Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui NovelR50459 Zehr-e-Sheren Episode 15
Rate this Novel
Zehr-e-Sheren Episode 15
Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui
کیا میں جان سکتا ہوں کہ یہ سب کیا ہے۔۔۔۔
وہ سیڑھیاں اترتا نیچے آیا تو صندل کو چھوٹے سے بیگ کے ساتھ ہال میں کھڑا پایا۔
میں یہاں سے جا رہی ہوں۔۔۔۔
وہ اپنا لہجہ مضبوط کرتی ہوئی بولی۔
کیوں۔۔۔۔معراج اپنے تاثرات سنجیدہ رکھتے ہوئے گویا ہوا۔
کیا آپ نہیں جانتے۔۔۔۔میرے خیال سے میرا یہاں رکنا مناسب نہیں۔۔۔
تم کہیں نہیں جا سکتی۔۔۔۔پولیس تمہیں یوں آسانی سے نہیں چھوڑے گی۔
وہ اپنا بیگ تھام کر کھڑی ہوئی تو معراج نے اسے ٹوکا۔
اس سے آپ کا کوئی تعلق نہیں۔۔۔اتنا عرصہ آپ نے مجھے یہاں رہنے کی اجازت دی اس کے لئے میں آپ کی شکرمند ہوں۔۔۔۔
رکوصندل۔۔۔۔مجھے یقین ہے کہ تم نے وہ آگ نہیں لگائی۔۔۔۔
وہ تھکے ہوئے انداز میں بولا تو صندل آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھنے لگی۔
کیا اس کے لئے زیادہ دیر نہیں ہو گئی۔۔۔۔
دیکھو صندل۔۔۔۔اس ویڈیو کو دیکھ کر میں دھوکا کھا گیا اور تم پہ ہاتھ اٹھایا۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم یوں سامان اٹھاؤ اور کہیں بھی چلی جاؤ۔۔۔
اگر وہ تم نہیں تھی تو اس سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ باہر کوئی ہے جو تمہاری جان کے درپے ہے۔۔۔ایسے میں تمہارا یہاں سے جانا خطرہ سے خالی نہیں۔۔۔۔
ویل میری اتنی پرواہ کرنے کا شکریہ لیکن اس بات کو لے کر آپ پریشان مت ہوں کیونکہ مجھے نہیں لگتا کہ وہ جو کوئی بھی تھا جیل کی سلاخوں کے پیچھے مجھے کوئی نقصان پہنچائے گا۔۔۔۔۔
وہ اپنے ہاتھ سینے پہ باندھتی ذومعنی طریقہ سے کہنے لگی۔
اور ویسے بھی اگر میں یہاں رک بھی جاؤ تو بھی پولیس مجھے لیجانے دوبارہ آئی گی پھر اسے ٹالنے کا فائدہ۔
وہ افسوس سے کہنے لگی اعر ایک بار پھر سے بیگ کو تھام لیا۔
صندل رکو۔۔۔۔
وہ تیزی سے اس کی جانب بڑھا اور اس کی کلائی کو مضبوطی سے تھام لیا۔
معراج۔۔۔
صندل بوکھلائی ہوئی اس کی جانب پلٹی تو معراج نے اس کے ہاتھ سے بیگ جھپٹ کے دور پھینکا۔
تم کہیں نہیں جا رہی۔۔۔۔کہ دیا نا میں نے۔۔۔۔اور پولیس کی فکر مت کرو انہیں میں دیکھ لوں گا۔۔۔۔
کیوں کیوں ۔۔۔۔نا کروں فکر۔۔۔۔اور کیوں رکوں یہاں۔۔
وہ ڈھٹائی سے اس کی جانب دیکھتی کہنے لگی۔
بولو اب کیوں۔۔ ۔
جب وہ کچھ بھی نا بولا تو صندل اپنے الفاظ پہ دباؤ ڈالتی ہوئی گویا ہوئی۔
کیونکہ۔۔۔۔مجھے تمہاری عادت ہو گئی ہے۔۔۔۔
اس کے جواب پہ وہ قہقہہ لگا اٹھی تو معراج نے اس کی کلائی کو آزاد کیا۔
سیریسلی معراج۔۔۔۔عادت ہو گئی ہے۔۔۔۔
ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ میں نے ہی وہ آگ لگائی ہو خود کو آپ کی عادت بنانے کے لئے۔۔۔۔
وہ اتراتی ہوئی اس کی جانب جھکتی ہوئی بولی۔
ایک خطرناک عادت۔۔۔۔۔
وہ اس کے چہرے پہ نظریں دوڑاتی ہوئی کہنے لگی۔
ایک خوبصورت خطرناک عورت۔۔۔۔
اب کی بار معراج نے اطمینان سے جواب دیا اور اس سے فاصلہ اختیار کیا۔
جاؤ اپنا سامان بیگ میں رکھو۔۔۔۔تمہیں ابھی بہت سے کام کرنے ہیں۔۔۔۔
وہ الٹے قدم اٹھاتا اس سے دور ہوا اور پھر پلٹتے ہوئے کچن میں چلا گیا۔
جبکہ صندل اس کی پشت جو دیکھتی تمسخرانہ مسکرا دی۔
_______
وہ پولیس کے ہمراہ اس گھر کے اصل مالک کو پیسے دے کر واپس اپنی کار کی جانب بڑھ رہا تھا جب امان کی کال آنے لگی۔
کیسے ہو امان۔۔۔۔کافی عرصے سے ملاقات نہیں ہوئی۔۔۔
میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔تم کیسے ہو۔۔۔۔کچھ دیر پہلے ہی مینجر نے بتایا کہ تم نے کمپنی کے اکاؤنٹ سے تقریبا ایک کروڑ نکلوایا ہے۔۔۔۔
امان کی بات پہ معراج وہیں رک گیا۔
وہ مکان کسی بھی صورت اس مالیت کا نہیں تھا لیکن وہ شخص اس سچویشن سے پورا فائدہ اٹھا رہا تھا۔
ہاں مجھے ضرورت تھی۔
تم نے ایک عرغے سے اتنی بڑی مالیت کا استعمال نہیں کیا۔۔۔کیں حیرت میں ہوں کہ اب تمہیں اس کی کیا ضرورت درپیش آ گئی۔۔۔۔
وہ تفتیشی انداز میں پوچھنے لگا تو معراج کو اس کے سوالات کسی صورت نا بھائے۔
وہ میرے پیسے ہیں امان۔۔۔اور میں انہیں جیسے چاہے استعمال کر سکتا ہوں۔۔۔۔اس کے لئے تمہیں جوابدہ نہیں۔
اس کے جواب پہ امان کو حیرت ہوئی تھی وہ موبائل کان سے ہٹاتے ہچھ سیکنڈز اس کی جانب دیکھنے لگا۔
نہیں لیکن میں صرف یہ کہنا چاہتا تھا کہ تم جانتے ہو کہ یہ کونسے پیسے ہیں اس لئے ان کا استعمال احتیاط سے کرنا۔
میں جانتا ہوں تمہیں یاد کروانے کی ضرورت نہیں۔۔۔
وہ دو ٹوک جواب دیتا موبائل بند کرتا ڈرائیوینگ سیٹ سنبھال کر گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔
______
وہ تمام ملازموں کو چھٹی دے کر معراج کے لئے خود کھانا تیار کر رہی تھی۔
جب اندرونی دروازے پہ بیل کی آواز سے اس کی جانب متوجہ ہوئی۔
ہاتھ کچن ٹاول سے صاف کرتی وہ دروازے کی جانب بڑھی اور مقابل کو دیکھ کچھ سیکنڈز کے لئے ٹھٹک گئی۔
عشاء۔۔۔۔میں تمہیں یہاں ایکسپیکٹ نہیں کر رہی تھی۔
وہ ذومعنی طریقہ سے کہنے لگی تو عشاء نے ایک گہرہ سانس بھرا۔
مجھے معراج سر سے کام ہے۔۔۔۔
ظاہر ہے تم یہاں مجھ سے تو ملنے نہیں ائی ہو گی۔۔۔۔وہ استہزائیہ مسکراتی کہنے لگی۔
ویسے معراج یہاں نہیں ہے۔۔۔۔تمہیں کیا کام ہے مجھے بتا دو۔۔۔
وہ اس کے ہاتھ میں پکڑا پارسل دیکھ کر کہنے لگی۔
انہوں نے کچھ بکس آڈر کی تھیں جو لائبریری نے منگوائی ہیں بس یہی دینی تھیں۔۔۔
وہ نارمل انداز میں کہنے لگی تو صندل نے ہاتھ اس پارسل کی جانب بڑھایا۔
لاؤ میں دے دوں گی۔۔۔۔
وہ جلد از جلد اسے وہاں سے بھگانا چاہتی تھی۔
عشاء نے کتابیں یکدن اس سے دور کیں تھیں۔
مجھے ان کے دستخط بھی چاہئیے ہوں گے۔۔۔۔میں ان کا انتظار کر لوں گی۔۔۔
وہ پارسل کو مزید مضبوطی سے پکڑتی کہنے لگی تو صندل کن اکھیوں سے اسے دیکھتی ہاتھ پیچھے کرنے لگی۔
معلوم نہیں تھا کہ لائبریری کا عملہ اپنی خاص خدمات بھی پیش کرتا ہے۔۔۔۔
وہ حقارت سے کہتی پلٹ گئی اور اسے اندر داخل ہونے کا راستہ دے دیا۔
عشاء نے کب سے روکا ہوا اپنا سانس بحال کیا اور پھر اندر داخل ہو گئی۔
عشاء نے پارسل میز پہ رکھا اور صندل کی تقلید کرتی کچن میں آ گئی۔
کیا تم چائے کافی یا کچھ بھی پیو گی۔۔۔۔
نہیں شکریہ۔۔۔۔معراج سر کب آئیں گے۔۔۔۔
وہ کچن میں نظریں پھیرتی پوچھنے لگی۔
صندل نے کاؤنٹر سے چھری اٹھائی اور کٹنگ بورڈ کی جانب پلٹ گئی۔
میں نہیں جانتی۔۔۔۔
عشاء کو سمجھ نا آیا کہ وہ واپس چلی جائے یا وہیں کھڑی رہے۔
صندل اپنی پشت اس کی جانب کئے سبزیاں کاٹنے میں مشغول تھی وہ اسے غور سے دیکھتی قریب موجود کاؤنٹر پہ رکھی چھریوں میں سے ایک اٹھا کر اس کی جانب بڑھی۔
میں تمہاری مدد کر دیتی ہوں۔۔۔۔
_________
کار پورچ میں کھڑی کرتا وہ اندرونی دروازے کی جانب بڑھ رہا تھا جب ایک زور دار چیخ نے اسے متوجہ کیا۔
وہ پوری رفتار سے اندرونی دروازے کی جانب بھاگا اور لاک کھول کر اندر داخل ہوا۔
حمیرا۔۔۔۔صندل۔۔۔۔
وہ پہلے اپنی ملازمہ اور پھر صندل کو پکارنے لگا
مم۔۔۔۔معراج۔۔۔
آواز کچن سے آئی تھی اس لئے وہ اس جانب بڑھا لیکن وہاں موجود منظر دیکھ ایک لمحے کے لئے اپنی جگہ ساکت رہ گیا۔
صندل فرش پہ سہمی ہوئی بیٹھی تھی اور ہذیانی کیفیت میں رو رہی تھی۔
جب کہ فرش کے وسط میں عشاء کا بےحرکت وجود گرا تھا۔ اس کی ایک آنکھ میں گاڑھی گئی چھری کا صرف ہینڈل ہی دکھ رہا تھا۔
وہ ایک دم اس کی جانب بڑھا اور گردن چھو کر دیکھنے لگا۔
وہ ابھی زندہ تھی لیکن شاید زیادہ دیر نا رہ پاتی۔
اس نے مم۔۔۔مجھ پہ حم۔۔۔حملہ ک۔۔۔کیا۔۔۔
وہ ٹوٹے ہو الفاظ ادا کرتی کہنے لگی۔۔۔۔جبکہ اس دوران اس کا جسم بری طرح لرز رہا تھا۔
معراج اپنے حواس قابو کرتا ایمبولینس کو کال کرنے لگا۔۔۔
ایمبولینس کو بلاتے ہی وہ صندل کی جانب بڑھا اور اسے دونوں شانوں سے پکڑ کر جھنجھوڑنے لگا۔
یہ کیا کیا تم نے صندل۔۔۔۔کیا تم پاگل ہو گئی تھی۔
معراج۔۔۔آئی سویر۔۔۔۔آئی سویر۔۔۔۔یہ سب حادثاتی طور پہ ہوا۔۔۔
وہ دونوں ہاتھوں سے اس کی شرٹ کو دبوچ کر روتے ہوئے کہنے لگی۔
وہ اسے ایک جھٹکے سے چھوڑ کر واپس عشاء کی جانب بڑھا۔
پلیز۔۔۔پلیز۔۔۔مرنا مت۔۔۔۔
معراج اس کی سست پڑتی نبض چیک کرتا کہنے لگا۔
کچھ ہی دیر میں اسے ایمبولینس کے آواز آئی تو وہ حلق تر کرتا رہ گیا۔
جبکہ صندل گٹھنوں میں سر دیئے ہچکیاں بھرتی روتی رہی۔
