Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui NovelR50459 Zehr-e-Sheren Episode 30
Rate this Novel
Zehr-e-Sheren Episode 30
Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui
صندل انکھیں پھیلا کر اس شخص کو دیکھنے لگی جس کی وجہ سے شھیر زمین پہ گر چکا تھا جبکہ وہ شخص شھیر کو زمین پی روکے رکھے تھا۔
گن اس کے ہاتھ سے چھوٹتی صندل سے کچھ فاغلہ میں موجود تھی۔
شمس نے سامنے پھٹے اور گندے لباس میں ڈھانچہ بن چکی صندل کو دیکھا تو اس کی انکھوں میں حیوانیت اترنے لگی۔
تبریز کا مانوس چہرہ دیکھ اس کے تاثرات بدلے تھے لیکن جب نظریں اس کی انکھوں سے ملی تو وہ خوف سے خود میں سمٹنے لگی۔
تم ہمیشہ ہی میرے راستے کی رکاوٹ بنے ہو۔۔۔
شھیر منہ سے خون کو تھوکتا پلٹا اور شمس پہ جوابی حملہ کیا لیکن وہ اس وقت ہر اثساس سے عاری تھا۔
اس کے اندر دوڑتے خون کی ایک ایک بوند کو بدلہ چاہئیے تھا جو اس نے صندل کے ساتھ کیا۔
اس بار تم نے غلط شخص چنا۔۔۔۔ایک اور بات شھیر۔۔۔۔اج میرے ہاتھ نہیں کانپیں گے۔۔۔
وہ ایک ایک لفظ کو درشتی سے ادا کرتا کہنے لگا۔
_______
وہ کار میں بیٹھی بار بار اس سمت دیکھتی جہاں کچھ لمحے پہلے شمس غائب ہوا تھا۔
وہ اس کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے اڈے یہیں بیٹھنے کا کہ کر چلا گیا تھا۔
وہ جس طرح جلدی میں میں بھاگا تھا ھدیل کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔
گاڑی میں کوجود پانی کی بوتل اٹھا کر وہ اسے کھولنے لگی۔۔۔۔۔وہ بار بار ہاتھ کار کے دروازے کی جانب بڑھاتی اور پھر پیچھے کھینچ لیتی۔
آخر وہ اس ویرانے میں کیوں تھے ۔ ۔اس کا دل کہ رہا تھا کہ اس سب کا تعلق صندل سے ضرور ہے لیکن وہ کوئی غلط قدم بھی نہیں اٹھانا چاہتی تھی جو کہ شمس کے لئے مشکل کا باعث بنے۔
بوتل کو کھول کر وہ اسے پھر سے بند کرنے لگی۔ بےسکونی بڑھنے لگی تھی اور اخر کار وہ کار انلاک کرتی اس سے باہر نکل آئی۔
________
شھیر نے اچانک خنجر نکال کر شمس کے چہرے پہ وار کیا جسے اس نے روک دیا۔
تم میں اب وہ طاقت نہیں رہی۔۔۔۔
شھیر تمسخرانہ کہنے لگا اور دونوں خنجر کی ملکیت کے لئے لڑنے لگے۔
صندل کانپتے ہوئے ایک ہونے میں بیٹھی یہ تمام مناظر دیکھ رہی تھی اس کی نظر ایک بار پھر گن کی جانب بڑھی اور پھر ان دونوں کی جانب۔
کبھی شھیر حاوی ہوتا تو کبھی شمس۔
شھیر نے شمس کے سینے میں کہنی سے زوردار حملہ کیا تو اس کی پکڑ شھیر پہ کمزور ہونے لگی۔
وہ موقع دیکھتا شمس کو خود پر سے دھکیل کر کھڑا ہونے لگا جب صندل رینگتے ہوئے گن تج پینچی اور اسے تھام کر کھڑی ہو گئی۔
وہ پلٹا تو صندل خوف سے لرزتی انکھیں پھیلا کر اس پہ نشانہ لئے کھڑی تھی۔
اوہ۔۔۔۔تو تم مجھے مارو گی۔۔۔
وہ تضحیک انگیز لہجہ میں کہتا سر کو ہلکا سا خم دیتا کہنے لگا۔
شمس اپنے قدموں پہ کھڑا ہونے لگا تو شھیر ایک دم صندل کی جانب بڑھا اور اس کی کلائی تھام کر گن کا رخ موڑ دیا جبکہ صندل نے خود کو اس سے آزاد کروانے کے لئے فائر کر دیا۔
شمس نے شھیر کو اس کی گردن سے دبوچا اور واپس کھینچ لیا۔
وہ واپس پلٹا تو شمس نے اس کی انکھ میں خنجر دے مارا۔
وہ تڑپتا ہوا حلق کے بل چلا اٹھا تو شمس نے اس کے پیٹ میں زوردار لات رسید کی جس سے وہ لڑکھڑا کر زمین پہ گرا۔
تمہارا میں وہ حال کروں گا کہ تم موت کے لئے تڑپوں گے۔۔۔
شمس نے دھاڑتے ہوئے خنجر اسے کے ہاتھ کے آرپار کر دیا جس سے وہ شمس کو ہٹانے کی کوشش کر رہا تھا۔
ابھی وہ چلا بھی نا پایا تھا جب شمس نے خنجر اس کے یاتھ سے نکالا اور اس کے سینے میں دے مارا۔
تکلیف کی شدت سے وہ گہرا سانس لے کر رہ گیا جبکہ شمس وہاں نہیں رکا اور اس کا سینہ چاک کرنے لگا۔
دلخراش چیخیں اس کے حلق سے ابھرتیں حتی کہ اس کی آواز نے شھیر کا ساتھ چھوڑ دیا۔
خون شمس کے چہرے اور جسم کو بھگو رہا تھا اور شھیر لگاتار تڑپ رہا تھا لیکن شمس پہ اس وقت درندگی سوار تھی۔
صندل دیوار کے ساتھ چپکی یہ سب دیکھ رہی تھی جبکہ ان سے کچھ ہی دوری پہ ایک اور وجود گرا کراہ رہا تھا جبکہ وہ دونوں نے ایک بار بھی اس کی جانب نا دیکھا۔
تمہیں میری فیملی کو انوالو نہیں کرنا چاہئیے تھا۔۔۔۔
وہ تڑپتے ہوئے شھیر کو کہتا اس کے اعضاء نکال کر اس کے منہ میں ٹھونسنے لگا۔
اس پہ سوار درندگی دیکھ صندل بری طرح رونے لگی تھی لیکن وہ اس وقت ایک الگ ہی دنیا میں تھا۔
کسی نے اس کے پاؤں کو چھوا تو وہ آنکھوں میں وحشت لئے شھیر کے اندرونی انگ ہاتھ میں پکڑے اس جانب پلٹا۔
ھدیل کو کراہتے دیکھ شمس اپنے حواس میں آیا تھا۔
وہ شھیر کے جسم کو چھوڑ کر اس کی جانب پلٹا وہ ایک ہاتھ اپنے پیٹ پہ رکھے ہراہ رہی تھی۔
کمرے سے اٹھتی آوازوں کے تعاقب میں وہ یہاں آئی تھی جب اچانک گولی اس کی سمت میں چلی اور وہ وہیں زمئن بوس ہو گئی۔
ھدیل۔۔۔۔۔ھدیل۔۔۔۔۔
وہ خون سے لتا ہوا اس کی جانب بڑھا۔
صندل۔۔۔۔
وہ صندل کو پکارنے لگا جو دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھامے یک ٹک شھیر کو دیکھ رہی تھی۔
صندل۔۔۔۔۔وہ دھاڑا تو صندل اڈ کی جانب متوجہ ہوئی۔
ھدیل کو اپنی بانہوں میں اٹھاتا وہ صندل کو ساتھ چلنے کا کی کر باہر کو بھاگا۔
صندل کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا لیکن وہ کسی روبوٹ کی طرح قدم اٹھاتی اس کی تقلید میں بڑھی۔
________
اس کی بیٹی اور بیوی دونوں ہوسپٹل کے مختلف کمروں میں تھی۔
ھدیل کا سارے راستے جگائے رکھنے کی کوشش کرتا ریا جبکی صندل کار میں بیٹھتے ہی خوف سے بیہوش ہو گئی تھی۔
جب وہ وہاں پہنچا تو خون میں لتا اس کا وجود دیکھ کر سب اس سے دور ہونے لگے لیکن وہ وہاں کچھ لوگوں کو اپنے کام کی وجہ سے جانتا تھا اس لئے قانونی کاروائی سے پہلے ان دونوں کا علاج شروع کر دیا گیا۔
عالیان خبر ملتے ہی نمرہ کے ساتھ وہاں پہنچا تھا۔ جبکہ شمس نے کسی ڈاکٹر کا لباس لے کر وہیں فریش ہو کر اسے تبدیل کیا تھا۔
کیا صندل مل گئی۔۔۔۔
نمرہ نے اسے دیکھتے ہی پہلا سوال داغا تھا پی اس نے محض سر اثبات میں ہلا دیا۔
اور ھدیل کہاں ہے۔۔۔۔
اسے خاموش دیکھ دوسرا سوال عالیان کی جانب سے آیا تھا۔۔۔جب وہ ریسٹورںٹ کے باہر پہنچا تو وہاں کوئی بھی نا تھا کئی بار شمس کو کال کی لیکن اس نے جواب نہیں دیا۔
وہ۔۔۔ڈاکٹر اسے چیک کر رہے ہیں۔۔۔
چیک کر رہے ہیں۔۔۔کیا مطلب۔۔۔۔کیا ہوا ہے اسے۔۔۔۔
ان کے سوالات پہ وہ انکھیں بھینچ گیا اور قریب ہی بینچ پہ بیٹھ گیا۔
اسے اثساس بگی نہیں ہوا تھا کہ ھدیل کب وہاں ائی۔۔۔۔وہ شھیر کے خون کا اتنا پیاسا تھا کہ اردگرد موجود ہر چیز دھندھلا گئی تھی۔
اسے گولی لگی تھی۔بلڈ پریشر لیول زیادہ ہونے کی وجہ سے خون تیزی سے بہا تھا اور اس حالت میں آپریشن کرتا بھی جان لیوا تھا۔
ڈاکٹرز نے گولی نکال کر خون کو روک دیا تھا لیکن اس کا اثر بچہ پہ پڑا تھا۔
جب تک اس کی حالت بہتر نا ہوتی وہ ابورشن نہیں کر سکتے تھے۔
وہ خود کو بار بار کوس رہا تھا۔۔۔اس کی بےدھیانی ان کے بچے کے لے جان لیوا ثابت ہوئی تھی اور اس کی بیوی بھی موت کے قریب تھی۔
