Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui NovelR50459 Zehr-e-Sheren Episode 18
Rate this Novel
Zehr-e-Sheren Episode 18
Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui
ایک کے بعد ایک دن گزرنے لگا تھا اور صندل اس شخص کے بارے میں بھولنے لگی جب اچانک وہ کسی دیو کی طرح پھر سے اس کے سامنے کھڑا تھا۔
وہ اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ قریب پارک میں ٹہل رہی تھی جب اسے اپنی جانب دیکھتے پایا۔
شیش۔۔۔۔یہیں رکنا کہیں جانا مت۔۔۔۔
وہ باقی بچوں کے ساتھ فٹ بال کھیلتے شیش کو تلقین کرتی اس پراسرار شخص کی جانب بڑھنے لگی۔
ہیلو۔۔۔۔کیا آپ نے پہچانا مجھے۔۔۔۔
وہ سینے پہ ہاتھ رکھتی کہنے لگی لیکن وہ شخص بنا کچھ کہے اسے دیکھتا رہا۔
امم۔۔۔شاید آپ نے مجھے نہیں پہچانا۔۔۔۔
وہ تذبذب کا شکار ہوتی کہنے لگی۔ پلٹنے لگی جب مقابل کی بھاری آواز نے اسے روک دیا۔
صندل۔۔۔۔مجھے سب اچھے سے یاد ہے۔۔۔۔
اس نے دھیمی لیکن رعب دار آواز میں کہا جس پہ اس کی باچھیں کھلتی گئیں۔
جج۔۔۔جی میں یہاں اپنے بھائی کے ساتھ آئی تھی۔۔۔۔اس روز کے لئے آپ کا بےحد شکریہ۔۔۔۔
وہ انتظار کر رہی تھی کہ وہ کب کچھ کہے لیکن اس کا انتظار جب لمبا ہونے لگا تو وہ شرمندہ سی ہونے لگی۔
میرے خیال سے مجھے اب چلنا چاہئیے۔۔۔۔وہ ایک ہاتھ اپنے بالوں میں پھیرتی دوسرے سے اپنے بھائی کی جانب اشارہ کرتی کہنے لگی۔
جب وہ ابھی بھی کچھ نا بولا تو صندل کو اپنا چہرہ شرمندگی سے سرخ ہوتا محسوس ہوا۔
بائے۔۔۔۔
وہ سرگوشی کرتی اسی جانب بھاگ گئی جہاں سے آئی تھی۔۔۔۔شیش کے قریب پہنچ کر پلٹی تو وہاں اب کوئی بھی نا تھا۔
_______
مسٹر تبریز آج آپ پھر سے لیٹ ہیں۔۔۔
ھدیل تھکاوٹ سے چور لہجہ میں اسے کہتی ڈنر سرو کرنے لگی
بچے سو گئے کیا۔۔۔۔
ہاں لیکن انہوں نے کافی دیر انتظار کیا۔۔۔۔
عین وقت پہ ایک اپائنمنٹ ری شیڈیول کرنی پڑی ۔۔۔۔۔
وہ لقمہ لیتے ہوئے ھدیل کو اپنی دیری کی وجہ بتانے لگا جسے وہ ہوا میں اڑا گئی۔
کمرے میں داخل ہوا تو وہ بیڈ پہ بیٹھی لوشن سے ہاتھ کی مساج کر رہی تھی۔
میں آج بہت تھک گئی ہوں۔۔۔۔۔
تمہارہ بیٹا مجھے بہت تنگ کرتا ہے۔۔۔۔
شیش کے ذکر پہ شمس کے چہرے پہ آہنی مسکراہٹ پھیل گئی اور وہ لوشن کی بوتل پکڑے اسے اپنی ہتھیلی پہ انڈیلنے لگا اور پھر ھدیل کا پاؤں پکڑ کر اسے اپنی جانب کھینچا۔
ابھی بھی زخم کا نشان اس کے پاؤں پہ موجود تھا جو سالوں پہلے شھیر نے اسے دیا تھا۔
وہ دونوں ہاتھوں سے اس کے پاؤں کی مساج کرنے لگا۔
میں نے تمہیں کہا تھا کہ ملازمہ کا بندوبست کر لو۔۔۔۔
وہ نرمی سے اس کا پاؤں ملتا ہوا کہنے لگا۔
اف میرے خدا۔۔۔۔تبریز مجھے آج تک پتا ہی نا چلا آپ اتنی اچھی مساج کر لیتے ہو۔۔۔
وہ کہنیوں کے بل لیٹتے ہوئے بلی کی طرح پھیلتی ہوئی کہنے لگی۔
کرنے کو تو میں اور بھی بہت کچھ کر سکتا ہوں۔۔۔۔
پلیز۔۔۔۔یہاں زرا دوبارہ کرنا۔۔۔۔جادو ہے ان انگلیوں میں۔۔۔۔
وہ انگلی سے اشارہ کرتی اسے سمجھانے لگی۔
شمس نے اس کے پاؤں پہ دباؤ دیا تو وہ چیختی ہوئی اٹھ بیٹھی۔
آہ۔۔۔۔یہ کیا کررہے ہو۔۔۔۔
جادو ہے نا میری انگلیوں میں۔۔۔۔وہ اسے زچ کرتا ایک بار پھر سے اس کا پاؤں دبا دیا۔
تبریز۔۔۔۔
اب کی بار وہ ہنستے ہوئے خود کو اس سے آزاد کروانے لگی۔
چھوڑو مجھے۔۔۔مت کرو ۔۔۔۔
نہیں رکو اب کہاں بھاگ رہی ہو۔۔۔۔
وہ اسے آزاد کرنے کی بجائے اپنی جانب کھینچنے لگا تو ھدیل کھلکھلا کر ہنسنے لگی شمس کے چہرے پہ بھی آہنی مسکراہٹ پھیل گئی۔
رات کےاس لمحے وہ اس دوسرے وجود سے بیگانے تھے جو کہ اپنی سوچوں کےباعث نیند سے کوسوں دور تھا۔
صندل بستر پہ اپنی انگلی سے دائرے بناتی اسی شخص کے بارے میں سوچ رہی تھی۔
کتنا عجیب تھا وہ۔۔۔۔
وہ باربار اس کا خیال اپنے ذہن سے جھٹکتی لیکن ناکام رہتی۔۔۔کچھ تھا جو اسے اس شخص کی جانب کھینچ رہا تھا۔
________
شیش۔۔۔۔ایسے مت بھاگو۔۔۔۔
ھدیل نے اپنے نو سالہ بیٹے کو ڈانٹا تو اس نے اپنی رفتار کچھ کم کی۔
صندل تمہیں جو لینا ہے وہ دیکھ لو۔۔۔۔
وہ ھدیل اور شیش کے ساتھ مال میں آئی تھی۔ ھدیل ضرورت کا سامان خرید رہی تھی جبکہ شیش ٹرالی کو ادھر ادھر لئے گھوم رہا تھا۔
میں نے کیا لینا ہے سب تو آپ نے لے لیا ہے۔۔۔۔
وہ ٹرالی کی جانب اشارہ کرتی کہنے لگی۔
سنیکس وغیرہ لے لو نا اپنی پسند کے۔۔۔۔
ھدیل شیش کو کھینچتی ہوئی ایک بزرگ شخص سے معافی مانگنے لگی جو کہ اس کی ٹرالی لگنے سے تلملا اٹھے تھے۔
صندل سنیکس لینے لے لئے مال کے مخالف سمت بڑھ گئی اور اشیاء دوسری ٹرالی میں ڈالنے لگی۔
کیا تمہاری کوئی دوست نہیں۔۔۔
مانوس سے آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی تو وہ یکدم پلٹی تھی۔
آ۔۔۔آپ۔۔۔۔
کیوں۔۔۔۔کیا میں شاپنگ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔
وہ بلیو جینز اور بلیک ٹی شرٹ میں ملبوس تھا۔
چہرہ پہ ہلکی سی داڑھی اور مونچھیں اسے مزید رعب دار بنا رہی تھیں۔
ہوڈ نا ہونے کی وجہ سے آج وہ اس کا چہرہ پہلی بار دیکھ رہی تھی
اس کے بال یوں بکھرے تھے جیسے کوئی بار بار ان میں اپنی انگلیاں چلاتا رہا ہوں۔
صندل کا دل نجانے کیوں اس کے بال چھونے کو چاہنے لگا۔
جب اس نے مقابل کا وئی جواب نا دیا تو وہ ابرو اچکائے اسے دیکھنے لگا۔
ششش۔۔۔۔چھی صندل انکل ہے وہ۔۔۔۔
وہ خود کو کوستی شرمندہ سی کہنے لگی۔
ج۔۔۔جی ہیں تو۔۔۔۔لیکن یہاں نہیں ہیں ۔۔۔
وہ تذبذب کا شکار نظریں ادھر ادھر گھماتی کہنے لگی۔
اس کا چہرہ سرخ ہونے لگا تھا جس پہ وہ کافی محظوظ ہوا۔
یہاں کیوں نہیں ہے۔۔۔۔
دوسرے سوال پہ صندل کی پیشانی پہ کچھ لکیریں ابھری تھیں۔
یہاں کوئی مجھے پسند نہیں کرتا۔۔۔۔
وہ کرواہٹ حلق سے نیچے اتارتی ہوئی کہنے لگی۔
لیکن مجھے تو تم کافی پسند آئی۔۔۔۔
وہ معنی خیز سا کہنے لگا تو صندل حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی۔
کیا واقعی۔۔۔۔مم۔۔۔میرا مطلب تھیکنس۔۔۔۔
وہ ٹرالی کو دھکیلتے ہوئے کہنے لگی۔ ویسے آپ کو دیکھ کر مجھے میرے بابا یاد آتے ہیں۔۔۔
نہیں میں آپ کو اولڈ نہیں کہ رہی ۔۔۔۔آپ تو بہت اچھے ہیں۔۔۔۔میرا مطلب آپ ان سے تو کافی چھوٹے لگتے ہیں۔۔۔پر پتا نہیں ویسے کیوں لگتے ہیں ۔۔۔۔۔
میں کیا بک رہی ہوں۔۔۔۔ایم سو سوری۔۔۔۔
ویسے میرے بابا بھی بہت ہینڈسم ہیں۔۔۔۔
صندل کی نظر اس کے چہرے پہ گئی جو کہ اس کی بوکھلاہٹ پی مسکرا رہا تھا تو وہ خاموش ہو گئی۔
میں اب کچھ نہیں بولوں گی۔
وہ اپنا وزن ایک سے دوسرے پاؤں پہ ڈالتی نظروں کا زاویہ بدلتے ہوئے کہنے لگی۔
تو آپ کا کوئی دوست نہیں۔۔۔۔
اونہوں۔۔۔۔
وہ سر انکار میں ہلاتی تقریبا ہر چیز ٹرالی میں پھینکنے لگی۔
مجھے لگا کہ ہم دوست ہیں۔۔۔۔
وہ دھیمے سے لہجہ میں اس کی جانب جھکتا کہنے لگا تو صندل آنکھیں پھیلا کر اسے دیکھنے لگی۔
کیا ہم دوست ہیں۔۔۔۔
ہاں بلکل دوست ہیں۔۔۔
لیکن مم۔۔۔میں تو آپ کا نام بھی نہیں جانتی۔۔۔سر
وہ اس کی قربت پہ بوکھلائی خشک ہونٹوں پہ زبان پھیرتی ہوئی کہنے لگی۔
سر۔۔۔آئی لائک اٹ۔۔۔۔ویسے تم مجھے مسٹر ایس کہ سکتی ہو۔۔۔
مسٹر ایس۔۔۔۔
وہ اس کہ لقب پہ ہنسے بغیر نا رہ سکی۔
کیوں کیا یہ اتنا مزاحیہ ہے۔۔۔۔
وہ اس لڑکی کی باتوں سے محظوظ ہوتا کہنے لگا۔
مین ان بلیک کی طرح۔۔۔۔
وہ اس کی کالی ٹی شرٹ کی جانب اشارہ کرتی ہنسی روکتی ہوئی کہنے لگی۔
کیوں کیا تم مین ان بلیک کی دوست بننا پسند نہیں کرو گی۔
ان کی بار اس کی مسکراہٹ کسی اور ہی وجہ سے تھی۔
آئی ول لائک اٹ۔۔۔۔
وہ پلکیں گراتی ان کی اوٹ سے دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔
اچانک وہ اس سے دور ہوا تو صندل کو اپنی سانس بحال ہوئی محسوس ہوئی۔
میں چلتا ہوں پھر ملوں گا۔۔۔۔اور صندل مجھے لمبے بال پسند ہیں۔۔۔
وہ اس کے سر پہ ہلکی سی چپت لگاتا تیزی سے مخالف سمت چلا گیا۔
صندل اپنے بندھے ہوئے بالوں کو چھوتی پاگلوں کی طرح مسکراتی اسے تب تک دیکھتی رکی جب تک وہ نظروں سے اوجھل نا ہو گیا۔
صندل۔۔۔کہاں گم ہو۔۔۔۔
ھدیل کی آواز پہ وہ چونک کر پلٹی تو وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
کچھ نہیں وہ اپنی دوست سے ملاقات ہو گئی۔
وہ اسے ٹالتی ہوئی اپنی جینز کی جیب میں دونوں ہاتھ اڑس کر کھڑی ہوگئی۔
تمہاری دوست۔۔۔۔کہاں گئی مجھے تو ملواتی۔۔۔
اسے یہ جان کر خوشی ہوئی تھی کہ صندل اب اس جگہ پہ سیٹل ہونے کی جوشش کر رہی ہے۔۔۔
ابھی وہ چلی گئی۔۔۔اور چلیں۔۔۔۔کافی ٹائم ہو گیا۔۔۔۔
ہاں چلو لیکن اتنا سب کیوں اٹھا لیا۔۔۔۔کوئی پارٹی تو نہیں رکھی ہم نے۔۔۔۔
وہ ان میں سے کئی بکس اٹھا کر واپس رکھتی کہنے لگی جب کہ صندل ادھر ادھر دیکھنے لگی کی شاید اسے مسٹر ایسسس دوبارہ دکھ جائیں۔
_________
ماما۔۔۔۔میں نے اپ کو کئی بات کہا ہے میرے سامان کو مت چھوا کریں۔۔۔۔
وہ غصے سے چلائی تو ھدیل اسے پریشانی سے دیکھنے لگی۔
میں نے تمہارے کمرے کی صفائی کی تھی۔
مت کیا کریں۔۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔
وہ روہانسی ہو کر پھر سے چیخی تھی۔
جبکہ ھدیل اس کے رویہ پہ وہیں منجمد ہو گئی۔
نجانے کچھ عرصے سے اسے کیا ہوا تھا۔۔۔۔وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پہ یوں ہی کرنے لگی تھی۔
شمس کا کہنا تھا کہ یہ ایج ہی ایسی ہوتی ہے لیکن ہر بار اس کا لہجہ پہلے سے زیادہ کشیدہ ہوتا جا رہا تھا۔
صندل یہ تم کیسے بات کر رہی ہو۔۔۔۔
میں کیسے بات کر رہی ہوں۔۔۔۔اور جو آپ کرتی ہیں۔۔۔۔
مجھے کہیں جانے نہیں دیتیں۔۔۔۔کسی سے بات کروں تو ساری تفصیل چاہئیے آپ کو۔۔۔۔
صفائی کے بہانے میرے کمرے کی تلاشی لیتی ہیں آپ۔۔۔۔
وہ الماریسے کمرے باہر پھینکتی ہوئی کہنے لگی۔آنکھوں میں آنسو تھے جو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
یہ سچ تھا کہ ھدیل وہم کا شکار تھی وہ بار بار سارے دروازے کھڑکیاں چیک کرتی اور صندل پہ نظر رکھتی۔
اس نے کئی بار سیشن بھی کئے تھے کچھ عرصہ وہ ٹھیک ہو جاتی لیکن پھر اچانک ہی وہ نیند سے جاگتی اور یہ سب شروع کر دیتی۔
تبریز کی موجودگی میں تو اڈے کوئی خوف نا ہوتا لیکن جب وہ گھر موجود نا ہوتا تو عجیب وہم اسے آ گھیرتے۔
دباؤ میں آ کر وہ مری آ تو گئی تھی لیکن اب اس فیصلہ پہ افسوس ہو رہا تھا۔
کیا ہوا آپی۔۔۔۔
شیش جو کہ لان میں کھیل رہا تھا واپس آیا تو اس کی اونچی آواز سن کر وہیں آ گیا۔
جبکہ ھدیل شرمندہ سی وہیں کھڑی انگلیاں مروڑنے لگی۔
صندل ان کے ماضی سے انجان تھی وہ سمجھتی تھی کہ صندل یہ سب اس لئے کرتی ہے کیونکہ وہ ان کا خون نہیں۔۔۔۔کیونکہ جتنا وہ جانتی تھی اور تو کسی لڑکی کی ماں ایسا نہیں کرتی تھی۔
کچھ نہیں۔۔۔۔
وہ شیش کو دیکھ کر اپنی آنکھیں رگڑنے لگی جبکہ ھدیل ان دونوں کو چھوڑ کر نیچے آ گئی۔
_______
صندل کو اس طرح بات نہیں کرنی چاہئیے۔میں اس سے بات کروں گا۔
نہیں تبریز وہ سمجھے گی میں نے اس کی شکایت کی ہے۔
بات شکایت کی نہیں ہے ھدیل۔۔۔۔وہ تم سے یوں بات نہیں کر سکتی۔۔۔۔کوئی بھی نہیں کر سکتا۔۔۔۔سوائے میرے۔۔۔۔
تبریز۔۔۔۔
خاموش۔۔۔۔میں ابھی اس سے بات نہیں کروں گا لیکن یہ سب نہیں چلے گا یہاں۔
تم دونوں اپنے معاملات سلجھاؤ۔
وہ نہیں جانتی کہ تم کس دور سے گزری ہو۔۔۔۔میں جانتا ہوں وہ کم عمر ہے اور اس کا بچپن اچھا نہیں تھا لیکن تم اس کی ماں ہو اور اس بات کی اجازت اسے نہیں کہ وہ تم پہ چلائے۔
وہ اسے خاموش کرواتا اپنا ارادہ بتانے لگا جبکہ صندل جو کہ ھدیل سے معافی مانگنے آئی تھی اس کی بات سن کر دل شکستہ وہاں سے چل دی۔
اور صندل ۔۔۔۔ہر سال اپنی رہائش بدلنے سے دونوں بچوں پہ اثر ہوا ہے۔۔۔۔وہ کسی جگی سے جذباتی طور پہ منسلک نہیں ہو پاتے
وہ ھدیل کا ہاتھ تھامتا اسے اپنی جانب کھینچتا کہنے لگا۔
اور اب تو ہماری فیملی میں ایک اور فرد آ رہا ہے۔۔۔۔
وہ اس کی گردن کو چھوتا ہوا کہنے لگا اور پھر اسے گردن ست تھام لیا۔
ہم اب مستقل طور پہ یہیں رہیں گے۔۔۔۔
وہ احتجاج کرتی اس سے پہلے تبریز نے اس کی گردن پہ دباؤ ڈالا جس سے وہ وہیں خاموش ہو گئی۔
مطلب صاف تھا اس معاملہ پہ اب وہ مزید نرمی نہیں کرے گا۔
_______
وہ بادلوں سے چھپے آسمان کو دیکھنے لگی جو کسی بھی لمحے برسنے کو تیار تھے۔
پارک میں وہ اس وقت اکیلی ہی موجود تھی باقی سب اپنے گھروں کی جانب چل دیئے تھے۔
کوئی ہی تھا جو اس موسم میں وہاں موجود ہوتا۔
وہ تھکے تھکے قدم اٹھاتی خود بھی گھر کی جانب بڑھنے لگی۔
مجھے لگا کہ تم یہیں بھیگنے کا ارادہ رکھتی ہو۔
کسی کی آواز پہ وہ اپنے اطراف کو جائزہ لینے لگی۔
کالی ہوڈ پہنے وہ درخت سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔
اسے دیکھتے ہی صندل کے چہرے پہ مسکراہٹ پھیل گئی تھی
