Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui NovelR50459 Zehr-e-Sheren Episode 13
Rate this Novel
Zehr-e-Sheren Episode 13
Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui
صاحب جی اپ کے کہے کے مطابق میں نے سب کر لیا۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تو زہر ہی آیا ہے۔۔۔۔۔
جب اس کی موت ہوئی اس سے کچھ وقت پہلے ہی اس نے کچھ کھایا تھا۔۔۔۔
حامد رپورٹ دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
بلکل ٹھیک۔۔۔۔پوسٹ مارٹم رپورٹ کا بھی یہی کہنا ہے کہ زہر کھانے میں دیا گیا ہے۔۔۔
حامد کئی بار ان کی ویڈیو دیکھ چکا تھا۔۔۔۔سب نے ایک ہی پلیٹ سے کھانا کھایا تھا اور میر کو کسی نے بھی سرو نہیں کیا تھا۔
نہیں۔۔۔۔اگر کھانے میں زہر ہوتا تو صرف وہ نا مرتا۔۔۔۔قاتل بہت چالباز ہے۔۔۔۔
وہاپنی داڑھی پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔
یہ حسد کی وجہ سے بھی ہو سکتا تھا۔۔۔وہ ایک کامیاب سنگر تھا اور کسی لوگ اس سے حسد کرنے لگے تھے۔
گاڑی تیار کرو ہم میر کے گھر جا رہے ہیں۔۔۔
جی صاحب۔۔۔۔
_____
آخر پولیس کر کیا رہی ہے۔۔۔۔ابھی تک میرے بچے کے قاتلوں کا پتا کیوں نہیں لگا۔۔۔۔
انہیں دیکھتے ہی میر کی ماں ہذیانی کیفیت میں بولی۔۔۔
حامد اپنے ماتحت کو اشارہ کرتا خود میر کے کمرے میں چلا گیا جبکہ وہ اس کے گھر والوں کو صبر سے کام لینے کا کہنے لگا۔
میر کی عمر اور پسند کے مطابق کمرہ مختلف مشہور سنگرز کے پوسٹرز سے سجا ہوا تھا۔۔۔
نصرت فتح علی خان سے لے کر مائیکل جیکسن سب کے ہی پوسٹر دیواروں پہ سجائے گئے تھے
حامد اپنی ٹیم کے ساتھ کمرے کی تلاشی لینے لگا۔وہاں ایسا کچھ بھی نا تگا جس سے یہ ظاہر ہوتا کہ کوئی اس پہ جان لیوا حملہ کر سکتا ہے۔۔۔
سر یہ ڈائیری ملی ہے۔۔۔۔
وہ ڈائیری کے ورق پلٹنے لگا۔
اس میں اس کی ذاتی زندگی کے تمام پہلو عیاں تھے۔۔۔اسے پیب بھیج دو شاید اس سے کچھ مدد مل سکے۔۔۔۔
جی سر۔
حامد ایک نظر پھر سے کمرے میں دوڑاتا گھر والوں سے سوالات کرنے لگا۔
______
شاید وہ بیسویں بار اس ویڈیو کو دیکھ رہا تھا انہوں نے اپس میں بات چیت کی۔۔۔سب اپنی پکیٹیں کھاںے سے بھرنے لگے
میر نے بھی اسے ڈش میں سے رول اٹھایا رول کھانے کے کچھ دس منٹ بعد اس کا رنگ بدلنے لگا اور زمین بوس ہو گیا۔
کہیں بھی اس بات کے شواید نہیں تھے کہ زہر اس کھانے میں تھا اور نا ہی اسے بدلا گیا تو پھر زہر کب دیا گیا۔
مجھے شو کی ویڈیو لا کر دو۔۔۔۔
کونسے شو کی سر۔۔۔۔
تمہاری بہن کے شو کی ایڈیٹ۔۔۔۔میر کے لائیو شو کی ویڈیو لا کر دو۔۔۔۔
ج۔۔۔جی سر۔۔۔وہ شرمندہ سا ریکارڈ روم میں چلا گیا۔
ڈسک ملتے ہی حامد آخری آدھے گھنٹے کی ویڈیو پلے کرنے لگا اور اسے غور سے دیکھنے لگا۔
بظاہری طور پہ تو سب کچھ ٹھیک تھا ۔۔۔۔ایسا کچھ بھی نا تھا جس پہ شک پیدا ہوتا۔۔۔۔پہلے تو کوئی خاطر خواہ پیشکش نا ہوئی لیکن جب اس نے اس ویڈیو کو تیرھویں بار دیکھا تو کچھ سمجھ آنے لگا۔
وہ ڈیسک پہ زور سے ہاتھ مارتا اٹھ کھڑا ہوا اور سٹوڈیو کی جانب چل دیا۔۔۔ان کے مینجر کے ساتھ ان کے بینڈ کے باقی افراد کو بھی وہاں بلایا گیا۔
_____
مس مالہ آپ کو میر کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے۔۔۔
حامد کے اشارے اے لیڈی کانسٹیبل اس کی جانب بڑھی تو وہ ہڑبڑا کر اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی۔
وہاں پہ موجود سب افراد حیرانگی سے مالہ کی جانب دیکھجے لگے اس کی جنونیت کو وہ سب جانتے تھے۔
کیا بکواس کر رہے ہو تم۔۔۔
اس کی انکھوں کے نیچے موجود حلقے اور اترا ہوا رنگ اس کی بےسکونی کی گواہی دے رہے تھے۔
حامد نے کانسٹیبل سے پیکڈ جیکٹ پکڑی مالہ کے سامنے لہرائی۔
پہچانتی ہو اسے۔۔۔۔یہ وہی جیکٹ ہے جو کہ میر نے شو میں استعمال کی اور تم نے اس پر زہر لگایا۔
یہ پاگل پن ہے جھوٹ ہے سب۔۔۔۔وہ ہذیانی کیفیت میں چلا اٹھی۔۔۔اور سب کو مدد طلب نگاہوں سے دیکھنے لگی لیکن اس وقت سب کی نظروں میں نفرت یا حقارت تھی۔
یہ۔۔۔یہ سب جھوٹ ہے میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔
جھوٹ بولنے کا اب کوئی فائدہ نہیں مس مالہ۔۔۔۔اس جیکٹ کی بائیں کہنی پہ زہر کے آثار پائے گئے ہیں تم جانتی تھی کہ وہ اپنا دایاں ہاتھ بائیں کہنی پہ رکھے گا جس سے زہر اس کے ہاتھ کو لگا اور یوں کھانے کے زریعے اس کے پیٹ میں اتر گیا۔
وہ آنکھیں پجیلائے حامد کو دیکھنے لگی جس نے اسے بےنقاب کر دیا تھا۔
تمہارے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں۔۔۔۔
وہ غراتے ہوئے کہنے لگی جس پہ وہ تمسخرانہ مسکرا دیا۔
اصل میں تمہارے خلاف سٹوڈیو کا ملازم گواہی دے چکا ہے کہ اس نے تمہیں میر کی جیکٹ سے چھیر چھاڑ کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
اس کے علاوہ تم نے یہ ظہر جس شخص سے خریدا وہ بھی تمہاری آواز پہچان گیا تھا۔
اور تمہیں گرفتار کرنے کے لئے یہ کافی ہے۔۔۔۔
وہ گٹھنوں کے بل زمین پہ گری تو حامد کو پہلی بار اس پہ ترس آیا۔
ایک اور بات شاید تم اسے پڑھنا چاہو۔۔۔۔اس نے میر کی ڈائری مالہ کی جانب اچھالتے ہوئے کہا۔
وہ ڈائری اس کی سامنے گری اور اس کے اوراق ایک تصویر پہ آ کر ر گئے جو میر کی اور اس کی تصویر تھی جو انہوں نے پہلے شو کے بعد بنوائی تھی۔
وہ کانپتے ہاتھوں سے وہ ڈائری اٹھانے لگی۔
آج می اطراف کرتا ہوں کہ مجھے مالہ امین سے محبت ہے بے پناہ محبت۔۔۔۔
تصویر کے نیچے لکھے الفاظ اسے سکتے میں ڈال گئے گئے تھے۔
وہ اس کے اوراق پلٹنے لگی ان کی زندگی کے تمام خوبصورت لمحے کامیابیاں سب اس میں قید تھا۔
وہ اس سے محبت کرتا تھا۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔اس نے اسے کیسے بےدردی سے انکار کیا تھا۔
وہ صفحات پلٹتی رہی اور اس ڈائری کے آخری صفحے پہ کر گئی۔
ڈیئر ڈائری ہمارا ساتھ بہت خوبصورت رہا۔۔۔۔کاش یہ ساتھ یوں ہی رہتا لیکن ہمیشہ وہسا نہی ہوتا جو ہم چاہتے ہیں۔
مالہ اب وہ نہیں رہی اب بدل چکی ہے۔۔۔۔میں اس سے ناراضگی کا حق تو رکھتا ہوں نا۔۔۔۔شاید ایک وقت آئے گا جب میں یہ بھول جاؤں اور اس سے ویسے ہی محبت کرنے لگوں اور اس دن میں اس سے اپنی محبت کا اقرار بھی کروں گا۔۔۔۔
میں تو اسے وقت دینا چاہتا تھا۔۔۔۔اس کے والدین ابھی ہماری شادی کے لئے راضی نہیں اسی لئے اسے اپنی محبت سے انجان رکھا۔۔۔۔اس نے یہ قدم کیوں اٹھایا۔۔۔۔مجھے اس کے چہرے سے تو محبت نا تھی۔۔۔۔
وہ ابھی مزید پڑھنا چاہتی تھی لیکن لیڈی اہلکار اسے بازو سے تھام کر اٹھانے لگے۔
نہیں رکو۔۔۔۔رک جاؤ۔۔۔۔میر۔۔۔۔۔
وہ اسے گھسیٹتے ہوئے باہر لے جانے لگے اور مالہ کی چیخیں اس چار دیواری میں گونجتی رہیں۔
معلوم ہوا تھا کہ اگلے روز مشہور سنگر مالہ امین نے قید خانے کی تاریکی میں خود کشی کر لی تھی۔
____________
صندل کہاں ہے۔۔۔۔۔۔
وہ رات دیر تک اس کا ناول پڑھتا رہا اور آج کافی دہر سے جاگا تھا۔
صاحب جی پتا نہیں مجھے تو صبح کی نظر نہیں آئی۔
اچھا سنو۔۔۔۔ایک کپ کافی بنا دو۔۔۔۔
جی صاحب جی۔۔۔
وہ موبائل پہ صندل کا نمبر ڈائل کرنے لگا لیکن پھر سے اسے پاکٹ میں رکھ لیا۔
سر میں شدید درد ہو رہا تھا جو کافی پینے سے کچھ کم ہوا۔
صاحب جی۔۔۔۔
وہ ابھی آفس میں آیا تھا جب اس کی ملازمہ پھر سے دروازہ پہ نمودار ہوئی۔
بولو۔۔۔۔
وہ اپنی پیشانی انگلیوں سے ملتا ہوا پوچھنے لگا۔
صاحب جی پولیس آئی ہے۔۔۔۔
اب کی بار معراج اچنبھے سے اسے دیکھنے لگا۔
پولیس۔۔۔کیوں۔۔۔۔
صاحب جی وہ کہ رہے ہیں کہ صندل بی بی کو بلائیں اب تو یہاں نہیں ہے تو آپ کو کہ دیا۔۔۔۔
وہ تجسس سے بتانے لگی تو معراج اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا اس سے مخاطب ہوا۔
انہوں اندر بٹھاؤ۔۔۔میں آ رہا ہوں۔۔۔۔
وہ اثبات میں سر ہلاتی باہر چلی گئی جبکہ معراج گہرہ سانس بھر ر رہ گیا۔
