224.3K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zehr-e-Sheren Episode 28

Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui

کیا تم نے دیکھا میری پیاری پالتو کو۔۔۔۔

وہ ان دو پراسرار شخصیات کو کہنے لگا تو وہ دونوں اندھیرے سے روشنی میں آئے۔

ان میں سے ایک شخص قدرے چھوٹے اور قد اور توند کا حامل تھا جبکہ دوسرا کافی اچھی شخصیت رکھتا تھا۔

خوبصورت چہروں کے پیچھے چھپے شیطان وہ اباچھے سے پہچان سکتی تھی۔

امان اس کے قریب ا کر چہرے کو تھامتے ہوئے کہنے لگا وہ اسے خالی نظروں سے دیکھتی رہی۔

_________

ہم نے اس گاڑی کا پتا کر لیا لیکن وہ جس شخص کی تھی وہ تو پاکستان رہتا ہی نہیں ہے۔۔۔۔

پولیس اپنی پوری کوشش کر رہی ہے لیکن لگتاہے کہ اپ کی بیٹی کا ملنا مشکل ہے۔۔۔

وہ پولیس اسٹیشن کے باہر کھڑے انسپیکٹر کئ بات سن رہے تھے۔

اصل میں مجھے کیس کے بارے میں ہیآپ سے کچھ بات کرنی ہے۔۔

تبریز کے مخاطب کرنے پی وہ اس کی جانب متوجہ ہوا۔

جی کہیے۔۔۔۔

مجھے یہ کیس بند کروانا ہے۔۔۔۔

اس کی بات پہ جہاں ھدیل کو جھٹکا لگا تھا وہیں انسپیکٹر بھی اسے حیرانی سے دیکھنے لگا۔۔۔

وہ شخص پچھلے مہینے سے اسے تلاش کر رہا تھا اور اب اچانک کیس ختم کروانا چاہتا تھا۔

دیکھیں پولیس اپنا کام کر رہی۔۔۔۔

لیکن مجھے اب ضرقرت نہیں۔۔۔مجھے نہیں لگتا کہ وہ اب تک زندہ بھی ہو گی۔۔۔۔میں یہ کیس ختم ہروانا چاہتا ہوں۔۔۔

وہ لاپرواہی سے ہندھے اچکاتا کہنے لگا۔

ھدیل تو جیسے صدمہ میں چلی گئی تھی۔

ابھی میں جا رہا ہوں۔۔۔۔جو بھی پیپرز سائن کرنے ہوں گے میں کلا کر کر دوں گا۔۔۔

وہ انسپیکٹر کے بات سننے کے بغیر ھدیل کا ہاتھ تھامے گاڑی کی جانب کھینچنے لگا

وہ بےیقینی سے شمس کا چہرہ دیکھتی اس کے ساتھ چلتی رہی پھر جیسے ہوش میں آئی تھی۔

شمس کا ہاتھ جھٹک کر وہ اس سے کچھ قدم دور ہوئی تو وہ بھی اسے سردمہری سے دیکھنے لگا۔

یہ تم نے ابھی کیا کہا ہے۔۔۔۔ہم کیس واپس لے رہے ہیں۔۔۔

اسے ابھی بھی اپنی سماعت پہ یقین تھا کہ تبریز ایسا بھی کر سکتا ہے۔

میں مزید اب صندل کو نہیں ڈھونڈ سکتا اگر وہ ابھی تک نہیں ملی تو یقینا مر چکی ہو گی۔

تبریز۔۔۔تت۔۔۔تم اتنے پتھر دل کیسے ہو سکتے ہو۔۔۔اس کی طبیعت بگڑنے لگی تھی۔

حقیقت یہی ہے ھدیل۔۔۔بہتر ہے ہم اسے قبول کر لیں۔۔۔ویسے بھی اسے گود لینے کی خواہش تمہاری تھی۔۔۔اور وہ میرا خون نہیں ہے جو میں اسے ساریزندگی تلاش کرتا رہوں۔۔۔۔

یہ فیصہ اس کا اپنا تھا تو اب اس کے ساتھ ہم خمیازہکیوں بھگتیں۔۔۔

وہ سختی سے کہتا ھدیل کی جانب بڑھا اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔

چھوڑو مجھے تبریز۔۔۔۔نفرت ہونے لگی ہے تم سے۔ ۔

اس کے جملے نے شمس کے دل پہ چوٹ کی تھی۔

ایک لمحے کے لئے ھدیل کو اس کا رنگ فق ہوتا محسوس ہوا لیکن اگلے ہی لمحے وہ اسی سرد مہری سے مخاطب ہوا۔

گاڑی میں بیٹھو۔۔۔۔

نہیں جانا تمہارے ساتھ۔۔۔۔

وہ اس کی پکڑ میں مچلنے لگی تو شمس کی پکڑ میں سختی انے لگی۔

بیٹھو گاڑی میں۔۔۔۔

وہ اسے زبردستی گاڑی میں دھکیلتا خود ڈرائیونگ سیٹ کو سمبھال کر بیٹھ گیا۔

_______

شمس بالکونی میں کھڑا اندھیرے میں کسی چیز کا متلاشی تھا جب موبائل کی بیل نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔

عالیان کا نام سکرین پہ چمک رہا تھا۔

وہ گلاس ڈور سے اندر ھدیل کو دیکھنے لگا جو کہ بہت مشکلسے اب جا کر سوئی تھی۔

پچھلے چند دنوں سے اس کی بلڈ پریشر کافی ہائی رہنے لگا تھا جس سے پریگنینسی میں کافی مشکلات آنے لگی تھیں۔

کیا معلوم ہوا۔۔۔۔

مجھے لگتا ہے کہ ہم صحیح راستے پہ پیں۔۔۔۔لیکن اسے خول سے نکالنے کے لئے اتنا کافی نہیں۔۔۔

جانتا ہوں۔۔۔لیکن وہ اپنی بل سے نکلے گا۔۔۔۔

تم کیسے کہ سکتے ہو کہ وہ شھیر ہی ہے۔۔۔یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ یہ تمہاری غلط فہمی ہو اور وہ اب یہاں ہو ہی نا۔۔۔۔

نہیں عالیان۔۔۔۔اسے ہمیں تڑپتے دیکھنا ہے۔۔۔۔وہ نکلے گا اپنی بل سے۔۔۔۔ضرور نکلے گا کیونکہ اسے مججے تڑپانا ہے۔۔۔۔اور یہ حسرت ہی اڈے اس بل سے باہر نکالے گی۔

_______

اس کے جسم میں ایسی کوئی جگہ نہ تھی جہاں تکلیف نا ہق رہی ہو۔۔۔

ان تینوں نے اسے تشدد اور اپنی حوس کا نشانہ بنایا تھا۔

وہ ان لمحات کواپنے ذہن سے نقش ہونے سے روکنے ہی کتنی ہی کوشش کر لیتی لیکن وہ ہر بار اتنا ہی چلاتی تھی۔۔۔۔اتنی ہی سرزنش کرتی تھی۔

لیکن آج کچھ الگ تھا۔

نا تو شھیر نے اس پہ ہاتھ اٹھایا اور نا ہی اس کی نسوانیت کو چوٹ پہنچائی۔

جانتی ہو مجھے لگتا ہے کہ تمہارے والدین کو تم سے کوئی محبت تھی ہی نہیں۔۔۔

وہ سخت اور ٹھنڈے فرش پہ اپنے ہی خون میں لدی ہوئی کراہ رہی تھی جب شھیر سامنے دیوار کو گھورتا پرسکون سا بولا۔

میں نے تمہیں زندہ رکھا۔۔۔۔تمہارا اتنا خیال رکھا۔۔۔۔تمہاری اچھی تربیت کر رہا ہوں۔۔۔پر نہیں۔۔۔۔شمس کو اس سب کی یا تمہاریقدر نہیں۔۔۔۔

انہیں لگتا ہے تم مر گئی ہو اور وہ کیس بھی واپس لے چکا ہے۔۔۔

اب کی بار صندل نے اپنی نظروں کا زاویہ بدلا تھا۔

اس کی بات پہ اسے تکلیف ہوئی تھی۔۔۔۔کیا واقعی وہ ان کی زندگی میں اتنی ہی اہمیت رکھتی تھی۔

شھیر آہستہ آہستہ چلتا اس کے قریب آیا۔ وہ اس سے دور ہونا چاہتی تھی لیکن ناکام رہی۔

اس نے اپنے جوتے کی ایڑی اس کے چہرے پی رکھی اور اسے دبانے لگا تو وہ کراہنے لگی۔

تمہیں اب یہاں رکھنے کا فائدہ نہیں۔۔۔ہمممم میرے خیال سے جو تم نہیں کر پائی وہ شیش کر لے گا۔

وہ مسکراتے ہوئے ایک آنکھ دبا کر کہنے لگا تو صندل کے پھٹے ہوئے لبوں سے سسکیاں ابھرنے لگیں۔

________

تم ابھی تک تیار نہیں ہوئی۔۔۔۔

وہ کف فولڈ کرتا اپنی خوبصورت کانچ سی چمکتی گرے انکھوں سے ھدیل کو دیکھتا استفسار کرنے لگا۔

وہ اس دن سے تبریز سے قطع کلامی اختیار کی تھی اور اب تو اس میں مزید شدت آ گئی تھی۔

دیکھو ھدیل صندل کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ہمارا قصقر نہیں لیکن ہمارے اس بچے کے ساتھ اگر کچھ ہوا تو اس کی ذمہدار تم ہو گی۔۔۔

وہ اس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا تو ھدیل غصہ سے پھٹ پڑی۔

تمہاری بیٹی اغوایلء ہے اور تمہیں اؤٹنگ کرنی ہے۔۔۔۔اور قصور کی بات مت کرو تبریز۔۔۔تمہارا قصقر ہے تم نے اسے زندہ چھوڑا۔۔۔۔اور اب صندل کا کیس بھی وڈراء کر لیا۔۔۔

وہ چیختے ہوئے اس کے سامنے ا کجڑی ہوئی تو تبریز نے اس کا جبڑہ سختی سے پکڑ لیا۔

تمہیں جتنا کہا ہے اتنا کرو۔۔۔

وہ اس کے ملگجے حلیے کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔

دس منٹ میں تیار ہو کر نیچے آؤ ورنہ ایسے ہی لے کے جاؤں گا۔۔۔۔مجھے اس تبریز کو آزاد کرنے پہ مجبور مت کرو جسے میں سالوں پہلے قید کر چکا۔۔۔۔

وہ اسے شعلی با نظروں سے دیکھتا آزاد کرت ہوئے ہمرے سے باہر چلا گیا جبکہ ھدیل اپنے آنسو خشک کرنے لگی۔