Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui NovelR50459 Zehr-e-Sheren Episode 31
Rate this Novel
Zehr-e-Sheren Episode 31
Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui
ھدیل کا بلڈ پریشر دو دن بعد نامل ہوا تو اسے فورا آپریشن تھیٹر لیجایا گیا۔
جسم میں کمزوری تھی اور اس کے بچنے کے چانسز بہت کم۔۔۔وہیں جب صندل کو اس کی حالت کا معلوم ہوا تو وہ خود کو موردالزام ٹھہرانے لگی۔
جو گولی اس نے شھیر پہ چلائی تھی وہ ھدیل کے لئے جانلیوا ثابت ہوئی تھی۔وہ جس وقت سے گزری تھی اس میں اسے اپنے ماں باپ کی شدت سے ضرورت تھی۔
ایسے وقت میں اسے کوئی ایسا چاہئیے تھا جو اس کے سر پہ شفقت بھرا ہاتھ رکھتا لیکن ھدیل ہوسپٹل میں داخل تھی جبکہ شمس کی اپنی حالت غیر تھی۔
وہ دو دن سے نہیں سویا تھا اور لگاتار ھدیل کے کمرے کے باہر موجود رہتا۔
جو بچہ ابھی پیدا بھی نا ہوا تھا وہ اسے تو کھو چکا تھا لیکن اپنی بیوی کو کسی صورت نہیں کھونا چاہتا تھا۔
آنکھوں کے نیچے گہرے ہلکے۔۔۔۔بڑھی ہوئی داڑھی اور ملگجا حلیہ اس کے جذبات کی ترجمانی کرتا تھا۔
صندل نے کسی سے بھی بات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔۔۔شھیر کے قتل کے منظر اس کی انکھوں کے سامنے گردش کرتے تو اسے سکون آ جاتا۔
______
ھدیل جو جیسے ہی ہوش ائی اس نے سب سے پہلے اپنے بچے کی بارے میں پوچھا تھا۔۔۔
نرس نے اسے فی الوقت آران کرنے کی تنبیہہ کی لیکن وہ شمس سے مسلسل اسی بارے میں پوچھنے لگی جس کے نتیجے میں اسے سچائی سے آگاہ کیا گیا۔
شاید اس جے اندر کہیں امید باقی تھی۔۔۔۔زندگی می اتنا کچھ کھو دینے کے بعد وہ اور کسی کو کھونا برداشت نہیں کر سکتی تھی۔
اس بات کو اسے گہرہ صدمہ پہنچا تھا۔۔۔۔
شمس اسے سمجھاتا رہا لیکن وہ چہرہ کا رخ موڑ گئی۔۔۔۔صندل کو ھدیل کے آنے کی خبر موصول ہوئی تو وہ اس کے کمرے میں پہنچی۔۔۔
وہ اسے گلے لگانا چاہتی تھی۔۔۔ماضی میں اپنے رویہ کے لئے معافی مانگنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔رونا چاہتی تھی۔۔۔۔اس کے ساتھ کیا ہوا سب بتانا تھا اسے لیکن شکوہ سے بھری وہ نظریں جب اس کے چہرے پہ اٹھی تو وہ وہیں گنگ ہو گئی۔
آنکھوں میں آنسو اترنے لگے اور وہ بےآواز معافی طلب کرنے لگی تو ھدیل اپنا رخ بدل گئی۔
وہ اس کے لئے دل چیرنے کے مترادف تھا۔۔۔شاید اتنی تکلیف تو اسے شھیر کے ہاتھوں بھی نہیں ہوئی تھی جتنی ھدیل کی ان نگاہوں نے اسے دی۔
وہ اسے قصور وار سمجھتی تھی۔۔۔۔اس نے اپنا بچہ کھویا تھا لیکن صندل نے بھی تو اپنی معصومیت کھوئی تھی شمس اس کی جانب بڑھا لیکن وہ اس سے دور ہونے لگی اگلے ہی لمحہ وہ لڑکھڑاتے قدم اٹھاتی کمرے سے باہر چلی گئی۔
_________
ایک کے بعد ایک دن گشرنے لگا تھا لیکن ایک عجب فضا تھی جس نے ان سب کو گھیر رکھا تھا۔
شیش کے علاوہ ہر کوئی اپنے اپنے غم کو بھلانے کی کوشش میں تھا لیکن کا میابی کسی کو نصیب نا ہوئی۔
صندل کے لئے ان دونوں کا سامنہ کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ جہاں ھدیل نے بات کرنا بند کر دیا تھا وہیں شمس کی مکمل توجہ اس پہ گامزن تھی اور وہ شیش اور صندل کو قدرے فراموش کر بیٹھا تھا۔
شھیر کے قتل کی کاروائی شروع ہوئی تو شمس پہ کیس بنا۔۔۔۔وہ اس سے چھوٹ جاتا لیکن اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا۔۔۔
جس شخص نے کسی کا اتنی بےدردی سے قتل کیا ہوا کوئی بھی ماں باپ اپنی اولاد کو اس کے پاس نہیں بھیجنا چاہتا تھا۔
انہیں مالی طور پہ تو کوئی مسئلہ نا تھا لیکن صندل اب وہاں خود کو ان کی فیملی کا ثصہ محسوس نہیں کرتی تھی۔
تب ایک بار پھر غلط فیصلہ لیا گیا جب وہ اپنے کچھ سامان کے ساتھ اپنے گھر سے اچانک غائب ہو گئی۔
شمس نے جب اس کا خط پڑھا تو ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔
اس نے اپنے بچاؤ کے لئے ہر وہ کام کیا جو جائز یا ناجائز تھا۔۔۔۔جب لکھنے کا شوق ابھرا تو پہلے سوشل میڈیا پہ اور پھر اپنی زندگی پہ ذیر شیریں مرتب کی جو کہ صدیقی اور امان کو اس تک لانے کا موجب بنا۔
________
تمام مہمان جا چکے تھے لیکن وہ ابھی تک کمرے میں واپس نہیں آیا تھا۔
صندل کو اب حقیقی معنوں میں پریشانی ہونے لگی تھی۔
کہیں امان اسے کوئی نقصاں نا پہنچا دے۔۔۔۔
بار بار ایک ہی خیال اسے ستا رہا تھا۔۔۔۔
کمرے سے نکل کر سارا گھر چھان مارا لیکن معراج کہیں دکھائی نا دیا۔۔۔آخر کا اداس ہو کر واپس اپنے اور معراج کے کمرے میں آ گئی۔
رات ہو گئی تو اس کے موبائل کا نمبر ملانے لگی جو لگاتار بند جا رہا تھا۔۔۔۔امان سے اس لئے نہئں جاننا چاہتی تھی کہ وہ ہر موقع کو اس ے خلاف استعمال کرتا۔
سر میں شدت سے درد اٹھنے لگا تو بیڈ پہ لیٹ گئی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ نیند کی وادیوں میں کھو چکی تھی۔
وہ کراہ رہی تھی۔۔۔۔پیشانی پہ بہتا پسینہ اور خون آپس میں مل کر اس کی تکلیف کو مزید بٹھا رہے تھے۔
جبکہ وہ اسے باندھ کر کمر پہ کوڑوب سے وار کر رہا تھا۔۔۔
صندل زور سے چلانے لگی اور تڑپتے ہوئے اپنے ہاتھ پاؤں کھینچنے لگی۔
صندل۔۔۔۔صندل۔۔۔۔ہوش میں آؤ۔۔۔۔
وہ بیڈ کے ایک طرف ابھی لیٹا ہی تھا جب صندل کی بےسکونی نے اسے متوجہ کیا۔۔۔
وہ پسینے سے شرابور تھی اور کچھ بڑبڑا رہی تھی جسے وہ سمجھنے سے قاصر تھا۔
اچانک ہاتھ پاؤں مارنے لگی تو معراج پریشانی سے اسے جگانے لگا۔
دونوں بازو مضبوطی سے تھام کر وہ اسے جھنجھوڑنے لگا لیکن وہ ابھی بھی اسی حالت میں تھی۔
اسے اس حالت میں دیکھ معراج کو اپنا دل کسی کی قید میں محسوس ہوا۔۔۔
وہ اس کا چہرہ تھپتھپانے لگا تو صندل نے یکدم آنکھیں وا کیں اور اسے ناسمجھی سے دیکھنے لگی۔
اگلے ہی لمحے وہ سیدھی ہو بیٹھی اور بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر گہرہ سانس بھرنے لگی۔
معراج اپنیسائیڈ سے پانی اٹھاتا گلاس میں بھر کر اس کی جانب بڑھانے لگا۔
اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے جس وجہ سے وہ ود ہی اسے پانی پلانے لگا۔
اس کی حالت نیں کچھ بہتری آئی تو معراج نے اس سے استفسار کیا۔
کیا تم ٹھیک ہو۔۔۔۔
پیشانی پہ چپکے اس کے بال وہ نرمی سے ہٹاتا پوچھنے لگا تو صندل محض اثبات میں سر ہلا گئی۔
کیا ہوا تھا ۔۔۔۔
ک۔۔۔کچھ نہیں۔۔۔۔
وہ ہاتھ کی پشت سے پیشانی پہ آیا پسینہ صاف کرنے لگی۔
مجھے نیند آ رہی ہے سونا چاہتی ہوں۔۔۔۔
وہ بےرخی سے کہتی پھر سے لیٹ گئی اور آنکھیں زور سے بھینچ لیں۔
معراج اس کے خوبصورت چہرے کو دیکھنے لگا جہاں خوف کے سائے لہرا رہے تھے۔
وہ اس سے وجہ پوچھنا چاہتا تھا لیکن ابھی بھی وہ منظر نہیں بھلا پایا تھا اس لئے خاموشی سے لیٹ گیا۔
اس خاموشی میں گھڑی کی ٹک ٹک گونج رپی تھی جب صندل کی آواز نے اسے اندھیرے میں اپنی جانب متوجہ کیا۔
کیا میں آپ کو چھو س۔۔۔سکتی ہوں۔۔۔۔
اس کی آواز میں پریشانی کا عنصر نمایاں تھا۔معراج کچھ دیر خاموش رہا اور پھر بھاری آواز میں گویا ہوا۔
ہاں۔۔۔
اس کی جانب سے اجازت ملے ہی صندل اس کیجانب کھسکی تھی اور معراج کے کندھے پہ سر ٹکا لیا۔
کچھ دیر کے لئے وہ حیران رہ گیا لیکن پھر اپنی انگلیوں سے اس کے بالوں کے ساتھ کھیلنے لگا۔
صندل کو پہلی بار لگا کہ ہاں وہ واقعی کسی سے تعلق رکھتی ہے۔ ۔۔جو کہ اس مضبوط رشتے کی بدولت تھا۔
اس کے حصار کی حفاظت میں ایک بار پھر نیند کی وادیوں میں کھونے لگی لیکن اس بار لوئی درندہ اس کے پیچھے نہیں آیا تھا۔
