224.3K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zehr-e-Sheren Episode 11

Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui

امان کے گھر سے وہ مال چلا گیا۔

اور صندل کے لئے کپڑے لینے لگا۔۔۔۔اس کا سارا سامان آگ میں جل گیا تھا جس وجہ سے معراج نے اسے دو ماہ کی تنخواہ پہلے ہی دے دی تھی۔

تاکہ وہ اپنے لئے ضرورت کا سامان لے سکے۔۔۔۔۔

اب واپسی میں نجانے اچانک اس کے دل میں کیا آیا کہ اس نے گاڑی کا رخ مال کی طرف کر دیا۔

شادی کے اس چھوٹے سے عرصے میں وہ اکثر آئمہ کو شاپنگ کے لئے لاتا تھا لیکن صندل اور وہ دونوں بہت مختلف تھیں۔

اصل میں تو وہ سب سے مختلف تھی شاید اسی لئے وہ اس کی جانب کھچا چلا جاتا تھا۔

وہ اس کے لئے دو سے تین مختلف ڈریس پسند کرنے لگا جو کہ صندل کے مزاج کے مطابق تھیں۔

ان کا بل بنا دیں پلیز۔۔۔۔

وہ کاؤنٹر پہ موجود شخص کو کہنے لگا اور خود والٹ سے پیسے نکالنے لگا۔

وہ ڈریس لیتے ہوئے اس کے دل کی دھڑکن تیز ہونے لگی تھی۔۔۔۔اسے ایسا نہیں کرنا چاہئیے۔۔۔۔وہ اس کی امپلوئے ہے اس سےزیادہ کچھ نہیں۔۔۔۔

لیکن سچ تو یہی تھا کہ ان دونوں کے درمیان رشتہ ویسا نہیں رہا تھا۔۔۔۔۔کچھ عجیب تھا۔۔۔۔۔کچھ بہت الگ۔۔۔۔۔۔جو غلط تھا۔۔۔۔۔لیکن انسانی فطرت اس کی طرف راغب ہوتی جاتی ہے۔۔۔۔

جیسے پروانہ دیے کی اس روشنی کی طرف کھنچا جاتا ہے وہ بھی صندل کی جانب جھکتا جا رہا تھا۔

_____

صندل۔۔۔۔

وہ جیسے ہی ہال میں داخل ہوا صندل کو آواز دینے لگا۔۔۔

اس کے لئے ڈریس پسند کرنے میں معراج کا کافی وقت سرف ہوا تھا۔

جب کسی کا بھی جواب موصول نا ہوا تو وہ سمجھ گیا کہ اس کی ملازمہ واپس جا چکی ہے۔۔۔۔اور شاید صندل بھی اپنے کمرے میں نہیں تھی۔

اس وقت اسے کمرے سے بلانا معراج کو مناسب نا لگا اس لئے وہ شاپنگ بیگ وہیں کاؤچ پہ رکھتا اپنے آفس کی جانب بڑھ گیا۔

اس کا لیپ ٹاپ وہیں موجود تھا۔ وہ آفس کی لائٹ بند کرتا خود بھی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔

امان کی باتیں اور پھر اس کی اپنی حرکات معراج کو کھٹکنے لگی تھیں۔۔۔۔اور اس کے بعد صندل کا رویہ۔۔۔۔

وہ اندھا نہیں تھا اور نا ہی بےوقوف۔۔۔۔اچھے سے سمجھتا تھا کہ صندل اپنے دل میں اس کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہے۔۔۔۔۔

اور وہ خود ایک مرد تھا جو کہ اس کی زلفوں کے اسیر ہوا جاتا تھا۔

اپنے کمرے کا درواشہ کھولتے ہی اس کی سانسیں وہیں رکی تھی۔

نیم اندھیرے میں موم بتیوں کی ٹمٹماتی روشنی آنکھوں کو فرحت بخش رہی تھی۔

اس کے علاوہ وہاں بکھرتی خوشبو کسی کو بھی مدہوش کر دیتی۔

وہ ایک قدم بڑھاتا کمرہ میں داخل ہوا تو صندل کو خوبصورتی سے تیار کمرے کے وسط میں کھڑا پایا۔

معراج کو لگا جیسے اس کے حواس کو اس لڑکی نے جکڑ لیا ہو۔

صندل۔۔۔۔آپ یہاں کیا کر رہی ہیں۔۔۔۔

وہ اپنا حلق تر کرتا کہنے لگا تو صندل لہرا لہرا کر چلتی اس کی جانب بڑھنے لگی۔

اس کے پیچھے کھلے دروازے کو پکڑ کر بند کیا اور پھر اس سے ٹیک لگا کر کھڑی ہو گئی۔

آپ کی مدد۔۔۔۔۔

اس خواب ناک ماحول میں صندل کی سرگوشی ماحول کو مزید پرکشش بنانے لگی۔

کیسی مدد۔۔۔۔۔

چاہتے ہوئے بھی وہ اپنی آواز میں سختی پیدا نا کر پایا۔

صندل نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کی بازو کو تھاما اور کمرے کے کونے میں موجود ٹیبل کی طرف کھینچ لائی۔

جبکہ وہ کسی مدہوش شخص کی طرح اس کی طرف بڑھتا رہا۔

آپ کی کہانی کے لئے۔۔۔۔۔

وہ اس کے کنھے پہ اپنی ہتھیلی پھیلا کر کان کے قریب آتی دھیمی آواز میں کہنے لگی۔

معراج نے اپنا چہرہ ہلکا سا اس کی جانب پلٹا تو وہ اس کی سانسوں کی حدت محسوس کرنے لگا۔

صندل نے اس کی آنکھوں میں پیدا ہوتی طلب دیکھی تو مسکرا دی اور پھر اس سے کچھ فاصلہ پہ ہوتی اسے بازؤں سے پکڑ کر رخ میز اور اس کے سامنے موجود کرسی کی طرف کر دیا۔

معراج اس کی خواہش کے مطابق اس کرسی کو کھینچتا بیٹھ گیا تو صندل نے کاغذ اور ایک پین اس کی جانب بڑھا دیا اور خود اس کے دونوں کندھوں کو تھام کر اس جے پیچھے کھڑی ہو گئی۔

وہ اپنے کمرے میں آیا تو وہ محض اس کے لئے سجی سنوری وہاں موجود تھی۔

وہ انگلی سے اس کی کان کی لو کو نرمی سے چھوتی کہنے لگی۔

معراج نے اپنے کانپتے ہاتھوں سے پین اٹھایا اور اس پہ وہ سطریں اتارنے لگا۔

وہ حیران سا اندر داخل ہوا جب وہ اپنی لو دیتی آنکھوں سے اسے دیکھتی اس کی جانب بڑھی۔

اب کی بار صندل جھکتی اس کی پشت سے اس کے کان میں سرگوشی کرنے لگی۔

معراج اس کے سانسوں کی لو کو مثسوس کرتا مضبوطی سے پین پکڑ کر وہ سب لکھنے لگا جو غندل اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہنے لگی۔

جب وہ اس منظر کو قلم بند کر رہا تھا تب صندل اس کی پشت سے سامنے آ کھڑی ہوئی اور اس کے سامنے میز سے ٹیک لگا کر بیٹھنے کے انداز میں کھڑی ہو گئی۔

معراج نے قلم رکھ کر اس کی جانب شدت جذبات سے دیکھا اور کھڑا ہو گیا۔

تم ایک خطرناک لڑکی ہو۔۔۔۔۔

دونوں ہاتھ اس کے گرد میز پہ ٹکاتے ہوئے وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہنے لگا۔

صندل اس کی بات پہ تمسخرانہ مسکرا دی۔

معراج نے اسے بالوں سے جکڑا تو وہ دونوں ہاتھ اس کے سینے پہ رکھتی اس کے جانب جھکی۔

لیکن پھر بھی تم اس خطرہ کو مول لے رہے ہو۔۔۔۔

وہ بےخودی میں اس کی طرف بڑھنے لگا تو صندل مسکراتے ہوئے کہنے لگی۔

محض کچھ فاصلہ پہ وہ رکا تھا۔۔۔۔اور صندل کو دیکھنے لگا۔

اپنے جذبات پہ قابو رکھنااس کے لئے مشکل تھا۔۔۔

وہ ایک جھٹکے سے اس سے دور ہوا اور گہری سانسیں لینے لگا۔

جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔

صندل نے اس کے چہرے کو دیکھا جس پہ کئی تاثرات بیک وقت موجود تھے۔

وہ کس قدر تکلیف سے بولا تھا اس نے صاف محسوس کیا تھا۔

معراج کو لگا کہ وہ اس کی طرف پھر سے پیش قدمی کرے گی جبکہ غندل کے ذہن میں تو کچھ اور ہی تھا۔

بلکل مسٹر معراج۔۔۔۔اب تو ویسے بھی آپ نے منظر قپم بند کر لیا اور میں بس اس میں آپ کی مدد کر رہی تھی۔

وہ پراسرار نظروں سے اسے دیکھتی پیشہ ورانہ لہجہ میں کہتی وہاں سے چلی گئی۔

جبکہ معراج اپنی انگلیوں سے پیشانی سہلاتا بستر پہ گر گیا۔

صندل کے جاتے ہی اس نے کمرے میں ساری لائٹیں جلا دیں۔ اور پھر گہری سانس لیتا تمام موم بتیاں بجھانے لگا۔

شاور لینے کے بعد وہ سونے کے لئے آ لیٹا لیکن نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔

اس بات کا احساس اسے شدت سے ہو رہا تھا کہ صندل اس کی پہنچ میں ہے اور وہ دونوں اتنے بڑے بنگلے میں تنہا ہیں۔۔۔

شیطان نے اس کے حواس کو جکڑ رکھا تھا۔۔۔

وہ اس کیفیت سے نکلنے کے لئے کبھی ٹہلتا کبھی گہرے سانس لیتا تو کبھی کچھ کرتا۔

آخر اپنا موبائل اٹھایا اور اس پہ صندل کا لکھا دوسرا ناول پڑھنے لگا۔

_________

مندر کی گھنٹیوں ڈی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی تھی۔

وہ دروازہ کو ہلکا سا وا کرتا اندر جھانکنے لگا

وہ اس کی جانب پشت کئے بیٹھی تھی اور شاید کوئی کام کر رہی تھی۔

وہ اسے گانے کو اونچی آواز میں گاتی ساری دنیا سے بیگانی لگی تھی۔

سر تو بہت اچھے لگاتی ہو تم۔۔۔۔

میر دروازہ دھکیلتا ہوا کلاس میں داخل ہوا۔

وہ لڑکی یکدم ہڑبڑائی اور اس کی طرف پلٹی تھی۔