشتہ دار یا مریض خود ہی نمبر بتا سکتا ہے نا۔۔۔۔اور آپ کے علاوہ تو میں نے ان کا کوئی رشتہ دار نہیں دیکھا تو مریضہ نے خود ہی دیا ہو گا۔
وہ مشکوک نظروں سے اسے دیکھتی وہاں سے چلی گئی جبکہ معراج کمرے کے باہر ہی بینچ ہر بیٹھ گیا۔
