224.3K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zehr-e-Sheren Episode 24

Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui

یہ رہا گرما گرم ناشتہ۔۔۔۔

وہ چہرے پہ الوہی مسکراہٹ سجائے اس کے سامنے ڈش رکھتے ہوئے کہنے لگی لیکن معراج اپنے ہی خیالات میں کھویا تھا۔

معراج۔۔۔۔معراج۔۔۔۔

صندل نے اس کے کندھے پہ ہلکا سا دباؤ ڈالا تو وہ اپنے خیالات سے باہر نکلا۔

ایم سوری۔۔۔کیا کہا تم نے۔۔۔۔

میں تو بس ناشتہ کا کہ رہی تھی۔

وہ اس کے چہرے پہ چھائی تاریکی کو دیکھتی ہوئی پریشانی سے پوچھنے لگی۔

معراج چائے کا مگ اپنے سامنے کرتا اس میں شکر ملانے لگا۔

میں کچھ سوچ رہا تھا۔۔۔۔

لگتا ہے کافی اہم بات ہے جس نے آپ کو یوں پریشان کر رکھا ہے۔ ۔۔

ہاں ہے تو۔۔۔۔لیکن میں پریشان اس لئے ہوں کی نجانے تمہارا جواب کیا ہو گا۔

میرا جواب۔۔۔میں کچھ سمجھی نہیں۔ ۔۔

وہ اس کے چہرے کے نشیب و فراز دیکھتی استفسار کرنے لگی۔

میں کیسا ہوں۔۔۔۔میری گزری ہوئی زندگی سب تمہارے سامنے ہے۔۔۔کچھ بھی پردے میں نہیں۔۔۔۔تم یہ بھی جانتی ہو کہ میں تمہیں چاہنے لگا ہوں ۔

اس کے آخری جملہ پہ صندل خوشی سے مسکرا دی۔ایک عجیب چمک تھی جو معراج نے اس کی آنکھوں میں دیکھی جس کا تعلق روح سے تھا۔

اس میں پریشان ہونے کی تو کوئی ضرورت نہیں۔۔۔۔

وہ اپنی مسکراہٹ چھپاتی ہوئی کہنے لگی اور بریڈ سلائس پہ مکھن لگانے لگی۔

کیا تم مجھ سے شادی کرو گی۔۔۔۔

معراج کے یوں اچانک پوچھنے پہ صندل کو تو اچھو لگ گیا تھا۔

وہ اسے بےیقینی سے دیکھنے لگی۔ اس کے چہرے پی دوڑنے والی خوشی کی لہر معراج کے اندر اٹھنے والے طوفان کو پرسکون کر گئی تھی۔

لیکن اگلے ہی لمحے اس کے چہرے کے نقوش بدلے تھے۔ صندل کی رنگت پیلی پڑنے لگی تو معراج کو اپنے انداز پہ افسوس ہونے لگا

میں جانتا ہوں کی مجھے تم سے یوں نہیں پوچھنا چاہئیے تھا لیکن وقت یا طریقہ جو بھی ہو میرا سوال یہی ہوتا۔۔۔۔۔کیا تم مجھ سے شادی کرو گی صندل۔۔۔۔

اب کی بار معراج نے اپنے الفاظ پہ زور دے کر کہا تو صندل اپنی مٹھیاں بھینچ گئی

اس کی دھڑکن تیز ہونے لگی تھی جبکہ تنفس بگڑنے لگا تھا۔ سانس کی تیزی اس کا بولنا مشکل بنا رہی تھی۔

وہ آنکجیں بند کرتی گہرے سانس بھرنے لگی۔

مم۔۔۔میں۔۔۔۔آپ مجھ سے شادی۔۔۔کیوں۔۔۔۔

اس کی آنکھوں میں حیرت پریشانی اور خوف کے ملے جلے تاثرات تھے۔

کیونکہ میں تمہیں چاہتا ہوں اور جتنا میں جانتا ہوں تم بھی اس بات کا ایک سے زائد بار اقرار کر چکی ہو۔۔۔۔یا پھر وہ محض وقتی جذبہ تھا۔

وہ اسے کھوجتی نظروں سے دیکھتا ہوا کہنے لگا۔

صندل اس کے الفاظ پہ نفی میں سر ہلانے لگی۔

نہیں یہ بات نہیں ہے۔۔۔۔کچھ لوھ واجب لمحبت ہوتے ہیں کیوں کہ وہ دل میں نہیں روح میں اتر جاتے ہیں معراج۔۔۔۔اور آپ بھی انہی میں سے ہیں۔

لیکن میں آپ سے شادی نہیں کر سکتی۔

آخری جملہ میں سر کو جھکا کر کہنے لگی۔۔۔۔صاف ظایر تھا کہ یہ کہنے میں اڈے کتنی تکلیف ہوئی تھی۔

معراج کی پیشانی پہ بل نمودار ہوئے اور وہ اس کی جانب رخ کرتا آگے کو جھکنے لگا۔

کیا نطلب شادی نہیں کر سکتی۔

میری زندگی عام نہیں تھی۔۔۔نا ہی میرا بچپن۔۔۔

میں جانتا ہوں صندل آپ ایک اڈوپٹڈ بچی ہو اور مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

نہیں یی بات نہیں۔ ۔۔

صندل پھر سے آنکھیں بھینچتی تنفس بحال کرنے کی کوشش کرنے لگی معراج کو لگا کہ جیسے وہ ابھی رو دے گی اس کےچہرے پہ تکلیف کی شدت کے آثار واضح تھے۔

I was beaten…Brutaly beaten

وہ خود پہ قابو کرنے کے لئے اپنے ناخن میز کی لکڑی میں گھسانے لگی۔

I was violated….i…i was raped….

آخری بات اس نے سرگوشی میں ٹوٹے ہوئے لہجہ سے ادا کی اس کی انکھوں سے بہتے آنسو گود میں گرتے اور اسے بھیگا جاتے۔

معراج بےیقینی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ صندل کے لئے اس سے نظریں ملا پانا ناممکن ہو گیا تھا۔

وہ نہیں سمجھ پا رہی تھی کہ اس نے اسے یہ سب کیوں بتایا۔ لیکن وہ اسے اس دھوکے میں رکھ کر شادی نہیں کر سکتی تھی۔

وہ تیزی سے کرسی دھکیلتی لڑکھڑاتے قدموں پہ کھڑی ہوئی ابھی پلٹی ہی تھی جب کسی نے اس کی کلائی کو مضبوطی سے تھاما۔

صندل اپنی جگہ رکتے ہوئے اسے دیکھنے لگی جس کے چہرے پہ ایسا کوئی تاثر نا تھا کہ وہ اب اس سے نفرت کرتا ہے۔۔۔۔یا اس کی موجودگی اس کے لئے باعث تکلیف ہے۔

اگر تمہیں لگا اس سے میرا ارادہ بدل جائے گا تو تم غلط ہو۔۔۔۔می پہلے بھی تم سے شادی کرنا چاہتا تھا اور اب پہلے سے بھی زیادہ۔

وہ اسے دیکھتا نرمی سے نسکراتے ہوئے کہنے لگا۔

وہ اس پہ ترس نہیں کھا رہا تھا۔۔۔۔اسے کسی کی ترس یا ہمدردی کی ضرورت نہیں تھی۔۔۔اسے کسی کے ساتھ کی ضرورت تھی جس سے وہ خود اب تک ناآشنا تھی۔

صندل اس شخص کودیکھ۔ے لگی جسے تباہ کرنے کے لئے اسے بھیجا گیا تھا اور وہ آباد کرنے چلا تھا۔

اس ایک لمحہ نے اس کے لئے بہت کچھ بدل دیا تھا۔۔۔۔صندل احمد علی نے اپنی وفاداری بدل دی تھی۔

__________

وہ کب سے یہاں تھی نہیں جانتی تھی۔

نا دن کی روشنی اس تک پہنچتی تھی تو نا ہی چاند کی ٹھنڈک۔۔۔۔

بھوک کی شدت سے اب سیدھا بھی نہیں ہو پاتی تھی۔۔۔۔پیاس سے ہونٹ سوکھ کر بنجر زمین کی مانند محسوس ہوتے۔

اس نے ایک بار پھر زبان سے اپنے خشک ہونٹوں کو تر کرنا چاہا۔

رو رو کر اب آنسو بھی خشک ہو چکے تھے۔ اس کی حاکت ہر لمحہ بگڑ رہی تھی اس کے بدن میں اٹھتی ٹیسیں اور بھوک اگر جان نا لیتی تو یہ تنہائی اسے یقینا مار دیتی۔

وہ پچھلے ایک گھنٹے سے سرگوشیوں میں اس چوہے سے باتیں کر رہی تھی جو اسے نظر انداز کئے اپنی سرگرمیوں میں مصروف تھا۔

کسی کی آواز پہ اس کی سماعت بیدار ہوئی تھی۔

وہ مشکل سے خود کو ہتھیلیوں سے دھکیلتی بیٹھی۔

اس آواز کا محرک اب قریب ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔

شاید کوئی بھٹکتا ہوا اس ویران جگہ پہ آ گیا تھا۔

وہ ہتھیلیوں اور گٹھنوں کے بل گھسٹتی ہوئی دروازے کے قریب آئی۔

وہ کسی لڑکی کی اواز تھی جو ہنس رہی تھی۔

صندل خود ہی مسکرا دی۔۔۔۔وہ یہاں سے آزاد ہو سکتی تھی وہ واپس اپنے گھر جا سکتی تھی۔۔۔۔اپنے ماما بابا کے پاس جہاں وہ محفوظ تھی۔

کوئی ہے۔۔۔۔

صندل نے چلانے کی کوشش کی کرنے لگی لیکن آواز کسی سرگوشی کی مانند ادا ہوئی۔

اس کا سانس وہاں سے آزاد ہونے کی طلب میں تیز ہونے لگا۔۔۔۔نجانے کہاں سے قوت تھی جو اس کے بےجان جسم میں کود کر آئی۔

وہ دروازے کو زور سے پیٹنے لگی تو وہ کھنکتی اواز کچھ ہی دیر میں بند ہو گئی۔

کوئی ہے۔۔۔۔پلیز۔۔۔نکالو مجھے یہاں سے۔۔۔۔نکالو۔۔۔۔۔

وہ زور سے چلانے لگی اس کی بےقراری میں شدت آنے لگی تھی۔

پلیز بچاؤ مجھے۔۔۔۔

وہ دروازے سے کان لگاتی سننے لگی کہ کہیں وہ چلی تو نہیں گئی جب دوسری جانب سے ایک نسوانی چیخ سے وہ دروازے سے دور ہوئی۔

وہ بوکھلای ہوئی پھر سے دروازہ زور سے پٹنے لگی لیکن دوسری جانب سے اٹھتی دلخراش چیخ نے اسے وہیں منجمد کر دیا۔

کچھ ہی دیر میں دروازہ کھلا اور شھیر جھکتے ہوئے اس کا چہرہ مضبوطی سے تھام کر دیکھنے لگا۔

کیا مجھے مس کر رہی تھی۔۔۔۔

وہ چہرے پہ مکروہ مسکراہٹ لئے اس سے پوچھنے لگا۔

اس کی پکڑ سے صندل کے چہرے میں درد ہونے لگی اور آنسو مٹی سے اٹا چہرہ بھیگانے لگے۔

کوئی بات نہیں اب میں آ گیا ہوں تو تمہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔

اس نے صندل کو بالو سے دبوچا اور گھسیٹنے لگا۔

اس وحشیہ سے مدد کے لئے چلا رہی تھی نا دیکھو وہ تو اپنی بھی مدد نا کر پائی۔

اس نے چلاتی ہوئی صندل کو دھکیلا تو وہ خود کو اس سے دور کرنے لگی۔

اس سے کچھ ہی فاصلہ پہ خون فرش پہ پھیلا ہوا تھا۔

وہ اپنا ہاتھ منہ پہ رکھتی اس وحشت ناک منظر کو دیکھنے لگی۔

اس لڑکی کا مردہ جسم انکھیں پھاڑے چھت کو گھور رہا تھا۔ خود منہ اور پیٹ سے بہتا ہر چیز سرخ کر گیا تھا۔

صاف کرو اسے۔۔۔۔۔

وہ اس کے پاس ایک کپڑا پھینکتا ہوا دھاڑا تھا۔